اکثریت اور اقلیت
Al-Risala, January 1993, pp. 11–16
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ وہ کمیونٹی جو نیکسٹ ٹو میجارٹی ہو وہ ہمیشہ مجاریٹی کی زد میں چھوٹی اقلیتیں آؤٹ آف فوکس ہو جاتی ہیں۔ اور پہلے اور دوسرے نمبر کی کمیونٹی ایک دوسرے کے مقابلہ پر آجاتی ہے۔ آزاد ہندوستان میں یہی ہوا۔ چنانچہ آزادی کے بعد ہندو اور مسلمان دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل ہو گئے ۔ پہلے اگرا ملک میں ہندوستانی اور انگریز کا مسئلہ تھا توہم اب ملک میں ہندو اور مسلمان کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ مگر دونوں میں ایک فرق تھا۔ ہندوستانی اور انگریز کے مسئلہ میں نفرت مطلوب تھی ، جبکہ ہندو اور مسلم مسئلہ میں محبت مطلوب ہو گئی۔ پہلے اگر باہمی نفرت سے مسئلہ حل ہوتا تھا تو اب باہمی محبت مسئلہ کا حل بن گیا۔ اس نازک موڑ پر ہمارے رہنما وہ کردار ادا نہ کر سکے جو ضروری چنانچہ ۱۹۴۷ء کے بعد بھی ملک میں نفرت کا تسلسل جاری رہا، اور مسئلہ دن بدن نازک سے نازک تر ہوتا چلا گیا۔
اس معاملہ میں جاپان کی جدید تاریخ نہایت اعمل مثال پیش کرتی ہے۔ جنگ سے پہلے جاپانی قوم امریکی نفرت کی بنیاد پر اٹھی۔ اسی نفرت کے تحت جاپانیوں نے امریکہ کے بحری اڈہ پرل ہاربر پر دسمبر ۱۹۴۱ء میں زبردست حملہ کیا اور اس کو تباہ کر دیا۔ کے بعد دونوں کے درمیان شدید جنگ جاری رہی۔ جو بالآخر ۱۹۴۵ء میں جاپان کی شکست و مغلوبیت پر ختم ہوئی۔
اب ایک صورت یہ تھی کہ امریکی نفرت کا تسلسل جاپان میں جاری رہے۔ مگر جاپان کے برین نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی قومی پالیسی کو نفرت کے بجائے محبت پر قائم انھوں نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ امریکہ نے اگر ایٹم بم گر کر ہمارے ہیروشيما کو برباد کیا تو بھی اس سے پہلے امریکہ کے پرل ہاربر کو برباد کر چکے تھے۔ اس لیے معاملہ برابر ہو گیا۔ امریکہ سے دوستی کا تعلق قائم کر کے ہم اپنے ملک میں نئے تعمیری دور کا آغاز کریں۔ نفرت کے بجائے محبت کی اس پالیسی کو انھوں نے علیٰ معکوس (reverse course) دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپان جن قوموں سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیے ہوئے تھا،
اب جاپان انھیں قوموں سے موافقت کر کے آگے بڑھنے لگا۔ یہی تبدیلی تھی جس کا تذکرہ آج دنیا کے سامنے اس شکل میں سامنے آیا ہے کہ جو جاپان دوسری عالمی جنگ سے شکست کھا کر نکلا تھا، اس کو آج یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ فاتح کے روپ میں دنیا کے سامنے نمایاں
آزادی کے بعد ہندوستان میں بھی اسی قسم کے عمل معکوس کی ضرورت تھی۔ تھی کہ اس ملک میں نفرت کے بجائے محبت کی ہوائیں چلائی جائیں۔ مگر ہمارے لیڈر بروقت یہ کام نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں نفرت کا تسلسل جاری رہا۔ ملک تعمیر کے رخ پر سفر نہ کر سکا، آزاد ہندوستان جلد ہی برباد ہندوستان کے ہم معنی بن گیا۔
جاپان نے اپنے بیرونی دشمن امریکہ سے نفرت کو چھوڑ کر محبت کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ ہندوستان میں یہی کام ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونا تھا۔ یہاں بٹوارہ کی تحریک کے دوران دونوں ایک دوسرے کے رقیب اور حریف بن گئے تھے۔ اب ضرورت تھی کہ دونوں کے اندر یہ ذہن پیدا کیا جائے کہ وہ ایک دوسرے کے وطنی بھائی ہیں۔ وہ ہر معاملے میں ایک دوسرے کے شریک اور دوست ہیں۔
۱۹۴۷ء سے پہلے کچھ نادان مسلم لیڈروں نے غلط طور پر یہ ذہن بنایا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ اس نظریہ نے دونوں میں دوری پیدا کر دی۔ مگر اس نظریہ کا تعلق نہ عقل سے تھا اور نہ اسلام سے۔ کیونکہ قوم وطن سے بنتی ہے نہ کہ مذہب سے۔ اور مسلمانوں کا مذہب بلاشبہ الگ ہے۔ مگر وہ دونوں ایک قوم ہیں، کیوں کہ دونوں ایک مشترک وطن میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام پیغمبروں نے اپنے غیر مذہب مخاطبین کو (اے میری قوم) کہہ کر خطاب کیا۔ مگر، ۱۹۴۷ء کے بعد طاقت ور انداز میں اس فکر کی اشاعت نہ کی جا سکی۔
جہاں تک میرے مطالعہ کا تعلق ہے، میرا خیال ہے کہ اس معاملہ میں ہندو اور مسلما دونوں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ دونوں میں سے کسی نے بھی نئے ہندوستان میں اپنی ذمہ داریا کو پورا نہیں کیا۔ قوموں کا ذہین طبقہ قوموں کو رہ نمائی دیتا ہے۔ مگر آزاد ہندوستان
نوں ہی فرقے کے ذہین طبقے اس اعتبار سے ناکام ہو گئے۔
ہندوؤں میں ان کے مصنوعی دانشور (pseudo-intellectuals) اٹھے۔ نے فرسٹ ڈیفیٹ اور سیکنڈ ڈیفیٹ کا نظریہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندو اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے تھے، اور مسلمان تقسیم کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر اس معاملہ میں ہندوؤں کو شکست تسلیم یہ ان کے لیے پہلی ہار (فرسٹ ڈیفیٹ) تھی۔ اب ہندو اکثریت میں ہیں اور غلبہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ہمیں کسی قیمت پر دوسری ہار (سیکنڈ ڈیفیٹ) کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے ۔
یہ بات مختلف الفاظ میں اتنے زور کے ساتھ کہی گئی کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر بیشتر ہندوؤں کے ذہن پر چھا گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی نز اع پیش آئے تو ہندو فوراً اس کو سیکنڈ ڈیفیٹ کا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں۔ مثلاً ہندو جلوس مسلم محلے سے گزرے اور مسلمان کسی وجہ سے روٹ بدلنے کے لیے کہیں تو ہندو اس بات کو نہیں مانیں گے۔ کیوں کہ مذکورہ نفسیات کی بنا پر اس میں انھیں سیکنڈ ڈیفیٹ نظر آنے لگتی ہے۔ اس نفسیات کی بنا پر ہندوؤں کی طاقت کا بڑا حصہ صرف منفی کارروائیوں میں صرف ہوا ہے، وہ ملک کی مثبت تعمیر میں استعمال نہ ہو سکا۔ سیکنڈ ڈیفیٹ سے بچنے کی کوشش میں وہ مکمل ڈیفیٹ سے دوچار ہو رہے ہیں۔
مولانا حفظ الرحمن صاحب (۱۹۶۲-۱۹۰۱) نے ایک بار کہا تھا کہ انڈیا کو میں سیکولر ملک اس وقت مانوں گا جب کہ سڑک پر ایک مسلمان ایک ہندو کو تھپڑ مارے اور شہر میں فرقہ وارانہ فساد نہ ہو۔ ہر بار جب کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو اسی طرح کے کسی معمولی واقعہ کی بنا پر ایسا ہر واقعہ اصلاً صرف دو فرد کا واقعہ ہے، اور دو فرد کے مسئلہ کی حیثیت سے اسے حل کرنا چاہیے۔ مگر جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو فوراً وہ دو فرقوں کے وقار کا مسئلہ بن جاتا ہے جو بڑھ کر خونیں فساد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ تمام تر اسی مذکورہ نفسیات کا نتیجہ ہے ۔
ہندو اگر بٹوارہ کو فرسٹ ڈیفیٹ کے طور پر نہ لیتے بلکہ گزرے ہوئے دور کا ایک
واقعہ سمجھ کر اس کو ماضی کی تاریخ کے خانے میں ڈال دیتے تو ۱۹۴۷ سے اسی طرح ملک کی تاریخ بننا شروع ہو جاتی جس طرح عین اسی زمانے میں جاپان میں نئی تاریخ بننا شروع ہوئی تھی فرسٹ ڈیفیٹ اور سیکنڈ ڈیفیٹ کے فلسفہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ امکان واقعہ کی صورت اختیار کر اقلیت کے مسئلے کے حل کے لیے ہندو رہنماؤں نے جو تدبیر سوچی وہ بظاہر ہر جگہ چتھا الفاظ میں تھی، مگر سب کی تدبیر عملاً وہی تھی جس کو ان کا ایک حلقہ ہند تو یا انڈینائزیشن تعبیر کرتا ہے۔ اس تدبیر کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان سے کلچر کے اختلاف کو ختم کر کے پورے ملک کا ایک کلچر بنا دیا جائے ۔ اس کو وہ فرقہ وارانہ یک جہتی یا ملکی اتحاد کا ذریعہ سمجھتے ہیں کا خیال ہے کہ اس طرح اقلیت کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
یہ تجویز بظاہر کتنی ہی خوب صورت ہو، وہ یقینی طور پر ناقابل عمل ہے۔ پہلے شہنشاہ اکبر نے اس کو ملک میں رائج کرنا چاہا مگر غیر معمولی سیاسی طاقت - کےباوجود وہ ناکام رہا۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے ۲۰ سال محنت کر کے اپنی کتاب (Essential Unity of All Religions) مگر اپنے مقصد میں وہ کہ درجہ میں کارگر ثابت نہ ہو سکی۔ مہاتما گاندھی بھی " رام رحیم ایک ہے" کے عنوان سے اس مبلغ تھے مگر انھیں بھی اس سلسلہ میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ امریکہ (U.S.A) میں بھی مختلف کلچر کے لوگ آباد ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے امریکہ میں وہ تحریک چلی جس کو عام طور پر امریکنائز یشن کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد امریکہ میں کلچر کو فروغ دینا تھا۔ مگر یہ تحریک امریکہ میں مکمل طور پر نا کام ہو گئی۔ اور اب وہاں یونی کا کے بجائے ملٹی کلچر لزم کے اصول کو اختیار کر لیا گیا ہے۔ یعنی ایک کلچر نہیں بلکہ کئی کلچر۔ نتیجہ کے اعتبار سے دیکھے تو اس معاملہ میں ہمارے لیے انتخاب (choice یونی کلچر اور ملٹی کلچر میں نہیں ہے، بلکہ ملٹی کلچر اور تباہی میں ہے۔ اگر ہم یونی کلچر کے طر اصرار کریں تو جو چیزعملاً حاصل ہوگی وہ یونی کلچر نہ ہوگا بلکہ بر باد کلچر ہوگا ۔ اس لیے بہترین تا یہ ہے کہ ہم رواداری (ٹالرنس) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ملٹی کلچر کے طریقہ پر راضی ہو جا نہ کہ یونی کلچر کے طریقہ پر اصرار کر کے ملک کو تباہ کر دیں۔
اب مسلمسلمانوملک کے معاملہ کو لمیںجئے، ۱۹؍۱۴ سے پہلے مسلمانوں نے ملک کے بٹوارہ کی تحریک چلائی۔ ہندوؤں نے اس کی مخالفت کی۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر ہندوؤں کے بارہ میں ک پیدا ہو گئے۔ جو تقسیم کے بعد بکہ وہی ختم نہ ہو سکے۔ مزید کہ تقسیم کے ساتھ ہی مسلمانوں ی بھی مصنوعی دانش ور (pseudo-intellectuals) اٹھے۔ انھوں نے مختلف انداز میں مانوں کے اندر اس قسم کے خیالات پھیلائے کہ ہند ومقسّم ہندوستان میں ”دوسرا اسپین“ یہ فکر ایک یا دوسرے لفظ میں اتنا زیادہ عام ہوا کہ وہ مسلمانوں کی نفسیات نہ بن گیہیں اب یہ صورتِ حال ہے کہ جب بھی ہند وکی طرف سے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا مثلاً وہ مسلم علاقہ میں جلوس نکالتا ہے۔ یا کچھ نادان ہندو اٹھ کر مسلم مخالف نعرہ لگا دیتے تو فوراً مسلمانوں کے اندر یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ ہندو یہاں سکنڈ اسپین بنانا چاہتے اس دفاعی نفسیات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فوراً ہندو کے ساتھ مقابلہ آرائی کے لیے پے ہو جاتے ہیں۔ اب دو طرفہ ردِ عمل شروع ہوتا ہے جو فضا کو اس حد تک بگاڑ تا ہے کہ فساد کی نوبت آ جاتی ہے۔
ایک ”سکنڈ“ کا اندیشہ ہندوؤں کو منفی نفسیات میں مبتلا کیے ہوئے ہے اور دوسرے ”سکنڈ“ کے اندیشہ نے مسلمانوں کو منفی نفسیات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ں میں ہند ومسلم مسئلہ کا خلاصہ ہے۔ اس طرح دونوں ہی فرقے اس سے محروم ہو گئے ہیں ھ ملک کی تعمیر میں مطلوبہ مثبت کردار ادا کر سکیں۔
اس طرح کے پیچیدہ مسائل کا حل کبھی دو طرفہ بنیاد پر نہیں نکلتا۔ اور یہی یہاں بھی اس کا حل جب بھی نکلے گا ایک طرفہ بنیاد پر نکلے گا۔ اس مسئلہ کا حل بائی لیٹرلزم میں نہیں ، بلکہ یونی لیٹرلزم میں ہے۔ ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے کسی ایک فرقہ کو اقدام کرنا ہوگا۔ ہم یہ انتظار کریں کہ پچاس فی صداور پچاس فی صد کی بنیاد پر یہ دونوں فرقے ذمہ داری قبول کریں اور اس طرح دو طرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل کریں تو ایسا انتظار کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔ نا واقعات اور انسانی نفسیات دونوں ایسے کسی امکان کا یکسر انکار کرتے ہیں۔
ان حالات میں مسلمانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ اوراس معاملہ میں پہل کریں اور یک طرفہ کئے ذریعہ تمام باہمی جھگڑوں کو ختم کر دیں۔ وہ نہ ہندو جلوس کی روٹ بدلنے کا مطالبہ کریں۔ مخالف نعروں پرمشتعل ہوں ۔ نہ سروسوں میں کم لیے جانے کی شکایت کریں۔ نہ اُردو اور پرے اور مسلم یونی ورسٹی جیسے مسائل پر مطالبا تی تحریکیں اٹھائیں۔ غرض ہر معاملہ میں شکایت اور احتجاج اور ردعمل کا طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ خارجی احتجاج کی بنیاد پر تحریکیں چلانے کےلیے بجائے داخلی کی بنیاد پر اپنی تمام تحریکیں چلائیں۔
مسلمان اگر اس یک طرفہ اصول پر عمل کریں تو یہ ان کے لیے نہ صرف عمل معکوس (reverse course) کے مجرب طریقہ کو اختیار کر نے کے ہم معنی ہوگا، بلکہ یہ ان کے ۔ عین ثواب کی بات بھی ہوگی ۔ کیوں کہ یک طرفہ صبر پیغمبر اسلام کی سنتوں میں سب سے بڑی
کہ نے ہجرت ایک طرفہ صبر کی کارروائی تھی۔ حدیبیہ سے عمرہ کیے بغیر واپسی بھی اسی یک طرفہ صبر کے اصول پر عمل کرنا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ یک طرفہ اقدام کے ذریعہ نزاعی مسائل کو حل کیا۔ آج اگر مسلمان اس اصول پر عمل کریں تو یہ سنت رسول کی پیروی ہوگی ۔ اس بنا پر عظیم ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ بے حد اہم بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد مسلمان اس ملک میں نہایت اہم تخلیقی کردار (creative role) ادا کرنے کی حیثیت ان کے حق میں تمام ضروری حالات جمع ہو چکے تھے ۔ مگر مسلمان صبر کا ثبوت نہ دے اس لیے یہ تخلیقی کردار ادا کرنا بھی ان کے لیے مقدر نہ ہوسکا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ان کو ہم نے امام بنایا کہ وہ لوگوں کو امر حق کی ہدایت کرتے تھے، یہ اس وقت ہوا جب کہ انھوں نے صبر کیا (وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ ائمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا) اس دنیا میں قیادت وامامت کی واحد قیمت ہے ، مسلمانوں نے صبر کی قیمت ادا نہیں کی، اس لیے وہ نئے ہندوستان میں امام اور قا منصب بھی حاصل نہ کر سکے ۔