Al-Risala · December 1992

سبب اپنے اندر

Al-Risala, December 1992, pp. 25–26

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں جس طرح ذکر و عبادت کے احکام ہیں، اسی طرح قرآن میں اجتماعی امور کی بابت بھی کھلے بیانات موجود ہیں۔ اس اعتبار سے جب ہم موجودہ معاملہ میں قرآن کی رہنمائی معلوم کرنا چاہتے ہیں تو قرآن نہایت واضح طور پر یہ بتاتا ہوا نظر آتا ہے کہ اس دنیا میں جو افتاد بھی کسی کے ساتھ پیش آتی ہے وہ حقیقۃً ایک کے اوپر دوسرے کی زیادتی نہیں ہوتی، بلکہ وہ کمزور فریق کی کمزوری کی سزا ہوتی ہے جو طاقت ور فریق کی طرف سے اسے بھگتنی پڑتی ہے۔ آخرت میں ہر ایک کا جو حساب ہوگا، وہ الگ معاملہ ہے۔ مگر دنیا کے اعتبار سے جو صورتِ حال ہے وہ یہی ہے۔

قرآن (البقرہ ۳۰) میں واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ جو مصیبت بھی تمہارے اوپر پڑتی ہے وہ خود تمہارے اپنے کیے کا نتیجہ ہوتی ہے (وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایک مرفوع حدیث کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے علی، جو بھی بیماری یا سزا یا مصیبت تم کو پہنچتی ہے وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے (یاعلی، ما اصابكم من مرض اوعقوبة اوبلاء في الدنيا فبما كسبت ايدیکم) الجامع لاحكام القرآن ۲۰۱/۱۶ قرآن میں اس اصول کا انطباق سب سے پہلے خود صحابہ کرام کی جماعت پر کیا جا چکا ہے یہ انطباق بعد کے مسلمانوں کے لیے نہایت سبق آموز ہے۔

ایک مثال غزوہ احد (۳ھ) کی ہے۔ یہ جنگ ایک طرف پر مخالفین اسلام کی سازش اور ان کی جارحیت کے نتیجہ میں پیش آئی تھی۔ اس جنگ میں ابتداءً مسلمان کامیاب ہو گئے۔ مگر آخر میں ان کو قرآن میں اس پر تبصرہ کیا گیا تو مخالفین اسلام کی کھلی زیادتیوں کے باوجود ہارنے کی ذمہ داری خود مسلمانوں کے اوپر ڈال دی گئی۔ کہا گیا کہ اس جنگ میں شکست کا سبب یہ تھا کہ تم نے کمزوری دکھائی، تم نے معاملہ میں نزاع کیا اور تم نے رسول کی ہدایت کی خلاف ورزی کی (حتی اذا فشلتم وتنازعتم في الامر وعصيتم من بعد ما اراكم ما تحبون) آل عمران ۱۵۲

دوسری مثال غزوۂ حنین (۸ھ) کی ہے۔ اس جنگ میں بھی تمام تر زیادتی مخالفینِ اسلام کی تھی۔ انھوں نے فدارانہ طور پر مسلمانوں کی جماعت پر حملہ کر دیا تھا۔ اس جنگ میں ابتداءً مسلمانوں کو شکست وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے لگے۔ تاہم بعد کو وہ پھر سنبھلے اور دوبارہ جنگ کی۔ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں کامیابی عطا فرمائی۔

اس جنگ میں مخالفین نے مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔ اس پر قرآن میں تبصرہ کیا گیا۔ اس تبصرہ میں بھی، مخالفین کی کھلی ہوئی زیادتی کے باوجود خود مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی۔ فرمایا کہ حنین میں ابتدأ جو شکست اور نقصان پیش آیا اس کی وجہ تمہاری یہ کمزوری تھی کہ تم کو اپنی کثرتِ تعداد پر ناز ہو گیا (ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا) التوبہ ۲۵ قرآن و حدیث کے ان بیانات کے مطابق، صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب ایک فریق دوسرے فریق کی زیادتی کا شکار ہو تو زیادتی کا شکار ہونے والا فریق شکایت اور احتجاج میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ اس کے برعکس اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ذاتی احتساب کرنا شروع کر دے۔ وہ دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے کے بجائے اپنی کوتاہیوں کو تلاش کرے۔ دوسروں سے مطالبہ کرنے کے بجائے خود اپنی حالت کی اصلاح کی طرف توجہ دے۔ کیوں کہ جو کچھ پیش آیا ہے، اس کا سبب خود اس کے اپنے اندر ہے نہ کہ اس کے باہر۔

جس مسئلہ کا سبب آدمی کے اپنے اندر ہو، اس کے بارہ میں دوسروں کے خلاف شور و غل کرنا محض اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔ ایسی کوششوں سے اس کو کچھ ملنے والا نہیں۔ معاملہ کی اصلاح صرف اپنی کمیوں کو دور کرنے سے ہو سکتی ہے، اور پہلی فرصت میں اس کو اسی اصل کام میں لگ جانا چاہیے۔

Printed page