Al-Risala · January 1992

دوسرا موقع

Al-Risala, January 1992, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

ریڈرز ڈائجسٹ فروری ۱۹۸۷ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے ، اس کا عنوان ہے : Dare to Change Your Life اپنی زندگی کو بدلنے کی جرأت کرو۔ اس مضمون میں کئی ایسے واقعات دیے گئے ہیں جن میں ایک شخص کو ابتداءً ناکامی پیش آئی۔ وہ نقصانات اور مشکلات سے دوچار ہوا۔ اس نے حوصلہ نہیں کھویا۔ ایک موقع کو کھونے کے باوجود اس کی نظر دوسرے موقع پر لگی یہ تدبیر کارگر ہوئی۔ ایک بار ناکام ہو کر اس نے دوسری بار کامیابی حاصل کرلی۔ مضمون کے آخر میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ زندگی دوسرے مواقع سے بھری ہوئی دوسرے موقع کو استعمال کرنے کے لیے جو کچھ درکار ہے وہ صرف یہ صلاحیت ہے کہ آدمی اس کو پہچانے اور حوصلہ مندانہ طور پر اس پر عمل کرے :

Life is full of second chances. All we need for a second chance is the ability to recognize it and the courage to act. زندگی سکنڈ چانس ( دوسرے موقع ) کو استعمال کرنے کا نام ہے ـــــ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو فرد کے لیے بھی اتنی ہی صحیح ہے جتنی قوم کے لیے۔ پوری تاریخ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ دورِ اول میں اسلام کو مکہ میں موقع نہ مل سکا۔ اس کے بعد اسلام نے مدینہ کے موقع کو استعمال کر کے اپنی تاریخ بنائی۔ مغربی قومیں صلیبی جنگوں میں اپنے لیے موقع نہ پاسکیں تو انھوں نے علمی مواقع کو استعمال کر کے دوبارہ کامیابی کا مقام حاصل کیا، وغیرہ ۔

موجودہ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی پہلے موقع کو کھو دیتا ہے۔ کبھی اپنے ناقص تجربہ کی وجہ سے اور کبھی دوسروں کی سرکشی کی وجہ سے ۔ مگر پہلے موقع کو کھونے کا مطلب ایک موقع کو کھونا ہے نہ کہ سارے مواقع کو کھونا۔ پہلا موقع کھونے کے بعد اگر آدمی مایوس نہ ہو تو جلد ہی وہ دوسرا موقع پالے گا جس کو استعمال کر کے وہ دوبارہ اپنی منزل پر پہنچ جائے ۔ 8 ؍ رسالہ جنوری ۱۹۹۲ء

جن مواقع پر دوسرے لوگ قابض ہو چکے ان کو ان سے چھیننے کی کوشش کرنا عقل مندی عقل مندی یہ ہے کہ جو مواقع ابھی باقی ہیں ان پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ٹائمز آف انڈیا ۱۳ اپریل ۱۹۸۹ (سیکشن ۲ ، صفحہ ۴) میں نیو یارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے ۔ ______________ سپر کمپیوٹر میں امریکہ سے آگے بڑھ جانے کے لیے جاپان کی کوشش :

Printed page