Al-Risala · October 1992

خبرنامه اسلامی مرکز

Al-Risala, October 1992, pp. 46–48

By Maulana Wahiduddin Khan

آل انڈیا ریڈیو نیشنل چینل، سے صدراسلامی مرکز کی ایک تقریر ، اجون ۱۹۹۲ کو نشر کی گئی۔ یہ "فکر مشرق" کے مستقل پروگرام کے تحت تھی اور اس کا عنوان تھا : مولاناروم ۔ مدراس کے ایک تعلیم یافتہ کرسچین ڈاکٹر رم پوری جان ایڈوکیٹ تقابل مذہب پر مقالہ لکھ رہے ہیں ۔ اسلام کے بارہ میں ان کے کچھ سوالات تھے۔ اس سلسلہ میں وہ ۷اگست ۱۹۹۲ کو صدر اسلامی مرکز سے ملے اور اپنے سوالات کے جوابات معلوم کئے ۔ اللہ کے فضل سے وہ مطمئن ہوگئے۔ گودھرا کے اقبال حسین غلام نبی صاحب نے مطلع کیا ہے کہ وہ الرسالہ کے مضامین کا ترجمہ گجراتی زبان میں کر رہے ہیں۔ اور ان کو گجراتی اخبارات میں شائع کر رہے ہیں۔

اخبار نئی دنیا کے نمائندہ جناب صالح عبداللہ صاحب نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا موضوع بابری مسجد۔ رام جنم بھومی کا مسئلہ تھا۔ یہ انٹرویو نئی دنیا کے شمارہ ۷ - ۱۳ اگست ۱۹۹۲ میں شائع ہوا ہے۔ ایک صاحب لکھتے ہیں : الرسالہ ایک پرچہ نہیں بلکہ دین اسلام کی تبلیغ کا ایک شاندار ذریعہ ہے۔ آپ کی حیثیت ایک مبلغ کی ہے جو زمانہ حاضر میں قرآن کی روشنی میں زندگی کے پہلوؤں کو اجاگر کرکے صاف ستھرے اسلام لوگوں کے روبرو پیش کر رہا ہے (مسعود ادیب، ارقام) ایک خاتون لکھتی ہیں : کچھ عرصہ سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہی ہوں۔ پرانے شمارے جتنے مل سکے جمع کئے ہیں اور بڑی بے صبری سے ان کو ختم کر رہی ہوں۔ اس تشنہ روح کو برسوں سے جس چیز کی تلاش تھی وہ راستہ آپ نے دکھایا ہے۔ آپ نے اسلام کا صحیح مزاج سمجھ کر جس انداز میں مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے وہ قابل قدر ہے۔ آپ کے مضامین پڑھ کر روح کو عجیب سکون محسوس ہوتا ہے۔ دل میں گھر کر جاتی ہیں آپ کی باتیں ۔ اس مشن کو پورا کرنے کے لئے مجھ سے جو کچھ بھی ہو سکے ضرور کروں گی۔ پانچ پرچہ کی ایجنسی بھی چلانے کی کوشش کر رہی ہوں : ڈاکٹر انیس فاطمہ، جالنہ) نمبر ایک نظام الدین ویسٹ مارکیٹ نئی دہلی، میں الرسالہ بک سنٹر کے نام سے ایک کتابی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ یہاں الرسالہ مطبوعات کے علاوہ مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں کی چھپی ہوئی اسلامی کتابیں فراہم کرنے کا انتظام ہے۔ یہاں سے اردو، عربی، انگریزی ، ہندی زبانوں میں اسلامی کتابیں دستیاب ہیں

اللہ کے فضل سے الرسالہ کا مشن روز بروز پھیل رہا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس سے متاثر افراد اسی انداز پر پرچے نکال رہے ہیں یا اسی انداز میں کتابیں شائع کر رہے ہیں۔ سے ایک مولا نا عبد الرؤف گلاب سرینگر ، کشمیر ہیں۔ انھوں نے جنت اور اہل جنت، اور جہنم اور اہل جہنم کے نام سے کتابیں شائع کی ہیں۔ ان کتابوں میں انذار و تبشیر کے انداز میں دعوت کو پیش کیا گیا ہے۔

کتابوں کا ایک سیٹ تیار کیا جارہا ہے۔ انشاء اللہ وہ تین الگ الگ کتاب کی صورت میں تین جلدوں میں شائع ہو گا ۔ پہلی جلد انبیاء سابقین کے بارہ میں ۔ دوسری جلد پنیر آخر الزماں کے بارہ میں اور تیسری جلد صحابہ کرام کے بارہ میں ۔

ایک صاحب لکھتے ہیں : میں گزشتہ سال سے الرسالہ کا قاری ہوں۔ اور مسلسل استفادہ حاصل کر رہا ہوں۔ اور بلاشبہ یہ موجودہ تنزل کے دور میں نہایت عمدہ اقدام ہے۔ اس کا قاری اسے پڑھ کر اپنی بیتی ہوئی زندگی کا محاسبہ کرتا ہے کہ اس سے کیا صحیح اور کیا غلط اقدامات سرزد ہوئے۔ اور میں نے خود بہت سے نازک مواقع پر مثبت اقدامات اور طرز فکر کو ترجیح دی ہے احمد طیب خاں ، راپور)

الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ پڑھ کر تسلی نہیں آتی ہے۔ ایک پرچہ وصول کرکے دوسرے کاشدت سے انتظار رہتا ہے۔ الرسالہ ایک سدا بہار تحریری غذا ہے۔ لوگوں کو اس سے لاکھ اختلاف سہی ، مگر اس رسالہ کی افادیت سے انکار تاریخ کی بد ترین غلطی ہوگی۔ ان شاء اللہ آئندہ مفصل لکھوں گا۔ (غلام حسن، نگر وسا)

ایک صاحب لکھتے ہیں : اتفاقاً آپ کا رسالہ الرسالہ (دسمبر ۱۹۹۱) میں نے پڑھا۔ اور بہت اچھا ہے۔ اس کی تعریف لفظوں میں نہیں کی جا سکتی۔ اس کو پڑھ کر دل کو بہت سکون اور اطمینان اس کو پڑھ کر دل کا کمل کھل اٹھا ہے۔ آپ نے حدیث اور دین و دنیا پر بہت اچھی معلومات کاش مجھے اس کے بارے میں پہلے سے معلوم ہوتا۔ اس میں آدمی کی زندگی بدل ڈالنے کی طاقت ہے نثار احمد خاں ، بلڈانہ)

"علماء کارول" نامی ایک کتابچہ تیار ہوا ہے۔ وہ انشاء اللہ الرسالہ میں بطور نمبر شائع کیا اس میں تنقیدی جائزہ بھی ہے اور علما کے صحیح رول کی نشاندہی بھی۔ مسٹر ایس شفیع احمد (Cuddapah 516001) اپنے خط میں لکھتے ہیں : I happened to go through your much esteemed monthly magazine Al- Risala and I finished its reading in one sitting as the contents therein were so thought provoking and enlightening that my words are too poor to express my deep appreciation for the unforgettable services being rendered by a great reformer like you in bringing about healthy transformation in the attitude and outlook of the Muslim community which seems to have lost a clear sense of direction and vision of their future in the face of rapidly changing global situation. ، ۱ اگست ۱۹۹۲ کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک سیمینار تھا۔ اس سیمینار کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا عنوان تھا : امپروونگ ہند و مسلم ریلیشنز (Improving Hindu-Muslim relations) اس میں دہلی کے اعلی تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہر آدمی اپنی فطرت کے اعتبار سے انسانیت دوست اور امن پسند ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کو ان کی فطرت پر رہنے دیا جائے تو عام حالات میں وہ اچھی طرح ہی رہیں گے۔ انسانی تعلقات میں بگاڑ فطرت سے ہٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لیے اچھا سماج بنانے کے لیے ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ بگاڑنے والے عنصر کو ہٹا کر یہ موقع پیدا کر دیں کہ لوگ اپنی اصل فطرت پر زندگی

کلکتہ سے مسز نذیر لکھتی ہیں : مجھے الرسالہ کا ایک پرانا پرچہ ملا۔ پڑھ کر بے انتہا اس کے بعد رسالہ کی خریدار بن گئی۔ اور ساتھ ساتھ اپنی بیٹی رفعت جاوید کے نام سے رسالہ جاری کروا دیا۔ الرسالہ حقیقت تک پہنچنے کا سیدھا راستہ بتاتا ہے وہ حق کی پہچان کراتا ہے اور انسانوں کا بھلا چاہتا ہے۔ اس کی سادہ اور صاف تحریر دل میں اتر اس رسالے میں قرآن و حدیث دنیا و آخرت کی حقیقتیں سبق آموز واقعات اور با اصول زندگی گزارنے کے بہترین نسخے ہیں۔ اس کے مضمون اپنے درس میں خواتین کو سناتی ہوں۔

Printed page