Al-Risala · November 1992

38 الصّالح - نومبر ۱۹۹۲ء

Al-Risala, November 1992, pp. 39–46

By Maulana Wahiduddin Khan

قاہرہ کی سڑکوں پر عورتیں کثرت سے اسکرٹ پہنے ہوئے نظر آتی ہیں۔ میں نے ایک مصری بزرگ سے پوچھا کہ یہاں اسکرٹ کا رواج کیسے شروع ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ مغربی سیاحوں کا چوں کہ مصر میں کثرت سے تاریخی مقامات ہیں۔ اس لئے مغربی ملکوں کے مرد اور عورت بڑی تعداد میں سیاحت کے لئے آتے ہیں۔ ان کے اثر سے یہ بدعت یہاں شروع ہوئی۔ بظاہر یہاں بطور سیاح آتے ہیں مگر اسی کے ساتھ وہ یہاں اپنی تہذیب بھی پھیلا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ واقعہ کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پیاسا گویا کہ خود کنویں کے پاس آرہا ہے۔ انسان بظاہر خواہ کچھ بھی ہو، اپنی فطرت کے اعتبار سے ہمیشہ وہ حق کا متلاشی آپ اس دوسرے پہلو کو دیکھیں اور ان کو اپنا حریف سمجھنے کے بجائے ان کو اپنا مدعو سمجھیں ۔ آپ ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کریں جو سچا دین ہونے کی بنا پر ہر ایک کا مطلوب ہے۔ اگر آپ اس دعوتی کام کو منظم انداز سے جدید معیار پر کریں تو جو داعی ہے وہ خود آپ کا مدعو بن جائے گا۔ یہ لوگ انشاء اللہ بڑی تعداد میں اسلام قبول کریں گے۔ یہاں تک کہ نئی تاریخ وجود میں آجائے گی۔

کو قاہرہ سے روانگی کا دن تھا۔ فجر کی نماز مسجد الفرقان میں پڑھی۔ وہاں پہنچا تو دروازہ کے باہر نوٹس بورڈ پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا : أخی المصلی، ضع متاعك امامك مسجد اس لئے تھی کہ آدمی اپنا سامان اپنے پیچھے چھوڑ کر بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھے۔ مگر آج نمازی صرف اس وقت اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے جب کہ اس نے اپنا سامان اپنے سامنے رکھا ہو۔ قسم کے اعلانات بتاتے ہیں کہ قومی کردار کی حالت قومی عقیدہ کے مطابق نہیں۔ امام نے اپنی قرأت میں قرآن کا وہ حصہ پڑھا جس میں یہ آیت ہے : قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یأتوا بمثل هذا القرآن لا یأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض میں نے سوچا کہ خود یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی مطلق تحدی مالک کائنات کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا اور نہ کبھی کوئی ایسی تحدی کر سکا۔ ۴ اکتوبر کو قاہرہ سے واپسی ہوئی۔ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میں قاہرہ ایئر پورٹ پہنچا۔

دیکھا تو اس کے صفحہ اول پر صدر مصر کی کافی بڑی اور رنگین تصویر چھپی ہوئی تھی۔ یہ مسلم ملکوں کا عام مزاج ہے۔ امریکہ اور یورپ کے اخباروں میں آپ کو اس قسم کا منظر دکھائی نہیں دے گا۔ ۱۴ اکتوبر کو میں قاہرہ ایئر پورٹ پر ظہر کی نماز ادا کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک مسافر آئے۔ نے پیچھے سے مجھے چھوا اور گھما کر میرا رخ صحیح سمت میں کر دیا۔ میں نے سوچا کہ اسلام میں ایک مقرر" "سمت قبلہ" ہے جو ہر ایک کو معلوم ہے۔ گویا اسلام میں ہر ایک کے پاس ایک معلوم کسوٹی ہے۔ ہر ایک کے لئے ممکن ہے کہ دوسرے شخص کو اس کسوٹی پر جانچے اور جس شخص میں انحراف پائے اس کو سیدھے رخ پر کھڑا کر دے۔ ایسی حالت میں نہ کسی شخص کو رخ کی تصحیح میں بخل کرنا چاہئے اور نہ کسی کو اس پر برا ماننا چاہئے کہ اس نے اس کو اسلام کی کسوٹی پر جانچا اور اس کے رخ کو صحیح سمت میں پھیرنے کی کوشش کی۔

گلف ایئر کی فلائٹ نمبر۷۴کے ذریعے قاہرہ سے واپس روانگی ہوئی۔ جہاز کے اندر گلف ایئر کا فلائٹ میگزین " گولڈن فالکن" (Goldenfalcon) کا شمارہ اکتوبر ۱۹۹۱ دیکھا۔ اس کے ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انگریزی زبان میں عربی کے سیکڑوں الفاظ ہیں جو پچھلے ایک ہزار سال کے دوران اس میں شامل ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ الفاظ درج تھے۔ مگر ان میں سے بہت کم الفاظ براہ راست عربی سے انگریزی میں داخل ہوئے ہیں۔ زیادہ تر فرانس اور اٹلی وغیرہ کے راستہ سے انگریزی میں پہنچے ہیں۔ اس سے اس علاقہ میں عرب۔ اسلامی تہذیب کی فوقیت کا اندازہ ہوتا ہے جو اس کو سائنسی میدان میں حاصل تھی:

The preponderance of technical or scientific words entering English from Arabic during the Middle Ages suggests the general superiority of Arab- Islamic civilisation in the area of scientific achievement during this period.

عجیب بات ہے کہ عربی زبان کی برتری کا تذکرہ کرنے والے ماہنامہ کا نام انگریزی "گولڈن فالکن" رکھا گیا ہے۔

طیران الخلیج (گلف ایئر کے فلائٹ میگزین (Goldenfalcon) کا شمارہ اکتوبر دسمبر اس کے مذکورہ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انگریزی کے بہت سے الفاظ عربی زبان سے لئے گئے 40 الہلال - نومبر ۱۹۹۲

مثلاً صفر (cipher) اور لیمون (lemon) وغیرہ ۔ مضمون نگار نے اس سلسلہ میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ قرون وسطیٰ میں ۵۰۰ سال تک عربی علم اور عربی کلچر اور فکری ترقی کی زبان بنی رہی :

for 500 years Arabic was the language of learning, culture and intellectual progress. یہ الفاظ پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ جب ماضی ایسا تھا تو موجودہ زمانہ کے مسلمان اس سے مختلف کیوں ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ موجودہ مسلمان قدیم مسلمانوں کا تسلسل نہیں ہیں، وہ قدیم مسلمانوں کی اگلی نسلیں ہیں۔ قدیم مسلمانوں کے اندر مذکورہ انقلابی صفت اس لئے آئی تھی کہ ان کا ایمان ان کے لئے ذہنی انقلاب کے ہم معنی تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو اگر اٹھانا ہے تو ان کے ایمان کو دوبارہ ذہنی انقلاب بنانا پڑے گا۔ اس ابتدائی عمل کے بغیر محض جذباتی الفاظ بولنے سے موجودہ مسلمانوں میں ماضی والے مسلمانوں کی صفت آنے والی نہیں۔

درمیان میں ہمارا جہاز تقریباً ایک گھنٹہ کے لئے دوحہ میں رکا۔ یہ قطر کی راجدھانی ہے۔ ۱۹۷۰ تک اس کی حیثیت ایک معمولی بستی کی تھی۔ ۱۹ ویں صدی کے آخر میں عثمانیوں نے یہاں اپنا قبضہ قائم کیا۔ ۱۹۱۶ سے ۱۹۷۱ تک وہ برطانیہ کے دائرہ اثر میں رہا۔

۲۰ ویں صدی کے آغاز میں دوحہ کے ساحل پر ۳۵۰ سمندر سے موتی نکالنے والی کشتیاں (pearling boats) تھیں ۔ اس وقت تک موتی نکالنا یہاں کا خاص کاروبار تھا۔ مگر اس کے بعد جاپان کے مصنوعی موتی (cultured pearls) بازار میں آ گئے ۔ بظاہر اصلی موتی ہونے کے باوجود وہ بہت سستے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد دوحہ کی موتیوں کی تجارت ختم ہوگئی۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد یہاں پٹرول نکالنے کے کارخانے قائم ہو گئے۔ اور اب قطر ایک انتہائی دولت مند ملک سمجھا جاتا ہے۔ اب یہاں قدیم مٹی کے گھروں کے بجائے جدید طرز کے عالیشان مکانات کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا میں ترقی کے بے پناہ امکانات رکھے ہیں۔ یہاں ایک امکان کے ختم ہوتے ہی دوسرا اس سے بڑا امکان سامنے آجاتا فطرت کا یہ قانون زمین کے مادی خزانوں کے لئے بھی ہے اور انسانی زندگی کے لئے بھی۔

عرب امارات (United Arab Emirates) کی فیڈریشن ۱۹۷۱ میں بنی۔ اس میں سات چھوٹی ریاستیں شامل ہیں۔ ان کی مجموعی آبادی دو ملین سے بھی کم ہے۔ ابوظبی اس فیڈریشن کا صدر شیخ زائد کی رہنمائی میں فیڈریشن نے "ایجوکیشن اینڈجٹ" بنایا ہے۔ وہ اپنی آمدنی کا ۷ فیصده تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔

یہ بلاشبہ ایک دانشمندانہ طریقہ ہے۔ موجودہ دور معلومات کا دور (information age) معلومات تک رسائی صرف اہل علم کو ہو سکتی ہے۔ اس لئے قوم کو حصولِ علم میں آگے بڑھانا دور جدید میں ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دینے کا یہ نتیجہ ہے کہ عرب امارات اور ابوظبی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (۹ دسمبر ۱۹۹۱) میں عرب امارات کے حالات پر ایک جائزہ چھپا ہے۔ جائزہ نگار نے ابوظبی کے ایک بڑے تاجر سلطان بن سلیمان (۳۶ سال) سے ملاقات کی۔ اس نے لکھا ہے کہ سلطان بن سلیمان انگریزی بھی اتنی ہی اچھی بولتے ہیں جتنا کہ عربی:

He is as articulate in English as he is in Arabic. عرب امارات کے اکثر شعبوں میں ابھی تک برٹش لوگ کثرت سے موجود ہیں۔ ایک شیخ سے پوچھا کہ برٹش افراد اس طرح کب تک یہاں رہیں گے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس معاملہ میں ہم نے تدریج کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو بڑے پیمانہ پر جدید تعلیم دلا رہے امید ہے کہ اس صدی کے آخر تک ہمارے نوجوان تربیت پا کر ان شعبوں کو سنبھال لیں گے۔ کو آج زیادہ تر انگریز سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے معاملہ میں یہی طریقہ درست ہے۔ جو لوگ انقلابی جوش میں دفعہ تمام بیرونی افراد کو خارج کر دیتے ہیں وہ ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ کارکردگی کا معیار تباہ ہو کر رہ جائے ۔

ایک مسافر نے مجھے بتایا کہ ایک بار وہ ابوظبی ایئر پورٹ پر تھا۔ ایک عرب لڑکی آ کر پاس کی کرسی پر بیٹھ مسافر نے اس سے عربی میں ایک سوال کیا۔ لڑکی نے روانی کے ساتھ انگریزی میں جواب دیا۔ نے کہا کہ تم انگریزی جانتی ہو۔ اس نے فوراً جواب دیا کہ بے شک (of course)

گلف ایئر کی سروس اچھی تھی۔ تاہم دوحہ اور ابوظبی دونوں جگہ اس کی لینڈنگ ایسی تھی جس کو رِف لینڈنگ ہی کہا جائے گا۔ سفر کے دوران ہموار پرواز کا انحصار موسم پر ہوتا ہے۔ لینڈنگ کے وقت ہموار لینڈنگ کا انحصار پائلٹ پر۔

دوحہ (قطر) سے نکلنے والے عربی اخبار العرب کا شمارہ ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۱ دیکھا۔ اس کی ایک خبر کا عنوان تھا: ۲۷۰۰ لغۃ فی العالم (دنیا ہیں ۲۷۰۰ زبانیں ہیں) اس میں ترکی کے ذرائع سے بتایا گیا تھا کہ ساری دنیا میں مروجہ زبانوں کی مجموعی تعداد ۲۷۰۰ تک پہنچتی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی زبانیں یہ ہیں ـــــــــ چینی، انگریزی، اسپینی، ہندی، ترکی۔ اس خبر کو پڑھ کر میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور پھر اس کی مناسبت سے نظیرؔ اکبر آبادی کا یہ شعر یاد آگیا :

ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج میں جانتے بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں خبر کو پڑھ کر میرے ذہن میں کیا خیال آیا تھا، اس کو میں ناظرین کے اوپر چھوڑتا ہوں۔ میری تحریریں برابر پڑھتے رہے ہیں ان کے لئے اس کو قیاس کرنا مشکل نہیں۔ دوحہ کا دوسرا عربی اخبار الشرق (۱۴ اکتوبر ) بھی دیکھا۔ اس کے صفحہ اول کی ایک خبر یہ تھی کہ شاہ حسین آرام کرنے کی خاطر اردن کے تخت کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں (حسین يفكر في التخلي عن عرش الاردن)

خبر میں بتایا گیا تھا کہ اردن اس وقت سخت ترین اقتصادی اور اجتماعی مشکلات سے دوچار ان ذمہ داریوں کو سنبھالنا شاہ حسین کے لئے سخت دشوار ہورہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی حکومت پر باقی رہنے کے سوال نے ان کو ناقابل برداشت مصیبت میں ڈال دیا (ان مسئلة الاستقرار في الحكم تدار هفته)

شاعر نے کہا ہے کہ : جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے۔ جو شخص جتنے بڑے مرتبہ پر ہو اتنا ہی زیادہ وہ مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ اصول شاہ اردن کے لئے جتنا درست ہے اتنا ہی وہ شاہ امریکہ کے لئے بھی درست ہے۔ اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ جہاز میں ایک نئی بات یہ تھی کہ عربی اور انگریزی کے ساتھ ہندی زبان میں بھی اعلانات کئے۔ 43 آرصالی ۔

جا رہے تھے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کر اس جہاز میں کافی ہندوستانی مسافر ہوتے ہیں۔ اس کا محرک تجارت تھا۔ تجارتی مفاد کی بنا پر جہاز کے ذمہ داروں نے اپنے اعلانات کی زبان میں ہندی کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تجارتی محرک لوگوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنے گاہک کی زبان میں بولیں۔ حق کے حاملین کے لئے دعوت کا محرک اتنا طاقت ور نہ بن سکا کہ وہ مدعو کی زبان میں بولنے کا اہتمام کریں۔

جہاز میں انگریزی روزنامہ (Emirates News) کا شمارہ ۱۴ اکتو بر دیکھا۔ اس کے صفحہ آخر پر کویت کے شاہی خاندان کی ایک خاتون (سعد عبد الله السالم الصباح کی اہلیہ) کا انٹرویو تھا۔ انھوں نے کہا کہ کویت پر عراق کے حملے نے اختلافات ختم کرئے۔ ہمارے عوام کو باہم قریب کرد دیا۔ قسم کی قربت صرف اقتصادی خوش حالی سے پہلے تھی جب کہ لوگ کچے گھروں میں رہتے تھے: The invasion brought our people close together. Such a closeness existed only before the economic boom when people lived in mud houses. (p. 12)

اس کو میں نے پڑھا تو میری زبان پر یہ الفاظ آگئے ۔ مصیبت کے وقت تو حیوانات بھی اپنا اختلاف ختم کہ دیتے ہیں۔ انسان کی صفت یہ ہے کہ وہ خوش حالی اور اقتدار کے وقت اپنے اختلافات کو ختم کر دے۔

دبئی کا انگریزی روزنامہ گلف نیوز (۱۴ اکتوبر دیکھا۔ اس میں مختلف ملکوں کی خبر کے لئے صفحات مثلاً عرب امارات ، مڈل ایسٹ، یونائیٹڈ کنگڈم، ایسٹ ایشیا، یوایس اے ۔ صفحہ پر ایک تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ عورتوں اور مردوں کی بھیڑ اپنے ہاتھ میں بڑے بڑے لفافے لئے ہوئے ہے اور ان کو ایک خاص ڈاک خانہ میں جلد از جلد پوسٹ کر دینے کی منتظر ہے۔ نیچے لکھا ہوا تھا :

Crowds of people wait in line to mail applications for a lottery of 40,000 Green Cards at the Merrifield post office in suburban Virginia. The State Department is accepting the first 40,000 applications that arrive at its special post office box after 12 a.m. today in the first of three annual massive giveaways of Green Cards on a first come first serve basis—

اس کو پڑھتے ہوئے دل تڑپ اٹھا۔ میں نے کہا کہ امریکہ کے گرین کارڈ کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔ مگر جنت کے گرین کارڈ کی کھڑکی خالی پڑی ہوئی ہے۔ وہاں کوئی لائن میں کھڑا ہونے والا نہیں۔

اس کے بعد ہمارا جہاز کچھ دیر کے لئے ابوظبی میں اترا۔ تمام مسافر ہوائی جہاز سے نکل کر ایئرپورٹ تقریباً ایک گھنٹہ ابوظبی میں گزرا۔ ابوظبی ایئر پورٹ کی پوری چھت خیمہ کے انداز پر بنائی گئی ٹھیک اسی طرح جیسے کہ اسلام آباد (پاکستان) کی فیصل مسجد کی چھت بنائی گئی ہے۔ تاہم یہ طرز تعمیر مجھے ذاتی طور پر پسند نہیں۔ میں اس کو سطحی ذوق کی علامت سمجھتا ہوں۔

ابوظبی، عرب امارات کی سات ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست ہے۔ اس کا رقبہ ۲۶ ہزار مربع میل ہے۔ وہ اور دبئی عرب امارات کی سب سے زیادہ دولت مند ریاستیں سمجھی جاتی ہیں۔

ڈھائی سو سال پہلے ابوظبی کی حیثیت زیادہ تر غیر آباد صحرا کی تھی۔ ۱۷۶۱ء میں قبیلہ بنی یاس کو یہاں پانی کا کنواں ملا۔ اس کے بعد وہ یہاں رہ پڑا۔ اسی قبیلہ کا ایک خاندان اب تک یہاں ۱۹۵۸ء میں یہاں پٹرول دریافت ہوا۔ اس کے بعد سے ابوظبی نے عالمی اہمیت حاصل پانی کی دریافت نے ابوظبی کو صرف قبائلی اہمیت دی تھی۔ تیل کی دریافت نے اس کو عالمی سطح پر اہمیت کا حامل بنا دیا۔

پانی ایک سادہ انسانی ضرورت ہے۔ ایک معمولی دیہاتی آدمی بھی پانی کو دیکھے تو وہ اس کی اہمیت اور اس کے استعمال کو جان لے گا۔ مگر پٹرول کی اہمیت اور اس کے استعمال کو جاننے کے لئے صرف اس کو دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے لئے مزید ایک پوری صنعتی تہذیب کی ضرورت ہے۔ ہے جس کی بنا پر پانی دریافت ہوا تو اس کا پورا فائدہ عرب قبیلہ کو ملا۔ مگر تیل دریافت ہوا تو اس کا بیشتر فائدہ مغربی قوموں کے حصہ میں چلا گیا۔

۴ اکتوبر کو ابوظبی سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر خلیج ایئر کے جہاز کے ذریعہ طے ہوا۔ میں شارقہ کا عربی روز نامہ الخلیج (۱۴ اکتوبر 1991) دیکھا۔ اس کے صفحہ ۶ پر ایک مضمون (النظام العربي وآفاق المستقبل) تھا۔ اس میں الامۃ العربیۃ کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ باتیں کہی گئی تھیں۔

اس ذیل میں مضمون نگار (علی ربیعہ) نے لکھا تھا کہ صحرا کے قافلے جس قاعدہ کا اتباع کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے اندر کے سب سے کمزور کی چال چلو (سیر اضعفکم) میں نے اس کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ یہ اصول صرف صحرائی سفر کے لئے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام سفروں کے لئے ہے۔

مثلاً آپ کو شہر کی سڑک پر ایک جلوس نکالنا ہے۔ آپ کی جماعت میں ۹۵ فیصد ایسے لوگ ہیں جن کے اندر برداشت کی طاقت ہے۔ مگر ۵ فیصد افراد میں برداشت کی طاقت نہیں۔ میں آپ کو ۵ فیصد کا لحاظ کرتے ہوئے جلوس نہیں نکالنا چاہئے۔ کیوں کہ جلوس کے پانچ فیصد افراد بے برداشت ہو کر تشد دکر بیٹھیں گے اور پھر آپ کا جلوس ملت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ملت کی تباہی کا سبب بن جائے گا۔

دہلی ائیر پورٹ میں داخل ہوا تو "ڈیوٹی فری شاپ" کا ایک حصہ نظر سے گزرا۔ الماری کے پیچھے شراب کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔ ایک طرف شیشہ کے اوپر خوبصورت اشتہار درج اوپر شراب کی دو خوبصورت بوتلوں کی تصویریں تھیں ۔ اس کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ فرسٹ کلاس سفر کا ساتھی:

Printed page