ایک سفر
Al-Risala, December 1992, pp. 34–38
By Maulana Wahiduddin Khan
طرابلس (لیبیا) میں ۲۴-۲۸ ستمبر ۱۹۹۰ کو ایک انٹرنیشنل اسلامی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس کی دعوت کے مطابق ایک سفر ہوا۔ سفر کے کچھ تاثرات یہاں درج کئے جاتے ہیں۔ ۲۲ ستمبر کو صبح ساڑھے تین بجے گھر سے روانگی ہوئی۔ فجر کی نماز دہلی ایئر پورٹ پر پڑھی۔ ایئر پورٹ پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اخوانی مزاج کے تھے۔ اسلامی جہاد پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلامی جہاد (یعنی قتال) صرف دفاعی ہے۔ اسلام کا اصل اقدام دعوت ہے نہ کہ قتال۔
انھوں نے کہا کہ ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ البتہ ہمارا کہنا ہے کہ دعوت کی راہ میں جب رکاوٹ ڈالی جائے تو رکاوٹ کو ختم کرنے کے لئے قتال کیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ "دعوت کی راہ میں رکاوٹ" کا نظریہ در اصل موجودہ زمانہ کے سیاست پسند مفکرین کا پیدا کردہ ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک اسلامی دعوت کا مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ یہ لوگ جب اسلام کو ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے نافذ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں محسوس ہوتا ہے کہ وقت کے حکمراں اس انقلابی مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ چنانچہ وہ ان سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں تاکہ رکاوٹ کو دور کر کے اسلامی قانون کی حکومت قائم کریں۔
میں نے کہا کہ اسلامی دعوت کا یہ تصور ہی سرے سے غلط ہے۔ اسلامی دعوت در اصل توحید کا اعلان اور آخرت کا انذار ہے۔ اور اعلان توحید اور انذار آخرت کے کام میں، کم ازکم موجودہ زمانہ میں کسی رکاوٹ کا سوال ہی نہیں۔ ہندوستان میں بائیں چلو (خذ ذات اليسار) کا اصول ہے اور عرب ملکوں میں دائیں چلو (خذ ذات اليمين) کا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ "دائیں چلو" کا اصول اسلام کا اصول ہے۔ اس لئے میں ہندوستان کی سڑکوں پر دائیں چلوں گا تو ایسے شخص کو ہندوستان کا نظام ایک رکاوٹ معلوم ہوگا۔ وہ کہے گا کہ ہمیں چاہیے کہ لڑ کہ کس اس رکاوٹ کو دور کریں۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ ایک احمقانہ بات ہے۔
بورڈنگ کار ڈ لینے کے لئے ایئر لائن کی کھڑکی پر کھڑا ہوا تو میں لائن میں سب سے پیچھے تھا۔
اچانک اندر سے ایک عرب نوجوان باہر آیا۔ اس نے میرا ٹکٹ لیا اور اندر جا کر ضروری کارروائی کی اور بورڈنگ پاس لاکر مجھے دے دیا۔ اس کے ساتھ اس نے ایک خوب صورت چھپا ہواا کارڈ مزید دیا جو ضیافت کے لئے تھا، اس پر لکھا ہوا تھا:
Royal Jordanian is pleased to invite you to avail the facility of Baurya Lounge in Departure Hall; Thank You. اس تجربہ کے بعد دل بھر آیا۔ میں نے کہا کہ کاش قیامت کے دن بھی ایسا ہی ہو کہ میں عجز اور دل فگاری کی تصویر بنا ہو سب سے پیچھے کھڑا ہوں اور اللہ تعالیٰ فرشتہ کو بھیج دیں کہ میرے اس عاجز بندے کے پاس جاؤ اور اس کے داخلہ رحمت کا کارڈ خود اس کے پاس پہنچادو۔ دہلی ایئر پورٹ کے اندر میں امیگریشن (Immigration) کی کھڑکی پر کھڑا تھا۔ کی دوسری کھڑکی پر شور سنائی دیا۔ میں نے دیکھا کہ کھڑکی پر بیٹھے ہوئے پولیس کے آدمی سے دو مسافروں کا جھگڑا ہورہا تھا۔ دوسری طرف میری کھڑکی پر بھی ایک وردی پوش آدمی تھا۔ مگر وہ نہایت شریفانہ انداز میں مسافروں کا کام انجام دے رہا تھا۔ میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا: سرب جیت سنگھ۔ میں نے سوچا کہ جو لوگ آدمیوں کو فرقوں اور گروہوں کی صورت میں دیکھتے ہیں وہ کتنی بڑی غلطی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے سطحی قائدین ہر فساد کے موقع پر آنکھ بند کر کے "پولیس" کی مذمت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا کہ ہر وہ شخص جس نے پولیس کی وردی پہن لی، وہ ایک ظالم گروہ کا فرد بن گیا۔ رائے قائم کرنے کا یہ طریقہ حد درجہ ظالمانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان میں فرق ہوتا ہے۔ انسانوں کو ان کے کردار کے اعتبار سے بانٹنا چاہئے نہ کہ فرقوں اور گروہوں کے اعتبار سے۔
دہلی سے اردن ائیرویز کی فلائٹ نمبر ۱۹۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں ائیر لائنز کا انگریزی میگزین رائل ونگ (Royal Wings) پڑھا۔ حسب معمول اس میں ہوٹلوں کے شاندار با تصویر اشتہارات تھے۔
The Finest collection of Hotels in the Middle East. سرسبز و شاداب ماحول میں خوب صورت اور شاندار عمارتیں دیکھنے میں بہت پر کشش
میں نے سوچا کہ میں بار بار اسی قسم کے ہوٹلوں میں ٹھہرا ہوں۔ مگر جب وہاں ٹھہرتا ہوں تو وہاں کا قیام اور وہاں کی زندگی میں میرے لئے کوئی کشش نہیں ہوتی۔
خیال آیا کہ ان تصویروں کے پرکشش ہونے کا سبب یہ ہے کہ ان میں ہوٹلوں کا ایک پہلو حذف ہوگیا ہے۔ وہ ان کا تعب اور حزن ہے۔ قرآن میں اہل جنت کی زبان سے کہلایا گیا ہے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے حزن کو ختم کر دیا ( (أذهب عنا الحزن)۔ دنیا کایہ تجربہ آخرت کے معاملہ کا ایک تعارف ہے۔ دنیا میں حزن تصویر میں حذف ہو جاتا ہے مگر حقیقت میں وہ موجود رہتا ہے۔ آخرت میں خدا اپنے کمال قدرت سے خود و حقیقت کے اندر سے حزن کو حذف کر دے گا۔ اس کے بعد خدا کی دنیا ابدی خوشیوں کی لازوال آرام گاہ بن جائے گی۔
۲۲ ستمبر کو دوپہر بعد کا وقت تھا۔ باہر سورج کی روشنی پوری طرح فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ اردن کے صحرائی حصہ کے اوپر ۵۳۵ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ رہا تھا۔ کھڑکی سے باہر کی طرف نظر ڈالی تو نیچے خالص صحرائی منظر تھا۔ دور دور تک کہیں کوئی آبادی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ہر طرف غیر آباد رتیلے میدانوں کا منظر تھا۔
اس وقت میرے ہاتھ میں اردن ایئر لائنز کا عربی مجلہ " الاجنہ" تھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا : المياه فی الوطن العربي و الاردن اس میں عرب دنیا کے آبشار (الشلالات) دکھائے آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی رنگیں تصویروں میں نظر آ رہا تھا کہ پہاڑوں کے اوپر سے پانی کے بڑے بڑے دھارے آبشار بن کر نیچے گر رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ خدا کی قدرت بھی کیسی زمین پر ایک طرف خشک صحراؤں میں ریت اڑ رہی ہے اور دوسری طرف اسی زمین میں پانی کے دریا بہہ رہے ہیں۔
اس بار لیبیا کا سفر ہنگامی حالات میں ہوا۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو کویت کے خلاف عراق کے فوجی اقدام نے یہ صورت حال پیدا کر دی ہے کہ ہر طرف جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مجھے خیال آیا کہ " لیبیا " کا لفظ جدید دور کی جنگی طاقت کو بھی بتاتا ہے اور اس کی کمزوری کو بھی۔
امریکی جنرل آجکل صدام حسین کو بم کا نشانہ بنانے کی بات کر رہے ہیں (ہندوستان ٹائمز ، ۷ ستمبر ۱۹۹۰) ۱۹۸۶ میں اسی طرح امریکی بمباروں نے لیبی حکمران کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعہ ایک طرف
بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کس طرح یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایک فوجی افسر فضائی راستہ سے دشمن کے ملک میں داخل ہو جائے۔ اور وہاں اپنے مطلوبہ نشانہ پر بم گرا کر محفوظ طور پر واپس چلا آئے۔ اسی کے ساتھ یہی واقعہ انسان کی محدودیت کو بھی بتا رہا ہے۔ یعنی ساری مشینی ترقیوں کے باوجود اب بھی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ نتیجہ کو صد فی صد اپنے حق میں یقینی بنا سکے۔ ٹائم (۱۰ ستمبر ۱۹۹۰) نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا تھا کہ امریکہ کے فوجی جنرل صدام حسین کے خلاف جراحی ضرب کی بات کر رہے ہیں لیکن جراحی ضرب عام طور پر غلط نشانوں پر مارتی ہے، جیسا کہ ۱۹۸۶ میں لیبیا کے خلاف حملہ میں ہوا۔ اس حملہ کا نشانہ معمر قذافی تھے ۔ مگر عملاً جو ہوا وہ یہ کہ فرانسیسی سفارت خانہ تباہ ہو گیا اور قذافی کی لڑکی مرگئی۔
Generals like to talk of "surgical strikes", but surgical strikes usually hit the wrong targets - like the misguided air raid on Libya in 1986 that wrecked the French embassy and killed Colonel Gaddafi's daughter (p. دہلی سے روانہ ہو کر ہمارا جہاز پاکستان، افغانستان، ایران اور عراق کے اوپر سے اڑتا ہوا دو پہر بعد عمان کے ایر پورٹ پر اتر گیا۔ اس سے پہلے میں عمان سے دو بار گزر چکا ہوں ، مگر اس بار عمان ائیر پورٹ پر کچھ بھیڑ کا سا منظر دکھائی دیا۔ حالانکہ اس سے پہلے یہاں بہت کم آدمی نظر آتے تھے۔ کے موجودہ حالات غالباً اس کا سبب ہیں۔
عمان کا لفظ آجکل خبروں میں بہت زیادہ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ۲ اگست کو کویت پر عراق کے حملہ کے بعد جب لوگ بھاگنا شروع ہوئے تو ان کے لئے اردن کی سرحد سب سے زیادہ کھلی ہوئی تھی۔ چنانچہ بہت بڑی تعداد میں لوگ بھاگ بھاگ کر اردن پہنچ گئے۔ حملہ کے وقت تقریباً ۸۰ ہزار ہندوستانی کویت میں تھے ۔ ان کی بڑی تعداد بھاگ کر اردن میں داخل ہو گئی۔ یہاں سے انہیں بسوں کے ذریعہ عمان لایا گیا۔ تازہ اطلاع کے مطابق ، بوقت تحریر تقریباً دس ہزار ہندوستانی عمان میں رہ گئے ہیں۔ بقیہ کو عمان سے بمبئی پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ لوگ عمان سے ۱۱۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر از رق ریفیوجی کیمپ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔
اس مقصد کے لئے ایر انڈیا اور اقوام متحدہ کے جہاز مشترکہ طور پر مصروف رہے۔
جہاز عمان سے بمبئی جاتے تھے۔ پھر روزانہ ۱۳ جہاز جانے لگے۔ اب ان بھی تعداد روزانہ نو کر دی چند دن کے اندر انشاء اللہ تمام ہندوستانی اپنے وطن پہنچائے جاچکے ہوں گے۔ عمان سے طرابلس کے لئے ارون ایر لائنز کی فلائٹ نمبر ۳۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ میں آج (۲۲ ستمبر) اردن کے دو اخباروں کا مطالعہ کیا۔ ایک عربی روزنامہ الرای" دوسرا انگریزی روزنامہ (Jordan Times) انگریزی اخبار کے پہلے صفحہ کی پہلی سرخی یہ تھی کہ سعودی عرب نے اردن سے تیل کی سپلائی بند کردی :