دوسرا لفظ
Al-Risala, March 1993, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
تاتاری قبائل چنگیز خاں کی رہنمائی میں ۶۱۶ھ میں مسلم دنیا پر حملہ آور ہوئے۔ پہلے انھوں نے عراق اور خراسان کو تباہ کیا۔ اس کے بعد وہ مزید بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ چنگیز خاں کے پوتے ہلاکو خاں کے زمانہ میں ۶۵۶ھ میں وہ بغداد میں داخل ہوئے اور انتہائی وحشیانہ طور پر عباسی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔
مورخ عزالدین ابن الاثیر ۵۵۵ھ میں عراق میں پیدا ہوئے۔ ۶۳۰ھ میں عراق (موصل) ہی میں ان کی وفات ہوئی۔ ابن اثیر نے مذکورہ تاتاری دور کے بڑے حصہ کو خود اپنی آنکھوں سے اس طرح وہ اس دور کے عینی گواہ ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں ۶۱۷ھ کے واقعات کے تحت تاتاری فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تاتاریوں کے عالم اسلام پر حملہ آور ہونے کا سبب یہ تھا کہ خراسان کے مسلم حکمران خوارزم شاہ نے تاتاریوں کی ایک تجارتی جماعت کو قتل کر دیا تھا۔ سے غصہ ہو کر انھوں نے حملہ کر دیا۔
پھر لکھتے ہیں کہ اسلامی ممالک کی طرف تاتاریوں کے خروج کا اس کے علاوہ اور سبب بھی بتایا جاتا ہے جس کو یہاں لکھا نہیں جاسکتا، پس جو ہوا سو ہوا، میں اس کا ذکر نہیں کروں گا۔ گمان کر لو اور سبب نہ پوچھو ( وقيل في سبب خروجهم الى بلاد الاسلام غير ذلك مما لا يذكر في بطون الدفاتر)
فكان ما كان مما لست أذكره فظن خيرا ولا تسأل عن الخبر (الكامل فی التاریخ (۳۶۲/۱۲)
ابن اثیر نے ۶۱۷ھ کے واقعات کے تحت دوسرے سبب کو چھپا دیا تھا۔ کیوں کہ اس کا تعلق بغداد کے خلیفہ ناصر لدین اللہ سے تھا اور وہ اس وقت زندہ تھا، تاہم ابن اثیر کو مزید ملتی۔ یہاں تک کہ ۶۲۲ھ میں ناصر لدین اللہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد جب ابن اثیر نے ۶۲۲ھ کے تحت اپنی تاریخ کے صفحات لکھے تو اس میں انھوں نے وہ بات درج کر دی جس کا ذکر انھوں نے اس سے پہلے نہیں کیا تھا۔ ابن اثیر کے وہ بعد کے الفاظ یہ ہیں :
خلیفہ الناصر لدین اللہ نے تقریباً ۷۰ سال کی عمر پائی اور ۴۶ سال سے زیادہ حکومت کی۔ عمر کے آخری تین سال وہ حرکت کے قابل نہیں رہا تھا، اس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی تھی اور دوسری آنکھ کی بصارت بہت کم ہو گئی تھی، اسی حال میں رمضان ۶۲۲ھ (۱۲۲۵ء) میں اس کا انتقال اس کی موت کے ۲۸ سال بعد تاتاریوں نے بغداد کو تباہ کر دیا۔ ابن اثیر اس کی بعض نامحمود عادتوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
فكان غرام الخليفة بهذه الاشياء من پس ان چیزوں کی طرف خلیفہ کی رغبت بہت سنگین وان كان سبب بات تھی۔ اور اگر وہ سبب صحیح ہو جو بھی لوگ ما ينسبه العجم صحيحاً من ناصر لدین اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہی تھا انه هو الذی ا طمع التتر فی البلاد جس نے تاتاریوں کو مسلم علاقہ پر حملہ کے لیے ابھارا وراسلهم في ذلك۔ فهو الطامة الكبرى اور اس کے بارہ میں ان کے پاس پیغام بھیجا تو وہ التي يصغر عندها كل ذنب عظيم اتنی بڑی مصیبت تھی کہ اس کے آگے ہر بڑا گناہ ہیچ ہے۔
(الكامل في التاريخ ۱۲ / ۴۳۰)
ابن اثیر نے اپنی کتاب میں دوسرا لفظ لکھ کر اپنے پہلے لفظ کی تصحیح کر دی۔ اس دنیا میں اور بھی بہت سے ابن اثیر ہیں جو غلط طور پر پہلا لفظ لکھ دیتے ہیں، مگر اس کے بعد انہیں یہ جرات نہیں ہوتی کہ وہ اس کی تصحیح کرتے ہوئے دوسرا لفظ تحریر کریں۔ لوگوں کو شاید معلوم نہیں کہ وہ اپنے قلم سے اگر دوسرا لفظ نہ لکھیں تب بھی ان کا دوسرا لفظ ضرور لکھا جانے والا ہے۔ مگر ایسی صورت میں یہ دوسرا لفظ لکھنے والا خدا کا فرشتہ ہوگا۔ جو شخص اپنا دوسرا لفظ خود لکھے، وہ پکڑ سے بچ گیا۔ لیکن جس آدمی کا دوسرا لفظ فرشتے لکھیں اس کے لیے خدا کی پکڑ سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
اسلامی مرکز کے تحت بیت المال قائم ہے۔ اس کی رقم مقرر مددوں میں خرچ کی جاتی ہے۔ زکوٰۃ اور صدقات اور عطیات کی رقمیں اس کے لیے روا نہ فرمائیں۔