Al-Risala · February 1992

قیامت کی خبر

Al-Risala, February 1992, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۰ اکتوبر ۱۹۹۱ کو صبح پونے تین بجے ایک شدید زلزلہ (high-intensity earthquake) اس کا مرکز الموڑہ (یوپی) تھا۔ مگر اس نے دہلی تک کے علاقہ کو بری طرح ہلا دیا۔ سیکڑوں مکانات گر ہزاروں مکانوں کو نقصان پہنچا۔ تقریباً ایک ہزار آدمی ہلاک ہو گئے۔ تین ہزار سے زیادہ آدمی زخمی زلزلہ تقریباً ۴۵ سیکنڈ تک رہا۔

اس سلسلہ میں جو عبرت ناک واقعات سامنے آئے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ جس رات کو یہ زلزلہ آیا عین اس رات کو پنجاب کے جنگجوؤں نے سر سا( (ضلع بریلی) کے پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا۔ رات کو ڈھائی بجے کا وقت تھا، انھوں نے رائفلوں (AK-47 rifles) سے فائرنگ شروع کی۔ وقت پولیس اسٹیشن میں تھوڑے سے سپاہی تھے۔ بظاہر وہ موثر دفاع کی پوزیشن میں نہ تھے۔ مگر مشکل سے ۱۰ منٹ گزرے تھے کہ بھونچال آگیا۔ زمین ہلنے لگی۔ ہر طرف ایک ہولناک منظر پیدا یہ جنگجوؤں کے لیے سخت خلاف توقع تھا۔ اس سے پہلے ان کے سامنے صرف ایک چھوٹی پولیس چوکی کا اب زمینی بھونچال کا مسئلہ ان کے سامنے آگیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنا حوصلہ کھو دیا۔ آف انڈیا (۲۱ اکتوبر ۱۹۹۱) کے الفاظ میں، اور پھر جنگجوؤں نے وہاں سے بھاگنے کا فیصلہ کیا غالباً یہ خیال کرتے ہوئے کہ آسمان ان کے اوپر گر رہا ہے :

...and the militants decided to flee probably thinking the heavens were falling on them. (p.16)

بھونچال ایک چھوٹی قیامت ہے جو بڑی قیامت کا پتہ دیتا ہے۔ بھونچال کے سامنے آدمی اپنی بے بسی کا تجربہ کرتا ہے۔ بے بسی کا یہی تجربہ زیادہ بڑے پیمانہ پر اس وقت ہوگا جب کہ آدمی زلزلہ قیامت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا اور وہ اس کو رو کنے پر قادر نہ ہوگا۔ آدمی طاقت پاکر سرکشی کرتا ہے مگر جب قیامت کا زلزلہ زمین کو ہلائے گا۔ جب پہاڑ گر پڑیں گے۔ جب سمندر کی موجیں خشکی کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔ اس وقت انسان سب کچھ چھوڑ کر بھاگے گا۔ مایوسی کے ساتھ دیکھے گا کہ آج اس کے لیے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں۔

Printed page