Al-Risala · November 1992

برداشت کا مسئلہ

Al-Risala, November 1992, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ دی پائیر (۴۷ جون ۱۹۹۲) نے جل دیپ لاہری کے حوالے سے ایک رپورٹ چھاپی ہے۔ اس رپورٹ میں ایک بہت بڑا سبق چھپا ہوا ہے۔ یہ سبق کہ بعض ناخوشگوار باتیں صرف اس قابل ہوتی ہیں کہ ان کو برداشت کر لیا جائے ۔ ایسی باتوں کو برداشت نہ کرنا صرف ان کی مقدار میں اضافہ کر نے کے ہم معنی ہے ۔ یہ ۲۲ جون ۱۹۹۲ کی شام کا واقعہ ہے، راجدھانی ایکسپریس دہلی سے ہوڑہ کے لیے روانہ ہوئی۔ ٹرین آگے بڑھی تو اس کی ایک کوچ (۴-s) کے مسافروں کو محسوس ہوا کہ ان کی کوچ کا اے سی یونٹ کام نہیں کر رہا ہے۔ کوچ کے ۷۰ مسافر اس پر برہم ہو گئے۔ انھوں نے انجام پر زیادہ غور بس زنجیر کھینچ کر ٹرین کو روکا اور اس کو پیچھے چلنے پر مجبور کر دیا۔ ٹرین واپس ہو کر پہلے اسٹیشن (تلک برج) پر کھڑی ہو گئی۔

ٹرین کے مسافر پلیٹ فارم پر اتر آئے۔ ان میں اور ٹرین کے ذمہ داروں میں تکرار شروع مسافروں کی مانگ یہ تھی کہ مذکورہ ناقص کوچ کو نکال دیا جائے اور اس کی جگہ صحیح کوچ لگائی جائے۔ دوسری طرف ریلوے کے ذمہ داروں کا کہنا تھا کہ اس وقت فوری طور پر ایسا کرنا ممکن نہیں۔ قریب میں اس کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔

یہ بحث بے نتیجہ رہی۔ آخر کار ٹرین اپنی اسی ناقص کوچ کے ساتھ دوبارہ آگے کے لیے البتہ اس بحث و تکرار میں غیر ضروری طور پر راجدھانی ایکسپریس پانچ گھنٹہ کے لیے لیٹ ہوگئی۔

مزید یہ کہ اس کی وجہ سے تلک برج اور نئی دہلی اسٹیشن کے درمیان ”ریل جام کا مسئلہ پیدا ہو گیا ۔ اور پانچ آنے اور جانے والی ٹرینیں بھی کافی تاخیر سے روانہ ہو سکیں۔ ایکسپریس کے دو مسافر جن کو وقت پر کلکتہ پہنچنا تھا، وہ اس صورت حال سے اتنا پریشان ہوئے کہ ٹرین کو چھوڑ کر پالم ایئر پورٹ کی طرف بھاگے۔ تاکہ شام کا ہوائی جہاز پکڑ کر وقت پر اپنی منزل پر پہنچ سکیں۔

یہ معاملہ ذہن کی پختگی اور نا پختگی کا معاملہ ہے۔ ذہن کی ناپختگی نے سارا مسئلہ پیدا کیا۔ مذکورہ کوچ کے مسافر پختہ ذہن کے لوگ ہوتے تو نہ یہ مسئلہ پیدا ہوتا اور نہ سینکڑوں مسافروں کو یہ غیر ضروری مصیبت اٹھانی پڑتی۔

ذہن کی پختگی کیا ہے۔ ذہن کی پختگی کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ آدمی ایسی حقیقت کو قبول کرلے جس کو وہ بدل نہیں سکتا، نا پختہ ذہن کے لوگ ایسی صورت حال پیش آنے پر چیخ اٹھتے ہیں، اور پختہ ذہن کے لوگوں کو ایسی صورت حال پیش آتی ہے تو وہ اس سے موافقت کر لیتے ہیں، تاکہ ان کا سفر حیات کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔

مذکورہ ٧٠ مسافروں کے واقعہ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ وہ ذہنی پختگی کے اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ اگر وہ لوگ ایسا کرتے کہ وقتی طور پر ائر کنڈیشنز کی محرومی پر صبر کر لیں تو ان کا مسئلہ صرف ایک مسئلہ رہتا۔ یعنی وقتی طور پر تھوڑی سی گرمی کو برداشت کر لینا۔ انھوں نے صبر نہیں کیا تو ان کا مسئلہ مزید بڑھ کر کئی مسئلہ بن گیا۔ موجودہ دنیا میں سب کچھ کسی کی مرضی کے مطابق ہونا ممکن نہیں۔ یہاں زندگی نقصان پر راضی ہونے کا نام ہے۔ جو آدمی ایک نقصان پر راضی نہ ہو اس کو آخر کار کئی نقصان پر راضی ہونا پڑے گا۔

Printed page