Al-Risala · February 1992

شاہ کلید

Al-Risala, February 1992, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک عربی پرچہ میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا : المفتاح العظیم (عظیم کنجی) ، اس میں بتایا گیا تھا کہ دعوتِ اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ماضی میں اسلام نے دعوت کے ذریعہ عالمی فتح حاصل کی تھی ، آج بھی ہم دعوت کے ذریعہ دوبارہ اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

مسلمانوں کے اکثر لکھنے اور بولنے والے اسی طرح آجکل دعوت کی باتیں کر رہے ہیں۔ مگر عین اسی کے ساتھ یہ تمام لوگ مسلمانوں کے خلاف غیر مسلم اقوام کی سازشوں اور دشمنیوں کا بھی اعلان کرتے رہتے ہیں۔ ایک طرف وہ مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ تم لوگ داعی بنو۔ اسی کے ساتھ وہ مسلمانوں سے مزید شدت کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا کی قومیں تمہارے لئے ظالم بھیڑیا بن گئی ہیں، اس لئے ان سے لڑ کر ان کا خاتمہ کرو۔ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ کہی جاتی ہیں ، مگر وہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک اگر دعوت ہے تو دوسری عداوت۔ غور کیجئے کہ وہ لوگ کون ہیں جن کو ظالم اور سازشی بتایا جاتا ہے۔ یہ وہی غیر مسلم قومیں ہیں جن کے اوپر ہمیں دعوت کا کام کرنا ہے۔ وہ ہمارے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ گویا مسلمان داعی ہیں اور ان کی پڑوسی غیر مسلم قومیں مدعو۔ اب اگر داعی کے دل میں یہ بٹھایا جائے کہ مدعو تمہارے لئے ظالم بھیڑیا ہے تو کیا وہ سچے داعیانہ جذبہ کے ساتھ اپنے مدعو کے اوپر دعوت کا عمل جاری کر سکتا ہے۔ کیا وہ انی لکم ناصح کے نفسیات کے ساتھ اس سے معاملہ کر سکتا ہے۔ دعوت سرتا سر محبت کا ایک عمل ہے۔ داعی کو آخر حد تک اپنے مدعو کی ہدایت کا حریص بننا پڑتا ہے ، اس کے بعد ہی دعوت کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔ مدعو اگر زیادتی کرے تب بھی داعی اس کی زیادتیوں کو بھلا کر یک طرفہ طور پر اس کو اپنی دلچسپی کا موضوع بناتا ہے۔ وہ اپنے دل کو مدعو کی شکایات سے اتنا زیادہ خالی کرتا ہے کہ اس کے دل سے مدعو کے حق میں دعائیں نکلنے لگیں۔

لوگ دعوت کی باتیں کرتے ہیں مگر وہ اس کے آداب نہیں جانتے ۔ لوگ داعی کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ اس کے تقاضے کو پورا کریں۔ لوگ شہادت علی الناس کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، بغیر اس کے کہ انھوں نے اس کی قیمت ادا کی ہو۔

یہ صرف ان ملکوں کا معاملہ نہیں جہاں مسلمان کمزور اقلیت ہیں۔ ٹھیک یہی نفسیات ان ملکوں کے مسلمانوں کی بھی جہاں انھیں اکثریت حاصل ہے، یا جہاں پوری کی پوری آبادی مسلمان ہے۔ یہ ہے کہ اقلیتی علاقہ کے مسلمانوں کو مقامی غیرمسلم طاقت سے شکایت ہے۔ اور اکثریتی علاقہ کے مسلمانوں کو عالمی غیرمسلم طاقتوں سے۔ مثلاً یہودی، عیسائی، اشتراکی مستعمرین، مستشرقین وغیرہ۔ اسلام میں دعوت کی مصلحت ہر دوسری مصلحت پر مقدم ہے۔ دعوت کے مفاد کی خاطر ہر دوسری چیز کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے، خواہ وہ بذات خود کتنی ہی زیادہ سنگین اور کتنی زیادہ اہم کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس معاملہ میں اتنی واضح رہنمائی کرتی ہے کہ طالب حق کے لئے ادنیٰ شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں۔

ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف گئے ۔ وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ حد درجہ توہین وتذلیل کا سلوک کیا جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ حتی کہ آپ نے خود حضرت عائشہ سے فرمایا کہ طائف کے دن سے زیادہ سخت دن میرے اوپر کوئی اور نہیں گزرا۔ ہیں کہ جب آپ غم اور تکلیف کے ساتھ طائف سے واپس ہوئے تو راستہ میں اللہ کے حکم سے ملک الجبال (پہاڑوں کا فرشتہ) آپ کے پاس آیا ۔ اس نے کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی باتیں سنیں ۔ میں ملک الجبال اگر آپ کہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کے ذریعہ اس بستی کو کچل ڈالوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی اگلی نسلوں سے ایسا شخص پیدا کرے گا جو اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے ۔ أَرْجُو أن يخرج الله من أصلابهم مَن يعبد الله لا يشرك به شيئاً، السيرة النبوية لابن كثير، المجلد الثانی، صفحه ۱۵۳)، دعوت بلاشبہ مفتاح عظیم ہے، مگر اس مفتاح عظیم کو استعمال کرنے کے لئے قلب عظیم درکار ہے۔ لئے وہ کردار مطلوب ہے جس کو قرآن میں بلند اخلاق (خلق عظیم) کہا گیا ہے۔ قلب عظیم کے بغیر کوئی آدمی نہ تو وقت کے امکانات کو جان سکتا ہے اور نہ اس کے بغیر وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ ان امکانات کو استعمال کر سکے۔

اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کے لئے دعوت کو ابدی طور پر مفتاح عظیم بنا دیا ہے۔ تاریخ کے دور اول میں مسلمانوں کو جو کچھ حاصل ہوا، دعوت کے ذریعہ حاصل ہوا۔ آج بھی انھیں جو کچھ ملے گا ، دعوت کے ذریعہ ملے گا۔

مزید یہ کہ یہ مفتاح عظیم موجودہ زمانہ میں مفتاح اعظم بن چکی ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ عالمی تاریخ میں جو انقلاب آیا اور جس کے اثرات آج تک جاری ہیں ، اس نے دعوت کے عمل کو ہمیشہ سے زیادہ آسان اور ہمیشہ سے زیادہ طاقت ور بنا دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں صرف یہ نہیں ہوا ہے کہ جدید وسائل اعلام نے دعوت کی اشاعت و توسیع کے نئے دروازے کھول دئے ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ علوم کے ارتقاء اور سائنسی تحقیقات نے اسلام کی حقانیت کو مزید ثابت شدہ بنادیا ہے۔ آج اسلام کی صداقت خالص عقلی سطح پر ایک مسلمہ صداقت بن چکی ہے۔ ہمارے اسلاف نے جو کام "عسر"کے کے حالات میں کیا ، اب وقت آگیا ہے کہ اس کام کو "یسر" کے حالات میں انجام دیا جائے ۔

دعوت اہل اسلام کے لئے شاہ کلید ہے، مگر وہ شاہ کلید اس وقت ہے جب کہ اس کو اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ انجام دیا جائے۔

ایجینسی اپنی مزید تعداد سے فوراً مطلع فرمائیں۔

Printed page