Al-Risala · December 1992

آگ سے بچاؤ

Al-Risala, December 1992, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں آپ نے سب سے پہلے ایک مسجد بنائی جو مسجد نبوی کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں آپ نے جو پہلا جمعہ پڑھا، اسی میں آپ نے خطبہ دیتے ہوئے

اے لوگو، اپنے لیے کچھ آگے بھیجو۔ جان لو کہ خدا کی قسم تم میں سے ہر شخص موت کا نشانہ بنے گا۔ پھر وہ اپنی بکریوں کو اس حال میں چھوڑ کر چلائے گا کہ ان کا کوئی چرواہا نہ ہوگا۔ پھر اس کا رب اس سے کلام کرے گا اور وہاں کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ اور نہ درمیان میں کوئی پردہ ہوگا۔ وہ فرمائے گا کہ کیا تمہارے پاس میرا فرستادہ نہیں آیا جس نے تم کو میرا پیغام پہنچایا۔ اور میں نے تم کو مال دیا اور تمہارے اوپر اپنا فضل کیا۔ پھر تم نے اپنے آگے کے لیے کیا بھیجا۔ بندہ اپنے دائیں اور بائیں دیکھے گا۔ مگر وہ کچھ نہ پائے گا۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا۔ تو وہاں جہنم کے سوا اور کچھ نہ دیکھے گا۔ پس جو شخص اپنا چہرہ آگ سے بچا سکے وہ بچائے ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔ (البداية والنهاية ، ٣ / آدمی کے اندر موت اور قیامت کے مسئلہ کا شدید احساس پیدا ہو جائے تو وہ چاہنے لگتا ہے کہ جو بھی قیمت وہ دے سکتا ہے، اس کو دے کر وہ اپنے آپ کو آخرت کے عذاب سے بچائے۔

رات کے وقت وہ بستر پر لیٹتا ہوا ہے۔ آخرت کے مسئلہ کو سوچ کر وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ وہ اٹھ کر وضو کرتا ہے اور نماز کے لیے کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ خدایا، میری اس نماز کو میری طرف سے قبول کر لے اور مجھے آگ کے عذاب سے بچا لے ۔ وہ ایک شخص کو مصیبت میں دیکھتا ہے، وہ اپنی محنت کی کمائی کا ایک حصہ اس کو دیتا ہے اور اس کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا، آج میں نے جس طرح اس کی مدد کی ہے، تو آنے والے سخت تر دن میں میری مدد فرما۔ ایک حق اس کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ اپنی پوزیشن کا خیال کیے بغیر اس کا اعتراف کر لیتا ہے اور آنسوؤں کی زبان سے کہتا ہے کہ خدایا، مجھے اپنے ان بندوں میں لکھ لے جنہوں نے دیکھے بغیر تیرا اعتراف کیا۔

ہر عمل، کھجور کا ایک ٹکڑا ہے، اور جس آدمی کے پاس جو ٹکڑا ہے، اس کو چاہیے کہ اس ٹکڑے کو وہ اپنی نجات کے لیے پیش کرے ۔

Printed page