Al-Risala · February 1992

استعداد کا فرق

Al-Risala, February 1992, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

آٹھویں صدی میں مسلمان صنعتی اور فوجی اعتبار سے مغربی قوموں سے برتر تھے۔ اس لیے وہ مغرب کے اوپر غالب آگئے۔ موجودہ زما میں مغرب نے تمام فکری اور عملی شعبوں میں برتری حاصل کرلی، اس لیے انھوں نے مسلم ملکوں کے اوپر غلبہ حاصل کرلیایہ تبدیلی عین فطری قانون کے تحت ہوئی۔ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہی ہو گا کہ کمزور مغلوب ہو جائے گا اور جو طاقت ور ہے وہ دوسروں کے اوپر غلبہ حاصل کرلے گا۔

اس تبدیلی کے بعد ضرورت تھی کہ مسلمانوں کو نئے زمانہ کے اعتبار سے باشعور اور طاقت ور بنایا مگر موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں سے یہ غلطی ہوئی کہ انھوں نے تبدیلی قیادت کے اس معاملہ کو فطری قانون کا معاملہ نہیں سمجھا بلکہ اس کو مغربی سازش کا معاملہ سمجھ لیا۔ اسی غلط فہمی کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والے سوسال سے بھی زیادہ مدت سے شکایت اور احتجاج میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ مغربی قوموں کی سازشوں کا انکشاف کرنے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ اس قسم کی لفظی ورزش کا کوئی فائدہ نہیں۔

اصل کام یہ تھا کہ مسلمانوں کو از سر نو تیاری کی طرف متوجہ کیا جائے ۔ انھیں عصری تبدیلیوں سے واقف کرایا جائے ۔ ان کو ابھارا جائے کہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو مستعد اور مستحکم مگر تمام بہترین وقت لفظی احتجاج میں گزر گیا اور تیاری اور استحکام کے میدان میں کوئی بھی حقیقی کام نہ ہوسکا۔

ہمارے لکھنے اور بولنے والے طبقہ کی غلط رہنمائی نے موجودہ زمانہ کے بیشتر مسلمانوں کے ذہن کو بگاڑ دیا ہے۔ وہ معاملات کو صرف شکایت اور سازش کے رخ سے دیکھنا جانتے ہیں۔ وہ فطری حقائق کی روشنی میں معاملات کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

اس ذہنی بگاڑ کی بنا پر انھیں کام صرف یہ نظر آتا ہے کہ اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف ایسے الفاظ کی دھوم مچاتے رہیں جن کا اتنا فائدہ بھی نہیں کہ وہ دشمن کے کانوں تک نہ پہنچیں اور اس کی رات کی نیند حرام کردیں۔

Printed page