Al-Risala · February 1992

فساد کا حل

Al-Risala, February 1992, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

جلوس کی مخالفت کرنے سے فساد ہوتا ہے اور جلوس سے اعراض کرنا فساد کو روکتا ہے۔ کرنے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ ہزاروں مثالیں اس اصول کو صحیح ثابت کرتی ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک نصیحت آموز مثال وہ ہے جو مدراس میں پیش آئی۔ مدراس میں ۴ ستمبر ۱۹۹۰ کو ونا یک چترتھی (Vinayaka Chaturthi) کا جلوس ہندوؤں نے نکالا۔ یہ جلوس چلتا ہوا ٹریپلی کین (Triplicane) کی سڑک پر پہنچا۔ یہاں مسلمانوں کی ایک مسجد ہے۔ مسلمانوں نے کچھ پر جوش لیڈروں کے زیر اثر جلوس پر روک ٹوک کی ۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ اپنی روٹ بدلو۔ مسجد کے سامنے سے جلوس مت نکالو۔ مگر جلوس والے نہ مانے۔

اس پر تناؤ بڑھا۔ دونوں طرف سے لوگ مشتعل ہو گئے۔ فرقہ وارانہ ٹکراؤ کی نوبت آگئی۔ یہاں تک کہ پولیس نے گولی چلائی۔ دو مسلمان مارے گئے ۔ بہت سے زخمی ہوئے۔ مسلمانوں کی کئی دکانوں اور مکانوں کو نقصان پہنچا۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان نفرت اور کشیدگی کی جو فضا پیدا ہوئی وہ اس کے علاوہ ہے۔

اس تلخ تجربہ کے بعد مسلمان اگلے سال لیڈروں کی باتوں میں نہیں آئے۔ انھوں نے اس معاملہ میں اعراض کی پالیسی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سال بھی حسب معمول ہندوؤں نے ۲۲ ستمبر ۱۹۹۱ کو اپنا جلوس یہ جلوس اشتعال انگیز نعرے لگاتا ہوا ٹریپلی کین پہنچا۔ مسجد کے سامنے وہی حالات دوبارہ زیادہ شدت کے ساتھ پیدا ہوئے جو پچھلے سال پیدا ہوئے تھے۔ مگر مسلمانوں نے اپنے فیصلہ کے مطابق مکمل اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس مسلمانوں کا بدل بن گئی۔ کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں ہوا۔ جلوس سڑک سے گزر گیا اور مسلمانوں کا جان و مال پوری طرح محفوظ رہا۔

اس واقعہ پر مدراس کے اخبار دہی ہندو نے اپنے شمارہ ۲۶ ستمبر ۱۹۹۱ میں مسلمانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مسلمانوں نے اس موقع پر اشتعال انگیزی کے باوجود زبردست صبر (great restraint) کا مظاہرہ کیا۔ اور اس بنا پر اس بار کوئی فساد نہیں ہوا۔ یہی فساد کے مسئلہ کا آزمودہ حل ہے ، اور مسلمانوں کو ہر جگہ اسی کو اختیار کرنا چاہئے۔

Printed page