بصیرت کی اہمیت
Al-Risala, December 1992, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ صحیح البخاری کھولیں تو اس کی پہلی حدیث وہ ملے گی جس کو عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر بیان کیا تھا۔ اس کا پہلا فقرہ ہے : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (بے شک عمل کا دارومدار نیت پر ہے)
پھر اسی صحیح البخاری میں، مثال کے طور پر، کتاب الوضوء، باب البول قائماً وقاعداً کے تحت ایک روایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گروہ کے کوڑا خانہ پر گئے۔ پھر آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا (اتى النبی صلی اللہ علیہ وسلم سُباطة قوم فبال قائماً) اب ایک شخص ہے جو پہلی حدیث کو لے کر اس پر تقریر کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے کہ خالص اللہ کے لیے عمل کرو، اگر تم اللہ کی رضا کے سوا کسی اور چیز کو مقصود بناؤ گے تو تمہارا سارا عمل اکارت ہو جائے گا۔ آخرت میں اسی عمل کی قیمت ہے جو خالص اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا گیا ہو۔ دوسرا شخص وہ ہے جو صرف دوسری حدیث کو لے لیتا ہے۔ وہ لوگوں کے اندر اس بات کی مہم چلاتا ہے کہ لوگ کھڑے ہو کر پیشاب کریں۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ بظاہر یہ دونوں آدمی حدیث پر عمل کر رہے ہیں۔ مگر اس ظاہری مشابہت کے باوجود پہلا آدمی صحیح ہے اور دوسرا آدمی غلط ۔ کیوں کہ پہلا آدمی ایک ایسی تعلیم کی اشاعت کر رہا ہے جو عمومی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تعلیم کی جتنی بھی اشاعت کی جائے اس سے دین میں کوئی نقص واقع نہ ہوگا۔ مگر دوسرے آدمی کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ وہ ایک اتفاقی واقعہ کو کلی اور عمومی حیثیت دے ایسا شخص فتنہ کا داعی ہے نہ کہ دین کا داعی۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ دین کا کام کرنے کے لیے صرف دینی معلومات کافی نہیں، اسی کے ساتھ دینی بصیرت بھی انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ایک من علم کے لیے دس من عقل کی ضرورت ہوتی ہے (یک من علم را دہ من عقل می باید) دینی علم کو دینی بصیرت بنانے کا راز تقویٰ ہے۔ جو آدمی تقویٰ اور خشیت والا ہو گا اس کا علم اپنے آپ بصیرت کی صورت میں ڈھل جائے گا۔
ذی المجاز یتخللہ یقول: یا ایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا۔ قال وابو جہل یحثی علیہ التراب ویقول لا یغوینکم هذا عن دینكم فانما يريد لتتركوا الھتکم وتتركوا اللات والعزیٰ۔ وما یلتفت الیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (۱۰۸ / ۱)
امام احمد نے نقل کیا ہے کہ بنو مالک بن کنانہ کے ایک شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے (ہجرت سے پہلے) ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا تھا۔ آپ ان کے درمیان چل رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ اے لوگو، کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو جہل بھی آپ کے ساتھ تھا۔ وہ آپ پر مٹی پھینک رہا تھا اور یہ کہتا جاتا تھا کہ لوگو، یہ شخص تم کو تمہارے دین سے بہکا نہ دے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم لوگ اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور لات اور عزیٰ کو ترک کردو۔ مگر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو جہل کی طرف کوئی توجہ نہیں فرما ر ہے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کا طریقہ کیا ہے۔ ایک شخص لوگوں کو اللہ کے سچے دین کی طرف بلانے کے لیے اٹھتا ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو جھوٹے دین پر کھڑے ہوئے کستے ہیں۔ وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ طرح طرح سے اس کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ مگر داعی پر لازم ہے کہ وہ ان کی طرف التفات نہ کرے۔ کی ایذا رسانی سے اعراض کرتے ہوئے اپنا دعوتی کام جاری رکھے۔
ابو جہل کی شرانگیزی کے مقابلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ رویہ نعوذ باللہ بزدلی کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ وہ عین بہادری تھا۔ اسی بہادرانہ کردار کا نام صبر و اعراض ہے۔ صبر و اعراض دعوت کی لازمی قیمت ہے۔ جو شخص صبر و اعراض کا ثبوت نہ دے، وہ دعوت حق کا کام بھی انجام نہیں دے سکتا۔