16 | السالی - نومبر ۱۹۹۲ء
Al-Risala, November 1992, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
المامون (۱۸-۲۱۸ھ، ۸۳۳-۷۸۶ء) ساتواں عباسی خلیفہ ہے۔ وہ اپنے والد ہارون الرشید کی وفات کے بعد محرم ۱۹۸ھ میں بغداد کے تخت خلافت پر بیٹھا۔ وہ علم اور عمل دونوں اعتبار سے ممتاز صلاحیتوں کا مالک تھا۔ اس کا زمانہ اگر چہ جنگوں اور شورشوں کا زمانہ ہے۔ اس کے باوجود اس کے زمانہ میں علم وفن کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔ المامون ہی نے بغداد کے مشہور بیت الحکمت کو قائم کیا تھا۔ بیت الحکمت (۸۲۰ء) ایک عظیم علمی ادارہ تھا جو کتب خانہ، تحقیقی اکیڈمی اور دار الترجمہ وغیرہ کا مجموعہ تھا (ہسٹری آف دی عربس: ۳۱۰)
مامون کی زندگی کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ اس نے اپنے بعد ولی عہد مقرّر کرنے کے لیے رشتہ کا لحاظ نہ کرتے ہوئے صحیح آدمی کی تلاش کی۔ ۲۰۰ھ میں اس نے آل عباس کے قابلِ ذکر افراد کو مرو میں جمع کیا۔ کئی مہینے تک ان کی تواضع کی۔ وہ ان میں سے کسی لائق شخص کو اپنے بعد ولی عہد مقرر کرنا چاہتا تھا۔ مگر کوئی عباسی اس کو اپنے معیار کے مطابق نظر نہ آیا۔ آخر کار اپنے وزیر الفضل کے مشورہ (الکامل فی التاریخ ۷/ ۱۹۷) پر اس نے بنو ہاشم کی علوی شاخ سے مناسب آدمی لینے کا فیصلہ کیا۔ تلاش اور غور وفکر کے بعد اس نے اس منصب کے لیے علی بن موسی الکاظم بن جعفر الصادق بن محمد بن الحسین بن علی بن ابی طالب کا انتخاب کیا۔ مامون نے ان کو الرضی کا خطاب دیا اور اپنے انتخاب کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ان سے اپنی لڑکی ام حبیب کا نکاح کر دیا۔ ہارون الرشید کی وصیت کے مطابق، مامون کے بعد اس کا بھائی مؤتمن ولی عہد تھا، مگر مامون نے مؤتمن کو معزول کر دیا۔ اور علی الرضی کو اپنے بعد ولی عہد مقرر کیا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں :
و ذلك ان المامون رأی ان عليا الرضی خیر اور ایسا اس لیے ہوا کہ مامون نے دیکھا کہ علی الرضی اهل البيت وليس في بنی العباس مثله اہل بیت میں سب سے بہتر ہیں۔ اور بنو عباس کے فرعمله ودینه فجعله ولی عهده من اندر عملی اور دینی اعتبار سے ان کے جیسا کوئی نہیں۔ بعده (البدايه والنهایه ۴۲۷/۱۰) پس مامون نے اپنے بعد ان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا۔
ابن اثیر نے یہی بات ان لفظوں میں لکھی ہے کہ : أنه نظرفی بنی العباس و بنى علی فلم يجد احداً افضل ولا اورع ولا اعلم منه (الكامل فی التاریخ ۴۲۶/۶)
یہ المامون کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ اس نے خلافت کے منصب کے لیے بنو عباس کا کوئی فرد نامزد کرنے کے بجائے علوی شاخ کا ایک فرد منتخب کیا۔ کیوں کہ اس کو نظر آیا کہ عباسی خاندان کے مقابلہ میں علوی خاندان کے اندر زیادہ اہل افراد موجود ہیں۔ مگر المامون کے اہل خاندان (بنو عباس) اس پر راضی نہ ہوئے۔ انھوں نے مختلف قسم کی سازشیں شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق، انگور میں زہر ملا کر علی الرضی کو کھلا دیا ۔ جس سے صفر ۲۰۳ھ میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ فرانسیسی مستشرق پروفیسر ڈامینیک سور ڈیل (Dominique Sourdel) نے لکھا ہے کہ المامون کے وقت مسلم دنیا شیعہ گروہ اور سنی گروہ میں بٹ گئی تھی۔ ایک طرف پیغمبر اسلام کے چچا عباس کے اہل خاندان تھے اور دوسری طرف پیغمبر کے داماد علی سے وابستہ حضرات، پوری عباسی سلطنت کا خلیفہ بننے کے بعد المامون نے طے کیا کہ وہ مسلم امت کی اس تقسیم کو ختم کرے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو اس کے معاصرین کے لیے سخت تعجب خیز تھا، حتی کہ وہ خود اس کی اپنی حیثیت کے لیے بھی نقصان دہ تھا۔ اس نے یہ کیا کہ اپنا ولی عہد مقرر کرنے کے لیے اپنے خاندان کے کسی فرد کو نہیں لیا۔ بلکہ اس نے علی الرضی کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کیا جو کہ علی بن ابی طالب کے خاندان سے تھے۔ بظاہر دو خاندانوں کے درمیان رقابت کو ختم کرنے کے لیے المامون نے اپنی بیٹی کا نکاح بھی علی الرضی کے ساتھ کر دیا۔ دونوں کے درمیان مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کے لیے مزید اس نے یہ کیا کہ اس نے عباسیوں کے کالے جھنڈے کو چھوڑ کر علویوں کے ہرے جھنڈے کو سرکاری طور پر اختیار کر لیا۔ مگر المامون کی ان کوششوں کا متوقع نتیجہ نہیں نکلا۔ عباسی گروہ اتنا ناراض ہوا کہ بغداد میں باقاعدہ طور پر المامون کی خلافت سے معزولی کا اعلان کر دیا گیا۔ عباسیوں نے المامون کو تخت سے ہٹا کر عباسی خاندان کے ابراہیم کو اس کی جگہ خلیفہ مقرر کر دیا۔
اس وقت المامون بغداد سے دور مرو میں تھا۔ جب یہ خبر ہاں پہنچی تو وہ فوراً مرو سے چل کر بغداد کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس لمبے سفر کے دوران یہ واقعہ ہوا کہ فروری ۸۱۸ء میں اس کے وزیر
الفضل کو قتل کر دیا گیا۔ اور علی الرضی بھی زہر آلود انگور کھانے کے بعد اگست ۸۱۸ء میں اچانک
علی الرضی اور ان کے حامی وزیر الفضل کی یہ اندوہناک موتیں کیوں کر ہو ئیں اس کی توجیہہ کے لیے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عباسیوں نے ان دونوں کو مروادیا۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خود المامون نے اس وقت کے مخالفانہ حالات سے گھبرا کر انہیں ختم کر دیا اور حالات سے مصالحت کرتے ہوئے دوبارہ خلافت کا منصب عباسی خاندان کے حوالے کر دیا (18-11/417) ابن خلدون نے اس تاریخی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کسی معاشرہ میں عمومی طور پر جب وازع دینی ضعیف ہو جائے تو اس کے بعد ایک فرد، خواہ بذات خود وہ کتنا ہی صالح ہو، وہ معاشرہ میں صلاح و فلاح کا نظام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا (مقدمہ ابن خلدون ۲۱۱) اس طرح کے واقعات کثرت سے تاریخ میں موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ سیاسی نظام سماجی حالات کے تابع ہے۔ جیسے سماجی حالات ویسا ہی سیاسی نظام۔
یہ تاریخی حقیقت بتاتی ہے کہ جو شخص صالح افراد کے ہاتھ میں حکومت کا نظام دینا چاہتا ہو اس کو پہلے سماجی نظام میں اس کے موافق تبدیلی لانا ہوگا۔ اس تبدیلی سے پہلے کبھی صالح افراد کی سیاسی قیادت کسی معاشرہ میں قائم نہیں ہو سکتی۔
اس واضح تاریخی شہادت کے باوجود جو لوگ ایسا کریں کہ ضروری سماجی تبدیلی کے بغیر صالح سیاسی قیادت کا نعرہ لگائیں، وہ یا تو غیر سنجیدہ ہیں یا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے