امید کا پیغام
Al-Risala, February 1992, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بعض انسانی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طرح کی ناموافق صورت پیش آئے تو صبر اور توکل کا انداز اختیار کرو۔ اللہ تمہارا نگہبان ہے ، وہ تمہارے لیے مشکل کے بعد آسانی پیدا کر دے گا (سیجعل الله بعد عسر یسرا) الطلاق ، جس طرح ہماری زمین مسلسل گردش کر رہی ہے ، اسی طرح انسان کے حالات بھی برابر بدلتے انسان کو چاہیے کہ وہ کسی بھی حال میں مایوس نہ ہو، وہ ہمیشہ نا امیدی پر امید کے پہلو کو حال کی بنیاد پر وہ کبھی مستقبل کے بارہ میں اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ رات کے آنے کو اگر ” آج “ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ اندھیرے کا آنا معلوم ہوگا مگر ”کل“ کے لحاظ سے دیکھے تو وہ روشن صبح کے آنے کی تمہید بن جاتا ہے۔ خزاں اس کا موسم بظاہر پت جھڑ کا موسم دکھائی دیتا ہے مگر مستقبل کی نظر سے دیکھے تو وہ بہار کے سرسبز و شاداب موسم کی خبر دینے لگے گا۔ یہ قدرت کا اٹل قانون ہے۔ یہ قانون عام مادی دنیا کے لیے بھی ہے ، اور اسی طرح انسانوں کی زندہ دنیا کے لیے بھی۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں۔
جب دنیا کی تخلیق اس ڈھنگ پر ہوئی ہے تو کوئی انسان اس دنیا میں مایوس کیوں ہو۔ یہاں ہر تاریکی آخر کار روشنی بننے والی ہے تو وقتی حالات سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ آدمی اگر یہاں کسی مشکل میں پھنس جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ صبر اور حکمت کے ساتھ اس سے نکلنے کی جد و جہد کرے۔ اگر بالفرض اس کے پاس جد و جہد کرنے کی طاقت نہ ہو تب بھی اس کو چاہیے کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے آنے والے کل کا انتظار کرے۔
اس دنیا میں جس طرح محنت ایک عمل ہے ، اسی طرح انتظار بھی ایک عمل ہے۔ جو شخص عمل کا ثبوت نہ دے سکے ، اس کو چاہیے کہ وہ انتظار کا ثبوت دے۔ اگر اس نے سچا انتظار کیا تو عین ممکن ہے کہ وہ انتظار کے ذریعہ بھی اسی چیز کو پالے جس کو دوسرے لوگ محنت کے راستہ سے تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ قدرت کا نظام خود اپنے آخری فیصلہ کو ظہور میں لانے کے لیے سرگرم ہے ، بشرطیکہ آدمی مقررہ وقت تک اس کا انتظار کر سکے۔
عربی کا ایک مقولہ ہے : "رُبَّ ضَارَّةٍ نَافِعَةٌ" (بہت سی نقصان والی چیزیں نفع دینے والی ہوتی ہیں) یہ قول نہایت بامعنی ہے۔ وہ زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتاتا ہے۔ یہ کہ اس دنیا میں کوئی نقصان صرف یہاں ہر عصر کے ساتھ یسر ہے۔ یہاں ہر نقصان کے ساتھ ایک فائدہ کا پہلو لگا ہوا ہے۔ کو چاہیے کہ اس کو نقصان پیش آئے تو وہ مایوس ہو کر بیٹھ نہ جائے، بلکہ اپنے ذہن کو سوچ کے رخ پر لگائے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ایسا امکان دریافت کرلے جو نہ صرف اس کے نقصان کی تلافی کرے بلکہ اس کو مزید اضافہ کے ساتھ کامیاب بنادے۔
ایک شخص دیہات میں ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوا۔ ۱۹۲۵ء میں اس کے والد کا انتقال ہو گیا جب کہ اس کی عمر صرف ۶ سال تھی۔ باپ کے مرنے کے بعد خاندان والوں نے جائداد پر قبضہ کر لیا۔ ایک معمولی مکان کے سوا کوئی اور چیز نہیں ملی۔
مجبور ہو کر دس سال کی عمر میں وہ کمانے کے لیے نکلا۔ وہ دیہات سے نکل کر شہر میں چلا گیا۔ تک وہ محنت مزدوری کرتا رہا۔ حالات نے اس کو دستکاری کے ایک کام میں لگا دیا۔ اپنی محنت سے وہ ترقی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے ایک کارخانہ کھول لیا۔ اس کی ترقی جاری رہی۔ ۷۰ سال کی عمر میں جب وہ مرا تو وہ ایک بڑا صنعت کار ہو چکا تھا۔ اس نے اپنے پیچھے کروڑوں روپے کی جائداد چھوڑی۔ اس آدمی کے ساتھ اگر عصر کی حالت پیش نہ آتی۔ دیہات میں اس کے تمام کھیت اس کو مل جاتے تو وہ اسی میں لگ جاتا۔ وہ ایک کسان کی حیثیت سے جیتا اور کسان کی حیثیت سے مرتا۔ مگر غراور نقصان نے اس کو اوپر اٹھایا۔ اس کے تلخ تجربات نے اس کو زرعی دور سے نکال کر صنعتی دور میں پہنچا دیا۔ زندگی کے امکانات کی کوئی حد نہیں۔ ہر بار جب ایک امکان ختم ہوتا ہے تو وہیں زیادہ بڑا امکان آدمی کے لیے موجود رہتا ہے۔ پھر کوئی شخص مایوس کیوں ہو۔ پھر آدمی نقصان پر فریاد و احتجاج کیوں نہ وہ نئے امکان کو استعمال کرے جو اس کی شام کو دوبارہ ایک روشن صبح میں تبدیل کر دینے والا ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ جب ایک امکان کا سرا اس کے ہاتھ سے نکل جائے تو وہ کھوئی ہوئی چیز کا ماتم کرنے میں وقت ضائع نہ کرے۔ بلکہ نئے امکان کو دریافت کر کے اس کا استعمال شروع کر دے۔ ممکن ہے کہ اس تدبیر کے ذریعہ وہ پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی اپنے لیے حاصل کر لے۔