Al-Risala · February 1992

فکری قیادت

Al-Risala, February 1992, pp. 15–18

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم بحران کے ایک دور سے گزر رہے ہیں۔ اقتصادی بحران ، سیاسی بحران، عسکری بحران۔ ان سب سے زیادہ بڑا بحران وہ ہے جس کو فکری بحران (Intellectual Crisis) کہا آج کا انسان کسی ایسی فکری بنیاد سے محروم ہے جس پر وہ کھڑا ہوسکے، جس پر وہ اپنی زندگی کی بنیاد رکھے۔

قدیم دور توہم پرستی کا دور تھا۔ اس زمانہ میں انسان کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ مفروضات اور توہمات پرجی سکے۔ آج کا زمانہ تعقل (reason) کا زمانہ ہے۔ آج انسان تعقل پر جینا چاہتا ہے۔ مگر جب انسان ایسا کرنا چاہتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس جینے کے لئے کوئی عقلی بنیاد موجود ہی نہیں۔

دو چیزیں ہیں جو انسان کے لئے فکری بنیاد بن سکتی ہیں ــــــــ مذہب یا سائنس۔ علم یا سائنٹفک علم۔ مگر جدید انسان نے یہ دونوں ہی بنیادیں کھودی ہیں۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان مذہب کو اپنے لئے فکری بنیاد بنائے ہوئے تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب مذہب کو عقل کی روشنی میں دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ مذاہب عقل کے معیار پر پورے نہیں مثال کے طور پر بائبل کو لیجئے ۔ بائبل میں ایک طرف توحید کی آیت ہے : Hear, O Israel: The Lord our God is one Lord.

اسی کے ساتھ بائبل کا عقیدہ رکھنے والے لوگ اسی بائبل سے تثلیث کو بھی نکالتے ہیں۔ اس کا ماخذ ان کے نزدیک نئے عہد نامہ کی یہ آیت ہے :

Go ye therefore, and teach all nations, baptizing them in the name of the father, and of the Son, and of the Holy Ghost.

یہ انسانی عقل کے لئے ایک ناقابل فہم بات ہے۔ کیونکہ خدا اگر ایک ہے تو وہ تین نہیں ہوسکتا۔

خداتین ہے تو وہ ایک نہیں ہوسکتا۔

اسی طرح نئے عہد نامہ میں ایک جگہ یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا (Son of God) کہا گیا ہے۔ مرقس (۱:۱) اور اسی کے ساتھ اس میں یسوع مسیح کو داؤد کا بیٹا (Son of David) لکھا گیا ہے (Matthew 1:1) اس قسم کے تضادات بائبل میں کثرت سے موجود ہیں۔ یہ مسئلہ ہمارے عقیدہ کے مطابق، خدا کے کلام میں انسانی آمیزش سے پیدا ہوا ہے جس کو تحریف کہا جاتا ہے۔ ان تحریفات نے بائبل کو جدید انسان کے لئے ناقابل قبول اور ناقابل فہم بنا دیا ہے۔ اب سائنس کے اعتبار سے لیجئے۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد انسان نے یہ سمجھا کہ وہ سائنس کی فکری بنیاد پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ مگر سائنس کی ترقی انسان کو اطمینان نہ دے سکی۔ اس نے انسان کو صرف ذہنی بحران میں مبتلا کیا۔

سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے اس میں مکمل نظم ہے، مکمل ڈیزائن ہے۔ وہ ایک نہایت با معنی کائنات ہے۔ انسان کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ تو جیہہ پسند حیوان ہے۔ چنانچہ وہ کائنات کی تو جیہہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر جدید سائنس داں خدا کے بغیر کائنات کی تو جیہہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کی توجیہہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جس کا اظہار شروڈنگر اور دوسرے سائنس دانوں نے ان الفاظ میں کیا کہ فطرت کے بارہ میں سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے:

.....there are aspects which are extremely difficult to understand. A famous remark of Einstein — and other people have said similar things, Schroding- ger in particular — that the most comprehensible thing about nature is that it is comprehensible. جدید انسان کی یہی وہ صورت حال ہے جس کو میں نے فکری بحران کہا ہے۔ آج کا انسان بہت بڑے پیمانہ پر اپنے آپ کو اس فکری بحران میں گھرا ہوا پاتا ہے، وہ اپنے لئے ایک فکری بنیاد حاصل کرنے کے لئے مذاہب کی طرف دیکھتا ہے۔ مگر مذاہب (تحریف کی بنا پر ) اس کے عقلی معیار پر پورے اترتے نظر اس کے بعد وہ سائنس کی طرف دیکھتا ہے مگر سائنس بھی اسے ذہنی اطمینان عطا نہیں کرتی۔ اس فکری بحران کا حل صرف ایک ہے اور وہ غیر محرف مذہب ہے جس کو اسلام کہا جاتا ہے۔

اسلام تحریف سے پاک ہے وہ اپنی اصل الہامی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ اس بنا پر وہی اس پوزیشن میں ہے کہ جدید انسان کو فکری رہنمائی دے سکے۔ اسلام انسان کو ایک طرف وہ سچا مذہب عطا کرتا ہے جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہے اور اس کو خالص توحید کا وہ عقیدہ فراہم کرتا ہے جس سے وہ کائنات کی توجیہہ کرسکے۔ آج انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کو اسلام سے متعارف کیا جائے جو واحد نظام ہے جو انسانیت کو فکری بحران سے نکال سکتا ہے۔

یہاں میں دو واقعہ نقل کروں گا جو علامتی طور پر بتاتا ہے کہ کس طرح اسلام انسانیت کو موجودہ فکری بحران سے نکال کر اس حالت تک پہنچانے والا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : سن لو ، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے ( ۱۳ : ۲۸ )

ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے انڈیا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو تھے۔ انھوں نے ۱۹۰ میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ انھوں نے اپنے ذہنی سفر کا حال ایک کتاب میں بیان کیا ہے جس کا نام ہے: Why have I accepted Islam? ڈاکٹر چٹو پادھیائے لکھتے ہیں کہ جب میں بڑا ہوا تو مجھے اپنے آبائی مذہب سے بے اطمینانی ہوگئی۔ اس کے بعد میں نے مذاہب کا مطالعہ شروع کیا۔ مگر ہر مذہب مجھے غیر تاریخی نظر آیا۔ ان کی کتابیں اور ان کی شخصیات کوئی بھی تاریخ کے معیار پر پوری اترتی نظر نہیں آئیں۔ آخر میں انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا تو اسلام اور پیغمبر اسلام کی ایک ایک چیز انھیں مکمل طور پر تاریخ کی روشنی میں نظر آئی۔ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب میں یہ جملہ لکھا ہے کہ اف ، اس پانے میں کیسی راحت ہے کہ آدمی آخر کار ایک سچے تاریخی پیغمبر کو پالے جس پر وہ یقین کر سکے : what a relief to find, after all, a truly historical Prophet to believe in. فرانس کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ڈاکٹر گارودی (Roger Garaudi) کو حقیقت کی تلاش انھوں نے مختلف فلسفہ اور مذاہب کا مطالعہ کیا یہاں تک کہ وہ اسلام پر مطمئن ہوئے اور ۱۹۸۲ میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اسلام کیوں قبول کیا تو انھوں نے کہا میں نے اسلام اس لئے قبول کیا تاکہ میں اپنی زندگی کو با معنی بنا سکوں۔

یہ دونوں واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ آج کے انسانوں کو سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت آج کے انسان کو سب سے زیادہ اس چیز کی ضرورت ہے جس کو ڈاکٹر ہر یڈلے نے نیو ریلیجن کہا تھا۔ اور جس کا متعین نام اسلام ہے۔ یہ سب سے بڑی چیز ہے جس کو موجودہ مسلمان عالم انسانیت کو دے سکتے ہیں۔

یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا کو اسلام کا پیغام دینا سادہ طور پر محض اعلان کا معاملہ نہیں ہے یہ عظیم صبر کا معاملہ ہے۔ مسلمانوں کو موجودہ زمانہ کی مدعو اقوام سے طرح طرح کی ایذائیں پہنچ رہی اس کے رد عمل میں ایسا ہوا ہے کہ مسلمان اپنی مدعو اقوام کے خلاف غصہ اور شکایت کی نفسیات سے بھر گئے ہیں۔ اس طرح کی نفسیات کے ساتھ دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا۔ دعوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے مسلمانوں کو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ انہیں مدعو اقوام کی ڈالی ہوئی ایذاؤں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرنا ہوگا۔ اس قربانی کے بعد ہی وہ موجودہ دنیا میں اسلام کے داعی بن سکتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ان لفظوں میں بتائی گئی ہے کہ ہم ضرور تمہاری ایذاؤں پر صبر کریں گے (۱۲ : ۱۴)

آخر میں میں کہوں گا کہ جدید انسان کا فکری بحران میں مبتلا ہونا اور مسلمانوں کے پاس اجارہ داری کی حد تک اس فکری بحران کا حل موجود ہو نا مسلمانوں کو یہ موقع دے رہا ہے کہ وہ آج کی دنیا کے فکری قائد بن سکیں۔ مگر یہ عالمی قیادت انھیں صرف صبر کی زمین پر ہی مل سکتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا قرآن میں ان الفاظ میں اعلان کیا گیا:

ہم ان کو آفاق میں اور خود ان کے اندر اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (۴۱ / ۵۳)

الربانیہ حیات بشری کا ربانی طریقہ _ صفحات ۲۴۲ کاروانِ ملت _ صفحات ۲۳۰

Printed page