Al-Risala · March 1993

سکریٹری اسلامی مرکز

Al-Risala, March 1993, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

الامام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری (۲۵۶-۱۹۴ھ) کی کتاب صحیح البخاری حدیث کی مشہور ترین کتاب ہے۔ علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتابیں دو ہیں، صحیح بخاری اور صحیح مسلم۔ اور صحیح بخاری ان دونوں میں زیادہ صحیح ہے (اتفق العلماء على أن اصح الكتب بعد القرآن الصحيحان : البخاري ومسلم وكتاب البخاري اصحھما) فتح الباری امام البخاری نے چھ سو ہزار (چھ لاکھ) حدیثوں کے ذخیرہ میں سے تقریباً ۷۲۷۰ حدیثیں منتخب کیں اور ان سے یہ مجموعہ تیار کیا ہے۔ مزید یہ کہ ہر حدیث کو لینے سے پہلے استخارہ کیا اور دو رکعت نماز پڑھی (صفحہ ۹) حتی کہ خواب میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور انہیں خصوصی طور پر اپنے مجموعہ احادیث کی صحت کے بارہ میں بشارت حاصل ہوئی۔ شاعر نے کہا کہ امام بخاری نے جن حدیثوں کو اپنی کتاب میں جمع کیا ہے ، گویا کہ انہوں نے ان احادیث کو براہِ راست خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے : كأن البخاري في جمعه تلقى من المصطفى ما اكتسب ان ساری خصوصیات کے باوجود صحیح بخاری غلطیوں سے پاک نہیں، چنانچہ علماء حدیث نے صحیح بخاری میں متعدد نہایت واضح قسم کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ مثال کے طور پر صحیح بخاری کی کتاب الجنائز کا ایک باب ہے : إحداد المرأة على یعنی عورت کا اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور شخص کی موت پر سوگ منانا۔ کی دوسری حدیث یہ ہے :

عن زينب ابنة أُم سلمة قالت۔ زینب بنت ابی سلمہ کہتی ہیں کہ جب ابو سفیان لما جاء نعی ابی سفیان من الشام کی موت کی خبر شام سے آئی تو ام حبیبہ نے دعت اُم حبیبة رضی اللہ عنها بصفرة تیسرے دن ایک زرد خوشبو منگوائی۔ پھر اس کو في اليوم الثالث فمسحت عارضیها اپنے دونوں رخساروں اور دونوں بازووں انی کنت عن هذا پر ملا اور کہا۔ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی مگر میں

لغنية لولا انی سمعتُ النبی صلی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے علیہ وسلم يقول : لا يحلُّ لامراة سنا ہے کہ کوئی عورت جو اللہ پر اور آخرت تؤمنُ بالله واليوم الآخر أن کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز تحِدُّ على ميت فوق ثلاث إلا نہیں کہ وہ کسی مردہ شخص پر تین دن سے زیادہ على زوج ، فإنها تُحدُّ عليهِ سوگ منائے ، سوا اپنے شوہر کے ، کیوں کہ اربعةَ أشهرٍ وعشراً - اس پر وہ چار مہینہ اور دس دن تک سوگ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابو سفیان بن حرب کا انتقال شام میں ہوا۔ بیان واقعہ کے مطابق نہیں۔ کیوں کہ متفقہ روایات کے مطابق ، حضرت ابو سفیان کا انتقال مدینہ میں ۲۱ھ میں ہوا۔ جو واقعہ مدینہ میں پیش آیا ، اس واقعہ کو اس روایت میں شام سے منسوب کیا گیا ہے (فتح الباری ۲/ ۴۷ ، ۱۷۵)

اس فروگزاشت پر رد عمل کا ایک غیر سنجیدہ طریقہ ہے ، اور دوسرا سنجیدہ طریقہ۔ غیر سنجیدہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو شوشہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اور سنجیدہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔

جو آدمی اس فروگزاشت کو شوشہ بنائے وہ اس کی بنیاد پر پوری صحیح بخاری کو مشتبہ قرار دے سکتا ہے۔ وہ امام بخاری کے علم کا مذاق اڑائے گا۔ وہ ان کے احتیاط کی روایتوں کو فرضی قصے قرار دے گا۔ وہ کہے گا کہ جب بخاری کو اتنا بھی نہیں معلوم تھا کہ ابو سفیان کا انتقال شام میں ہوا یا مدینہ میں تو ان کی مرتب کی ہوئی کتاب پر کیوں کر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس سنجیدہ آدمی اس کو ایک انسانی سہو قرار دے کر کہے گا کہ اس سے اصل کتاب پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ امام بخاری اس حدیث کو جس ترجمۃ باب کے تحت لائے ہیں، اس کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس سے ان کی منشا یہ بتانا ہے کہ کسی عورت کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور شخص کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ اصل مدعا مذکورہ تشریح کے باوجود ثابت ہے۔ ابو سفیان کی وفات مدینہ میں ہو تب بھی اور شام میں ہو تب بھی۔

Printed page