Al-Risala · November 1992

First class travel companions

Al-Risala, November 1992, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

جن لوگوں کو "فرسٹ کلاس" کا رتبہ مل جاتا ہے، اس کے بعد ان کے لئے ساری اہمیت صرف تفریح کی رہ جاتی ہے۔ وہ شراب کو تفریح کا ذریعہ سمجھ کر اس کو اپنی زندگی کا ساتھی بنا لیتے ہیں۔ یہ زندگی کا کتنا کمتر استعمال ہے۔ زندگی کا سب سے بڑا استعمال یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حقائق اعلی کی دریافت میں لگائے۔ مگر یہی سب سے اہم چیز دنیا میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ہمارے پاس کتابوں کے کئی بنڈل تھے جو قاہرہ سے ہمارے ساتھ آرہے تھے۔ کتابوں پر کسٹم وغیرہ میں نے سوچا کہ کسٹم کا عملہ ہم کو روک کر بنڈل کھلوائے گا اور پھر غیر ضروری طور پر تاخیر ہوگی۔ عین اس وقت محمد حنیف صاحب اتفاقاً وہاں آگئے جو ایئر پورٹ پر بڑے افسر ہیں۔ ان کی ہدایت پر کسٹم والے نے ہم کو روکنے کے بجائے ہماری گاڑی خود لے لی اور اس کو ٹیکسی تک پہنچایا۔ میں نے سوچا کہ کاش اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ایسا ہی معاملہ فرمائے اور میرے معاملہ کو اپنی رحمت سے آسان

دہلی ایئر پورٹ سے ہم ”پری پیڈ“ ٹیکسی کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ اس کا انتظام پولیس کی طرف سے کیا گیا ہے۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ اس سفر کے لئے ہم نے آپ کے آفس کو ڈیڑھ سوروپے ادا اس میں کتنا آپ کا ہے اور کتنا دفتر کا۔ ڈرائیور نے کہا کہ دفتر فی ٹیکسی دوروپیہ لیتا ہے۔ کہا کہ یہ تو زیادہ رقم نہیں۔ ڈرائیور نے کہا کہ ایئر پورٹ کے لئے یہاں چار سو ٹیکسیاں ہیں اور ہر ایک ٹیکسی سے دو دو روپیہ لیتے ہیں۔ اس طرح ان کا حصہ ہم سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ چار سو ٹیکسیاں ہیں تو روزانہ ان کو ۸۰۰ روپیہ ملیں گے۔ ڈرائیور نے کہا کہ نہیں۔ ٹیکسی ایک دن میں اوسطاً تین چکر ایئر پورٹ کا کرتی ہے۔ اس طرح ان کو ہر روز کم از کم ڈھائی ہزار روپے مل جاتے ہیں۔ یہ انفرادی عمل اور اجتماعی عمل کے فرق کی ایک مثال ہے۔ فرد کا حصہ ایک بار کے سفر پر ڈیڑھ سور و پیہ ہے۔ اور اجتماعی نظم کا حصہ صرف دوروپیر۔ گر مجموعی نتیجہ کے اعتبار سے فرد کے حصہ میں صرف ساڑھے چار سو روپیہ آیا، اور اجتماعی نظم کو ڈھائی ہزار روپیہ مل گیا۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ اجتماعیت میں برکت ہے۔

۱۵ اکتوبر 1991 کی صبح کو میں اس وقت دہلی واپس پہنچا جب کہ یہاں کی مسجدوں سے فجر کی اذان کی آواز بلند ہو رہی تھی اور پوری فضا اس سے ہم آہنگ ہو کر بزبان خاموش یہ کہہ رہی تھی کہ رات ختم ہو گئی۔ بہت جلد افق سے نئے دن کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

Printed page