تنظیم
Al-Risala, December 1992, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
سوامی وشنو دیوانند اندھستان کے مشہور گرو ہیں۔ وہ اپنا مشن ڈیوائن لائف سوسائٹی (Divine Life Society) کے نام سے چلاتے ہیں۔ دنیا کے تقریباً ہر بڑے شہر میں ان کا سنٹر قائم ہے۔ وہ اکثر اپنے ذاتی ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کو اُڑن سوامی (flying Swami) کہا جاتا ہے۔ ان کے اعلان کے مطابق، ان کا مقصد دنیا کو امن اور محبت کا پیغام دینا ہے (ٹائمس آف انڈیا ۱۸ جون ۱۹۹۲)
ساری دنیا میں ان کے شاگردوں (disciples) کی تعداد ۵۰ ہزار سے زیادہ ہے جن میں بہت سے ممتاز افراد بھی شامل ہیں، مثلاً جارج ہیریسن (George Harrison) اور پیٹر سیلرس (Peter Sellars) اور روی شنکر، وغیرہ۔ ان کی غیر معمولی کامیابی کا راز کیا ہے؟ ان کے ایک تعلیم یافتہ شاگرد نے کہا کہ سوامی کی دنیوی کامیابی اس لیے ہے کہ وہ نہایت عمدہ ناظم ہیں: The Swami's worldly success is because he is a very good organiser. (p. 14)
یہ ایک حقیقت ہے کہ کامیابی کا بہت زیادہ تعلق نظم یا تنظیم سے ہے۔ خاص طور پر کوئی بڑا کام کبھی تنظیم کے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ تنظیم نہیں تو بڑا کام بھی نہیں۔ تنظیم کیا ہے؟ تنظیم یہ ہے کہ ہر کام مقرر اصول کے مطابق کیا جائے۔ کام سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں پر یہ واضح ہو کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور ان کے فرائض کیا۔ ہر آدمی جس کو کوئی کام سونپا جائے وہ پوری طرح قانون اور ضابطہ کے تحت سونپا جائے۔ جو فیصلہ کیا جائے وہ نہ صرف سب کے علم میں ہو بلکہ اس کی معقولیت کو بھی لوگ جانتے ہوں۔ تمام وابستہ افراد یہ محسوس کریں کہ وہ کام میں شریک ہیں اور وہ اس کے ایک ناگزیر جزو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر آدمی اپنے آپ کو نظام کا پابند سمجھتا ہو۔
نظم دراصل ناظم کا بدل ہے۔ جب ناظم موجود نہ ہو تو لوگوں کو احساس ہونا چاہیے کہ وہ بالواسطہ طور پر مقرر نظم کی صورت میں وہاں موجود ہے۔
کامیاب تنظیم کی بہترین آئیڈیل مثال شہد کی مکھی کا چھتہ ہے۔ جو شخص کامیاب تنظیم قائم کرنا چاہتا ہو اس کو شہد کی مکھی کے چھتے کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ شہد کی مکھی انسان کو صرف شہد فراہم وہ شہد کا ایک اعلیٰ کارخانہ قائم کرکے انسان کو یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اجتماعی منصوبوں کی تنظیم کس طرح کی جانی چاہیے ۔
موجودہ زمانہ میں مینجمنٹ ایک مستقل سبجکٹ ہے۔ اس کو ایک مستقل سائنس کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ ساری دنیا میں مینجمنٹ کی تعلیم اور اس کی تحقیق کے لیے نہایت بڑے بڑے ادارے قائم ہیں ۔
سادہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کامیاب تنظیم کے لیے ضروری ہے کہ فرد اور اجتماعی اداره، شاخ اور مرکز، نیچے کے لوگ اور اوپر کے لوگ، سب کے درمیان برابر تال میل ہو ۔ بلا انقطاع ان کے درمیان ربط جاری رہے۔ ہر ایک جال کی مانند دوسرے افراد سے جڑا رہے۔ مزید یہ کہ ہر سطح پر نگرانی اور احتساب کا نظام قائم ہو۔ بہتر کارکردگی پر کارکنوں کا اعتراف کیا جائے اور ناقص یا غلط کارکردگی پر فورا متعلقہ شخص کی گرفت کی جائے ۔ تنظیم اجتماعی کام کی انجینیرنگ ہے۔ جتنی اچھی تنظیم اتنا ہی اچھا اجتماعی اداره ۔ جنوری ۱۹۹۳ کا الرسالہ اُردو خصوصی نمبر کے طور پر شائع ہوگا۔ عنوان " عہدِ حاضر میں علماء کا رول " ہوگا ۔ اس کی ضخامت زیادہ ہوگی۔ لیے اس ایک شمارہ کی قیمت فی شمارہ چھ روپے ہوگی ۔
مینجر الرسالہ ۔