Al-Risala · November 1992

15 المسائل | نومبر 1994 ء

Al-Risala, November 1992, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم ملکوں کی ایک تنظیم ہے جس کواسلامی کا نفر نس تنظیم تنظیم (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) کہا جولائی ۱۹۹۲ کے دوسرے ہفتہ میں اس کا اجلاس جدہ میں ہوا۔ اں اجودھیا کے مسئلہ پر ایک مذمت کا رزولیوشن پاس کیا گیا۔ اس تجویز کو پاکستان کے روز نامہ وفاق (۱۵ جولائی ۱۹۹۲) نے اپنے صفحہ اول پر اس جلی سرخی کے ساتھ چھاپا ہے: رام مندر کی تعمیر بند کرو، اسلامی کانفرنس تنظیم کا بھارت کو انتباہ۔

مگر یہ بھارت" میں مذکورہ تنظیم کی اس مذمت کو کوئی ایت نہیں دی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۴ جولائی ۱۹۹۲) میں مسٹر دلیپ مکھرجی کا ایک آرٹیکل چھپا ہے۔ اس کا آخری پیرا گراف یہ ہے بنیادی بات سمجھ لینے کی یہ ہے کہ مسلم دنیا خواہ اور جو کچھ ہو مگر وہ ایک نہیں ہے۔ کے درمیان قومی رقابتیں، سرحدی جھگڑے، فرقہ وارانہ نزاعات، اقتصادی معاملات، اور پھر بین اقوامی صف پابندیاں ہیں۔ اس طرح اسلامی کانفرنس تنظیم جس میں ۴۵ مسلم ریاستیں شریک ہیں وہ تقریباً اتنی ہی غیر مؤثر ہے جتنا کہ کسی عملی کارروائی کے لیے نام۔ یہ بات اس حقیقت سے بخوبی واضح ہے کہ سینگال میں او آئی سی کی چوٹی کانفرنس میں متفقہ طور پر یہ طے کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے اس رزولیوشن کی مخالفت کی جائے جس کا مقصد صیہونیت کو نسل پرستی کے برابر ٹھہرانے کی قدیم قرار داد کو منسوخ کرنا ہے۔ مگر جب اقوام متحدہ میں منسوخی کا یہ رزولیوشن پیش ہوا تو ۴۵ ہم مسلم ملکوں میں سے ۲۰ ملکوں نے یا تو اس کی تائید کی یا رائے شماری سے علیحدہ رہے۔ ایسی حالت میں انڈیا کو اسلامی کانفرنس کے اعلانات پر اپنی ایک نیند بھی خراب کرنے کی ضرورت نہیں : The main point to grasp is that the Islamic world is anything but monolithic. It is deeply divided by national rivalries, territorial disputes, sectarian differences, economic circumstances and, last but not the least, international alignments. Thus, the Organisation of Islamic Conference which brings together 45 Islamic states is about as ineffective as an instrument of action as NAM. This is sharply brought out by the fact that within days of a unanimous resolution adopted at OIC's Senegal summit to vote against revoking the UN resolution equating Zionism with racism, 20 out of the 45 either voted for it or abstained. India does not, therefore, need to lose any sleep over OIC declarations. (The Times of India, July

Printed page