Verily, with every hardship comes ease.
Al-Risala, February 1992, pp. 33–37
By Maulana Wahiduddin Khan
اس ترجمہ میں کوئی مزید تشریح درج نہیں ہے۔ اس ترجمہ میں comes کا لفظ تشریحی اضافہ اس سے آیت کی اصل معنویت متاثر ہو جاتی ہے۔ صحیح لفظی ترجمہ اس طرح ہونا چاہئے: Verily, with every difficulty there is ease. محمد اسد صاحب بنیادی طور پر ایک صحافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تفسیر میں وہ گہرائی نہیں جو ایک محقق کے یہاں ملتی ہے۔ مثال کے طور پر یورپ اور امریکہ کے مستشرقین کا ایک اعتراض قرآن پر یہ ہے کہ اس میں تصنیفی یکسانیت نہیں۔ اس میں (incoherent rambling) پائی جاتی ہے ۔ مثلاً کہیں اللہ کا لفظ ہوگا کہیں وہ ، کہیں ہم اور کہیں میں ، کہیں ہم پر اور کہیں مجھ پر۔
اس کا جواب محمد اسد صاحب نے یہ دیا ہے:
These changes are... a linguistic device meant to stress the idea that God is not a person and cannot, therefore, be really circumscribed by the pronouns applicable to finite beings. (Foreword)
یہ جواب مجھے سطحی معلوم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں اس قسم کے فرق کا سبب کوئی الہیاتی مسئلہ نہیں۔ یہ صرف لسانی اسلوب ہے۔ مستشرقین قرآن کو اپنے معروف تصنیفی معیار پر جانچنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ قرآن ایک دعوتی کتاب ہے، اس میں داعیانہ انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اور دعوتی کلام یا داعیانہ اسلوب میں اس قسم کا فرق عین مطلوب ہے، کیوں کہ اس سے کلام میں زور اور تاثیر پیدا ہوتی ہے۔
صغیر اسلم صاحب پاکستان سے ۱۹۵۷ میں کیلی فورنیا (امریکہ) آئے۔ وہ نوجوان تھے۔ وہ یہاں کی فضا میں عریانیت اور فحاشی کو دیکھ کر پریشان ہوگئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہاں اپنے ایمان و اخلاق کو کس طرح بچائیں۔ انھوں نے بتایا کہ چودھری محمد علی (سابق وزیر اعظم پاکستان) ان کے رشتہ دار تھے۔ صغیر اسلم صاحب نے چودھری محمد علی صاحب سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں ہے کہ نماز آدمی کو فحش اور منکر سے اس لئے میں تم کو صرف ایک مشورہ دیتا ہوں۔ تم نماز کے پابند بن جاؤ۔ تم کو محفوظ رکھے گی۔ صغیر اسلم صاحب نے اس مشورہ کو پکڑ لیا اور خدا کے فضل سے امریکہ میں ۳۳ سال سے مومن و مسلم بن کر رہ رہے ہیں۔
اس واقعہ کو میں نے سنا تھے میں نے سوچا کہ پاکستان بننے کے بعد اس کے ابتدائی دور میں کیسے کیسے قیمتی لوگ پاکستان کو ملے تھے۔ مگر اسلام پسندوں کی مجنونانہ سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کے بہترین لوگ استعمال ہونے سے رہ گئے ۔ ان میں سے بہت سے لوگ تو جو وہاں کے خلفشار کو دیکھ کر باہر کے ملکوں میں جاکر رہنے لگے۔ ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان بنے ہوئے تقریباً ۴۵ سال ہوگئے۔ مگر پاکستان کو جتنا ترقی کرنا چاہئے تھا وہ نہ کر سکا۔ میں نے کہا کہ سب سے زیادہ ذمہ داری ان نام نہاد اسلام پسندوں پر ہے جو پاکستان بنتے ہی وہاں
کے حکم رانوں سے لڑگئے ۔ اگر یہ لوگ عملی سیاست سے الگ رہ کر افراد سازی اور اصلاح معاشرہ کے کام میں لگتے تو آج پاکستان کی تصویر بالکل مختلف ہوتی ۔
ایک صاحب ہندوستان سے امریکہ آئے اور اب یہاں کے شہری ہو کر آرام کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ وہ یہاں ایک سرکاری محکمہ میں ایک اچھے عہدہ پر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے حکمراں منافق ہیں، وہ سیکولرزم کی باتیں کرتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا معاملہ کرتے ہیں۔ آپ لوگ ان کے خلاف جہاد کیوں نہیں کرتے ۔ میں نے کہا کہ امریکہ اس سے بڑا منافق ہے ۔ وہ کویت میں صدام کے قبضہ (occupation) کی مذمت کرتا ہے اور اس کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔ دوسری طرف یہی امریکہ فلسطین میں یہودیوں کے قبضہ کی حمایت اور سرپرستی کر رہا ہے ۔ اس کے باوجود آپ امریکہ کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے یہاں رہ رہے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ڈبل اسٹینڈرڈہے۔ اپنے لئے آپ ایڈجسٹمنٹ کا اصول پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو جنگ اور ٹکر او کا مشورہ دے رہے ہیں ۔
۲۲ نومبر کو صغیر اسلم صاحب کو ایک ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ میں بھی ان کے ساتھ چلا گیا کہ دیکھوں یہاں کے ڈاکٹروں کے کلینک کیسے ہوتے ہیں۔ واپسی میں ایک مسئلہ پیش آگیا۔ صغیر اسلم صاحب جب اپنی گاڑی میں بیٹھے اور اس کو اسٹارٹ کرنا چاہا تو کوشش کے باوجود وہ اسٹارٹ نہیں ہوئی۔ یہ نئی اسٹرلنگ (Sterling) گاڑی تھی۔ خیال ہوا کہ شاید بیٹری ختم ہو گئی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے وہیں سے انشورنس کمپنی کو ٹیلیفون کیا۔ اس کے صرف آٹھ منٹ بعد ان کا آدمی ایک بڑی گاڑی لے کر آگیا جس میں ٹیلیفون سے لے کر کرین تک ہر چیز موجود تھی ۔ آدمی نے کافی کوشش کی۔ مگر گاڑی اسٹارٹ نہ ہوسکی ۔ آخر کار اس نے کہا کہ اب یہ گاڑی ورک شاپ جائے گی ۔ اس نے اپنے آفس کو ٹیلیفون کر کے گاڑی کو ورک شاپ بھیجنے کا انتظام کیا اور ہم لوگوں کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر گھر تک پہنچا دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ یہاں کام کرنے کا انداز کیا ہے ۔ یہی وہ سہولتیں ہیں جن کی بنا پر ہندوستان (اور دوسرے ملکوں) کے اکثر ذہین اور تعلیم یافتہ لوگ اپنے ملکوں کو چھوڑ کر مغربی ملکوں میں پہنچ رہے ہیں۔ ہندوستان میں مندر اور مسجد کے جھگڑوں، پراور جلوس اور نعروں
کے ہنگاموں پر کروڑوں لوگ سرگرم ہیں ۔ حتی کہ اپنا جان و مال تباہ کر رہے ہیں ۔ مگر ملک میں کار کردگی کا اعلی ماحول بناانے کے لئے کوئی سرگرم نہیں ہوتا۔
ایک تاجر کے دفتر میں میں نے دیکھا کہ ایک امریکی خاتون بطور سکریٹری کام کر رہی میں نے پوچھا کہ آپ کے تجربہ میں کس ملک کے ورکر سب سے اچھے ہوتے ہیں ۔ فوراً کہا کہ جاپانی۔ انھوں نے کہا کہ جاپانی ورکر نہایت وفادار ، نہایت محنتی اور نہایت دیانتدار ہوتا ہے ۔ یہاں ہر آفس والا جاپانی ورکر کو پسند کرتا ہے ۔ مگر جاپان کے لوگ زیادہ ٹریڈنس کے لئے آتے ہیں ۔ وہ ملازمتوں کے لئے کم آتے ہیں ۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ایک ٹیلیویژن پرو گرام میں انھوں نے دیکھا کہ جاپان میں ورکروں کی تربیت کے لئے بڑی بڑی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں ۔ وہاں بہت سے ادارے ہیں جو نہایت اعلی پیمانہ پر تربیت دے کر اپنے افراد کے اندر وہ صفات پیدا کرتے ہیں جس کے بعد وہ بہترین کارکن بن سکیں ۔ میں نے سوچا کہ ہندوستان کے نام نہاد مسلم لیڈر اگر صرف یہ کرتے کہ وہ ایسے ادارے قائم کریں جو مسلمانوں کو تربیت دے کر عمدہ کارکن بنائیں تو آج مسلمان ملک کی غالب کمیونٹی کا مقام حاصل کر لیتے ۔ مگر ان نااہل لیڈروں نے مسلم عوام کو جذباتی نعروں پر دوڑا کر صرف ان کی بربادی کا کارنامہ انجام دیا ہے ۔
صغیر اسلم صاحب ان مستثنی افراد میں سے ہیں جو اپنی فطرت پر قائم رہتے ہیں ۔ ان کے ساتھ اشتعال انگیزی کی جائے تب بھی وہ مشتعل نہیں ہوتے ۔ ایک بار ایک صاحب ان پر غصہ ہو گئے اور مجمع کے اندر انھیں برا بھلا کہنے لگے ۔ وہ صاحب نہایت سخت الفاظ بول رہے تھے ، مگر صغیر اسلم صاحب انھیں کوئی جواب نہیں دے رہے تھے ۔ ایک شخص نے کہا کہ وہ آپ کے ساتھ اتنی سخت کلامی کر رہے ہیں اور آپ اس کے جواب میں کچھ نہیں بولتے ۔ اسلم صاحب کا مختصر جواب یہ تھا : یہ ان کا پر ابلم ہے ، میرا پر ابلم تو نہیں ۔ ہر آدمی پیسہ کمانا چاہتا ہے ۔ اس اعتبار سے ہر ملک کو تجارتی ملک ہے ۔ میں تجارت گویا ایک خوب صورت فن بن دیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر بچوں کی چیزوں کے نام پر بے شمار تجارتیں وجود میں آئی ہیں ۔ انھیں میں سے ایک بچوں کا لٹریچر ہے۔
لئے کتابیں اتنے خوب صورت اور اتنے معیاری انداز میں چھاپی جاتی ہیں کہ ماں باپ اس کو خریدنے کے لئے مجبور ہو جائیں۔
مثلا ایک کتاب نظر گزری ۔ ۷۳ صفحہ کی اس خوب صورت کتاب کا نام تھا۔ کو بتاؤ کہ کیوں (Tell Me Why) نام کے نیچے یہ الفاظ درج تھے:
Brief, accurate answers to hundreds of questions children ask about. میں نے اس کے مختلف حصے پڑھے۔ کتاب اپنے نام کے عین مطابق تھی اردو میں میں نے اس طرح کی کئی کتابیں دیکھی ہیں۔ مگر ان میں معلومات کم اور ادبیت زیادہ ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ معلومات متعین اور محدود انداز میں نہیں ہوتیں۔ مذکورہ کتاب کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ انتہائی سادہ اور انتہائی محدود اسلوب میں لکھی گئی تھی ۔ البتہ انواع حیات سے متعلق معلومات میں جگہ جگہ نظریہ ارتقاءء شامل تھا جس سے مجھے اتفاق نہیں۔ میں ارتقا کو محض ایک مفروضہ سمجھتا ہوں نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔
ایک رپورٹ عالمی اقتصادیات کے بارہ میں دیکھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ۱۹۸۶ میں امریکہ کے اوپر قومی قرضہ ۲۱۱۲ ملین ڈالر تھا۔ اس لحاظ سے امریکہ وہ ملک ہے جس کے اوپر سب سے زیادہ قومی قرضہ ہے: