Al-Risala · February 1992

دوسرا سبق

Al-Risala, February 1992, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

خلیج کی جنگ کے بعد انہدام کا جو واقعہ اشتراکی ایمپائر کے ساتھ پیش آیا ہے، وہی واقعہ دوسری عالمی جنگ کے بعد برٹش ایمپائر کے ساتھ پیش آچکا ہے۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ برٹش ایمپائر کا خاتمہ بنیادی طور پر خارجی خطرہ کی بنیاد پر ہوا تھا۔ برطانیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں ہر جگہ نیشنلزم کی تحریکیں پھیل ان تحریکوں نے ہر ملک میں قومی حکومت کا رجحان پیدا کیا۔ اس کے نتیجہ میں نو آبادیاتی حکومت کی

جڑیں اکھڑ گئیں۔ برطانیہ کو اپنے زیر قبضہ علاقوں کو چھوڑ دینا پڑا۔

اس کے برعکس اشتراکی ایمپائر کے خاتمہ کا بنیادی سبب داخلی ہے۔ اجتماعی ملکیت کے غیرفطری نظام کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے علاقہ میں اشیاء صرف کی بھیانک قلت ہوگئی۔ ٹائم میگزین (۳۰ دسمبر ۱۹۹۱) نے صفحہ ۱۲ پر ماسکو کے ایک بڑے اسٹور کی تصویر چھاپی ہے ۔ پورا اسٹور خالی پڑا ہوا ہے۔ اس کے ایک کنارے صرف دو قمیصیں ہینگر پر لٹکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ میں نے جولائی ۱۹۹۰ میں سوویت یونین کا سفر کیا تھا۔ وقت میں نے دیکھا کہ سڑکوں پر لمبی لمبی قطاریں صرف روٹی حاصل کرنے کے لیے لگی ہوئی ہیں۔ اس میں بھی صرف آگے کے کچھ لوگوں کو روٹی ملتی تھی اور اس کے بعد یہ کہہ کر کھڑکی بند کر دی جاتی تھی کہ روٹی ختم ہوگئی۔ نتیجہ میں اشتراکی روس میں نئے قسم کے فسادات شروع ہو گئے جن کو غذائی فساد (food riots) کہا جاتا اشتراکی ایمپائر کا انہدام بنیادی طور پر اس لیے پیش آیا کہ سامان حیات سے محرومی نے عوام کو اس کا مخالف بنا دیا تھا۔

برٹش ایمپائر اور اشتراکی ایمپائر کے اس تقابل سے ایک نہایت اہم سبق ملتا ہے۔ وہ یہ کہ خارجی خطرہ کسی قوم کے وجود کے لیے جتنا سنگین ہے ، اتنا ہی داخلی خطرہ بھی اس کے وجود کے لیے سنگین ہے۔ خطرہ زیادہ سخت ہے۔ کیوں کہ خارجی خطرہ کسی مملکت کو صرف جزئی طور پر نقصان پہنچاتا ہے ، جب کہ داخلی خطرہ مکمل طور پر اس کو منہدم کر دیتا ہے۔

Printed page