Al-Risala · January 1992

خدمت کا کرشمہ

Al-Risala, January 1992, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

نئی دہلی کے انگریزی پندرہ روزہ انڈیا ٹوڈے (۱۵ اگست ۱۹۹۰ء) میں صفحہ ۶۸ پر ایک سبق آموز واقعہ شائع ہوا ہے۔ محمد حنیف سلیمان (۳۵ سال) لکھنؤ کے ایک مسلمان باربر ہیں۔ پچھلے دس سال سے مسٹر ملائم سنگھ یادو کی حجامت بناتے رہے ہیں۔ مسٹر یادو پہلے صرف ایک نیتا تھے اب وہ یوپی کے چیف منسٹر ہیں۔ محمد حنیف سلیمان نے مسٹر یادو سے کہا کہ آپ ایک بڑے عہدے پر پہنچ گئے ہیں۔ مجھے لکھنؤ کے بازار حضرت گنج میں ایک دکان دلا دیجئے ۔ مسٹر یادو اس پر راضی ہو گئے۔ مگر وہ اس کے بعد اپنے وعدہ کو بھول گئے۔ محمد حنیف سلیمان چند مہینے تک انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد انھوں نے چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر جانا چھوڑ دیا۔ مسٹر یادو نے دریافت کرایا تو معلوم ہوا کہ محمد حنیف سلیمان ان کی وعدہ خلافی پر ناراض ہیں اور اس بنا پر ان کے یہاں جانا چھوڑ دیا ہے۔ مسٹر یادو کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں نے اپنے افسروں کو حکم دیا کہ سلیمان کے لیے حضرت گنج میں ایک دکان تلاش کرو۔ حضرت گنج میں دوڑ دھوپ کی تو معلوم ہوا کہ اس علاقہ میں کوئی بھی دکان خالی نہیں ہے۔ حضرت گنج میں لکھنؤ ڈویلپ منٹ اتھارٹی کے پاور ڈپارٹمنٹ کا ایک سرکاری دفتر مسٹر یادو کے حکم پر یہ دفتر خالی کر کے سلیمان کو دے دیا گیا تاکہ وہ وہاں اپنی دکان کھول رپورٹر کے مطابق اس وقت ۱۲۵۰ لوگ حضرت گنج میں دکان حاصل کرنے کے منتظر سلیمان نے ان سب پر چھلانگ لگا کر ایک دن میں لکھنؤ کی اہم ترین مارکیٹ میں ایک ایسی دکان حاصل کر لی جس کی قیمت اس وقت پانچ لاکھ روپیہ ہے۔ اب محمد حنیف سلیمان نے اس دکان میں اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اس دکان کے اوپر اس نام کا بورڈ لگا ہوا ہے: بمبئی ہیر ڈریسر ز (Bombay Hair Dressers) رپورٹر کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سلیمان نے جو کچھ کہا اس کو رپورٹر نے اپنی زبان میں اس طرح نقل کیا ہے کہ میں اپنی سیوا کی وجہ سے اس کا حقدار تھا :

Printed page