Al-Risala · February 1992

Mohammad: Leader of the Arabs

Al-Risala, February 1992, pp. 43–45

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۲ سال کی عمر میں محمد ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ "کمیل ڈرائیور" کی حیثیت سے ان مقامات پر گئے جہاں یہودی اورمسیحی آباد تھے ۔ ان سے انھوں نے ان کے مذہب کی باتوں کو سیکھا۔ ایک عجیب و غریب قسم کی سواری کے اوپر ایک عجیب و غریب قسم کے آدمی کو ایک تصویر میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ اس کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں : Here an artist shows Mohammad on a journey through the heavens to see God. Do you think the artist saw this happen? (p.339)

ایک تصویر میں ایک با ریش آدمی خلافت کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ بہت سے آدمی ننگی تلواریں اپنے ہاتھ میں اٹھائے اس کی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کے نیچے لکھا ہوا ہے :

ایک جگہ قرآن کے ایک صفحہ کی تصویر ہے۔ یہ صفحہ قدیم طرز کے معمولی خط میں لکھا ہوا ہے۔ اس تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے :

اس طرح کی کئی غیر نمائندہ تصویریں دینے کے بعد آخر میں ایک اور تصویر ہے۔ ایک عرب اسکالر اپنا روایتی عربی لباس پہنے ہوئے بیٹھا ہے۔ اس کے سامنے جدید طرز کی مغرب کی بنی ہوئی ایک خوردبین رکھی ہوئی ہے۔ عرب اس مغربی خورد بین پر جھکا ہوا کسی چیز کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اس کے نیچے لکھا ہوا ہے :

اس طرح بچوں کی اس کتاب میں نہایت منظم طور پر اسلام کو حقیر بنا کر دکھایا گیا تھا۔ اور اس کے مقابلےمیں مغرب کی تصویر نہایت عظیم بنا کر پیش کی گئی تھی۔ کیلی فورنیا میں مقیم ایک ہندوستانی مسلمان کا خط مجھے دہلی میں ملا تھا۔ انھوں نے الرسالہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ ہندوستانی مسلمانوں کو بزدلی سکھارہے ہیں۔ آپ کے مضامین کا خلاصہ یہ ہے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے ، اس سے مسلمان آنکھیں بند کر کے تعلیم اور تجارت جیسی چیزوں میں لگ جائیں۔ اس طرح تو مسلمان اپنی شناخت بھی کھودیں گے۔ ان مسلمان صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے مذکورہ کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی باتوں پر ہندوستان میں مسلمان لڑیں تو اس کو آپ جہاد بتاتے ہیں اور خود اس قسم کی بے شمار باتوں کو برداشت کر کے امریکہ میں اطمینان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ بتائیے کہ آپ کا یہ رویہ، آپ کے معیار کے مطابق ، بزدلی ہے یا بے راہ روی۔ انھوں نے کوئی جواب نہیں

مکہ کے انگریزی پرچہ مسلم ورلڈ لیگ جرنل (جولائی۔ اگست 1990) نے امام وارث دین محمد کا ایک انٹرویو چھاپا تھا۔ اس کا ایک سوال و جواب یہ تھا:

Q. What are the deficiencies of American Muslims today. A. Our main deficiency in America is the need for materials. Other religions in America mainly depend on their literature. So our main deficiency is that we need much more excellent literature for doing an excellent job of Dawah in the United States. (47-48)

پوچھا گیا کہ دعوت کے کام کے سلسلہ میں آج امری مسلمانوں کی بنیادی کمی کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ امریکہ میں ہماری بنیادی کمی کی سامان کی ضرورت ہے۔ امریکہ میں دوسرے مذاہب اپنی تبلیغ کے لئے زیادہ لٹریچر پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لئے ہماری بنیادی کمی یہ ہے کہ ہم زیادہ اعلیٰ قسم کے دعوتی لٹریچر کے ضرورت مند ہیں۔ تاکہ ہم امریکہ میں زیادہ اعلیٰ پیمانہ پر دعوتی کام کر سکیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ مسلمانوں میں ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ابھی تک انگریزی میں اعلیٰ قسم کی دعوتی کتابیں تیار نہ ہو سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تمام علماء اور دانش ور نفرت مغرب یا نفرت امریکہ میں جی رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ان کے لئے نا ممکن ہے کہ وہ اہل مغرب کے لئے اعلیٰ دعوتی لٹریچر تیار کر سکیں۔ دعوتی کلام کے لئے محبت بھرا دل درکار ہے نہ نفرت بھر ادل۔

امریکہ کے سفر میں میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی۔ وہ دین سے بھی واقف تھے اور اسی کے ساتھ انگریزی کی اچھی صلاحیت رکھتے تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے امریکہ کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ" امریکہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے؛ یہ میرے نزدیک سرا سر غیر داعیانہ مزاج ہے ، اور غیر داعیانہ مزاج کے ساتھ کبھی داعیانہ لٹریچر تیار نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ کے زمانہ قیام میں عام ملاقاتوں کے علاوہ متعدد بار اجتماعی خطاب کا موقع ملا۔ خطابات زیادہ تر تذکیری نوعیت کے تھے۔ میں نے ان خطابات میں آخرت پسندانہ مزاج، اتحاد اور دعوت کی اہمیت پر زور دیا ان خطابات کا ایک نقشہ اگلے صفحہ پر درج کیا جاتا ہے۔

Printed page