ذہن کی تعمیر
Al-Risala, March 1993, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
اقوام متحدہ کے اقتصادی اور ثقافتی ادارہ کے دستور میں جو باتیں درج ہیں، ان میں سے ایک اہم بات یہ ہے ۔ جنگوں کی ابتدا چونکہ ذہن سے ہوتی ہیں اس لیے یہ دراصل لوگوں کے ذہن ہیں جہاں قیام امن کا مورچہ بنایا جائے :
Since wars began in the minds of men, it is in the minds of men that the defence of peace must be constructed. (UNESCO constitution)
یہ نہایت صحیح بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ سڑک پر دو آدمیوں کا جھگڑا ہو یا میدان جنگ میں دو قوموں کا ٹکراؤ ، اس قسم کی تمام چیزیں ہمیشہ ذہن میں شروع ہوتی ہیں۔ کے ذہن میں غصہ ، اشتعال، انتقام اور نفرت کے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ بھڑک کر جب عملی صورت اختیار کرتے ہیں تو اسی کا نام جھگڑا یا جنگ ہے، اس لیے اگر ذہن کی سطح پر امن قائم کیا جاسکے تو عمل کی سطح پر بھی امن قائم ہو جائے گا۔ آدمی کے ذہن میں منفی خیالات ہمیشہ رد عمل کے طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ کسی آدمی نے سخت بات کہہ دی تو آپ کو غصہ آگیا۔ کسی سے ناخوش گوار تجربہ ہوا تو آپ مشتعل ہو گئے کسی نے آپ کے وقار کو مجروح کیا تو آپ کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ یہی سب چیزیں جو ابتداۓ ذہن کے اندر پیدا ہوتی ہیں، وہی باہر آکر جنگ اور فساد برپا کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں انفرادی لڑائی اور قومی جنگ دونوں کو روکنے کا واحد مؤثر طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہنوں کی تربیت کی جائے ۔ لوگوں کے اندر وہ مزاج بنایا جائے جس کو مذہب میں صبر کہا جاتا ہے۔ یہ مقصد اس طرح حاصل ہوگا جب کہ لوگوں کی منفی سوچ کو ختم کیا جائے اور ان کے اندر مثبت سوچ پیدا کی جائے۔ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنایا جائے کہ وہ اشتعال کی باتوں پر مشتعل نہ ہوں۔ ناخوش گوار چیزوں میں الجھنے کے بجائے ان سے اعراض کریں۔ وہ نفرت کے جواب میں محبت وہ ٹھنڈی سوچ کے تحت فیصلہ کریں نہ کہ جذباتی ابال کے تحت۔ ذہن کی اصلاح عمل کی اصلاح ہے اور ذہن کی تعمیر زندگی کی تعمیر۔