Al-Risala · March 1993

فرد اور سماج

Al-Risala, March 1993, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ یک زوجگی کے حامی ہیں ان کا کہنا ہے کہ دوسری بیوی جب گھر میں آئے گی تو وہ شوہر میں اور اس کے اثاثہ میں حصہ دار بن جائے گی ۔ عقد ثانی سے پہلے زوجہ اول ہی شوہر کی اور اس کے اثاثہ کی تنہا حق دار ہوتی ہے ۔ شوہر کی محبت ، شوہر کا وقت ، شوہر کی آمدنی ، شوہر کی جائداد، ، ہر چیز کی وہ تنہا مالک ہوتی ہے ۔ مگر دوسری بیوی جب گھر میں آئے گی تو وہ ہر چیز میں حصہ بٹائے گی ۔ اس طرح گویا زوجہ ثانی کی گھر میں آمد زوجہ اول کی حق تلفی کا سبب ہے۔ مگر یہ نقطہ نظر درست نہیں ۔ یہ ان سماجی معیاروں (social norms) کے سراسر خلاف ہے جن کو تمام دنیا میں مسلمہ طور پر بنیادی اصول حیات کی حیثیت سے مان لیا گیا ہے ۔ زمانہ میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ فرد کے حقوق سماج کے حقوق کے تابع ہیں۔ کے تقاضوں سے بالکل آزاد نہیں ۔ اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ تعدد ازدواج ایک سماجی ضرورت ہے تو اس کے بعد اصولاً کسی عورت کو یہ حق نہیں رہ جاتا کہ وہ اپنی انفرادی خوشی کے لیے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دے۔

انیسویں صدی کے نصف اول میں یورپ میں وہ تحریک اٹھی جس کو فرد پسندی (individualism) کہا جاتا ہے ۔ اس کے علم برداروں نے فرد کے لیے لامحدود آزادی کا مطالبہ مگر جلد ہی اس غیر حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کے تلخ نتائج ظاہر ہوئے ۔ چنانچہ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں اس کا رد عمل ظاہر ہوا اور وہ جوابی تحریک اٹھی جس کو اجتماع پسندی (collectivism) کہا جاتا ہے ۔ اس تحریک کے حامیوں نے بتایا کہ فرد کو لامحدود آزادی دینا موجودہ دنیا میں قابل عمل نہیں ہے ۔ فرد کی لامحدود آزادی نہ صرف سماج کے لیے مہلک ہے بلکہ آخری نتیجہ کے طور پر وہ خود فرد کی ترقی اور کامیابی میں

بیسویں صدی کے نصف آخر میں اب کوئی بھی شخص لامحدود فرد پسندی کا حامی نہیں۔ اب عام طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ فرد اور سماج کے حقوق کے درمیان توازن ہونا ضروری

اگر دونوں کی سرگرمیوں کے درمیان توازن موجود نہ رہے تو بالآخر دونوں ہی ہلاکت سے دوچار ہوں گے۔

ایک شخص کو حق ہے کہ وہ سڑک پر اپنی گاڑی چلائے۔ مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ دائیں اور بائیں دونوں طرف اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ اس کو بہر حال ایسا کرنا ہوگا اپنی گاڑی چلانے کے ساتھ دوسروں کی گاڑیوں کی رعایت کرے ۔ ایک شخص کو بزنس کی اجازت ہے مگر سماج کے استحصال کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی۔ ایک شخص کو اپنی مطلوب چیز حاصل کرنے کا حق ہے۔ مگر جہاں دوسروں کا مطلوب متاثر ہونے لگے وہاں اس کو اپنی طلب کو حد میں رکھ کر دوسروں کو اپنی طلب پورا کرنے کا موقع دینا ہوگا۔

فرد پسندی ابتدائی طور پر ایک جائز چیز ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ فرد پسندی کو سماجی تقاضوں کے ماتحت رکھا جائے نہ کہ اس سے آزاد۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کی کمائی پوری کی پوری اس کی ملکیت ہو۔ مگر سماجی ضرورتوں کی بنا پر اس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ بطور ٹیکس ادا کرے۔

مذکورہ بنیادی قاعدہ کو سامنے رکھا جائے تو تعدد ازدواج کا اصول کوئی منفر د اصول نہیں، یہ عین وہی اصول ہے جو عملاً زندگی کے تمام دوسرے شعبوں میں ہمیشہ رائج رہا ہے۔ میں ہمیشہ یہ مانا گیا ہے کہ فرد پر لازم ہے کہ وہ سماج کے مسائل میں حصہ دار بنے۔ کے مطابق کسی مرد کی زوجہ اول کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سماج کے مسائل میں شرکت سے اس قسم کے دوسرے کئی اشتراک کو وہ پہلے ہی سے قبول کیے ہوئے ہے۔ پھر ایک اور اشتراک سے انکار کرنے کا اسے کیا حق ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سماج کا فرد ہونا ہی کسی مرد یا عورت پر یہ ذمہ داری ڈال دیتا ہے کہ وہ اپنی انفرادیت کو اس حد تک نہ لے جائیں کہ وہ اجتماعیت کے تقاضوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ دوسری بیوی پر راضی ہونا، مخصوص حالات میں، پہلی بیوی کے لیے ایک سماجی مسئلے میں اشتراک کے ہم معنی ہے۔ اور پہلی بیوی کی انسانیت کا تقاضا ہے کہ وہ اس اشتراک کو دل کی آمادگی کے ساتھ قبول کرلے۔

Printed page