Al-Risala · November 1992

سفر نامه - ۴۰

Al-Risala, November 1992, pp. 23–38

By Maulana Wahiduddin Khan

دار الصحوہ نے کثیر تعداد میں عربی کتابیں چھاپی ہیں۔ وہ قاہرہ کے بڑے نشر یاتی اداروں میں سے ہے ۔ اس کے تعارف نامہ میں لکھا ہوا ہے کہ دار الصحوہ صرف تجارتی دار الاشاعت کے طور پر قائم نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے سامنے ایک اسلامی نشاسہ ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمانوں کے اندر حقیقی دینی فہم پیدا کرے اور ان کو جدید چیلنج کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے۔ دار الصحوہ کا مقصد، اس کے تعارف نامہ کے مطابق، یہ ہے کہ اہل اسلام کو روحانی اور ثقافتی اعتبار سے بلند کرے۔ ان کے اندر اعلیٰ ترین فکری اور اخلاقی اوصاف پیدا کرے تاکہ وہ سنت اللہ کے مطابق عالمی قیادت کے مستحق بن سکیں ۔ کیوں کہ اللہ تعالی عالمی قیادت کا منصب انھیں کو دیتا ہے جو فکری اور اخلاقی اور ثقافتی اعتبار سے بلند درجہ کو پہنچے ہوئے ہوں۔ کے انچارج جناب محمد کمال صاحب نے اپنے مکتبہ کی کئی کتابیں مجھے دیں۔ ان میں سے ایک شیخ شعراوی کی کتاب تھی۔

شیخ محمد متولى الشعراوی یہاں کے مشہور عالم ہیں۔ وہ زیادہ تر تقریریں کرتے ہیں۔ ان کی کچھ باتوں کا مجموعہ چھا پا گیا ہے۔ اس کو مرتب کرنے والے ابوالحسن عبد الرزاق ہیں ۔ ان میں بہت سی نصیحت کی باتیں ہیں۔ ایک اقتباس میں انھوں نے کہا کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اپنے معاشرہ کو مجتمع اسلامی کہتے ہیں۔ مگر ہم اسلامی مجتمع نہیں۔ در اصل ہم اسلامی جغرافیہ ہیں ( نحن في الواقع لسنا مجتمعاً اسلامياً، نحن جغرافية اسلامية)، صفحه ۴ شیخ شعراوی کی یہ کتاب تمام تر خطابی انداز میں ہے۔ اس میں کسی بات کا گہرا تجزیہ مجھے نہیں ملا۔ مثال کے طور پر کتاب کے صفحہ ۳۰ پر ایک حدیث کو منقر انقل کیا گیا ہے ۔ اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ ہر قبیلہ کے منافق اس کی سرداری کریں گے (من علامات الساعة ... وليس وكل قبيلة منافقوها) اس حدیث پر انھوں نے خطابی انداز کے کچھ جملے کہے ہیں مگر وہ اس کی کوئی گہری تشریح نہ کر سکے۔ اس حدیث کا پورا مطلب اس وقت سمجھ میں آتا ہے جب کہ اس کو قرآن سے ملا کر دیکھا جائے ۔ قرآن میں منافقین کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ جب تم انھیں دیکھو تو ان کے جسم تم کو اچھے لگتے ہیں، اور اگر وہ بات کریں تو تم ان کی بات کو سنتے ہو (المنافقون ۴)۔

منافق حقیقتہ اس انسان کا نام ہے جو مصلحت پرست اور زمانہ ساز ہو۔ اس کی اس صفت کی بنا پر اس کے دنیوی معاملات درست رہتے ہیں۔ اس کی زندگی خوش حالی کی زندگی ہوتی ہے۔ کی زندگی غم سے خالی ہوتی ہے۔ اس کے ان حالات کا اثر اس کے جسم پر پڑتا ہے۔ اس کا جسم پرکشش جسم بن جاتا ہے۔ اسی طرح اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر وہ اس بحث میں نہیں پڑتا کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ اصول کیا ہے اور بے اصولی کیا ۔ تضاد والا کلام کیا ہے اور بے تضاد کلام کیا۔ کے بجائے وہ موقع کی رعایت کرکے بولتا ہے۔ اس بنا پر اس کا کلام ہر ایک کی پسند کا کلام بن

منافقین کی یہ خصوصیت ہر دور میں ان کو عوام کا لیڈر بنائے رہی ہے۔ قرب قیامت میں پریس اور اسٹیج کا دور آجانے کی وجہ سے منافقین کے یہ مواقع اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ صفات کے اظہار کے لئے وہ زیادہ وسیع مواقع پالیں گے اور نتیجہ یہ زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے لئے قیادت کا مقام حاصل کر لیں گے۔

ایک مصری عالم نے گفت گو کے دوران کہا کہ یورپی اور امریکی یہی موجودہ زمانہ کے صلیبی ہیں (الصليبيون الآن هم الاوربيون والامريكيون) انھوں نے شیخ محمد ابو زہرہ کا قول دہرایا، ان كل حرب تقع بين اقلیم اسلامی و دولة اوروبية هي حرب صليبية (ہر جنگ جو کسی مسلم ملک اور کسی مغربی ملک کے درمیان ہوتی ہے وہ صلیبی جنگ ہے) آج تقریباً پوری عرب دنیا کی سوچ یہی ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ سوچ صحیح نہیں۔ یہی وہ خاص سوچ ہے جس نے مسلم دنیا کی نظر میں مغربی قوموں کو نفرت کا موضوع بنا دیا ہے۔ حالاں کہ امت مسلمہ کی داعیانہ حیثیت کا تقاضا ہے کہ مغربی قومیں اس کے لئے شفقت و ہمدردی کا موضوع بنیں۔ ایک مجلس میں چند عرب لوگ تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ جو مشن چلا رہے ہیں، اس سے مجھے اتفاق ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد یہ مشن کس طرح جاری رہے گا۔ کیا آپ نے اپنے بعد کے لئے اپنے جیسا کوئی شخص تیار کیا ہے جو آپ کی جگہ لے سکے۔ اس پر رابطہ عالم اسلامی کے شیخ ادریس نے کہا: وحید الدین لا يكون الا وحيداً (وحید الدین صرف ایک ہی ہوتا ہے) یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں بلکہ ہر آدمی کی بات ہے۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں آتا ہے وہ ایک

منفرد شخصیت لے کر آتا ہے۔ جس طرح ہر آدمی کے انگوٹھے کا نشان دوسروں سے الگ ہواتا ہے، اسی طرح ہر آدمی کی شخصیت بھی دوسروں سے الگ ہوتی ہے۔ کسی بھی آدمی کی تکرار اس دنیا میں ممکن نہیں۔ ۱۲ اکتوبر کی سہ پہر کو ہم اہرام وغیرہ دیکھنے کے لئے نکلے۔ ایک مقام پر پہنچے تو ایک اونچی بلڈنگ کے اوپر آخری منزل پر ایک سفید اور کالا جھنڈا لہرارہا تھا۔ معلوم ہو کہ اس عمارت کے اوپر کے حصہ میں اسرائیل کا سفارت خانہ واقع ہے۔ پہلے یہ سفارت خانہ نیچے کی منزل پر تھا۔ مگر اس حملے ہوئے۔ کے بعد اس کو اوپر کی آخری منزل پر قائم کر دیا گیا۔ تاہم قاہرہ میں وہ یہاں کے سماج سے بالکل کٹ کر یہاں کوئی ان سے ملنا پسند نہیں کرتا۔

پہلا اسرائیلی سفیر جب اپنی مدت پوری کی کے قاہرہ سے اسرائیل واپس گیا تو اس کی بیوی نے اسرائیلی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاہرہ میں ہم کسی جیل کے اندر تھے. اب اس سے نکل کر آزاد دنیا میں آئے ہیں۔

قاہرہ کی مذکورہ بلڈنگ کے اوپر اسرائیل کا جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھ کر خیال آیا کہ جس ملک میں تھوڑی کے بعد اس کے اول حکمران نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنڈھیكم في البحر )ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے) عین اسی ملک میں اس حکمراں کے پہلے جانشین کے زمانہ میں خود اس کی اجازت سے یہ واقعہ پیش آیا کہ اسرائیل نے دارالسلطنت قاہرہ میں داخل ہو کر وہاں اپنا جھنڈا نصب کر دیا۔

حقیقتیں کبھی الفاظ سے نہیں بدلتیں بلکہ اس کے مطابق ضروری اسباب فراہم کرنے سے بدلتی ہیں۔ موجودہ زمانہ کے بیشترت مائن کا یہ حال ہے کہ انھوں نے پر جوش الفاظ بولنے کو حقیقی عمل کا بدل سمجھ لیا ہے۔ مگر اس قسم کی خوش فہمی صرف خوش فہم آدمی کے ذہن میں جگہ پاتی ہے وہ زمین پر کبھی قائم نہیں ہوتی۔

جامعۃ القاہرہ ، حدیقۃ الحيوانات اور دوسرے مقامات کو دیکھتے ہوئے ہمارا سفر طے ہوتا یہاں تک کہ ہم جیزہ کے اہرام تک پہنچ گئے۔ یہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تین اہرام واقع کھلے میدان میں پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے بنے ہوئے اہرام اس طرح کھڑے ہوئے تھے جیسے مصر کی گزری ہوئی تاریخ اپنی تمام قدامت کے ساتھ اٹھ کر کھڑی ہو گئی ہواور خاموش زبان

میں اپنا تعارف کرا رہا ہو۔

ہماری گاڑی اہرام کی طرف آگے بڑھی تو ایک سپاہی نے اس کو روک لیا۔ وہ ہمارے ساتھی سے بات کر رہا تھا جو گاڑی چلا رہے تھے۔ میں حسب عادت پچھلی نشست پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی نظر میرے اوپر پڑی تو اس کا رویہ بدل گیا۔ اس نے یہ کہہ کر گاڑی آگے کی طرف جانے کی اجازت دے دی کہ: من اجل الشيخ الكبير سمعنا لك۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں اگر طاقت ور آدمی کی طاقت میں تاثیر ہے تو میرے جیسے ضعیف آدمی کا ضعف بھی اپنے اندر ایک طاقت رکھتا ہے۔ اور بعض اوقات ضعیف کی طاقت قوی کی طاقت سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔

تین اہرام دیکھنے کے بعد میں نے ابو الہول کو دیکھا جو اہرام سے الگ پتھر کو تراش کر بنایا گیا ہے۔ ایک سیاح عالمی سفر کر کے واپس آیا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے ساری دنیا کا سفر کیا ہے۔ سب سے عجیب چیز تم نے کیا دیکھی۔ اس نے کہا: ابو الہول کے اعضاء کا تناسب۔ ابو الہول نامی بت

بہت بڑا ہونے کے باوجود تناسب الاعضاء ہے۔ تاہم مجھ کو وہ اتنا زیادہ مناسب نظر نہیں آیا جتنا مذکورہ سیاح نے بتایا ہے۔

اہرام دیکھنے کے دوران ایک موقع پر تمام سواریاں روک دی گئیں۔ اتنے میں ایک درجن کا روں کا قافلہ خاص آداب کے ساتھ آیا۔ معلوم ہو اکہ وزیر اعظم مالٹا اہرام دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔ پچھلے دن قاہرہ کے ہوائی اڈہ پر نظر آئی تھی جب کہ مالٹا کے وزیر اعظم قا ہرہ ائیر پورٹ پر اترے تھے۔ مالٹا میں ہم نے دیکھا تھا کہ وزیراعظم وہاں عام انسانوں کی طرح رہتا ہے۔ ممگر قاہرہ آتے ہی اس کے ساتھ شاہانہ آداب کا منظر دکھائی دینے لگا۔ کتنا فرق ہے ایک ملک اور دوسرے ملک میں۔ ایک انگریزی اخبار میں ایک دلچسپ مضمون پڑھا۔ اس کے ساتھ ایک تصویر بھی شامل اس تصویر میں مصر کے تین اہرام نظر آرہے تھے۔ دوسری طرف اونٹ اپنی روایتی صورت میں موجود تھے۔ اسی کے ساتھ اہرام کے سامنے کھلے ہوئے میدان میں ایک چاند گاڑی تھی۔ کے اوپر ایک آدمی خلائی لباس (اسپیس سوٹ) پہنے ہوئے دکھائی دے رہا تھا۔ تصویر کے اوپر لکھا ہوا تھا؛ کیا خلائی تحقیق کرنے والے قدیم مصر میں اترے تھے۔

یہ ایک فرضی قیاس آرائی تھی۔ گر آرٹسٹ کے قلم نے کاغذ کے اوپر اس کو ایک واقعہ کی صورت میں ڈھال دیا۔ اگر آپ صرف کاغذی نقشہ کو دیکھیں تو وہ آپ کو واقعہ معلوم ہوگا۔ اگر آپ اپنے ذہن کو استعمال کریں تو آپ پر کھلے گا کہ وہ صرف ایک لطیفہ ہے۔ اس دنیا میں اگر کوئی شخص صرف ظاہر کی بنیاد پر رائے قائم کرے تو وہ کبھی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ کو صرف وہ شخص پا تا ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچنے کی کوشش کرے۔

استاذ محمد کمال نے نہر سوئز جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ صبح کو قاہرہ سے بذریعہ کار سوئز جانا اور پھر شام تک وہاں سے واپس آنا تھا۔ مجھے خود بھی سوئز دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ مگر بعض دوسری مصروفیتوں کی وجہ سے میں سوئز کا سفر نہ کرسکا۔

سوئز کی تاریخ کے ساتھ طرح طرح کے خوشگوار اور ناخوش گوار واقعات شامل ہیں۔ مصنوعی نہر ہے جو میڈیٹیرینین اور ریڈسی کو ملاتی ہے اور اس طرح یورپ اور مشرقی دنیا کے درمیان بحری سفر کو مختصر کر دیتی ہے۔ اس نہر کا تخیل کافی قدیم ہے۔ 1856 میں سوئز کینال کمپنی بنی ۔

میں کھدائی کا کام شروع کیا جو آخری طور پر ۱۸۶۹ میں مکمل ہوا۔ نومبر ۱۹۶۹ میں وہ جہاز رانی کے لئے کھول

مختلف حالات سے گزرتے ہوئے یہ کمپنی فرانس اور برطانیہ کی ملکیت میں آگئی۔ کے مطابق ، سوئز پر کمپنی کا کنٹرول ۹۹ سال تک رہنا تھا جو ۱۹۶۸ میں ختم ہوتا تھا۔ آخری زمانہ میں سوئز کے کل منافع میں مصر کا حصہ سات فیصد تھا۔ کمپنی کے کارکنوں میں زیادہ تعداد مصریوں کی ہوتی اس کے علاوہ کمپنی کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ وہ علاقہ میں اسپتال، اسکول وغیرہ قائم کرے۔ حوالہ کے لئے: انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ، جلد ۱۷، صفحہ ۷۸، مصر میں جمال عبدالناصر کی حکومت آئی تو انہوں نے اسوان ڈیم کا منصوبہ بنایا ۔ امریکہ نے اس کے لئے ۲۷ کروڑ ڈالر ($ 270,000,000) کی اقتصادی مدد منظور کی۔ برطانیہ نے بھی مدد کا وعدہ مگر جمال عبدالناصر نے اسی کے ساتھ اندر اندر کمیونسٹ بلاک سے تعلقات قائم کر لئے۔ انہوں نے چیکو سلاویکیا سےہتھیار حاصل کرنے کا خفیہ معاملہ کیا۔ اس پر امریکہ بگڑ گیا۔ اس نے ڈیم کی امداد روک دی۔ اس کے بعد ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۶ کو جمال عبدالناصر نے تالیوں کی گونج کے درمیان اعلان کیا کہ آج ہم نے نہر سوئز کو نیشنلائز کر لیا اور اب ہم اس کی آمدنی سے اسوان ڈیم کی تعمیر کریں گے ۔ جمال عبدالناصر کے اس اقدام نے مغربی قوموں کو ان کا دشمن بنا دیا۔ اس کے فورا بعد فرانس اور برطانیہ نے اسرائیل کے ذریعہ مصر پر حملہ کرادیا۔ خود بھی پوری طرح اس کی مدد کی۔ اس حملہ میں مصر کی فوجی طاقت کچل کر رہ گئی۔ اسرائیل نے مزید اطراف کے علاقوں پر قبضہ کرکے اپنے رقبہ کو پانچ گنا

جمال عبدالناصر اگر ۱۲ سال انتظار کرتے تو سوئزکمپنی معاہدہ کے مطابق اپنے آپ ختم ہو جاتی۔ مگر ان کے عاجلانہ اقدام نے مصر کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ جو چیز ۱۹۶۸ میں اپنے آپ مل جاتی، اس کو ۱۹۵۶ میں پیشگی طور پر حاصل کرنے کی کوشش مصر کے حق میں الٹی ثابت ہوئی۔ ایک ہندوستانی مصنف کی عربی کتاب قاہرہ سے چھپی ہے۔ اس کا نام ہے: المسلمون في الهند ، بين خدعة الديمقراطية واكذوبة العلمانية ۔ میں نے پڑھنے کے لئے لیا تو اس کا پہلا جملہ یہ تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے انڈیا کے ہندوؤں نے طے کر لیا ہے کہ وہ آئین کے

قصہ کوانڈیا کے مسلمانوں کے ساتھ دہرائیں (یبدو ان الہنودوس فی الہند قرروا ان يقوموا بتکرير قصة الاندلس)

پوری کتاب انشائی انداز میں ہے۔ حقائق سے صرف نظر کر کے اس میں الفاظ کا جوش وخروش دکھایا گیا ہے۔ آخر میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے افغانی جنگجوؤں کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے : و ان شعبنا الہندى المسلم الذى يزيد عدده عن عدد المجاهدين الافغان سبعة أضعاف يستطيع ان يستفيد من الدرس الافغانی و يستوعبه

یہ سب باتیں اتنی بے معنی ہیں کہ مجھے ان لوگوں کی عقل پر حیرت ہوتی ہے جو اس کو لکھیں اور ان لوگوں کی عقل پر بھی حیرت ہوتی ہے جو اس کو چھاپ کے پھیلائیں۔

ایک مصری مصنف (عبد المجید صبح ) کی کتاب دیکھی ۔ ۴۰ صفحہ کی اس کتاب کا نام حقائق الاسلام بين الجهاد والجھود تھا۔ اس کتاب کے ٹائٹل پر دو تلواریں بنی ہوئی تھیں۔ ایک تلوار مسلم ملت کو سیاسی حیثیت سے قتل کر رہی تھی اور دوسری تلوار اس کو دینی حیثیت سے۔ پوری کتاب جدلی انداز میں ہے۔ مگر اس کے تعارف میں ٹائٹل کے آخری صفحہ پر بتايا گيا ہے کہ وہ منہج علمی پر لکھی گئی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مصنفین اسلام منہج علمی کو جانتے بھی نہیں۔ کجا کہ وہ منہج علمی پر کتاب لکھ سکیں ۔

عربوں کی موجودہ نفسیات کی بنا پر جہاد کی باتیں ان کو بہت پسند آتی ہیں۔ کتابوں کے جارحانہ ٹائٹل اور ٹائٹل کے اوپر عسکری آرٹ ان کے درمیان بہت پسند کیا جاتا ہے۔ قاہرہ میں ہم کتابوں کی ایک دکان میں داخل ہوئے۔ معمولی مشاہدہ میں دس سے زیادہ ایسی کتابیں نظر آئیں جن کے ٹائٹل پیج پر تلوار کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔ مثلاً ــ مقام الصحابة ، حقائق الاسلام، خفقات قلب، شہداء الصحابة ، الدولة والسلطة في الاسلام، السبحَة والدمار، الفارس المصلوب عبد الله بن الزبير، شهيد المحراب عمر بن الخطاب ، الاعلام الخلیجی، صور و بطولات، وغیرہ۔

الشیخ محمد متولی الشعراوی مصر کے بڑے عالموں میں سے ہیں۔ وہ لوگوں میں بہت مقبول تھے۔

انور السادات کر زمانہ حکومت میں سبعینات میں انھوں نے وزیر اوقاف کا عہدہ قبول کر لیا۔ بعد عوام کے درمیان ان کی مقبولیت بہت کم ہوگئی۔ وہ ”سرکاری مولوی“ سمجھے جانے لگے۔ شیخ شعراوی نے اس فرق کو محسوس کیا اور ۱۹۷۹ میں وزارت سے الگ ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے کبھی حکومت میں کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔ آج وہ مصر کے مقبول ترین عالم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ صورت حال موجودہ زمانہ میں اسلام کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اندیش قائدین نے یہ روایت قائم کی ہے کہ اسلام کا سب سے بڑا کام حکومت کا مخالف بن کر کھڑا اسلام کے نام پر جاری کی جانے والی اس غیر اسلامی سیاست نے اسلام کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی دشمن نے بھی اسلام کو نقصان نہیں پہنچایا۔ موجودہ زمانہ میں تمام اعلیٰ ذرائع حکومت کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔ ان ذرائع کو استعمال کرکے اسلام کی عظیم خدمت کی جاسکتی ہے۔ مگر غلط طور پر یہ صورت حال بن گئی ہے کہ جو شخص حکومت کے قریب ہو وہ مسلم عوام سے دور ہو جاتا ہے اور جو شخص مسلم عوام سے قریب ہونا چاہے اس کو حکومت سے دور ہونا پڑتا ہے۔

رجاءء بن حیوہ نے سلطان وقت سے قریب ہو کر عمر بن عبدالعزیز جیسے انسان کے لئے خلافت کا راستہ کھولا ۔ مگر آج کوئی عالم رجا بن حیوہ بننے کی جرات نہیں کر سکتا۔ سعودی عرب میں شیخ ابن باز ، مصر میں شیخ طنطاوی اور شام میں شیخ کفتارو حکومت سے مل کے دین کا کام کرنا چاہتے مگر وہ عوام میں غیر مقبول ہیں۔ دوسری طرف جو علماء حکومت سے لفظی یا عملی ٹکر لے رہے ہیں، انھوں نے کوئی بھی حقیقی فائدہ نہیں پہنچایا ، مگر عوام میں انھیں کو مقبولیت حاصل ہے۔ قاہرہ کے زمانہ قیام میں محمد الخطیب کی کتاب بالاسلام مصر دولة عظمیٰ دیکھی۔ پوری کتاب خطیبانہ انداز میں ہے۔ ۳۳۳ صفحہ کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری کے اندر فکری ہیجان کے سوا اور کچھ پیدا نہیں ہو سکتا۔ جبکہ صحیح کتاب وہ ہے جو آدمی کے اندر سنجیدہ تعمیری ذہن پیدا کرے ۔

کتاب کا خلاصہ موجودہ مسلمانوں کو ابھار کر ان کے اندر وہ چیز پیدا کرنا ہے جس کو مصنف نے الشخصية الجهادية للفرد والامة علی السواء (صفحہ ۱۳۳) کہا ہے ۔ کتاب میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ مسلمان عظیم تاریخ کے وارث ہیں۔ وہ امامت عالم اور قیادت بشری کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔

ان کا مشن یہ ہے کہ اپنے عقیدہ کی بنیاد پر عالمی حکومت قائم کریں۔ اور پھر خاتمہ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ عنقریب وہ عظیم اسلامی حکومت قائم ہوکر رہے گی، خواہ شر کی طاقتیں چاہیں یا نہ چاہیں (دستقوم الخلافة الاسلامية لا محالة باذن الله شاءت قوي الشر ام أبت)

کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف کے نزدیک شاید اذنِ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے ہمارے لئے ایسا ہونا مقدر کر دیا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ اذنِ اللہ کا تعلق اصول سے ہے نہ کسی گروہ سے۔ اس سے مراد قانونِ فطرت ہے نہ کہ مسلم قوم۔

کتاب میں زور و شور کے ساتھ جاپان کی مثال دہرائی گئی ہے کہ وہ دوسری عالمی جنگ میں خاکستر ہوگیا اور پھر اٹھ کر وہ عالمی طاقت بن گیا۔ جب کہ مصر کے پاس امکانیات کی مقدار اس سے بہت زیادہ یہ حوالہ صحیح نہیں۔ کیوں کہ اہل جاپان نے اس طرح ترقی نہیں کہ ان کے یہاں خطیبوں اور انشا پردازوں کا ایک گروہ اٹھا اور اس نے عظمتِ ماضی کے اعادہ کے نام پر پر جوش الفاظ کا دریا بہانا شروع اس کے برعکس جاپان کے اہلِ فکر نے اپنی قوم کے اندر اعترافِ حقیقت کا مزاج پیدا کیا۔ انہیں اس پر راضی کیا کہ وہ امریکی اقتدار اور اس کے منصوبوں کو بلا بحث تسلیم کرلیں۔ وہ اس سے ٹکرائے بغیر اس کے حدود میں رہ کر خالص غیر سیاسی انداز میں اپنی پر مشقت تعمیر کریں۔ قرآن میں ہے کہ و جعلنا منهم ائمة يهدون بأمرنالماصبروا (السجدہ: ۲۴)

گویا اذنِ اللہ یہ ہے کہ اس دنیا میں صبر کرنے والے کو امامت کا منصب دیا جاتا ہے۔ صبر کو حذف کرکے قیادت کے منصب پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور خدا کی دنیا میں کبھی ایسا ہونے

قاہرہ سے ایک عربی روز نامہ الشعب نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۵ ربیع الاول ۱۴۱۴ھ میں ڈاکٹر محبوب عمر کے قلم سے ایک مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا : المشكلة هي اسرائيل۔ اس وقت عالم اسلام کے اہلِ فکر کا عام مزاج ہے۔ وہ اسرائیلی اور غیر اسرائیلی سازشوں کو مسلمانوں کا اصل مسئلہ سمجھتے ہیں۔ مگر اس قسم کا طرزِ فکر قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ قرآن کے مطابق مسلمانوں کی اصل مشکل یا ان کا اصل مسئلہ ان کی داخلی کمیاں ہیں نہ کہ خارجی دشمن کی سازشیں۔ کے لکھنے اور بولنے والے اپنے بے فائدہ کلام سے مسلمانوں کو اس فرضی وہم سے نکلنے نہیں دیتے۔

ایک بار میں قاہرہ کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ سڑک کے کنارے ایک طرف وسیع میدان اور اونچا پنڈال نظر آیا۔ ہمارے مصری رفیق محمد کمال صاحب نے بتایا کہ یہی وہ میدان ہے جہاں ۸ اکتوبر ۱۹۸۱ کو عرب۔ اسرائیلی جنگ (اکتوبر ۱۹۷۳) کی یاد میں ملٹری پریڈ ہو رہی تھی اور سابق مصری صدر انور السادات اپنے رفقار کے ساتھ پنڈال پر بیٹھے ہوئے تھے۔ عین اس وقت فوج کا ایک جوان اپنی صف سے نکلا اور تیزی سے گولی مار کر انہیں ہلاک کر دیا۔

انور السادات کا قاتل ایک مصری نوجوان خالد اسلامبولی تھا۔ وہ الاخوان المسلمون کی تحریک سے وہ انور السادات کے سخت خلاف تھا۔ مقدمۂ قتل کے دوران جج نے اس سے کہا کہ تمہارے اوپر انور السادات کے قتل کا الزام ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں، میں نے ہی اس فرعون کو قتل کیا ہے۔ عدالتی فیصلہ کے تحت ۶ مارچ ۱۹۸۲ کو خالد اسلامبولی کو قتل کر دیا گیا۔

خالد اسلامبولی کی ماں سے ایک عربی جریدہ نے انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں خالد اسلامبولی کی ماں نے بڑے ہی جذباتی انداز میں ایک ایک سوال کا جواب دیا تھا۔ اس انٹرویو کا ایک جز یہ ہے : (ام خالد نے کہا) خالد سے جب پہلی بار سجن حربی میں میری ملاقات ہوئی تو اس وقت اس کے خلاف قتل کا کیس شروع ہو چکا تھا اور اس دن مقدمۂ قتل کی سماعت کا دوسرا دن تھا۔ داخل ہو کر میں تیزی سے چلتی ہوئی خالد کے پاس پہنچ گئی۔ خالد اس وقت عدالت کے مخصوص کٹہرے میں کھڑا ہوا تھا۔ وہ بالکل مطمئن تھا۔ اس نے میری پریشانی کو محسوس کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول دہرایا جو آپ نے مکہ میں یاسر کے خاندان کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر فرمایا تھا : صبراً آلُ يَا سِرِ مَو عِدُكُمُ الجَنّة (آلِ ياسر ، صبر کرو کیوں کہ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے) یہ حسن اتفاق کی بات ہے کہ خالد کی کنیت بھی ابو یاسر تھی۔

خالد اسلامبولی کی جرأت اور بے خوفی بلا شبہ ایک واقعہ ہے۔ مگر آل یاسر کی مثال ان کے اوپر چسپاں نہیں ہوتی۔ کیوں کہ آل یاسر کا معاملہ یک طرفہ تھا اور خالد اسلامبولی کا معاملہ دو طرفہ۔ آل یاسر نے ظلم کو برداشت کیا، اس کے باوجود ان پر سزا ڈھائی گئی۔ خالد اسلامبولی کا معاملہ یہ ہے کہ انھوں نے ظلم کو برداشت نہیں کیا، اس لیے انہیں سزا دی گئی۔

۱۲اکتوبر کو۱۰ بجے ہم قاہرہ کے تاریخی مقامات دیکھنے کے لئے نکلے۔ ہم سڑک سے گزر رہے تھے اور ہمارے رفیق محمد کمال صاحب ہر چیز کا تعارف کراتے جا رہے تھے۔ ایک جگہ نظر آیا کہ سڑک کے کنارے اونچی فصیلوں سے گھری ہوائی عمارت ہے۔ فصیل کے اوپر جگہ جگہ سپاہی بندوق لئے ہوئے کھڑے تھے۔ معلوم ہو کہ یہ یہاں کا سنٹرل جیل ہے۔ میرے رفیق نے کہا کہ یہ جیل ہے۔ کے لوگوں کو اسی کے اندر سخت سزائیں دی گئی تھیں (هذا سجن ۔ عُذّب فيه الاخوان المسلمون) سڑک کے دوسری طرف دریائے نیل بہہ رہا تھا۔ میں نے اس کو بہت غور سے دیکھا۔ نیل کے متعلق مضامین اور کتابوں میں جو کچھ پڑھا تھا، اس سے ذہن میں نیل کے بارہ میں ایک عجیب افسانوی مگر نیل ویسا ہی ایک بڑا دریا نظر آیا جیسے دوسرے بڑے دریا ہوتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سن کر یا پڑھ کر آدمی کے ذہن میں کسی چیز کے بارہ میں ایسا تاثر قائم ہو جاتا ہے جو واقعہ کے مطابق نہیں ہوتا۔ کبھی اصل واقعہ سے کم اور کبھی اصل واقعہ سے زیادہ۔

سڑک کے دونوں طرف اونچی بلڈنگیں اسی طرح دکھائی دے رہی تھیں جس طرح ماسکو میں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ جمال عبد الناصر کی دین ہے۔ ناصر نے مصر کی ترقی کے لئے سوشلسٹ نمونہ اختیار مگر تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جن لیڈروں نے سوشلسٹ نمونہ کو اختیار کیا انھوں نے صرف ملک کو برباد کیا۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے امریکی نمونہ کو اختیار کیا، وہ کم از کم دنیوی اعتبار سے اپنے ملک کو ترقی دینے میں کامیاب ہو گئے۔

مسجد صلاح الدین کو ہم نے باہر سے دیکھا۔ اس کو دیکھ کر اسلامی تاریخ کی اس مشہور شخصیت کی یاد تازہ ہو گئی جس نے اپنی ذات سے ایک نئی تاریخ بنائی۔ چلتے ہوئے ہم مسجد عمرو بن العاص یہ عمرو بن العاص صحابی نے ۲۱ھ میں تعمیر کرائی تھی۔ ابتدائی مسجد کھجور کے تنوں پر بنائی گئی تھی۔ اس کے بعد مختلف سلاطین کے زمانہ میں اس میں ترمیم اور اضافہ ہوتا رہا۔ تاہم مسجد کی شکل بنیادی طور پر وہی ہے جو ابتداء میں تھی۔ کھجور کے تنوں کا قائم مقام آج پتھر کے بنے ہوئے گول ستون ہیں۔ اس مسجد کا طرز عام مساجد سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے اندر چلتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہم تاریخ کے درمیان سفر کر رہے ہیں۔ چودہ سو سالہ تاریخ کے دونوں سرے ایک لمحہ کے لئے ملتے ہوئے مسجد کے باہر ایک کتبہ لگا ہوا ہے اس کی ابتدائی دو سطریں یہ ہیں: 33 | البلاغ نومبر 199۲

جامع عمرو بن العاص ۲۱ ھ - ۶۴۲ م : اول المساجد التي أنشأت فى مصر و افريقيا و اول جامعة علمية فى مصر اسسها عمرو ابن العاص - ظہر کی نماز ہم نے اسی مسجد میں پڑھی۔ مسجد نے اندرونی حصہ میں وضو خانہ نہیں تھا۔ معلوم ہوا کہ وضو خانہ باہر بنا ہوا ہے۔ ہم عقبی دروازہ سے باہر نکلے۔ مسجد سے متصل ایک لمبی اور وسیع پٹی کے دوسری طرف وضو خانہ کی عمارت تھی۔ مسجد اور وضو خانہ کے درمیان خالی زمین، جو یقینا مسجد ہی کی زمین تھی، وہ کوڑا خانہ کا منظر پیش کر رہی تھی۔

اس کے بعد ہم المتحف المصری (مصری میوزیم) پہنچے۔ اس کے گیٹ پر پہنچے تو میرے مصری ساتھی نے کہا: لما دخل هذا المتحف من قبل - اول مرة ادخل - عام طور پر میں نے دیکھا ہے کہ اس طرح کی چیزوں سے مقامی لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ باہر کے لوگ افسانوی شوق لے کر اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ مگر مقامی لوگ کم ہی اس کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اسی متحف میں اس فرعون کی مومیائی کی ہوئی لاش ہے جو موسیٰ علیہ السلام کا ہم زمانہ تھا۔ اس کو تاریخ میں ریمس ثانی (Ramses II) کہا جاتا ہے۔

قاہرہ کا جامعۃ الازہر (الازہر یونیورسٹی)، جامعۃ القرویین کے بعد قدیم ترین مسلم درس گاہ ہے۔ اس کو دولت فاطمیہ نے ۹۷۰ء میں قائم کیا تھا۔ اس میں طلبہ کی تعداد ۳۰ ہزار سے زیادہ ہے۔ دور اول میں علم کا جو طاقتور رجحان پیدا کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کی تمام صدیوں میں تعلیمی کالج اور مدرسے پوری مسلم دنیا میں اسپین سے لے کر وسط ایشیا اور ہندستان تک قائم ہو گئے۔ اسپین وہ مقام تھا جہاں سے فلسفہ اور سائنس منتقل ہو کر یورپ پہنچے :

Throughout subsequent centuries, colleges and madrasahs arose throughout the Muslim world from Spain (whence philosophy and science were transmitted to the Latin West) across Central Asia to India. (9/922) علمی ترقی اور تعلیمی توسیع کا یہ سارا کام خلافت راشدہ کے بعد اس وقت ہوا جب کہ مسلم حکمرانوں میں بگاڑ آگیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق، مسلم علماء اور دانشوروں نے یہ علم انسان حکمت اختیار کی کہ انھوں نے ”اصلاح سیاست“ کے نام سے حکمرانوں سے ٹکراؤ نہیں کیا۔

نے حکمرانوں سے تعرض نہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہمہ تن دینی اور سائنسی علوم کی ترقی میں لگا دیا۔ اس حکمت کی بنا پر انہیں حکمرانوں کا ہر دست تعاون حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ اسلام کی عظیم الشان علمی تاریخ وجود میں آگئی۔ اس کے برعکس مسلم علماء اور مسلم دانشور اگر مسلم حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دیتے تو وہ "شہداء" کی تعداد میں تو ضرور اضافہ کرتے مگر وہ اسلام کے لئے کوئی تاریخ ساز کارنامہ انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ایک صاحب نے مجھے ایک کتاب دی۔ یہ جامعۃ الازہر کی طرف سے چھپی ہے۔ اور اس کو وسیع پیمانہ پر تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا نام ہے: واجبات الامة نحو كاشف الغمة صلى الله عليه وسلم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے امت کی ذمہ داریاں۔ میں نے اس کتاب کو اس کتاب کے مضامین کا اندازہ اس کی فہرست سے بخوبی طور پر ہوتا ہے۔ یہ فہرست حسب

الواجب الاول الایمان بنبوته والتصدیق برسـالته صلى الله عليه وسلم الواجب الثاني طاعته فيما أمربه واجتناب ما نهى عنه صلى الله عليه وسلم الواجب الثالث احياء سنته الشريفة وامـاتـة البــدعــة الواجب الرابع محبتہ وشوق لقائہ صلى الله عليه وسلم الواجب الخامس تعظیم شانہ و توقيرہ صـلـى اللـه عـلـيـه وسـلـم الواجب السادس الصلاة والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم الواجب السابع زيارة مسجدہ الشريف صلى الله عليه وسلم ہم 9 صفحہ کی اس کتاب میں بظاہر امت محمدی کے تمام واجبات بیان کر دیے گئے ہیں۔ مگر اس میں وہی چیز حذف ہے جو امت کے تمام واجبات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ یعنی شہادت حق اور دعوت سنت کے باب میں مونچھ کاٹنے اور داڑھی بڑھانے تک کی سنت کا ذکر ہے۔ مگر اس میں سنت دعوت کا کوئی ذکر نہیں۔

بعد کے دور میں لکھی جانے والی تمام کتابوں کا یہی حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا تصور ہی امت کے زندہ شعور سے حذف ہو گیا ہے۔ حتی کہ جو لوگ بظاہر دعوت و تبلیغ کا نام لیتے ہیں وہ بھی دوسرے دوسرے کاموں کو دعوت و تبلیغ کا عنوان دئے ہوئے ہیں۔

۱۲ اکتوبر کی صبح کو کئی عرب نوجوان میری قیام گاہ پر آگئے۔ دیر تک ان سے باتیں ہوتی رہیں ۔ گفتگو کا موضوع " اسلامی دعوت عصر حاضر میں " تھا۔ ایک عرب نوجوان نے "خیارکم فی الجاہلیة خیارکم فی الاسلام کی تفسیر پوچھی۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں تحویل (conversion) کا قانون ابتدائی لوہا پر عمل کر کے اس کو اسٹیل بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے اندر بالفعل وہ صفت پیدا ہو جاتی ہے جس کو قرآن میں بأس شدید کہا گیا ہے۔ مگر یہ بأس شدید لوہے پر عمل کر کے حاصل ہوگی مٹی یا لکڑی پر عمل کرکے آپ اس کو اسٹیل نہیں بنا سکتے۔

یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔ جن لوگوں کے اندر قومی شخصیت موجود ہو انہیں کی تربیت کر کے ان کو اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کام کرسکیں۔ ضعیف شخصیت کے لوگوں پر عمل سے یہ فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے عربوں پر عمل کیا تو ان سے الطال کا ایک گروہ وجود میں آگیا۔ آپ نے مدینہ کے یہود پر عمل کیا مگر ان سے اس قسم کا کوئی گروہ نہ بن سکا۔ اسی طرح دور عباسیہ کے مسلمان شخصی کمزوری کا شکار ہو چکے تھے۔ اس لئے ہر قسم کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے باوجود وہ اسلام کے قائد نہ بن سکے۔ تاتاری مفسد اور ظالم تھے۔ مگر جب وہ بدلے تو انہیں کے اندر سے وہ قوم ابھری جس نے صدیوں تک اسلام کی پاسبانی کی۔

موجودہ زمانہ کے مسلم اہلِ فکر کی کمزوری یہ ہے کہ وہ قوموں کے صرف "ظلم" کو دیکھ پاتے ہیں۔ کو قوموں کے اندر چھپے ہوئے امکانی اوصاف نظر نہیں آتے۔ اس لئے بے شمار کوششوں کے باوجود وہ ایسا نہ کرسکے کہ دوبارہ اسلام کی علمبرداری کرنے کے لئے کوئی طاقت ور گروہ وجود میں لاسکیں۔ ۱۳ اکتوبر کو فجر کی نماز جدید مصر میں مسجد یوسف الصحابی (میدان الحجاز ) میں پڑھی۔ نماز کے بعد اکثر نمازی مسجد میں بیٹھ گئے اور قرآن کے نسخے لے کر ہلکی آواز میں پڑھنے لگے۔ مصریوں میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ بڑے ذوق و شوق سے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ قومی اعتبار سے غالباً یہ بات سب سے زیادہ مصر کے اندر پائی جاتی ہے۔ غالباً اسی لئے کہا گیا ہے کہ نزل القرآن فی الحجاز و قری في مصر - مسجد کے اندر جس جگہ اس مضمون کی تختی دیوار پر لگی ہوئی تھی ــــ تنبیہ : ضع حذاءك وأمتعتك أمامك ( اپنا جوتا اور اپنا سامان اپنے سامنے رکھئے قاہرہ کی کئی مسجد میں میں نے نماز

یہاں کی مسجدوں کا ایک خاص انداز ہوتا ہے جو دوسرے ملکوں کی مسجدوں سے مختلف ہے۔ تا ہم مسجد اور اطراف مسجد میں صفائی کا معیار زیادہ اچھا نظر نہیں آیا۔ ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے صرف مجھ سے ملاقات کے لئے قاہرہ آئے تھے۔ ملاقات ہوئی تو دیر تک لپٹ کر روتے رہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے اندر حقیقت کی تلاش کی کیفیت ابھری۔ حتیٰ کہ وہ سوچنے لگے کہ میں خود کشی کر لوں۔ نے ہمارے یہاں کی عربی اور انگریزی مطبوعات پڑھیں ۔ اس کے بعد انھوں نے از سر نو اسلام کی حقیقت کو دریافت کیا۔ انھوں نے کہا: عند ما ادرکت هذہ الرسالة عرفت أن هذا هو الامر الحقیقی الذی کنت ابحث عنہ)

یہاں اس طرح کے اور کئی عرب نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الرسالہ مشن کی قبولیت کا مزاج سب سے زیادہ عربوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کا دین بعد کے افسانوں سے بڑی حد تک پاک ہے۔

مولانا عبد الباری ندوی (۱۹۶۱ء - ۱۸۹۰) قاہرہ کو مقہورہ کہا کرتے تھے۔ یعنی اس کی حیثیت قاہر اور غالب کی نہیں بلکہ وہ مغربی تہذیب سے مغلوب اور مقہور ہو چکا ہے۔ میں اس سے اتفاق کرتے ہوئے اس میں یہ اضافہ کروں گا کہ یہی حال دوسرے تمام مسلم شہروں کا بھی ہے۔ حتیٰ کہ موجودہ زمانہ کے مسلم ادارے بھی اس کیفیت سے مستثنیٰ نہیں۔ ظاہری صورت میں ضرور فرق ہے مگر اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ایک اور دوسرے میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔

ایک مصری طالب علم عبد الحمید سعد عویس نے ایک مصری مثل ان لفظوں میں بتائی : :کل ما يُعجبك والبس ما يعجب الناس (کھانا اپنی پسند کا کھاؤ اور کپڑا دوسروں کی پسند کا پہنو)، اس مثل سے مصری مسلمانوں کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ مصری مسلمان عام طور پر خوش باش ذہن کے ہوتے ہیں۔ ان کی اس صفت کا یہ فائدہ ہے کہ وہ عام طور پر تندرست رہتے ہیں۔ مگر دوسرا نقصان یہ ہے کہ وہ معاملات پر زیادہ گہرائی کے ساتھ غور نہیں کر پاتے۔

۱۳ اکتوبر کو عشاء کی نماز میں نے یہاں کی مسجد الفرقان تعمیر ۱۳۹۰ھ) میں پڑھی۔ یہ مسجد کافی صاف ستھری اور نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ مسجد کے اندر ایک نئی چیز یہ نظر آئی کہ اس میں پلاسٹک 37 [رسالی نومبر ۱۹۹۲ء

ہونے یا بیٹھنے میں زحمت ہوتی ہے۔ وہ اس اسٹول پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ۱۳ اکتوبر کو قاہرہ کے ایک مکان میں عرب نوجوانوں کی مجلس تهي۔ میں نے کہا کہ میں ایک جملہ کہتا ہوں آپ میں سے کوئی صاحب اس کی تشریح کریں۔ پھر میں نے کہا : البقرۃ ھی صناعۃ الٰھية التی تحول اللا حلیب الی حلیب ۔ وکذالك المومن فھو صناعۃ الٰھیۃ الذی یحول اللّا ایمان الی

جن نوجوانوں نے میرے مضامین ابھی زیادہ نہیں پڑھے تھے وہ اس سوال کو اچھی طرح سمجھ نہ سکے۔ مگر جن نوجوانوں نے میرے مضامین پڑھے ہیں وہ سوال کا مطلب سمجھ گئے اور اس کی کچھ تفسیر بھی بیان کی۔ آخر میں میں نے تفصیلی طور پر اس کی وضاحت کی۔

۱۳ اکتوبر کو ہم نے ظہر کی نماز مسجد بلال بن رباح میں پڑھی۔ یہ کافی چھوٹی مسجد تھی۔ مگر ہم تین آدمیوں کے اضافہ کے باوجود ایک صف بھی پوری نہیں ہوئی۔

راستہ میں ایک چرچ تھا۔ آواز سے معلوم ہوتا تھا کہ مسیحی لوگ اس کے اندر اپنی عبادت کر رہے ہیں۔ ہم نے چاہا کہ اس کو اندر سے دیکھیں لیکن گیٹ کے باہر تین مسیحی چوکی دانی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ پولیس کی وردی میں تھے۔ انھوں نے ہم کو داخلہ سے روک دیا۔ میں نے بار بار کہا کہ ہمارا مقصد صرف دیکھنا ہے۔ مگر ان لوگوں نے کسی بھی قیمت پر اندر داخل ہونے نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ میں کئی ملکوں کے چرچوں کے اندر بلا روک ٹوک داخل ہوا ہوں، حتی کہ عین عبادت کے وقت چرچ کے اندر گیا ہوں۔ انھوں نے مجھ کو اندر جانے نہیں دیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ان ملکوں میں سب سے اہم مسئلہ سیکیورٹی کا ہوتا ہے۔ ان ملکوں کا سماج سیکیورٹی اور ڈیفینڈ سماج ہوتا ہے ۔ اس بنا پر وہ ہر آدمی کو شبہ کی نظر سے

آتے جاتے ہوئے یہاں کے دو پارک دیکھے۔ یہ دونوں پارک جدید مصر کے تھے۔ کی حالت معمولی نظر آئی۔ سیاحت کے اعتبار سے اہمیت کے مقامات پر میں نے یہاں صفائی اور دیکھ ریکھ کا اہتمام پایا۔ مگر دوسرے مقامات یا پارک ایسے نظر آئے جیسے انھیں کوئی اہمیت نہ دی

Printed page