اہلِ جنت
Al-Risala, December 1992, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت خدا کی انتہائی با معنی تخلیق ہے۔ جنت ان قیمتی انسانوں کو دی جائے گی جو دنیا میں خدا کے پکے بندے بن کر رہے ہوں۔ جو لوگ دار الامتحان میں اعلیٰ زندگی گزاریں وہی دار الجزاء میں اعلیٰ قیام گاہ کے مستحق ٹھہریں گے۔
جنت اس نادر انسان کے لیے ہے جو غیب کی سطح پر حقیقت کا ادراک کرے۔ جو مفادات اور اعزازات سے بلند ہو کر زندگی گزارے۔ جو نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھے۔ جو کونے میں پانے کا راز دریافت کرے۔ جو ظاہر سے گزر کر باطن کو دیکھ لے۔ جو انار کہتے ہوئے اپنے آپ کو بے انا بنا لے۔ لوگ تعریف میں خوش ہوتے ہیں، جنت والا آدمی تنقید کا استقبال کرتا ہے۔ لوگوں کو اونچے مقام پر بیٹھنے میں لذت ملتی ہے، جنت والا آدمی اپنے آپ کو نیچے بٹھا کر سکون محسوس کرتا ہے۔ چیزوں کو مفاد کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں، جنت والا آدمی ہر چیز کو اصول کی نظر سے دیکھتا ہے۔ لوگ اپنے کو نمایاں کرنے کے شائق ہوتے ہیں، جنت والا یہ چاہتا ہے کہ اپنے کو گم نامی کے خوطے میں چھپا لے۔
لوگ دوسروں کا احتساب کرنے کے لیے دوڑتے ہیں، جنت والا انسان اپنے احتساب کے لیے فکر مند رہتا ہے۔ لوگ دوسروں کی غلطی بتانے میں مہارت دکھاتے ہیں، جنت والا انسان اپنی غلطیوں کی تلاش میں گم رہتا ہے۔ لوگ ظاہری رونقوں میں جیتے ہیں، جنت والا انسان اندرونی حقائق کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے۔
لوگوں کی دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ بولیں، جنت والا انسان چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ لوگ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کے کارناموں سے واقف ہو، جنت والا انسان چاہتا ہے کہ اس کا ہر کام دنیا کی نظر سے چھپا رہے، لوگ "شادم از زندگی خویش که کارے کردم کے احساس میں جیتے ہیں، جنت والا انسان اس احساس سے تڑپ اٹھتا ہے کہ میں تو کوئی ایسا کام نہ کر سکا جس کو میں رب العالمین کے سامنے پیش کر سکوں۔
اہل جنت کا کردار جنتی کردار ہوتا ہے، اہلِ جہنم کا کردار جہنمی کردار۔