Al-Risala · October 1992

سفرنامه ــ ۳

Al-Risala, October 1992, pp. 30–45

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں مصر کے مفتی الشیخ طنطاوی نے تذکیری انداز میں دیر تک کچھ باتیں کیں۔ اس میں خصوصی طور پر اسلام کے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کو واضح کیا۔ پھر انہوں نے مغرب کی نماز جماعت کے آخر میں جزیرہ والوں کے لئے، مسلمانوں کے لئے اور اہل عالم کے لئے سلامتی اور فلاح کی دعائیں کی گئیں۔ یہ عمل تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔

اس نشست کے دوران سوال و اب بھی ہوا۔ شیخ طنطاوی نے اپنی کانفرنس کی تقریر میں کہا تھا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اسلام میں صرف دفاعی قتال ہے۔ اسلام میں ہجومی قتال نہیں ہے۔ جو لوگ جہاد کے نام پر غیر مسلم اقوام سے لڑائیاں چھیڑے ہوئے ہیں ان سے شیخ طنطاوی نے عدم اتفاق کا اظہار کیا۔

اس پر ایران کے عالم کو اعتراض تھا۔ انھوں نے شیخ طنطاوی سے سوالات کئے۔ نے نہایت عالمانہ انداز میں ہر سوال کا جواب دیا۔ ایرانی عالم نے یہ حدیث پیش کی کہ امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله ۔ شیخ طنطاوی نے کہا کہ اس کا تعلق قدیم مشرکین عرب سے ہے جنھوں نے پیغمبر کا انکار کیا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا۔ اب ہمارے لئے فقاتلوانی سبیل الله الذین یقاتلونکم کا حکم ہے۔ جو قو میں ہمارے خلاف عدوان نہ کریں، ہم بھی ان کے خلاف جہاد نہیں چھیڑ سکتے۔ کیوں کہ قرآن میں ہے کہ فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم ۔ کے تحت غیر مسلموں کے بارہ میں اسلام کا اصولی حکم انھوں نے یہ بتایا کہ لهم مالنا و علیهم ما علینا۔ مغرب کی نماز کے بعد ہمارا قافلہ دوسرے تعزرات کے ساتھ ایک خاص مقام کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں کانفرنس کے شرکاء کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں مالٹا کے عوام جمع تھے۔ یہاں امن کے بارہ میں پوپ کا پیغام پڑھا گیا ۔ ہر مذہب کے پیشواؤں نے امن کی شمع جلائی اور امن کے لئے دعائیں کی گئیں۔ پورا مجمع اس دعا میں شریک رہا۔

کانفرنس کی تھیم مذاہب امن کے سمندر کے لئے (Religions for a sea of peace) peace)مقرر کی گئی تھی۔ یہاں عوام جس بڑی تعداد میں اور جو جوش و خروش کے ساتھ جمع ہوئے وہ گویا ایک " بحر امن " کا مظاہرہ تھا۔ کارروائی کے خاتمہ پر لوگوں نے آپس میں مل کر ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور اس موقع پر ان کا خاص کلمه امن (peace) ہوتا تھا جس کو وہ اپنی زبان سے دہراتے تھے۔

یہاں سے ہم لوگ پیدل چل کر ایک بڑے میدان میں لے جائے گئے۔ یہاں مخصوص انداز میں عمومی اجتماع کا انتظام تھا منتظمین اس کو " دعائیہ اجلاس کہتے ہیں۔ اس دعائیہ اجلاس میں عوام اسی طرح بڑی تعداد امڈ آئے تھے جس طرح تبلیغی جماعت کے جلسوں میں دعا کے وقت بستی کے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔

غالباً ۱۹۴۲ میں پنڈت جواہر لال نہرو منو (یوپی) آئے تھے۔ وہاں ان کا جلسہ تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کہ میں نے کوئی بڑا جلسہ دیکھا۔ یہ بلا مبالغہ انسانوں کا جنگل تھا۔ کی اس کیفیت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

یہی احساس ، اکٹوبر کے مذکورہ دعائیہ اجتماع میں بھی ہوا۔ تاہم یہ صرف بھیڑ نہ تھی بلکہ نہایت منظم اور نہایت منصوبہ بند قسم کا ایک عظیم الشان اجتماع تھا۔ اس کو دیکھ کر دوبارہ مجھے احساس ہوا کہ اس منظر کو اگر میں لفظوں میں بیان کرنا چاہوں تو میں اس کو الفاظ کی صورت میں بیان نہیں اس کو یا تو براہ راست مشاہدہ کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے یا ٹی وی پر بالواسطہ مشاہدہ کے ذریعہ۔ اس طرح کے تجربات کے بعد مجھے خیال آتا ہے کہ جنت کی زندگی کے پرمسرت لمحات میں ایک لمحہ غالباً وہ بھی ہو گا جب کہ آدمی اپنے جنتی مکان میں "جنتی ٹی وی پر پچھلے انبیاء کے واقعات کو دیکھے گا۔ پیغمبروں کی زندگی حیرت ناک واقعات کی زندگی ہے۔ ہم اس کو لفظوں کی صورت میں کتاب میں پڑھتے مگر الفاظ ان کا پورا تعارف نہیں کرتے۔ جنت کا ایک آدمی اپنے " جنتی ٹی وی " کا بٹن دبا کر جب ان کو دیکھے گا تو وہ فرحت کا ایک ایسا تجربہ ہو گا جس کا آج کی دنیا میں اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ۹اکتوبر کی دوپہر کو میڈیٹرینین سنٹر کے ایک ہال میں پریس کانفرنس ہوئی۔ روم سے ۸۰ روزنامے نکلتے ہیں۔ ان میں سے بارہ اخباروں کے نمائندے پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ والوں میں میرے سوا دو الجزائری مسلمان تھے اور ایک سوڈان کے اور ایک ایران کے عالم۔ اطالوی زبان میں کئے گئے۔ جن کا ترجمہ ایک مسیحی پادری نے عربی زبان میں کیا۔ سوالات زیادہ تر مسلم - مسیحی تعلقات کے بارے میں تھے۔

پریس کانفرنس میں روم کے ایک اخباری نمائندہ نے سوال کیا کہ مسیحی لوگوں نے روم میں مسجد بنانے کی اجازت دے دی۔ پھر مسلمان مسیحیوں کو مکہ مدینہ میں چرچ بنانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے ۔

الجزائر کے ڈاکٹر محمد السلیمانی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی مذ ہبی تعلیمات کی بنا پر ایسا کرتے ہیں۔ اگر آپ کی انجیل میں یہ لکھا ہو کہ روم میں کسی غیر مذہب کا عبادت خانہ بنانے کی اجازت نہ دی جائے تو میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ وہ انجیل کے اس حکم کا احترام کریں اور روم میں ہر گز مسجد بنانے کی کوشش نہ کریں۔ ہندوستان میں اس طرح کے جواب پر مزید سوالات کا طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ سب کے سب اخبار نویس جواب کو سن کر چپ ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے دوسرا سوال شروع کر دیا۔

ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان ڈائیلاگ کی کامیابی کے بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں۔ کیوں کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے یہ کوشش آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ پھر ہمیں کیا کرنا چاہئے ۔ میں نے کہا کہ ایک جملہ میں اس کا جواب یہ ہے کہ اختلاف کو نظر انداز کیجئے اور اتحاد کے گوشوں کی تلاش جاری رکئے :

I will give the answer in a single sentence: avoid the differences and continue the dialogue to seek the points of agreement. ۹ اکتوبر کو شام کی نشست کا عنوان تھا : مذہب اور کلچر (Religion and Culture) بحیثیت چیئر مین میں نے مختصر تقریر کی۔ اس کے بعد مذکورہ موضوع پر لوگوں نے اپنے اپنے خیالات کا

یہاں کے اجتماعات میں عورت اور مرد کثیر تعداد میں جمع ہوتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک پڑھا لکھا ہوتا تھا۔ مگر میں نے کسی بھی اجتماع میں غیر ضروری سوال و جواب کا وہ انداز نہیں دیکھا جو ہندوستان جیسے ملکوں میں عام ہے۔ یہاں تمام لوگ ذوق وشوق کے ساتھ اسٹیج کی تقریروں کو سنتے اور اس کے بعد یہ اصرار نہیں کرتے کہ ہم کو ہر قسم کے سوال کرنے کا موقع دو۔

ہوٹل کے کمرہ میں حسب معمول گیڈ بینتر (The Gideons International) کی طرف سے ہدیہ کی ہوئی بائبل بھی موجود تھی ، ۱۸۹۸ میں امریکہ کے دو مسافروں نے طے کیا کہ وہ تمام دنیا کے ہوٹل ، اسپتال وغیرہ میں بائبل (انجیل) کے نسخے مختلف زبانوں میں چھاپ کر فراہم کریں گے ۔ اس وقت سے آج تک یہ کام جاری ہے۔ اس طرح عالمی پیمانے پر تمام دنیا میں مسیحیت کا پیغام پہنچایا جا رہا

۱۳۰ ملکوں میں اس کئی شاخیں موجود ہیں ۔

موجودہ نسخہ تین زبانوں (اطالوی، فرانسیسی، انگریزی) میں تھا۔ دیباچہ میں انجیل کو خدا کی حیرت ناک کتاب (Wonderful Book of God) بتایا گیا تھا۔ اس میں درج تھا کہ گیڈینز بنیادی طور پر چرچ کا ایک غیر فرقہ وارانہ تبلیغی بازو ہیں۔ وہ خدا کے کلام کے قیمتی بیج کو تمام دنیا کی زمینوں میں بورہے ہیں :

The Gideons are essentially a nonsectarian missionary arm of the church, sowing the precious Seed, the Word of God, in the field of the World. مسلمان اپنی تحریروں میں فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ مسیح کا پیغام صرف بنی اسرائیل کے لئے تھا اور اسلام کا پیغام ساری دنیا کے لئے ہے۔ مگر آج صورت حال یہ ہے کہ مسیحیت کو اس کے ماننے والوں نے ایک عالمی تبلیغی مذہب بنایا دیا ہے۔ اور مسلمان کوئی ایک یا دوسری وجہ بتا کر اسلام کو عملاً صرف مسلمانوں کے لئے خاص کئے ہوئے ہیں۔ دعوت عام کا شعور مسلمانوں کے اکابر تک میں موجود نہیں ۔

۸ اکتوبر کو دن کا ابتدائی نصف حصہ خالی تھا۔ ہم لوگ دو گاڑیوں پر مالٹا کا قدیم شہر دیکھنے کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ رہنما کے طور پر ڈاکٹر پنزا (Giancarlo Penza) موجود تھے۔ مالٹا کا قدیم شہر عربوں نے بسایا تھا۔ یہ آج بھی مدینہ (Mdina) کے نام سے مشہور ہے۔ وہاں کی چیزیں

یہاں قدیم اشیاء کا ایک میوزیم ہے۔ اس میں بہت سی یادگار چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ ممتاز آرٹ ورک وہ ہے جس میں حضرت مسیح کو نعوذ باللہ سولی پر مردہ حالت میں دکھایا گیا ہے۔ صلیب کی شکل کی ایک لکڑی ہے۔ اس پر ایک دبلا اور ننگا انسان اس طرح بنا گیا ہے کہ اس کے ہاتھ اور پاؤں میں کیلیں ٹھونکی ہوئی ہیں۔ جگہ جگہ سے خون بہہ رہا ہے۔ اس کا جسم مردہ کے انداز میں لٹک گیا ہے۔

واقعہ کے اعتبار سے اگرچہ وہ سراسر بے بنیاد ہے مگر خالص فنی اعتبار سے وہ نہایت کامیاب ہے۔

اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس دنیا میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سراسر خلاف واقعہ بات کو تصویریا الفاظ میں اس طرح ظاہر کیا جائے کہ عام انسان کو وہ بالکل حقیقی واقعہ نظر آنے لگے۔ مدینہ کے راستوں میں چلتے ہوئے ایک گلی کے کنارے ایک بورڈ لگا ہوا نظر آیا۔ اس پر لکھا ہوا تھا Tariq Mesquita یعنی مسجد کا راستہ یا مسجد اسٹریٹ۔ اس گلی میں کافی تلاش کے باوجود کوئی مسجد نظر نہیں آئی، غالباً قدیم زمانہ میں یہاں کوئی مسجد تھی جس کے نام پر یہ گلی مسجد والی گلی مشہور ہو گئی۔ مگر اب وہ مسجد کسی مکان کا حصہ بن چکی ہے۔ اگرچہ گلی کا نام اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔ میرے ساتھی ڈاکٹر محمد السلیمانی الجزائری نے مالٹا کی ان چیزوں کو دیکھ کر کہا کہ طمسوائل یعنی مسیحیوں نے یہاں غلبہ پانے کے بعد تمام مسلم آثار کو مٹا دیا۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ یوں کہئے کہ طمسناکل شئی یعنی ہم نے خود اپنی غفلت سے لوگوں کو یہ موقع دیا کہ وہ ہماری تمام چیزوں کو مٹا دیں۔

راستہ میں ہمارے ڈرائیور نے ایک جگہ بتایا کہ اس درخت کو مسیحی لوگ " سجرۂ صلیب" یعنی صلیبی درخت۔ کیوں کہ وہ بالکل صلیب کی شکل کا ہے۔ ہم نے اتر کر اس درخت کو بہت غور سے دیکھا۔ مگر ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ اس قسم کے تو ہمات ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ خود مسلمانوں میں بھی۔

اس کے بعد ہم ایک بڑی عمارت کے سامنے پہنچے۔ اس پر وار میوزیم کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے زمانہ کی بہت سی یادگار چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ کچھ حقیقی اور کچھ تصویر کی صورت میں۔ ایک جگہ یہاں کے گول چرچ کی تصویر تھی۔ اس کے پاس قدیم طرز کے ایک بم کی تصویر تھی جس کے پاس بہت سے لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ تختی پر لکھا ہوا تھا کہ دوسری عالمی جنگ میں ۹ اپریل ۱۹۴۲ کو جرمنی نے یہ بم گول چرچ پر گرایا مگر وہ بم پھٹ نہ سکا : During an air attack on 9th April 1942, a 500 Lb. bomb hit the Mosta Rotunda. It pierced the dome, bounced off the interior wall twice and skidded across the whole length of the Church without exploding. None of the congregation numbering over 300 was injured.

یہ دعوتی شعور کی کمی ہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مولانا محمود حسن صاحب جس زمانہ میں مالٹا میں نظر بند تھے۔ ان کے حراستی عملہ کا انگریز افسران سے متاثر ہوگیا۔ کیوں کہ ان کے مشرقی انداز میں اس کو روحانی شخصیت کا حلیہ نظر آیا۔ یہ بہترین موقع تھا کہ اس انگریز کو اسلام کے قریب لایا جائے ۔ محمود حسن صاحب نے اس سے خلافت کے معاملہ میں انگریزوں کے ناروا سلوک پر بحث چھیڑ دی جو ایک سیاسی • اور اختلافی موضوع تھا۔ چنانچہ وہ انگریز مزید اسلام سے قریب نہ ہو سکا۔

مالٹا میں مولانا محمود حسن کے تین ساتھیوں میں سے ایک مولانا وحید احمد مدنی تھے۔ سے ہجرت کرکے عرب چلے گئے تھے۔ وہاں مولانا محمود حسن صاحب سے وابستہ ہوگئے اور پھر ان کے ساتھ گرفتار ہوکر مالٹا چلے گئے۔ مولانا موصوف کے صاحبزادے ڈاکٹر رشید الجیدی دہلی میں ہیں اور مولانا فرید الوحیدی جدہ میں مقیم ہیں۔ مولانا وحید احمد مدنی کا حافظہ نہایت قوی تھا۔ مختلف لوگوں سے تعلقات کے دوران انھوں نے کئی زبانیں سیکھ لیں ۔ عربی، اردو، فارسی، انگریزی، ترکی، فرانسیسی، پشتو، بنگلہ اگر ان کے اندر دعوتی اسپرٹ پیدا کی جاتی تو وہ کامیاب داعی بن سکتے تھے۔ مگر ان کی لیاقت غیر استعمال یہاں تک کہ دسمبر ۱۹۳۸ میں ۴۵ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔

مالٹا کے مختلف حصوں میں مجھ کو بار بار جانے کا اتفاق ہوا۔ مگر ایک بار بھی کہیں گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی نہیں دی۔ جب کہ ہندوستان کے شہروں میں ہارن کا شور عام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہارن بجا نا صرف ذہنی ڈسپلن کی کمی کا ثبوت ہے۔ حقیقی ضرورت سے اس کا تعلق بہت ہی کم ہے۔ اسی طرح مالٹا میں فٹ پاتھ کی دکانداری ، سڑکوں کی گندگی ، لاؤڈ اسپیکر کے ہنگامے ، آپس کے لڑائی جھگڑے جیسی چیزیں کہیں نظر نہیں آئیں ۔ انڈیا کا زمینی رقبہ ۱۲۶۹۳۲۰ مربع میل ہے ، اور مالٹا کا رقبہ صرف ۱۲۲ مربع میل ۔ انڈیا کے مقابلہ میں اس کے ذرائع تقریباً صفر کے بقدر ہیں۔ مالٹا آج کی ترقی یافتہ دنیا کا ایک حصہ نظر آتا ہے۔ جب کہ انڈیا ہر اعتبار سے ترقی یافتہ دنیا سے پیچھے ہے، حتیٰ کہ مذہب اور اخلاق کے اعتبار سے بھی۔

انڈیا میں مقابلہ نہ مادی ترقی نظر آتی اور نہ مذہبی ترقی ۔ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ یہاں مذہب کی بنیاد فرقہ وارانہ نفرت پر رکھی گئی اور قومی ترقی کی بنیاد سوشلزم کے غیر فطری اصول پر اور دونوں ہی چیزیں صرف فساد پیدا کرنے والی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی چیز اصلاح کرنے والی نہیں۔ جدید دنیا کے دوسرے شہروں کی مانند ، مالٹا میں بھی گھر کی عورتیں باہر نکل آئی ہیں۔ کہ ہر عورت کی ٹانگیں کھلی ہوتی ہیں۔ ان حالات میں صرف غض بصر کافی نہیں ، بلکہ اسی کے ساتھ اعراض بصر کے اصول پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ عورت کی ٹانگ کا کھلا ہونا بلا شبہ ایک وحشت خیز منظر ہے۔ مگر جدید دنیا کے تمام مقامات پر اب یہ چیز بالکل عام ہو چکی ہے۔

پچھلے مہینہ میں لاہور گیا تھا۔ وہاں کوئی ایک عورت بھی کھلی ٹانگوں والی نظر نہیں آئی۔ روم اور مالٹا آیا تو یہاں ہر عورت اسی وحشت ناک حلیہ میں ہر طرف چلتی پھرتی نظر آتی ہے۔ اس فرق پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ تنزل کے باوجود اب بھی مسلمانوں کی زندگی میں ایسے بہت سے ممتاز پہلو ہیں جو غیر مسلم دنیا کو اسلام کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ عام مفروضہ کے برعکس ، یہ نہیں ہے کہ لوگ مسلمانوں کی بے عملی کی بنا پر اسلام سے متاثر نہیں ہوتے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کے رہنما اسلام کے نام پر غیر مسلموں سے لفظی یا عملی لڑائی لڑنے میں مشغول اس بے فائدہ لڑائی نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ضد اور نفرت کی فضا پیدا کر دی ہے۔ یہی ضد اور نفرت کی فضا اسلامی دعوت کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ مسلمانوں کی اخلاقی کمزوری۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں کی درمیان قومی نفرت کی فضا ختم ہو جائے تو مسلمانوں کی موجودہ حالت کے باوجود اسلام تیزی سے ان کے درمیان پھیلنے لگے۔

موجودہ زمانہ میں مسیحی چرچ بہت بڑے پیمانے پر یہ کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں اور مسیحی اقوام کے درمیان عداوت کی فضا ختم ہو جائے اور صلح و آشتی کی فضا قائم ہو جائے۔ موجودہ کا نفرنس بھی اسی نوعیت کی ایک کوشش تھی۔ بہت سے مسلمان اس کو ”مسیحی سازش“ کہہ کر اس کو متوحش نظروں سے دیکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا ہو جائے تو یہ دور جدید کی صلح حد میہ ہوگا، جو بالآخر "فتح مبین" کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بن جائے گی۔

یہاں محکمہ سیاحت کی طرف سے ہم کو تعارفی پمفلٹ اور کاغذات دئے گئے تھے۔ یہ سب نہایت خوبصورت چھپے ہوئے تھے۔ اکثر کتابچوں کے صفحہ اول پر کسی نہ کسی گرجا یا مسیحی یادگار کی نمایاں تصویر دی گئی تھی۔ ایک لمحہ کے لئے خیال آیا کہ اسی مالٹا میں مسلم عمارتیں بھی ہیں، مگر ان کتابچوں میں ان کا کوئی ذکر نہیں۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ ایسا گناہ ہے است کہ در شهر شما نیز کنند کا معاملہ ہے۔ بارہ میں ترک اگر کوئی پمفلٹ چھاپیں تو وہ اپنے دور کی مسجد کی تصویر صفحہ اول پر دیں گے۔ لیبیا والے اگر کوئی تعارفی پمفلٹ تیار کریں تو اس کے صفحہ اول پر لیبیا کے تعمیر کردہ اسلامی مرکز کی تصویر چھپی ہوئی ہوگی۔

یہی تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ ہندوستان میں ہر ادارہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں سارا نقشہ اس طرح پیش کرتا ہے جیسے کہ وہی نظام عالم کی کلید ہے۔ اسی کے گرد کائنات کا کارخانہ گردش کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں دوسروں سے اس معاملہ کی شکایت کرنا غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

مالٹا ایک خوبصورت مقام ہے۔ اس کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ ہم کو روزانہ بار بار شہر کے مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوتا تھا۔ مگر بے شمار گاڑیوں کے باوجود یہاں کی فضا میں کثافت بہت صفائی کا غیر معمولی اہتمام تھا۔ سڑکوں پر کہیں بھی کوئی چیز پڑی ہوئی نظر نہیں آئی۔ فٹ پاتھ کی بھیڑ اور گندگی کا نشان بھی کہیں موجود نہ تھا۔ قاعدہ اور قانون کے خلاف ورزی کا یہاں مزاج نہیں۔ اپنی حد کے اندر رہ کر اپنے کام میں مشغول رہتا ہے۔ میں نے ایک بار ایک مالی کو دیکھا۔ وہ ہوٹل کے

لکڑی کا گھاس دستی مشین کے ذریعہ کاٹ رہا تھا۔ وہ اپنے کام میں اس قدر مشغول اور منہمک تھا جیسے کہ اس کو اس کے سوا اور کسی چیز کی خبر ہی نہیں۔ جب کہ ہندوستان کے ”مالی“ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف اس کو سب سے زیادہ دلچسپی دوسرے کام سے ہوتی ہے اور سب سے کم دلچسپی اپنی ڈیوٹی والے کام سے۔

۱۱ اکتوبر کو ہم مالٹا کے ایک قدیم چرچ میں داخل ہوئے۔ یہ صبح نو بجے کا وقت تھا۔ چرچ کے اندر سروس (عبا دت) ہو رہی تھی۔ گیٹ کے پاس نوٹس بورڈ پر جلی حرفوں میں یہ الفاظ : WAQT IL-QUDDIES لکھے ہوئے تھے۔ غالباً اس کا مطلب وقت القدیس تھا۔

چرچ کے ہال میں چاروں طرف مجمع لگے ہوئے تھے۔ ان میں دوسرے مسیحی پیشواؤں کے علاوہ مریم اور مسیح کا بھی مجسمہ تھا۔ اسٹیج کے مقام پر چند پادری کچھ پڑھ رہے تھے اور بار بار جھک کر اپنا سر میز پر رکھتے تھے۔ حاضرین سامنے کی بنچوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔

اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ مسیحی عبادت اور اسی طرح دوسرے مذاہب کی عبادت کا طریقہ انسان کی روح کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ انسان عین فطرت کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے خالق کے آگے پوری طرح ڈال دے۔ اور ان طریقوں میں انسان صرف جزئی طور پر اپنے آپ کو اپنے خالق کے سامنے پیش کرتا ہے ، وہ پوری طرح اپنے آپ کو خدا کے حوالے نہیں

۱۰ اکتوبر کو شام کے کھانے کے لئے ہم لوگوں کو ایک مقام پر پہنچایا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ ”بشپ پلیس“ ہے۔ یہ بہت بڑا محل کی مانند ایک مکان تھا۔ تاہم وہ بالکل سادہ تھا۔ یہ یہاں کے بشپ کی قیام گاہ ہے۔ یہاں لوگوں نےمالٹا کے مخصوص انداز میں کھانا کھایا۔ ملاقاتیں کیں اور پھر

مالٹا کے انگریزی اخبا ر دی ٹائمس (۸ اکتوبر ۱۹۹۱) میں یہ خبر تھی کہ یہاں کے سابق پولیس کمشنر کممنڈیٹور بنسینی (commodatore Algred J. Bencini) کا ۷۴ سال کی عمر میں انتقال وہ ۱۹۳۹ میں مالٹا پولیس فورس میں شامل ہوئے تھے۔

کممنڈیٹور بنسینی نے اپنی خود نوشت سوانح عمری لکھی ہے جو ۔ سپاہی کے سوا اور کچھ نہیں 38 العالم اکتوبر ۱۹۹۲

(Nothing But the Truth) کے نام سے چھپی ہے۔ انھوں نے ۱۹۷۳ء میں ریٹائرمنٹ لے وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ پانچ مہینہ تک انتظام میں وزیراعظم کی غیر قانونی مداخلت کے بعد میں پنشن لے کر ملازمت سے الگ ہو گیا تھا:

... he had retired on pension in January 1973 after five months on protest leave against Prime Minister Dona Mintoff’s illegal interference in the internal administration of the force. کسی نظام میں جب آدمی کی پوزیشن وہ ہو جائے جو مسٹر بنسینی کی ہو گئی تھی تو اس وقت مسئلہ خارجی نظام کا نہیں رہتا بلکہ خود اپنے ضمیر کا ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اپنے آپ کو بچانے کی تدبیر کرنا چاہئے۔ اس کے بعد نہ مصالحت درست ہے اور نہ بے فائدہ طور پر نظام سے ٹکرانا۔

۱۱ اکتوبر کی صبح کو ناشتہ میری واپسی تھی۔ اپنے کمرہ میں فجر کی نماز کے لئے کھڑا ہوا تو ایسا محسوس ہوا گویا میں حدیث کے الفاظ میں "صلاة مودع" پڑھ رہا ہوں۔ گویا کہ آج کا دن مالٹاسے نہیں بلکہ خود دنیا سے میری روانگی کا دن ہے جہاں خالق کائنات نے مجھ کو ایک مدت کے لئے بھیجا تھا۔ معلوم کہ آخری روانگی کا دن میرے لئے آج مقدس ہے یا آج کے بعد۔ تاہم اس وقت کو آنا ہے اور وہ ضرور آکر رہے گا۔ اس کے بعد کس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ لا ادری و اللہ لا ادری واللہ لا ادری و انا رسول الله ما يفعل بي ولا بكم ۔

"آخری لمحات" کے احساس کے تحت کلمہ شہادت میری زبان پر آگیا۔ میں نے کہا: اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد ا عبده ورسوله ۔ اس کلمہ کو ادا کرتے ہوئے مزید یہ احساس ابھرا کہ بہت سے نادان لوگ اس کلمہ کو کلا فخر سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ در حقیقت وہ کلمہ یہ خدا کی خدائی یا رسول کی رسالت کا صرف اقرار نہیں بلکہ اس کے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کا اعتراف بھی ہے۔ گویا ایک بندہ جب اس کلمہ کو اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا تو خدا ہے، میں خدا نہیں ہوں۔ اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور مجھے رسول کی حیثیت توحید و رسالت کے اقرار کے ساتھ اپنی عبدیت کا یہ اعتراف جب تک اس میں شامل

نہ ہو اس کو پورے معنوں میں کلمہ شہادت کی ادائیگی نہیں کہا جاسکتا۔

11 اکتوبر کی دوپہر کو ہم واپس ہو کر دوبارہ مالٹا ایئر پورٹ پہنچے۔ یہاں کچھ وقت وی آئی پی لاؤنج میں گزرا ضروری اندراجات کا سارا کام ہمارے میزبان نے کیا۔ ساڑھے بارہ بجے ہوائی جہاز میں سوار ہونے کے لئے نکلا۔ یہ ایئر مالٹا کی فلائٹ (KM 220) تھی۔ جہاز کے دروازہ پر پہنچا تو وہاں دروازہ کے کنارے حسب ذیل دو لفظ لکھے ہوئے تھے۔ (Iftah / Open) ہوائی جہاز کے اسٹاف کے ایک آدمی سے میں نے پوچھا کہ " افتح " کیا مالٹی زبان ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کہا کہ مالٹی زبان بہت زیادہ عربی زبان سے مشابہ ہے:

Malti language is very similar to Arabic language. جہاز کے مسافروں میں زیادہ تعداد سیاحوں کی تھی۔ مالٹا میں سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ کی آمدنی کا خاص ذریعہ سیاحت ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہندوستان کو سیاحت انڈسٹری کا بہت کم حصہ ملتا ہے۔ اس کی دو خاص وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ سیاح یہاں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ مختلف قسم کی پرتشدد تحریکوں نے سیاح کو ہندوستان کی طرف سے متوحش بنا دیا ہے۔ دوسری اس سے بھی زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ ہندوستان کا نظام سیاحوں کے لئے اسی طرح غیر ہمدرد ہوتا ہے جس طرح وہ عام ہندوستانیوں کے لئے غیر ہمدرد ہے۔ سیاح اکثر ہندوستان سے تلخ دفتری اور انتظامی تجربات لے کر واپس لوٹتے ہیں۔ جہاز کے اندر ایئر مالٹا کی فلائٹ میگزین (Melta) کے شمارہ اکتوبر 1991 میں ایک مضمون مالٹا میں ٹیلی کارڈ کو رائج کرنے کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ فائر، پولیس اور ایمبولنس جیسے ایمرجنسی نمبروں کو ڈائل کرنے کے لئے کوئی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں :

One does not need to insert a card to dial the emergency numbers مذکورہ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ مالٹا میں سیاحوں کے لئے بہت سی رعایتیں ہیں۔ مذکورہ رعایت ان میں سے صرف ایک ہے۔

ہمارا جہاز 33 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہوا مالٹا سے قاہرہ کی طرف روانہ ہوا۔ ہم جزیرہ کریٹ (Crete) سے گزرے۔ کریٹ کو دیکھ کر ماضی کی بہت سی یادیں تازہ ہوگئیں

عرب ۸۲۴ میں کریٹ کے ساحل پر اتر چکے تھے اور انھوں نے اس کے ایک حصہ پر اپنا اقتدار قائم کر لیا تھا۔ ۱۶۶۹میں ترکوں نے پورے کریٹ کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ میڈیٹریین کا یہ جزیرہ ایک عرصہ تک ترکوں کی یورپ میں پیش قدمی کے لئے ان کا بحری اڈہ بنارہا۔ ۱۸۹۸ میں ترکوں کو کریٹ چھوڑ دینا پڑا۔

میں نے سوچا کہ "کریٹ" ایک اعتبار سے مسلم تاریخ کا ایک صفحہ ہے، ایک ایسی تاریخ جو اب گزر چکی، اگر میں صرف اس تاریخ کو یاد کروں تو اس سے مجھے حسرت اور افسوس کے سوا کچھ اور ملنے والا مگر دوسرے اعتبار سے "کریٹ" ایک جزیرہ ہے جو میڈیٹریین کے درمیان ابھرا ہوا ہے۔ کا ایک نشان ہے جو بتاتا ہے کہ کس طرح خدا نے وسیع سمندروں میں جگہ جگہ خشکی کے مقامات پیدا کر دئے ہیں جہاں انسان اپنی زندگی کی تعمیر کر سکے۔ "کریٹ" کو اگر میں اس دوسرے پہلو سے دیکھوں تو آج بھی وہ مجھ کو اپنا نظر آئے گا۔ کیوں کہ وہ مجھ کو عظیم ربانی خوراک دینے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ ہم نے ایئر مالٹا کے جس جہاز سے سفر کیا، اسی ہے مالٹا کے پرائم منسٹر ایڈور ڈ فرخ ! (Edward French-Adami) بھی سفر کر رہے تھے۔ مگر جہاز میں پرائم منسٹر کے لئے کوئی اہتمام نہ تھا۔ نہ سیکورٹی کا کوئی آدمی دکھائی دیا۔ انڈیا کا پرائم منسٹر اولاً تو عام جہاز ( کمر شیل فلائٹ) میں سفر نہیں کرے اور اگر بالفرض وہ ایسا کرے تو جہاز میں اس کے لئے اتنی دھوم ہوگی کہ ہر آدمی محسوس کرے گا کہ پرائم منسٹر صاحب اس جہاز میں سفر کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں "پرائم منسٹر" کے لئے کچھ اور ہے اور عوام کے لئے کچھ اور۔ اس کے برعکس مالٹا میں جو عوام کے لئے ہے وہی پرائم منسٹر کے لئے بھی ہے۔ پرائم منسٹر کو انتظامی اختیارات یقیناً عوام سے زیادہ حاصل ہیں۔ مگر حقوق اور احترام میں دونوں کے درمیان کوئی امتیازی فرق نہیں۔

جہاز میں میرے قریب کی سیٹ پر مصر کے ایک عیسائی جارج اناوتی (George Anavati) وہ اسکندریہ میں پیدا ہوئے ۔ وہ ۵۰ سال سے قاہرہ میں رہتے ہیں۔ ان سے مصر کے عیسائیوں کے بارہ میں بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ مصر میں ۹۰ فیصد مسیحی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیوں کا کلچر اور مسلمانوں کا کلچر ایک ہے یادو ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا مذہب اور ان کا مذہب تو الگ باقی کلچر دونوں کا ایک ہے۔ کلچر کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ میں نے ان کی عمر پوچھی۔

انھوں نے بتایا کہ ۸۶ سال۔ میں نے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ ۸۶ سال میں اتنی اچھی حالت انھوں نے کہا کہ الحمد للہ۔

سماجی تعلقات کے سلسلہ میں اس کی بے حد اہمیت ہے۔ دوسرا گروہ بھی اگر کلچر میں ایک دوسرے سے مختلف ہواں تو ان کے درمیان معتدل تعلقات مشکل ہو جائیں گے۔ اس کی مثال سابق پاکستان میں بنگالی اور پنجابی تعلقات اور موجودہ پاکستان میں سندھی اور مہاجر تعلقات میں دیکھی جاسکتی ہندوستان کے مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ اکثریتی فرقہ سے الگ اپنا کلچر کل تشخص قائم کریں۔ اصولاً یہ کوئی غلط بات نہیں۔ مگر ہم کو جاننا چاہئے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہے اور کسی مشترک سماج میں علیحدہ تشخص قائم کرنے کی بھی ایک قیمت ہے۔ اس دنیا میں قیمت دیے بغیر کوئی چیز کسی کو نہیں ملتی۔ سندھ کے مہاجرین نے اپنا علیحدہ گروہ ہی تشخص قائم کرنا چاہا مگر وہ اس کی قیمت دینے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ اس کا جو نتیجہ ہو وہ ہر ایک کو معلوم ہے۔

جو سوال میں نے جارج اناواتی سے پوچھا تھا۔ وہی سوال میں نے قاہرہ میں محمد کمال صاحب سے میں نے پوچھا کہ کیا یہاں کلچر کے اعتبار سے مسلمان اور مسیحی میں فرق ہے۔ اگر ہم ایک مسیحی سے سڑک پر ملیں اور اس سے بات کریں یا اس کے ساتھ چل کر اس کے گھر میں داخل ہوں تو کیا ہم اس کی زبان اور رہائش میں اور مسلمان مصری کی زبان اور رہائش میں فرق محسوس کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، کوئی فرق نہیں۔ سو اس کے کہ ہم مسجد میں جاتے ہیں اور وہ چرچ میں جاتے اس کے سوا دونوں میں کوئی فرق نہیں (لیس ھناك اتى فرق)

کولمبس ایک اطالوی ملاح تھا جس نے مشہور روایت کے مطابق امریکہ کو دریافت کیا۔ کشتیوں کا بیڑا ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ کو امریکہ (Bahamas) کے ساحل پر پہنچا تھا۔ اس اعتبار سے اس واقعہ پر اب پانچ سو سال گزر چکے ہیں۔

الیتالیا کے اشاعتی شعبہ نے اس مناسبت سے ۱۳۰ صفحات کا خصوصی نمبر (92 Colombo) شائع کیا ہے۔ اس میں کولمبس کو عالمی اطالوی (Universal Italian) کا لقب دیا گیا ہے۔ مضمون (The Dawn of Modern Age) کے تحت بتایا گیا ہے کہ ۵۰۰ سال پہلے کولمبس کی دریافت امریکہ کے ذریعہ ایک نئے جغرافی، علمی، اخلاقی اور افق کا راستہ کھل گیا:

خالص تاریخی اعتبار سے اصل حقیقت یہ ہے کہ دورِ جدید کی صبحِ اسلام کے ظہور کے وقت چودہ سو سال پہلے طلوع ہوئی۔ یہ دراصل توحید پر مبنی اسلامی انقلاب تھا جس نے انسان کے اوپر تمام جدید ترقیوں کے دروازے کھولنے کے تحفیل کے لئے؛ اسلام دورِ جدید کا خالق)

ایک ممسلمان پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے عربوں کے بارے میں یہ شکایت کی کہ وہ یورپ اور امریکہ کے سفید فام لوگوں سے بہت مرعوب ہیں۔ یہاں کی ایک اصطلاح ہے جس کو عقدة الخواجہ (White man Complex) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ اس مرعوبیت کو بتاتا ہے جو موجودہ عربوں کو سفید فام امریکیوں یا یورپی روپینوں کے بارے میں ان کے اندر ہے۔ ایئر پورٹ پر سفید فام امریکی کو "ویلکم کے ساتھ مسکراہٹ ملے گی۔ مگر ہندوستانی، پاکستانی یا بنگلہ دیشی مسلمان کا استقبال صرف خشک دفتر یت سے کیا جائے گا۔ یہی فرق ہر سطح پر پایا جاتا ہے۔ حتی کہ تنخواہوں میں بھی دونوں طبقوں کے درمیان واضح امتیاز موجود ہے۔

تا ہم مجھے ذاتی طور پر اس کی شکایت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا تفریقی سلوک حقیقہ سفید فام یا سیاہ فام کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ بلکہ قومی امیج کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ” سفید فام امریکی“ نے اپنے تین سو سالہ عمل سے اپنی ایک اعلیٰ عمومی امیج بنائی ہے۔ بدقسمتی سے ایشیائی اور افریقی سلمان اپنے حق میں اس قسم کی امیج نہ بنا سکے۔ ایسی حالت میں نا ممکن ہے کہ ہماری کوتاہی کی قیمت کوئی دوسرا

مادی اور ٹکنیکل ترقیات کے علاوہ عام اصول حیات میں بھی ایشیائی اور افریقی مسلمان ان سفید فام قوموں سے پیچھے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ لوگ اپنا کام حد درجہ پلاننگ کے ساتھ کرتے ہیں جب کہ ہمارے یہاں ابھی تک تصور کے درجہ میں بھی پلاننگ کا کوئی وجود نہیں۔ ایسی حالت میں اگر بین اقوامی سلوک میں دونوں کے درمیان فرق پایا جائے تو یہ عین مطابق حقیقت بات ہے۔ ہمیں چاہیے کہ خود اپنی کوتاہیوں کو دور کریں نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے میں اپنا وقت ضائع کریں۔ قاہرہ کے ہوائی اڈہ پر جہاز اترا تو مسافروں نے تالیاں بجائیں۔ ہوائی جہاز جب فضا

میں بلند ہو کر اڑ رہا ہو تو اس میں حادثہ کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ زیادہ تر ہوائی حادثے ہوائی اڈہ سے اڑتے ہوئے یا ہوائی اڈہ پر اترتے ہوئے پیش آتے ہیں۔ اس لئے ہوائی جہاز کا محفوظ طور ہوائی اڈہ پر اتر جانا مسافروں کے لئے خصوصی اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔

جہاز سے اتر کر ہوائی اڈہ کی عمارت کے سامنے پہنچا تو داخل ہونے کے دروازہ پر ایک بورڈ تھا اس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد قرآن (یوسف 99) کی یہ آیت روشن حروف میں لکھی ہوئی تھی : ادخلوا مصر ان شاء اللہ آمنین ۔ اندر امیگریشن کی قطار میں کھڑا ہوا تھا۔ اتنے میں شیخ اسحاق ادریس مجھ کو دیکھ کر وہاں آ گئے۔ انھوں نے میرا اور میرے ساتھی کا پاسپورٹ لے کر اسٹاف کے ایک آدمی کو دیا اور ہم کو لے جا کر ایک کرسی پر بٹھا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ضروری کارروائی مکمل ہو کر ہمارا پاسپورٹ واپس آگیا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور دل سے دعا نکلی کہ کاش قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ میرے ساتھ رحمت کا معاملہ فرمائے۔

ہوائی اڈہ کے باہر میرے میزبان محمد کمال مصری موجود تھے۔ ان کے ساتھ شہر کے لئے روانہ ہوا۔ گاڑی میں بیٹھا تو محمد کمال صاحب نے کہا : شرفت القاهرة يا مولانا ۔ اس وقت میں ایک خیال میں گم تھا۔ میری زبان سے نکل گیا : نعم - ایک لمحہ کے بعد خیال آیا کہ میں نے بڑا غلط لفظ کہہ دیا ۔ مجھے کہنا چاہئے تھا : بل القاھرۃ شَرُ فْتُنِی - حقیقت یہ ہے کہ آدمی کان سے نہیں سنتا، وہ دماغ سے سنتا ہے۔ آدمی کسی کی بات سنے یا کسی کی زبان سے کوئی کلمہ نکل جائے تو صرف لفظ کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس سے اس کی واقعی مراد کیا ہے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ الذین يستمعون القول فيتبعون أحسنه قاہرہ کے در و دیوار گویا کتاب واقعات کے زندہ اوراق ہیں۔ یہاں کے ہر حصہ سے تاریخ کے واقعات وابستہ ہیں۔ ہم شہر کے لئے روانہ ہوئے تو میرے میزبان نے سڑک کے دونوں طرف کھڑی ہوئی عمارتوں کا تعارف کرانا شروع کیا۔ یہاں انور سادات کو گولی ماری گئی۔ یہ صلاح الدین کا قلعہ ہے۔ یہ جامعۃ الازہر ہے۔ یہ فاطمیوں کے عہد کی یادگار ہے۔ وغیرہ - ایک لمحہ کے لئے ایسا محسوس ہو اگویا ہم سڑک پر نہیں چل رہے ہیں بلکہ تاریخ کے درمیان اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔ شیخ اسحاق ادریس بھی ہمارے ساتھ آئے۔ ایک مقام پر پہنچ کر گاڑی رکی ۔ یہ دس منزل

منزلہ مکان تھا جس کی آخری منزل پر موصوف کا قیام ہے۔ ہم گاڑی سے باہر آئے تو سامنے پھلوں کی دکان تھی جو مذکورہ مکان کی زمینی منزل پر واقع ہے۔ ہم لوگ کل چار آدمی تھے۔ دکاندار الفور اپنی دکان سے اٹھنے اور کیلئے کھیل کھیل کر ہر ایک کو پیش کرنا شروع کیا۔ میں نے کہا کہ یہ عرب اخلاق کا پہلا نمونہ ہے جس کا تجربہ یہاں پہنچ کر ہم کو ہو رہا ہے۔ کچھ وقت شیخ اسحاق اور لیس سودانی کے مکان پر گزارنے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔

رات کو عشا کے وقت ہم اپنی قیام گاہ (زہرا حلوان) پہنچے۔ یہ ڈاکٹر عبد العلیم عویس کا مکان انہی کی دعوت اور اصرار پر مصر کا یہ سفر پیش آیا۔ وہ ریاض کی جامعۃ الامام میں علوم اجتماعی کے شعبہ میں استاد ہیں۔ ان کی کئی کتا بیں شائع ہو چکی ہیں۔

ابن خلدون ۱۳۸۲ ء میں قاہرہ آیا تھا۔ اس وقت بحری راستہ کے ذریعہ تیونس سے اسکندریہ (مصر) پہنچنے میں ابن خلدون کو چالیس دن لگے۔ چند روز اسکندریہ ٹھہر کر وہ قاہرہ آج مواصلات کی ترقی نے سفر کی مدت کو کتنا زیادہ گھٹا دیا ہے۔ یہ مواصلاتی ترقیاں شاید اسی لئے ہیں کہ لوگوں کو اہل جنت کے سفروں کا تعارف کرایا جائے جو زمین و آسمان کی وسعتوں میں بلا خوف تیز رفتاری کے ساتھ جاری رہے گا ( آل عمران ۱۳۳)۔

اگرچہ قاہرہ کی تاریخ پانچ ہزار سال تک جاتی ہے۔ مگر موجودہ شہر صحابی رسول عمر و بن العاص نے ۶۴۱ میں بسایا۔ اس وقت اس کا نام الفسطاط تھا۔ اسی سال انھوں نے مصر کی پہلی مسجد اسی شہر میں بنائی جو اب بھی مسجد عمر و بن العاص کے نام سے مشہور ہے۔ ۱۹۷۰ء میں شہر کی نئی تعمیر ہوئی۔ وقت سے اس کا نام القاہرہ ہے۔

۱۷۹۸ء میں جب نپولین قاہرہ میں داخل ہوا اس وقت شہر کی آبادی تین لاکھ (300,000) سے کم تھی۔ آج قاہرہ کی آبادی تقریباً ۸۰ لاکھ ہو چکی ہے۔

"دار الصحوة" کو تفصیل کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کو ڈاکٹر عبد العلیم عویس (جامعۃ الامام ریاض) نے ۱۹۸۰ میں قاہرہ میں قائم کیا۔ اس کے موجودہ انچارج محمد کمال عبد رب النبی ہیں۔ محمد کمال صاحب میں واقعی کمال کے اوصاف ہیں۔ قاہرہ میں ڈاکٹر عبد العلیم عویس اور محمد کمال عبد رب النبی کے خصوصی تعاون کی وجہ سے ہم کو بہت آسانی ہوئی۔

Printed page