Al-Risala · February 1992

The largest national debt is that of the US

Al-Risala, February 1992, pp. 37–40

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے امریکہ کے ایک معاشی عالم سے اس کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے قرضہ کی وہ نوعیت نہیں ہے جو تیسری دنیا کے قرضہ کی ہوتی ہے ۔ تیسری دنیا کے ملک اقتصادی مدد کے طور پر قرض لیتے ہیں۔ اور کئی ملکوں کا یہ حال ہے کہ وہ اس کی قسط بھی ادا نہیں کر سکتے۔ کی قسط کی ادائیگی کے لئے دوبارہ قرض لینا پڑتا ہے ۔ اس کے برعکس امریکہ جو قرض لیتا ہے وہ پیداواری مقصد کے لئے لیتا ہے ، جیسے ایک کمپنی بینک سے قرض لے کر اپنا کاروبار چنانچہ امریکہ اگر سب سے بڑا مقروض ملک ہے تو اس سے سے زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ قومی پیداوار (National product) کے معاملہ میں وہ تمام دنیا کے ملکوں سے بڑھا ہوا ہے:

The country with the largest GNP is the US, reaching nearly $ 4,000 billion in 1986. لینا اور دینا اس دنیا میں نسبتی مقدار کا نام ہے۔ اگر آپ دنیا سے زیادہ لے رہے ہوں مگر دینے کے معاملہ میں اس سے بھی زیادہ دے رہے ہوں تو آپ لوگوں کی نظر میں دینے والے ہی سمجھے جائیں گے۔

مشہور کتاب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈس (Guinness Book of World Records) کا نام میں نے سنا تھا مگر اس کو دیکھا یا پڑھا نہیں تھا۔ وہ کتاب مجھ کو یہاں ملی۔ اس کا کافی حصہ میرے سامنے اس کا ۱۹۸۷ کا ایڈیشن ہے۔ انڈکس وغیرہ کو شامل کرتے ہوئے اس کے تقریباً ۷۰۰ صفحات ہیں۔ یہ کتاب کئی آدمیوں نے مل کر تیار کی ہے۔ دیباچہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب پہلی بار امریکہ سے ۱۹۵۶ میں شائع ہوئی۔ وہ بہت زیادہ بکنے والی کتابوں (best-sellers) میں نمبر ایک کتاب بن گئی۔ میں وہ ۱۹۸۷ء تک ۲۲۰ بار چھپ چکی تھی۔ جن زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے ہیں، ان میں عربی اور ہندی زبانیں بھی شامل ہیں۔

اس کتاب میں ہر قسم کی غیر معمولی چیزوں کا ذکر ہے۔ مثلاً سب سے لمبا آدمی، سب سے اونچا پہاڑ ، سب سے پر انا درخت ، سب سے لمبا یا سب سے چھوٹا دریا ، سب سے بڑا آئس برگ و غیرہ۔ یہ کتاب گو یا ریکارڈ توڑ چیزوں (Record breakers) کی قاموس ہے۔ بات یہ ہے کہ کتاب چھپی تو وہ خود ریکارڈ توڑنے کی ایک مثال ہوگئی۔ ۱۹۸۶ تک عالمی سطح پر ۵۳ ملین کتابیں فروخت ہوچکی تھیں۔ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر ان کو ایک کے اوپر ایک رکھا جائے تو ان سے ۱۱۸ ڈھیر ایسے بن سکتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی اونچائی ماونٹ ایورسٹ کے برابر ہو۔ جبکہ ماونٹ ساڑھے پانچ میل اونچا ہے۔

کتاب کے الفاظ میں اپنجھنے میں ڈالنے والے واقعات (amazing facts) کے اس مجموعہ کو اتنی زیادہ مقبولیت کیوں حاصل ہوئی۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر سب سے زیادہ طاقتور احساس یہی اچنبھا (amazement)

اور استعجاب کا احساس ہے ۔ آدمی کے اندر بے پناہ گہرائی کے ساتھ یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کو دیکھے جو غیر معمولی حد تک عظیم ہو تو اس کی عظمت کے احساس سے سرشار ہو جائے ۔ اسی احساس کا ایک نتیجہ فطرت پرستی اور ہیرو پرستی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔

انسان کے اندر یہ شعور اس لئے رکھا گیا تھا کہ وہ خدائے ذوالجلال کو پہچانے اور اس کے آگے اپنی عبدیت کا اظہار کرے ۔ یہی " الہ " کا مطلب ہے ۔ لا الہ الا اللہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے احساس کو دوسری تمام سمتوں سے ہٹا کر ایک خدا کی طرف موڑ لیا۔ شرک کی تمام صورتیں دراصل اسی احساس کا غلط استعمال ہیں ۔

ایک صاحب یہاں کے " اردو داں مسلمانوں " کی دعوت پر امریکہ آئے تھے ۔ نے اپنے ہم وطنوں کے درمیان تقریریں کیں ۔ ان کا ایک کیسٹ سننے کا اتفاق ہوا ۔ خلاصہ یہ تھا کہ دعوتی کام ، جس کو یہاں دعوہ ورک (Daw'ah work) کہا جاتا ہے ۔ معنوں میں ایک اچھا کام ہو سکتا ہے ۔ مگر یہی اصل اسلامی کام نہیں ۔ اصل کام ہے نظام کو بدلنا۔ ہم ایک مکمل انقلاب لانے کے علمبردار ہیں ۔ اور مکمل انقلاب جہاد و قتال کے بغیر کبھی نہیں آتا ۔ ہمارا نشانہ یہ ہے کہ انقلابی جد و جہد کے ذریعہ امریکہ میں اور اسی طرح سارے عالم میں مکمل اسلامی حکومت قائم ہو جائے ۔

اس قسم کی باتوں کا تعلق اسلام سے تو کیا ہو گا ۔ ان کا عقل سے بھی کوئی تعلق نہیں ۔ سے زیادہ اس کو ایک قسم کی سیاسی شاعری کہا جا سکتا ہے ۔ مصر اور پاکستان کے اسلام پسندوں نے اسی قسم کی سیاسی شاعری میں پچاس قیمتی سال ضائع کر دئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کی پیرانوئک (paranoiac) نفسیات ہے جس کی بنا پر ایسے مقرروں کو کچھ سامعین مل جاتے ہیں ۔ ایسا نہ ہو تو اس قسم کے لوگوں کو حقائق کی اس دنیا میں کوئی سننے والا اور پڑھنے والا ملے ۔

قرآن وسنت کے مطابق اسلام کا اصل کام دعوتی کام ہے ۔ دعوتی کام سے مراد کوئی سطحی کام نہیں ، اس سے مراد افراد کے اندر ذہنی انقلاب لانا ہے ۔ اسلام کا اصل مقصد یہ ہے

لوگ اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ لوگ آخرت کی حقیقت کو محسوس کرنے والے بن جائیں۔ اسلام کی صداقت پر یقین کرنے والے بن جائیں۔ یہی جڑ کا کام ہے۔ جو لوگ اس معنی میں اسلام کو پالیں، وہ آخرت میں خدا کی ابدی رحمتوں کے مستحق ٹھہریں گے۔ اور اگر اس قسم کے انسانوں کی بڑی تعداد کسی مقام پر پیدا ہو جائے تو اس کے بعد ان کے درمیان وہ چیز بھی وجود میں آ جاتی ہے جس کو اسلامی حکومت کہا جاتا ہے۔

یہاں یونیورسٹیوں اور لائبریریوں وغیرہ کے اندر پار کنگ لاٹ ہیں ۔ اس کے مطابق ، ہر طبقہ کا آدمی اپنی اپنی مختص کی ہوئی لاٹ میں گاڑی کھڑی کرتا ہے۔ لاٹ کے گیٹ کمپیوٹرائزڈ ان کے اندر مطلوبہ کارڈ ڈالنے ہی سے وہ دروازے کھلتے ہیں۔ ایک لائبریری میں ایک جگہ جنگلہ سا نظر آیا۔ یہاں سائیکل کھڑے کرنے کی جگہ بنی ہوئی تھی۔ غالباً دس سائیکلوں کی جگہ ہوگی ، مگر صرف دو سائیکلیں وہاں کھڑی ہوئی تھیں۔ البتہ وہاں لکھے ہوئے یہ الفاظ بہت قابل توجہ تھے ۔ اس کو تالا لگاؤ یا اس کے کھونے کا انتظار کرو :

Printed page