Al-Risala · March 1993

روزہ کیا ہے

Al-Risala, March 1993, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

روزہ کیا ہے۔ روزہ اپنے آپ پر قابو پانے کی تربیت ہے۔ وہ سیلف کنٹرول کی مشق سیلف کنٹرول کی اس مشق کے لیے ایک ایسی چیز کو چنا گیا ہے جو انساتھن کی تمام ضرورتوں سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے۔ یعنی کھانا اور پانی۔ رمضان کے مہینہ میں ۳۰ دن تک صبح۔ شام تک کا کھانا اور پانی چھڑا یا جاتا ہے تاکیا آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو کہ وہ چاہنے کے باوجود کسی چیز کو چھوڑ سکے۔ تاکہ وہ دنیا میں اس طرح وہے کہ جب وہ یہاں کسی چیز کو لے تو اصول کی بنیاد پر لے، اور جب کسی چیز کو چھوڑے تو اس کو بھی اصول کی بنیاد پر چھوڑے۔ اس کی چاہت اس کے شعوری فیصلہ کے تحت ہو نہ کہ شعوری فیصلہ سے آزاد۔

روزہ کے مہینہ میں کھانا اور پانی کا ترک حقیقتاً ایک علامتی ترک ہے۔ اس کا مطلب نہیں ہے کہ خاص اوقات میں ایک خاص مدت تک بس کھانا اور پینا چھوڑ دینے سے روزہ مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ اور اس کے بعد آدمی آزاد ہے کہ جو چاہے کرے نہیں۔ بلکہ روزہ میں کھانے اور پینے کا علامتی ترک زیادہ وسیع ترک کا آغاز ہے۔ روزہ کے مہینہ میں ایک چیز کو چھوڑنے کی تربیت دے کر آدمی کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ بقیہ مہینوں میں وہ زیادہ وسیع پیمانہ پر تمام غیر مطلوب چیزوں کو چھوڑ دے۔

آدمی ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ اس دنیا میں مختلف قسم کے مردوں اور عورتوں کے سا زندگی گزارتا ہے۔ ان سماجی تعلقات کے دوران طرح طرح کے ناموافق حالات پیش آتے ہیں یہ حالات آدمی کے اندر اشتعال اور رد عمل کی نفسیات ابھارتے ہیں۔

ایسے اوقات میں آدمی کیا کرے اور کیا نہ کرے، اسی کو بتانے کے لیے روزہ فرض کہ روزہ کا سبق یہ ہے کہ آدمی ایسے مواقع پر سیلف کنٹرول کا طریقہ اختیار کرے۔ جب کبھی اس کے دل میں دوسروں کے خلاف غصہ آئے یا دوسروں کے خلاف اشتعال پیدا ہو تو وہ ایسے جذبات کو روکے، وہ ایسے جذبات کو اپنے اندر ہی اندر دبالے۔ ایسے مواقع پر رہ اپنے مشتعل جذبات روکنے والا بنے نہ کہ ان کو ظاہر کر دینے والا۔

اسی طرح آدمی کے اندر طرح طرح کے جذبات ہیں۔ مثلاً حرص، طمع، حسد، گھمنڈ، فخر، خود غرضی یہ جذبات بجائے خود برے نہیں ہیں۔ کیوں کہ یہی جذبات ہیں جو آدمی کے اندر حرکت و عمل پیدا کرتے ہیں۔ ان جذبات کو اگر جائز حدود کے اندر استعمال کیا جائے تو وہ مفید ہیں۔ جائز حدود کی پروا کیے بغیر ان جذبات کو بے قید طور پر استعمال کیا جانے لگے تو وہ سماج کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں۔

روزہ اس بات کی تربیت ہے کہ آدمی ان جذبات کو ان کی حد کے اندر رکھے ۔ جذبات کو ان کی واقعی حد کے اندر استعمال کرے۔ وہ اپنے ان جذبات کے استعمال کی ایک وہ حد یہ ہے کہ یہ جذبات جب تک اپنے جائز مفاد کے لیے استعمال ہوں تو ان کا استعمال ٹھیک ہے۔ اور جب وہ اپنے جائز مفاد سے گزر کر دوسروں کو نقصان پہنچانے والے بن جائیں تو وہاں آدمی اپنے ان جذبات کو روک لے۔

روزہ کو حدیث میں صبر کا مہینہ کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ پابند زندگی گزارنے کی مشق ہے۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اس دنیا میں با اصول زندگی گزارے۔ بے قید اور بے اصول زندگی گزارنے سے پرہیز کرے۔ رمضان کے مہینہ میں تربیتی روزہ رہتا ہے اور بقیہ مہینوں میں اسی تربیت کے مطابق زندگی گزارنا۔

حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص روزہ رکھ کر کھانا اور پینا چھوڑ دے مگر وہ جھوٹ بولنا اور جھوٹ بول کر نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کا ظاہر تو کھانا اور پینا چھوڑنا ہے۔ مگر روزہ کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی جھوٹی باتوں کو اور دوسرے برے اعمال کو چھوڑ دے۔ روزہ در اصل برائیوں کو چھوڑنے کی تربیت ہے۔ کسی روزہ دار میں اگر روزہ کا ظاہری پہلو ہو مگر اس میں روزہ کا اندرونی اور اخلاقی پہلو نہ پایا جائے تو ایسے آدمی کا روزہ اسلام میں معتبر نہیں۔

Printed page