Al-Risala · December 1992

S. Arabia cuts off oil supply to Jordan

Al-Risala, December 1992, pp. 38–48

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا ہو نا بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ اردن نے کھلم کھلا کویت عراق کے معاملہ میں صدام حسین کا ساتھ دیا ہے۔ عربی اخبار کے صفحہ ۸ اوپر چھوچھٹوں میں مختلف کمپنیوں اوراداروں کے اعلانات تھے۔ ان اعلانات میں اردن کے ملک حسین کے ساتھ صدام حسین کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ ہر چوکھٹے پر تائید و ولاء، تائید اور دوستی، جیسے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ ان میں صدام حسین کو قائد عربی کے روپ میں دکھایا گیا اور ”عہد“ کیا گیا تھا کہ ظالم امریکیوں اور صلیبیوں کے خلاف جنگ میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اخبار میں کویت کے خلاف صدام حسین کی جارحیت کا مطلق کوئی ذکر نہ تھا ۔ مختلف انداز میں صرف امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے ظلم اور فریب کو نمایاں کیا گیا تھا۔ ایک عراقی فوجی طارق نعیم کا خط (رسالہ) اپنے مصری فوجی دوست دسوقی ابو المعاطی کے نام نمایاں طور پر چھاپا گیا تھا۔ خط میں عراقی فوجی نے مصری فوجی کو شرم دلائی تھی کہ کیا تم ظالموں کی فوج میں شامل ہو کر میرے اوپر گولی مارنا چاہتے ہو۔ حالاں کہ یہ سب ڈاکو ہیں جو سمندر پار سے عربوں کو قتل کرنے کے لئے آئے خط کا خاتمہ اس جذباتی لفظ پر ہوا تھا، فهل تدعهم يفعلون (پھر کیا تم انھیں چھوڑ دو گے کہ وہ جو چاہتے ہیں کریں)

اردن کے اخبار میں اس قسم کی خبروں اور اس قسم کے مضمون کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ انسان کی کیسا عجیب ہے۔ وہ دوسرے کے ظلم کو بتاتا ہے اور اپنے ظلم کو چھپاتا ہے۔ صدام حسین نے واضح طور پر کویت کے خلاف جارحیت کی ہے۔ مگر اس کی کھلی ہوئی جارحیت کا کوئی ذکر نہیں، سارا زور و غوغا صرف اس بات پر ہے کہ امریکہ اپنی فوجوں کو لے کر خلیج عرب میں کیوں آگیا۔

یہ ایک بد ترین دھاندلی ہے۔ ساری دنیا کے لوگ اسی دھاندلی میں مبتلا ہیں۔ کے مسلمانوں میں تمام لکھنے اور بولنے والے اسی دھاندلی کا شکار ہیں۔ یہ ایسا جرم ہے جس کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو ہرگز خدا کی مدد ملنے والی نہیں۔

ٹائم میگزین کے سائز پر پیرس سے ایک عربی ہفت روزہ "الوطن العربی" کے نام سے جہاز کے اندر اس کا شمارہ ۷ ستمبر ۱۹۹ موجود تھا۔ اس کا بھی مطالعہ کیا۔ مگر یہ ایک دوسری قسم کا پرچہ تھا۔ اس کی کور اسٹوری تھی: خلیج کا بحران ، جنگ یا جنگ نہیں (دا نعمہ اـخليج حرب ام لا حرب مضمون میں دونوں پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ جنگ ہونے کا امکان بھی اتنا ہی ہے جتنا جنگ نہ ہونے کا۔

میں اگر چہ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہا تھا۔ اور فرسٹ کلاس کے مسافروں کو جہاز میں غیر معمولی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ مگر میں اپنی وسیع اور آرام دہ سیٹ پر اس طرح بے قرار تھا جیسے مجھے کسی عذاب خانہ میں ڈال دیا گیا ہے۔ میرا یہی حال ہر سفر میں ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ دوسرے لوگ سفر سے لطف اٹھاتے ہیں۔ آخر میرا مزاج ایسا کیوں ہے کہ دنیا کی کوئی راحت میرے لئے خوشی اور سکون کا باعث نہیں بنتی۔

نفسیاتی اعتبار سے اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ اپنے مزاج کے اعتبار سے میں ایک معیار پسند (Idealist) آدمی ہوں۔ دنیا کی کوئی چیز، خواہ وہ کتنی ہی اچھی ہو، وہ معیار (آئیڈیل) سے کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں کسی بھی چیز سے، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی اچھی ہو، کبھی مطمئن نہیں ہو پاتا۔

میرے اس مزاج نے میرے لئے زندگی کو ایک مسلسل کرب بنا دیا ہے۔ تاہم اس مزاج کا ایک فائدہ مجھے یہ ملا کہ میں اس سطحیت سے بچ گیا جس میں بہت سے لوگ مبتلا ہوئے۔ اپنی کسی کتاب یا اپنے کسی عمل کو ” شادم از زندگی خویش که کارے کردم کا درجہ دیا اور کہا قیامت کے دن جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے تو میں اپنی اس کتاب یا اپنے اس عمل کا ہدیہ خدا کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔

میری معیار پسندی میرے لئے اس میں مانع ہوگئی کہ میں اپنی کسی کتاب یا اپنے کسی عمل کویہ درجہ

دوں کہ وہ خدائے ذو الجلال کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرنے کے قابل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس قسم کے کسی تصور کو خدا کی تصغیر کے ہم معنی سمجھتا ہوں۔

۲۲ ستمبر کو مقامی وقت سے ڈھائی بجے دن میں جہاز طرابلس کے ہخدا،ئی اڈہ پر اتر گیا۔ پرواز نہایت ہموار تھی۔ اس کے کیپٹن (قائد الطائرہ) عبد اللہ المدبر تھے۔ جسر بوں میں اب ٹیکنیکل ماہرین کافی تعداد میں پیدا ہو چکے ہیں۔

ایئر پورٹ سے شہر آتے ہوئے سڑک پر ایک جگہ یہ کتبہ لکھا ہوا نظر آیا: الوحدة العربية ضرورة حتمية (عرب اتحاد ناگزیر ضرورت)، اس کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ پچاس سال سے اس قسم کے الفاظ ہر جگہ بولے اور لکھے جا رہے ہیں، مگرعین ان الفاظ کے ہجوم میں عرب اتحاد آج خلیج عرب میں غرق ہو چکا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کلام اتحاد کو واقع بننے کے لئے شعور اتحاد درکار ہے۔ اور شعور اتحاد ساری مسلم دنیا میں کہیں موجود نہیں۔ لوگ اتحاد یوں کے ساتھ متحد ہونا جانتے ہیں۔ حالانکہ حقیقی اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ لوگ اختلافیوں کے ساتھ متحد ہونے کو جان لیں۔

طرابلس میں میرا قیام فندق باب البحر (کمرہ ۷۸۳) میں تھا۔ ۲۳ ستمبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ کسی قدر مختلف لہجہ میں انگریزی بول رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ پہلے عیسائی منسٹر تھے۔ ۱۹۸۳ میں مسلمان ہو گئے۔ اپنی عمر انھوں نے ۶۶ ان کا قدیم نام فسی ہوئی منو (Fisii Hoi Manu) تھا۔ موجودہ نام "فیاض ہے: Haji Faiyaz Manu, P.O. Box 1156 Nukualofa, Tonga Island, South Pacific Ocean میں نے پوچھا کہ آپ نے کیسے اسلام قبول کیا۔ انھوں نے کہا کہ میری ملاقات فجی کے ایک مسلمان محمد عثمان خاں) سے ہوئی ۔ میں نے ان پر عیسائیت کی تبلیغ کرنی چاہی۔ اس طرح میرے اور ان کے درمیان گفت گو شروع ہوئی۔ یہ بحث کئی دن تک جاری رہی۔ میرا کہنا تھا کہ یسوع مسیح خدا (Goc) تھے ۔ انھوں نے کہا کہ انجیل کے مطابق، حضرت مسیح نے آخر وقت میں ایلی ایلی (میرے وا ، میرے خدا ! ) پکارا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی اور کو خدا سمجھتے تھے۔

میں نے کہاا کہ یسوع مسیح دنیا کے نجات دہندہ (Saviour of the World) تھے۔ انھوں نے کہ کہ جو انسان ، آپ کے بیان کے مطابق ، خود اپنے آپ کو یہودیوں اور رومیوں سے نہ بچاسکا ، وہ ساری دنیا کو کس طرح بچائے گا۔ اس طرح بحثیں ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ مجھ اسلام کی صداقت واضح ہوگئی اور میں نے اسلام قبول کرلیا۔

۴ ستمبر ۱۹۹۰ کی صبح کو اس عالمی کانفرنس کا افتتاح ہوا اور ۲۸ ستمبر تک جاری رہا۔ شعار تھا ــــــــ " الدعوة الاسلامية وآفاق المستقبل " اس کانفرنس میں مختلف ملکوں کے ۲۵۰ سے زیادہ افراد شریک ہوئے ۔ یہ سب ۳۰ تنظیموں کے نمائندہ تھے۔ صدر جلسہ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ دنیا جو اس وقت مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہے ، وہ دراصل دین اسلام کی محتاج ہے جو کہ فی الواقع سچا دین ہے (ان العالم الي يمر بأزمات الآن هو في حاجة الى الاسلام لأن الاسلام هو الدين الحقیقی ، تاہم بہت کم لوگوں نے اصل موضوع پر اظہار خیال کیا۔ زیادہ تر لوگوں کی تقریروں کا رخ استعماری سازشوں اور صلیبی اور صہیونی ذ حملوں کی طرف رہا۔

کانفرنس کی کارروائیاں ذات العماد کے ہال میں ہوئیں جو انتہائی جدید طرز پر بنایا گیا ہے مگر تقریریں زیادہ تر تقلیدی انداز کی تھیں۔ ایک مقرر اپنی پر جوش تقریں تقریباد کے اسٹیج سے اترے تو میں نے کہا کہ آپ لوگ " جدید طرز کے ہال میں قدیم طرز کی تقریر کر رہے ہیں۔ " تقریروں اور مقالوں کی زبان عربی اور انگریزی تھی۔

موتمر میں بیش تر لوگوں نے جوش کے انداز میں تقریر کی۔ تاہم بعض لوگ نہایت سنجیدہ نظر مثلاً یوگوسلاویہ کے ڈاکٹر احمد سلاویہ نے اپنی عربی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں کام کا بہترین طریقہ پرامن طریقہ ہے ۔ ہم کو علمی اسلوب میں اپنا کام کرنا چاہئے۔ ہم کو ٹکراؤ سے ہمیشہ پرہیز حتیٰ کہ اگر فریق ثانی ٹکراؤ شروع کرے تب بھی ہم کو ٹکراؤ سے بچ کر اپنا کام علمی اور دوستی اسلوب میں جاری رکھنا چاہئے۔ ان کی تقریر پر مجھے پسند آئی ۔ مگر خواہش کے باوجود الگ سے میں ان سے ملاقات نہ کرسکا۔

ایک صاحب کناڈا سے آئے تھے۔ انھوں نے اپنی انگریزی تقریر میں ایک بات کہی جو مجھے

بہت پسند آئی۔ انھوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے آپ کو دوسروں کی نظر میں اپنی اعتبار بیت قائم کرنا چاہئے۔ اس کے بعد ایسا ہوگا کہ آپ کی طرف سے جو بات آئے گی، وہ آسانی کے ساتھ قبول کرلی جائے گی:

ایک عربی مقالہ کے بعد اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا، اس کو یہاں نقل کیا اس مقالہ کا موضوع تھا : دنیا کی حالیہ تبدیلیاں اور عالم اسلام پر اس کا اثر (المتغيرات في العالم وتأثيرها علی العالم الاسلامی)

میں نے کہا کہ آج مسلمانوں کا ذہن غیر اہم باتوں میں الجھا ہوا ہے، اور جو اصل بات ہے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ میں نے کہا کہ جدید دنیا کے مطالعہ کے بعد میں نے یہ سمجھا ہے کہ آج پوری دنیا دو قسم کے تضادات میں مبتلا ہے۔ ایک علمی تضاد اور دوسرا دینی تضاد۔ تضاد سے آج انسان کو نکالنا، یہی موجودہ زمانہ میں دعوتی عمل کا اصل میدان ہے۔ میں نے کہا کہ جدید دنیا کا علمی تضاد وہ ہے جو مشہور سائنسداں شروڈنگر (Schrodinger) کے اس قول میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس نے بہت سے سائنس دانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ فطرت کے بارہ میں سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے : جدید علماء ایک ناقابل حل مشکل میں مبتلا ہیں۔ وہ کائنات کو خدا کے بغیر سمجھنا چاہتے ہیں۔ مگر خدا کائنات میں اتنا زیادہ شامل ہے کہ خدا کو الگ کرکے کائنات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ اس تضاد کا واحد حل یہ ہے کہ آج کے اہل علم کو خدا کے عقیدہ پر لایا جائے۔ خدا کے عقیدہ کو مانتے ہی وہ اپنے اس لایحل تضاد سے نجات حاصل کر لیں گے۔

دوسرا تضاد وہ ہے جس کو مذہبی تضاد کہا جاسکتا ہے۔ انڈیا کے ایک ہندو مفکر نے کہا ہے کہ ہندوؤں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کا مذہب اتنا زیادہ غیر عقلی ہے کہ وہ ان کے لئے کھڑے ہونے کی مثبت

بنیاد نیں بن سکتا ۔ وہ صرف مسلم دشمنی کی منفی بنیاد پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ مگر منفی بنیاد کبھی کسی قوم کو ترقی کی طرف نہیں لے جاسکتی۔ یہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو چیز پسندیدہ ہے وہ ممکن نہیں، اور جو ممکن ہے وہ پسندیدہ نہیں:

یہ صرف ہند وازم کی بات نہیں ۔ یہی اسلام کے سوا تمام مذاہب کی بات ہے۔ یہ تمام مذاہب محرف وہ تحریف کے نتیجہ میں غیر عقلی بن چکے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں موجودہ قومیں اس صورتحال سے دوچار ہیں کہ ان کا قومی مذہب قابل عمل نہیں ہے۔ اور اسلام قابل عمل ہے مگر قومی تعصب کی بنا پر وہ اس کو اختیار نہیں کرتے۔

یہ دو قسم کے تضاد ہیں جن میں آج کی تمام قومیں مبتلا ہیں۔ دنیا کو اس تضاد سے نکالنا، یہی آج دعوتی اعتبار سے کرنے کا سب سے بڑا کام ہے۔

۲۵ ستمبر کی شام کا وقت ہے۔ میں اپنے کمرہ کی پشت کی بالکنی پر کھڑا ہوں۔ سامنے حد منظر تک سمندر (میڈیٹیرینین) پھیلا ہوا ہے۔ سمندر میں کچھ تفریحی کشتیاں نظر آئیں جو اپنے مسافروں کے ساتھ سمندر میں تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی تھیں۔ فضا میں کچھ سمندری چڑیاں منڈلا رہی تھیں جو بار بار مچھلی پکڑنے کے لئے پانی میں گرتی تھیں۔ ساحل سے ملی ہوئی سڑک پر دوڑتی ہوئی کاروں کا نظر تھا جو اپنے مسافروں کو لئے ہوئے مسلسل چلی جا رہی تھیں۔

ان چیزوں کو دیکھ کر میری سمجھ میں آیا کہ ولقد کرمنابنی آدم وحملنا هم في البر والبحر کا مطلب کیا ہے اور اس میں انسان کے لئے جس ”تکریم کا ذکر ہے، اس سے کیا مراد ہے وہ یہ کہ انسان کے ساتھ ”حملنا کا معاملہ کیا گیا ہے، جب کہ حیوانات کے ساتھ ”حملنا“ کا معاملہ نہیں کیا گیا۔

پاؤں والے جانور اپنے پیروں پر چلتے ہیں۔ مچھلیاں اپنی طاقت سے تیرتی ہیں۔ بازوؤں کے ذریعہ اڑتی ہیں، مگر انسان سوار ہی پر بیٹھ کر اپنا راستہ طے کرتا ہے۔ خشکی میں اس کے لئے گاڑی ہے۔ سمندروں میں اس کے لئے کشتی ہے اور فضاؤں میں اس کے لئے ہوائی جہاز ہے۔

انسان کے لئے اللہ تعالیٰ نے شاہانہ معاملہ فرمایا ہے۔ جو لوگ اس عطیہ الہی کا حقیقی احساس کر کے اس چیز کا ثبوت دے سکیں جس کو حمد اور شکر کہا گیا ہے، ایسے لوگوں کے ساتھ آخرت میں بھی شاہانہ معاملہ کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وإذا رأيت ثم رأيت نعيماً وملكاً كبيرا یہاں جو لوگ جمع تھے، ان کی بہت بڑی تعداد بچوں کو مجھ کو جانتی تھی، اس لئے اکثر ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ تاہم جس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو ہوئی وہ یہ تھا کہ اسلام کے احیاء کے لئے موجودہ زمانہ میں، ہمیں کیاکام کرنا ہے۔

جن لوگوں کو عالم اسلام کے تعلیم یافتہ لوگوں کا تجربہ ہے، وہ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بیشتر تعداد " تغییر نظام " کی اصطلاح میں سوچتی ہے۔ جمال الدین افغانی، سید قطب، آیات اللہ خمینی، اقبال اور ابو الاعلیٰ مودودی وغیرہ کا طرزفکرزیادہ تر لوگوں کے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ اسلامی کام کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومتی نظام کو توڑ کر اقتدار پر قبضہ کیا جائے ۔ اس کے بغیر اسلام کو زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے ہر مجلس میں اس نقطہ نظر کی مکمل تردید کی۔ میں نے کہا کہ تغییر نظام" کا نظریہ کوئی نظریہ نہیں ، یہ صرف رد فعل ہے۔ ایک عرب انجینئر نے بتایا کہ ہمارے ملک میں ۱۹۸۸ میں پیٹرولیم انجینئرنگ پر ایک سیمینار اس میں یورپی ملکوں کے لوگ بھی بلائے گئے تھے ۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر بر نر کیمبل (BurnerCampbel) تھے جو ایل پی جی (Liquified petroleum gas) کے ماہر تھے۔ ان کو میں نے آپ کی کتاب ” گا ڈار ائزز" " پڑھنے کے لئے دی۔ اس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے گہرا اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ جانا کہ اگر زمین پر کوئی مذہب واقعتامنطقی مذہب (Logicalreligion) ہے تو وہ اسلام ہی ہو سکتا ہے۔ اور اگر کبھی مستقبل میں میں نے اپنا مذہب بدلنے کا فیصلہ کیا تو میں اسلام کا انتخاب کروں گا۔ انھوں نے گا ڈار ائزز کے بارہ میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :

Even English speaking scientists in the west can not write such a book on this subject. اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات کے سلسلہ میں اور بھی کئی لوگوں نے اعلیٰ تاثر کا اظہار کیا۔

کانفرنس میں ایک صاحب لندن سے آئے تھے۔ انھوں نے ایک مجلس میں خلیج کے مسئلہ کا ذکر کیا۔ وہ پرجوش طور پر صدام حسین کی وکالت کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملہ میں بیشتر مسلمان صدام حسین کے حامی ہیں۔ جو لوگ مخالف ہیں وہ وہی لوگ ہیں جن کو سعودی عرب سے پیسہ ملتا ہے میں نے کہا کہ تنقید کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ جو حضرات صدام حسین کے حامی ہیں ان کے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ان کو عراق سے پیسہ ملتا ہے تو آپ اس کا کیا جواب دیں گے۔

میں نے کہا کہ صدام حسین کو اگر حملہ کرنا تھا تو انھوں نے اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کیا۔ کیوں حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں لندن میں عراق کے سفیر سے ملا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے کویت پر کیوں حملہ کیا۔ سفیر نے کہا کہ اصل میں تو ہم اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتے تھے، ہم نے سعودی عرب اور کویت سے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارا ساتھ دو، مگر وہ ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوئے، اس لئے ہم کو ایسا کرنا پڑا۔ میں نے کہا کہ آپ کو سفیر عراق سے پوچھنا چاہئے تھا کہ جب آپ نے سعودی عرب اور کویت کی حمایت کے بغیر ایران اور کویت پر حملہ کر دیا تو اسی طرح آپ ان کی حمایت کے بغیر اسرائیل پر بھی حملہ کر سکتے تھے۔

پھر انھوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ عراقی سفیر کے بیان کے مطابق، عراق کو یہ خطرہ تھا کہ جب وہ اسرائیل پر حملہ کرے گا تو امریکہ کی فوجیں خلیج میں عراق کے خلاف آ جائیں گی۔ میں نے کہا کہ آپ کو عراقی سفیر سے دوبارہ کہنا چاہئے تھا کہ امریکی فوج تو کویت پر حملہ کی صورت میں بھی کل طور پر خلیج میں آگئی ہے۔ پھر جس طرح کویت پر حملہ کے وقت آپ نے امریکی فوج کی پروا نہیں کی، اسی طرح آپ اسرائیل پر حملہ کے وقت بھی امریکی فوج کی آمد سے بے پروا ہو کر اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کر سکتے تھے۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سوچ کتنی زیادہ سطحی ہو گئی ہے اور مسلمانوں کے لیڈر کس طرح مسلمانوں کی کم فہمی کا استغلال کر رہے ہیں۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو صدام حسین نے کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے مزاج کا جو پہلو سامنے آیا ہے وہ نہایت عجیب ہے۔ سنجیدہ اور سمجھ دار مسلمانوں کی ایک اقلیت نے اس کو صدام حسین کی جارحیت قرار دیا اور کھل کر اس کی مذمت کی۔ مگر دنیا بھر میں عام

مسلمانوں کی اکثریت نے جارحیت کے مسئلہ کو نظر انداز کیا۔ وہ صرف یہ کہتی رہی کہ سعودی عرب نے کیوں امریکہ کو بلایا اور امریکہ کی فوجیں کیوں خلیج میں داخل ہوگئیں۔ چنانچہ موجودہ موتمر میں آنے والے لوگوں کی بیشتر تعداد کی سوچ یہی تھی ۔

یہ معاملہ موجودہ مسلمانوں کی ایک کمزوری کو بتاتا ہے۔ موجودہ مسلمان ہر معاملہ میں بغض معاویہ کی نفسیات کے تحت سوچتے ہیں ۔ وہ " حب علی " کی نفسیات کے تحت سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے زعماء ، ان کے اخبارات ، ان کے جلسے ، صبح وشام صرف ایک بات کا اعلان کرنے میں مصروف ہیں ۔ اور وہ " اعداء اسلام " کا مسئلہ ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا صرف یہ خبر دے رہا ہے کہ اسلام دشمنوں نے ہمارے اوپر حملہ کر رکھا ہے اور ہمیں ان کے خلاف

اس قسم کی باتوں نے مسلمانوں کے اندر مستقل طور پر بغض معاویہ کی نفسیات پیدا کر رکھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معاملہ میں ان کا طرز فکر منفی طرز فکر ہوتا ہے۔ اسی طرزفکر کا ایک مظاہرہ خلیج کے بحران کے سلسلہ میں ہوا ہے۔ مسلمان اگر معتدل نفسیات میں جی رہے ہوتے تو وہ اس معاملہ میں صدام حسین کی جارحیت کو سب سے زیادہ قابل مذمت چیز سمجھتے۔ مگر ان کی غیر معتدل نفسیات کا یہ نتیجہ ظاہر ہوا ہے کہ ان کی ساری توجہ صرف " دشمن اسلام " امریکہ کی کارروائی کی طرف چلی گئی ، وہ صدام حسین کی خلاف حق کارروائی کو دیکھنے سے قاصر رہی۔

ایک تعلیم یافتہ عرب سے اس حدیث پر گفتگو ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لا الہ الا اللہ کے قول سے اپنے ایمان کی تجدید کرو (جددوا ایمانکم بقول لا الہ الا اللہ ، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تجدید کرو، یہ نہیں فرمایا ہے کہ تکرار کرو۔ یہاں جددوا کا لفظ تکرار کے معنی میں نہیں ہے بلکہ تقعیر کے معنی میں ہے ۔ لاالہ الا اللہ ایک حقیقت ہے ، بلکہ وہ سب سے بڑی حقیقت ہے ، اس کی کوئی حد نہیں۔ جب بھی آپ اس پر غور کریں تو آپ اس میں نئی بات پائیں گے ۔ پس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ توحید کی حقیقت میں غور کرو ، اس طرح تمہارا ایمان بڑھتا رہے گا: ان الرسول صلى الله عليه وسلم قال جدد واولم يقل كرروا ، فكلمة

فمعنی الحدیث، علیکم ان تتفكروا او تفکروا فی حقیقۃ التوحید فتز دا ۱ ایک صاحب نے کہا کہ آپ اکثر اپنی تحریروں میں سائنٹفک نظریات سے اسلام کی صداقت ثابت کرتے ہیں۔ اگر بعد کو یہ سائنسی نظریات غلط ثابت ہو جائیں تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات غلط ہیں۔ میں نے کہا کہ جو شخص اس قسم کی بات کرے اس سے آپ کو کہنا چاہئے کہ تمہارا اعتراض تم اسلام کی اصل تعلیم کو دیکھو نہ کہ ایک شخص کی تفسیر کو۔ کیوں کہ جو چیز غلط ثابت ہوئی ہے وہ ایک شخص کی تفسیر ہے نہ کہ خود اسلام کا متن۔

دوسری بات یہ کہ یہ ایک ناقابل عمل چیز ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے کہ اعدوالہم ما استطعتم من قوة اس آیت کے بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آلہ ان القوة الرمي الا ان القوة الرمي قوت سے مراد تیر مارنا ہے، قوت سے مراد تیر مارنا ہے یہ واضح طور پر آیت کی زمانی تفسیر ہے نہ کہ ابدی تفسیر۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ میں یہ تفسیر نہ کرتے اور یہ سمجھ کر چھوڑ دیتے کہ آئندہ یہ تفسیر لوگوں کو غلط نظر آئے گی تو یہ حکمت کے خلاف ہوتا کیوں کہ تفسیر نہ کرنے کی صورت میں آیت کا وہ زمانی فائدہ حاصل نہ ہوتا جس کو حاصل کرنا ضروری تھا۔ ایک صاحب علم النفس کے ڈاکٹر تھے۔ انھوں نے کہا کہ انسان کے اخلاقی اوصاف میں کسی خارجی عنصر کا کوئی دخل نہیں ہے۔ وہ صرف کیمیائی عمل (chemical reactions) کے نتیجہ میں پیدا ہوتے مثلاً نفرت اور محبت، معافی اور انتقام، دینا اور چھینا، سب جسم کے اندر کیمیائی تبدیلیوں کے سبب سے ظہور میں آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر اس کو مان لیا جائے تو منطقی طور پر اس کا کوئی جواز نہیں رہتا کہ کسی مجرم کو سزا کیوں دی جائے۔ سزا کا تصور لازمی طور پر ارادہ کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر کسی کے جرم میں اس کا اختیار اور ارادہ شامل نہ ہو تو اس کو اس کے کسی جرم پر سزا دینا کس طرح جائز ہوگا۔

ایک صاحب مغرب کے تعلیم یافتہ تھے۔ ان سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء پر گفتگو ہوئی۔

کہا کہ ڈارونزم کو نہیں مانتا۔ وہ حیرت کے ساتھ میرا چہرہ دیکھنے لگے ، انھوں نے کہا کہ ڈارون کا نظریہ ارتقاء تو ایک ثابت شدہ نظریہ ہے، پھر کس طرح آپ اس کا انکار کر سکتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے ثابت شدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس نظریہ کے علما، ءنے بندر سے لے کر انسان تک کے تمام ڈھانچے (اسکل) جمع کئے ہیں۔ ان کو سلسلہ وار رکھ کر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایک تدریجی تبدیلی (Gradual change) ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ "تبدیلی" کہتے ہیں ، اس کو اگر میں "فرق" کہوں تو آپ کے پاس اس کی تردید کی کیا دلیل ہوئی۔ یہ صحیح ہے کہ حیوانات کے درمیان بناوٹ کی مشابہت ہے۔ اسی طرح انسان اور حیوان کے ڈھانچہ میں بھی مشابہت ہے۔ مگر جب تک تجرباتی طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ ایک نوع سے دوسری نوع نکلی ہے ، اس وقت تک ڈھانچہ کی اس مشابہت کو تبدیلی کی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ حالت میں یہ مشابہت صرف فرق کو بتا رہی ہے۔ یعنی ہر ڈھانچہ اپنی ایک مستقل نوع کو بتا رہا ہے ، نہ یہ کہ ایک سے دوسرا نکلا ، دوسرے سے تیسرا، اور تیسرے سے چوتھا۔ اور اس طرح ہوتے ہوتے انسان حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظریہ ارتقا کی بنیاد صرف خود ساختہ توجیہات پر ہے نہ کہ حقیقۃً مشاہدہ اور تجربہ پر۔

عربوں کی ایک مجلس میں موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں کا ذکر آیا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کی تحریکیں آندھی کی طرح اٹھیں مگر نتیجہ کے اعتبار سے بے حقیقت ہو کر رہ گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ تحریکیں لینے کے نام پر اٹھیں ، جب کہ اس دنیا میں کامیابی اس کے لئے ہے جو دینے کے لئے اٹھے۔ سب سے پہلی تحریکیں وہ ہیں جو استعمار کے خلاف اٹھیں۔ وہ مغربی قوموں سے ان کی غالبیت چھیننا چاہتی تھیں۔ اسلام پسند تحریکوں نے مسلم حکمرانوں سے ان کا اقتدار چھیننے کا نشانہ فلپائن، برما، اریٹیریا جیسے ملکوں کے مسلم لیڈر اپنے ملک کے غیر مسلم لیڈروں سے حقِ حکومت چھیننا ہندوستان جیسے ملکوں کے مسلمان وہاں کے اکثریتی طبقہ سے یہ حق چھیننا چاہتے ہیں کہ وہ سڑکوں پر اپنا جلوس نکالیں یا اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کریں۔

اس طرح موجودہ زمانہ کی تمام تحریکیں "چھیننے" کا نشانہ لے کر اٹھیں۔ مگر صحیح اسلامی تحریک وہ ہے جو دینے کے لئے اٹھے۔ جس کا مقصد دوسروں کو وہ چیز دینا ہے جو ان کے لئے مفید ہے۔

Printed page