ناقص، جامع
Al-Risala, March 1993, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص نے کہا کہ محبت نام ہے : "دل سے چاہنے کا۔ " دوسرا آدمی بولا کہ تم نے محبت کا بہت ناقص مفہوم بیان کیا۔ محبت صرف دل سے چاہنے کا نام نہیں۔ محبت کا جامع تصور دل سے چاہنا، جس سے محبت ہے اس سے ملنا، سلام ومصافحہ کرنا، اس کی تواضع کرنا، اس کی خدمت کرنا، اس کی خاطر دوسروں سے جنگ کرنا۔ اس کے نام کا ڈنکا بجانا، اس کا استقبال کرنا، وغیرہ۔
دوسرے آدمی کے نزدیک بظاہر اس کا اپنا تصورِ محبت جامع ہے اور پہلے شخص کا تصورِ محبت ناقص۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سوچ بجائے خود غلط ہے۔ محبت کے معاملہ میں جامع اور ناقص کی تقسیم نہیں۔ بلکہ حقیقی اور غیر حقیقی کی تقسیم ہے۔ آپ کو کسی آدمی سے قلبی تعلق ہو جائے تو کہا جائے گا کہ آپ کو اس سے محبت ہے۔ یہ محبت اگر سچی ہو تو مختلف مواقع پر اس کے تقاضوں کا ظہور ہوگا۔ لیکن اگر قلبی محبت نہ ہو اور آدمی اوپری طور پر فہرست محبت کے مذکورہ افعال کرے تو وہ ظاہر داری ہوگی نہ کہ فی الواقع فہرستِ محبت کی تکمیل۔ یہی معاملہ دین کا ہے۔ "دین کا ناقص تصور" اور "دین کا جامع تصور" سراسر مبتدعانہ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ اندازِ تعبیر قرآن اور حدیث میں کہیں استعمال نہیں اگر دین کے تصور کو بتانے کے لیے یہ کوئی صحیح تشریح ہوتی تو قرآن وحدیث میں ضرور یہ الفاظ پائے جاتے۔ مگر سارے قرآن میں کہیں بھی اس قسم کے الفاظ موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین میں صحیح تقسیم حقیقی اور غیر حقیقی کی ہے۔ مطلوب دین داری وہ ہے جو اللہ سے تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہوئی ہو۔ اگر آدمی کے دل میں سچا تقویٰ پیدا ہو جائے تو آدمی کا پورا سلوک اسی کے رنگ میں ڈھل جائے گا۔ دین کی حقیقت اس کے تمام قول وفعل میں ظاہر ہوتی چلی جائے گی ۔
اس کے برعکس اگر آدمی کے اندر قلبی تقویٰ پیدا نہ ہو تو وہ یا تو سرکش انسان ہوگا یا منافق انسان۔ سرکش انسان کھلم کھلا حکم الہی سے سرتابی کرتا ہے۔ اور منافق انسان اندر سے
خالی ہوتا ہے مگر اوپری طور پر دکھاوے والے اعمال کرتا ہے۔ مگر دینی حقیقت کے بغیر دینی ظاہر داری کی کوئی قیمت نہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت کے مطابق ( لا يكلف الله نفسا الا وسعها ) اللہ کسی شخص پر صرف اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے جتنا اس کو دیا ہے ( لا يكلف الله نفسا الا ما آتاها) دوسری جگہ فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہو سکے ( فاتقوا الله ما استطعتم)
اس طرح کی ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی واجبات کا تعلق تمام تر حالات سے ہے۔ کسی مومن یا کسی مومن گروہ کی دینی ذمہ داری باعتبار استطاعت ہے نہ کہ باعتبار فہرست۔ ایسا نہ ہو تو ہر شخص کا دین ناقص نظر آئے گا، حتیٰ کہ انبیاء کرام کا بھی۔ مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اجتماعی احکام نافذ نہیں کیے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے نماز با جماعت قائم نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو والدین کے حقوق ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اسی طرح ہر پیغمبر کا دین ناقص اور نا مکمل قرار پائے گا۔ کیوں کہ کسی بھی پیغمبر کے یہاں فہرست کے اعتبار سے واجبات دین کے کامل نفاذ کی مثال موجود نہیں۔ دین کی اصل حقیقت اخلاص ہے۔ جس آدمی کے اندر اخلاص ہو وہ کامل دین پر ہے اور جس آدمی کے اندر اخلاص نہ ہو وہ ناقص دین پر۔