عدالت کا سامنا
Al-Risala, November 1992, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر منوہر جے پھیر وانی گورنمنٹ آف انڈیا میں ایک افسر تھے۔ ترقی کرتے کرتے وہ یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا اور نیشنل ہاؤ سنگ بینک کے چیئرمین ہو گئے۔ یہ بہت بڑا مالی عہدہ تھا۔ رزرو بینک آف انڈیا نے 1991 میں سرکلر جاری کیا کہ بینکوں کا فنڈ اسٹاک مارکیٹ میں منتقل نہ کیا جائے ۔ مگر مسٹر پھیر وانی نے اس کا لحاظ نہیں کیا۔ انھوں نے قانون اور ضابطہ کے خلاف ایک بروکر کو تین ارب روپیہ سے زیادہ (Rs 3,078.63 crore) کی رقم چیک پر دیدی۔ معاملہ پکڑ میں آگیا۔ گورنمنٹ کی طرف سے ان کی سخت باز پرس ہوئی۔ 9 مئی 1992 کو انھوں نے اپنے عہدہ سے استعفا دے دیا (ہندوستان ٹائمس ۲۲ مئی ۱۹۹۲ ، ۳ جون ۱۹۹۲)
ان کا کیس سی بی آئی کو دے دیا گیا۔ سی بی آئی کی ایک ٹیم ان کی چھان بین کرنے لگی۔ صورت حال ان کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ ان کو سخت اندیشہ تھا کہ وہ عدالت میں اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت نہ کر سکیں گے۔ یہ احساس ان کے لیے اتنا اعصاب شکن ثابت ہوا کہ استعفا کے بارھویں دن 21 مئی 1992 کو ان کے اوپر دل کا شدید دورہ پڑا اور صرف پانچ منٹ بعد ان کا خاتمہ بوقت انتقال ان کی عمر ۵۸ سال تھی :
He complained of uneasiness around 2.25 a.m. and collapsed within five minutes. He was 58. یہ انسان کی عدالت کا سامنا کرنے کا مسئلہ تھا جس نے مسٹر پھیر وانی کو اتنا زیادہ بد حواس مگر ایک اور مسئلہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ یہ خدا کی عدالت کا سامنا کرنے کا انسانی عدالت کے سامنے کھڑا ہونے کا احساس آدمی کو اس قدر گھبرا دیتا ہے۔ اس وقت آدمی کا کیا حال ہو گا جب کہ وہ خدائی عدالت کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ جو موت آدمی کو انسانی عدالت کی پکڑ سے بچالیتی ہے ۔ وہی موت زیادہ شدید طور پر آدمی کو خدائی عدالت کی پکڑ میں دے دے گی۔ کتنا سنگین ہے یہ معاملہ ۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس کے اندر تمام زلزلوں سے زیادہ بڑا زلزلہ آ جائے ۔