Al-Risala · March 1993

سفر نامه ۔ ۲

Al-Risala, March 1993, pp. 31–47

By Maulana Wahiduddin Khan

حق کی حیثیت یہی ہے ۔ دعوتِ حق لوگوں کو جہنم سے بچاکر جنت میں داخل کرنا چاہتی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے سلفی مفکرین نے دعوت کو بھی چھیننے کا ایک معاملہ بنا دیا ہے۔ انھوں نے دعوت کی تعبیر سیاست کے انداز میں کی ۔ انھوں نے دعوت کا مطلب یہ بتایا کہ اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی قانون کو زمین پر نافذ کیا جائے ۔ دعوتِ اسلامی کی یہ تعبیر مجرمانہ حد تک غلط ہے۔ اس کے نتیجہ میں داعی اور مدعو کے درمیان غیر ضروری سیاسی نزاع قائم ہوگئی ۔ وہ ربانی مہم جو دراصل دینے کی مہم تھی ، وہ بالکل غلط طور پر چھینے کی مہم بن کر رہ گئی ہے۔

عربوں کی ایک مجلس میں مسلمانوں کے کردار پر گفتگو ہورہی تھی ۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ موجودہ مسلمانوں میں کردار کی بہت کمی ہوگئی ہے ، اس لئے ان کے درمیان کوئی بڑی مہم کامیاب نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ کردار ، کردار کہنے سے کردار پیدا نہیں ہوا ۔ جس طرح درخت ، درخت کہنے سے درخت نہیں اگتا ۔ درخت بیج بونے سے پیدا ہوتا ہے ۔ یہی انسانی کردار کا معاملہ بھی ہے ۔ انسانی کردار کا ایک بیج ہے ، اور وہ بیج مقصد ہے ۔ مقصد کا شعور ہی آدمی کے اندر وہ اعلیٰ اوصاف پیدا کرتا ہے جس کو کردار کہا جاتا ہے ۔ میں نے کہا کہ مقصد جتنا زیادہ بڑا ہوگا ، کردار بھی اتنا ہی بڑا بنے گا ۔ موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے مقصد کا احساس کھودیا ہے، اس لئے وہ کردار بھی کھوئے ہوئے ہیں :

بقدر ما يكون الهدف عظيماً فسوف تكون الأخلاق عظيمة ۔ ان أكبر مشكلة في المسلمين المعاصرين أنهم قد فقدوا الهدف العظيم لهذ أفهم قد فقدوا ایک مجلس میں میں نے کہا کہ آجکل مسلمانوں کے جس اجتماع میں جائیے یا جس مجلس میں بیٹھے، ہرجگہ " اعداء اسلام" کے بارہ میں باتیں سننے کو ملتی ہیں ۔ میرے نزدیک یہ طرزِ فکر سطحی بھی ہے اور خلافِ اسلام بھی ۔ اگر موجودہ صورتِ حال کو خالص عقلی اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے ساتھ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ ان کی اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے ۔ اور اگر اس کو دینی اعتبار سے جانچا جائے تو یہ خدا کی طرف سے انتباہ ہے تاکہ مسلمان جاگیں اور اپنی دینی کو تاہیوں کو دور کریں ۔ مگر ان چیزوں کو اعدادِ اسلام کے خانہ میں ڈالنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال سے مسلمانوں کے اندر

نہ تعمیر خویش کا جذبہ ابھرا اور نہ دینی احتساب کا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ طرف فکریمل طور پر شیطان کا وسوسہ ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ مسلمان جھوٹی شکایتوں میں کھوئے رہیں اور اپنی اصلاح کی طرف سے غافل ہو جائیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اسلامی دعوت کا نشانہ فرد ہے نہ کہ جماعت۔ اسلام میں جہاد اور قتال جیسے اعمال بھی ہیں جو کہ سرا سر اجتماعی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ خیال صحیح نہیں۔ میں دعا اور عبادت سے لے کر جہاد و قتال تک ہر عمل ذاتی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق ہر عمل کی قیمت عامل کی نیت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ہر آدمی کے عمل کو اندرونی نیت کے معیار پر جانچا جاتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر عمل، اپنے آخری تجزیہ میں ، ذاتی اور شخصی عمل ہے۔ کسی عمل کا اجتماعی پہلو اس کا اضافی پہلو ہے نہ کہ اس کا حقیقی پہلو۔

ایک صاحب نے پر جوش تقریر کی۔ ان کی عربی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اعداء اسلام صرف طاقت سے ڈرتے ہیں ، اور طاقت ہی کے ذریعہ ان کو شر انگیزی سے روکا جا سکتا ہے۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم طاقت فراہم کریں۔ ان کے نزدیک یہی دعوت اسلامی کا سب سے بڑا نکتہ انھوں نے کہا کہ دعوت اس کا نام ہے کہ امت کو طاقت ور بننے کی طرف متوجہ کیا جائے الدعوة هي توجيه الامة الى القوة ، اس تقریر کو سن کر مجھے نظیر اکبر آبادی کا شعر یاد

ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج میں جانتے بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں ایک شخص بھوکا ہو تو اس کو چاند سورج بھی روٹی کی صورت میں دکھائی دیں گے۔ یہی حال موجودہ مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ مسلمانوں پر دشمن کا تصور اتنا چھا گیا ہے کہ ان کو ہر طرف بس دشمن کی پرچھائیاں نظر حتی کہ انھوں نے اسلام کو اپنے اسی ذہنی نقشہ میں ڈھال لیا ہے۔ قرآن و سنت میں وہ ” دعوت “ کا لفظ دیکھتے ہیں تو فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ اس کا مطلب جنگی طاقت بننے کی دعوت ہے ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اختلاف موجودہ دنیا کا ایک ناگزیر یہ ظاہر ہے ۔ وہ قیامت تک باقی رہے گا۔ ہمارا اصل کام حالت اختلاف کو ختم کرنا نہیں ہے ، کیوں کہ وہ ممکن نہیں۔ ہمارا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنائیں کہ وہ اختلاف کو پر امن دائرہ میں حل کرنے کی کوشش

موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انھوں نے برداشت کو کھو دیا ہے۔ پیدا ہوتے ہی فوراً وہ جارحیت پر اتر آتے ہیں۔

میں نے کہا کہ روس اور امریکہ کے درمیان اختلاف تھا۔ دونوں کے پاس انتہائی طاقتور ہتھیار موجود تھے۔ مگر اس کے باوجود وہ سختی کے ساتھ اس پر قائم ہیں کہ ہر اختلاف کو میز پر طے کرنے کی کوشش کریں۔ خلیج میں عراق اور کویت کے درمیان اختلاف تھا۔ عراق کے پاس اتفاق سے کچھ اس نے فوراً کویت کے خلاف فوجی اقدام کر دیا۔ دوسری طرف اسی معاملہ میں امریکہ کو عراق سے شدید ترین اختلاف ہے۔ وہ اپنی فوجیں لئے ہوئے خلیج میں کھڑا ہوا ہے۔ مگر کئی مہینے گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس نے عراق پر فوجی حملہ نہیں کیا۔ مسلمانوں کے اسی مزاج نے انھیں موجودہ دنیا میں برباد کر رکھا ہے۔

اخوانی طرز فکر کے کچھ عربوں سے ملاقات ہوئی۔ ان سے گفتگو کے دوران مصر کے لیڈر سید قطب کا ذکر آیا۔ اخوانی حلقہ سید قطب کی بے حد تعظیم کرتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے سید قطب کو پڑھا ہے ۔ میں نے ان کے یہاں علم اور گہرائی نہیں پائی۔ یہ دراصل جمال عبدالناصر تھے جنھوں نے ان کو بلند ناصر نے ان کو قطب سے شہید قطب بنا دیا۔ ناصر نے اگر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہوتا تو وہ ایک عام آدمی بن کر رہ جاتے۔ مگر جب ناصر نے ان کو قتل کر دیا تو انھوں نے ان کو ہیرو بنا دیا۔ طرح جس طرح جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دے کر بھٹو کو ہیرو بنا دیا : قد قرأت لسيد قطب ۔ فما وجدت عنده علماً و عمقاً ۔ انما هو جمال عبد الناصر الذى رفعه ، فصنعه من قطب الى الشهيد قطب. لو تركه لما ت كشخص عادی ولكن لما قتله جعله بطلاً ، كما ان ضياء الحق جعل بوتو بطلا بمثل هذا العمل کچھ عربوں سے میری ذاتی زندگی کا ذکر آیا۔ میں نے کہا کہ میری زندگی کا سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ دنیوی معاملہ میں میں نے جو کچھ چاہا ، عملاً میرے ساتھ اس کے خلاف معاملہ کیا گیا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میری مثال اردو شاعر عرفانی بدایونی کے اس شعر کی سی ہے : میری ہوس کو عیش دو عالم بھی تھا قبول تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دکھا ہوا طبع، مکان، استعداد، قبول، نعمہ، العطام، انة اكر من ثانين دو حبته قال اخبرنا

یہاں سیکڑوں لوگ جمع تھے اور سب دین کے نام پر یہاں آئے تھے۔ مگر میں نے کسی نشست میں لوگوں کی زبان سے موت اور آخرت کی بات نہیں سنی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کہ لوگوں کو اس حقیقت کبریٰ کا علم ہی نہیں۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ عربی شاعر نے کہا تھا : ستُبدی لک الایام ماكنت جاهلا زمانہ تم کو عنقریب وہ چیز بتا دے گا جس سے تم بے خبر تھے، شاعر نے یہ بات دنیوی معنی میں کہی تھی۔ مگر یہی بات زیادہ شدت کے ساتھ موت اور آخرت کے بارہ میں صحیح ہے۔ آئے گی اور جب قیامت برپا ہوگی تو لوگ اچانک ان باتوں کو اپنے سامنے دیکھ کر دہشت زدہ ہو جائیں گے جن کی آج انھیں خبر دی جا رہی ہے۔ مگر وہ بے پروائی کے ساتھ اس کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتے تھے جہاں ان کے خیال کے مطابق ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔ وہ کچھ اور نوجوانوں کے ساتھ ایک خفیہ تحریک چلا رہے تھے تاکہ حکومت کا تختہ الٹ سکیں۔ کئی سال کی کوششوں کے بعد جب انھیں کامیابی نہیں ملی تو انھوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ خود کشی کر لیں۔ عین اسی زمانہ میں انھیں انگریزی الرسالہ اور عربی کتابیں مل گئیں۔ ان کا مطالعہ کرتے ہی ان کا ذہن بدل گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب مجھ کو نئی زندگی حاصل ہو چکی ہے۔ اسلامی مرکز کے مشن کے بارہ میں کہا :

ان هذه الدنيا مثل الصحراء، ولا يوجد بها اى شيئ. وهذه الرسالة هي مثل الشجرة. فلا يوجد اى شيئ غيرها. فيجب ان نقوم لهذه الرسالة بكل قوة. ایک عرب جو اخوانی فکر کے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ امراء المسلمین سے سیاسی نزاع کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ حالاں کہ امام احمد بن حنبل جیسے جلیل القدر محدث نے عباسی حکومت سے نزاع کی۔ میں نے کہا کہ آپ کا حوالہ درست نہیں۔ امام احمد نے کبھی بھی عباسی حکومت سے سیاسی نزاع نہیں کی۔ یعنی انھوں نے کبھی یہ مہم نہیں چلائی کہ وہ عباسی خلافت کو توڑ کر نیا سیاسی نظام بنائیں. ان کا اختلاف صرف ایک مخصوص اعتقادی مسئلہ میں تھا۔ اس کے آگے ان کا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں تھا۔

یہ اسی قسم کا ایک واقعہ تھا جو ہندوستان میں پیش آیا۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ایک مسلم

مطلقہ عورت کے حق میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سے ماہانہ نفقہ حاصل کرنے کا حق رکھتی ہے۔ فیصلہ ملکی قانون کے تحت دیا گیا تھا۔ مگر وہ شریعت کے خلاف تھا۔ علما نے اس کے خلاف خالص غیر سیاسی انداز میں ایک مہم چلائی یہاں تک کہ حکومت نے نیا ایکٹ بنا کر مسلم مطلقہ عورتوں کو اس ملکی قانون سے مستثنیٰ قرار دیدیا۔ اسی پر امام حنبل کے معاملہ کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان پر بے اختیار یہ فقرة آگیا آہ، وہ لوگ جو جہنم کے قابل بھی نہیں، مگر وہ امیدوار ہیں کہ ان کے لئے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔ کے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔

۸ ستمبر ۱۹۹۰ کو ایک واقعہ ہوا۔ اس کے بعد میں نے کچھ عرب نوجوانوں سے کہا کہ قرآن کا ایک اسلوب یہ ہے کہ ایک آیت میں بظاہر ایک متعین بات کہی جاتی ہے۔ مگر وہ دراصل ایک کلیہ کا جزئی انطباق ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے : ما ننسخ من آية ۲ او ننسها نأت بخير منها او مثلها (البقرہ ۱۰۶) ظاہر الفاظ کے اعتبار سے یہاں صرف نسخ آیت کا ذکر ہے۔ مگر وسیع تر معنوں میں وہ اللہ تعالیٰ کے ایک عمومی قانون کا بیان ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دنیا میں جب بھی کسی صورت حال کو بدلا جاتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی جگہ کسی نئی بہتر صورت کو لایا جائے۔ اس اعتبار سے قرآن کی مذکورہ آیت کی تفسیر کی جائے تو وہ اس طرح ہوگی :

ان الله سبحانه وتعالى اذا اراد ان يغير الاحوال فما يغييرها الا ويأتى بماهو احسن منه ۔ هذا هو الاسلوب الالهی ۔ وكذلك فعل في القرآن فقال (ماننسخ من آية او ننسها نأت بخير منها او مثلها)

ایک مجلس میں کچھ واقف کار عربوں نے میری ذات کے بارہ میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ جو اسلامی مشن میں چلا رہا ہوں، اگر میں اس کو دریافت نہ کرتا تو میں زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ ایک صاحب نے اس کو سن کر پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے ۔

میں نے کہا کہ میں فطری طور پر ایک کمال پسند (perfectionist) آدمی ہوں کمال سے کم (less than perfect) پر راضی ہونا میرے لئے ممکن نہیں۔ جب میں سن شعور کو پہنچا تو میں نے اپنے آپ کو دو چیزوں کے درمیان پایا۔ ایک مادی دنیا۔ دوسرے تقلیدی مذہب ، موجودہ دنیا

کی ہر چیز کمال سے کم ہے۔ کمال (perfect) کا حصول صرف آخرت میں ممکن ہوگا۔ چنانچہ میں اپنے آپ کو دنیا پر راضی نہ کر سکا۔ تقلیدی مذہب انسانی ملاوٹوں کا مذہب ہے۔ سچا مذہب فکری اعتبار سے کامل ہوتا ہے۔ مگر انسانی ملاوٹ نے تقلیدی مذہب کو کمال سے کم بنا دیا ہے۔ چنانچہ میں اس پر بھی راضی نہ ہو سکا ۔ اس کے بعد اللہ کی توفیق سے میں نے اس دین کو دریافت کیا جو ابتدا پیغمبر پر اترا تھا اور پوری طرح کمال کی صفت رکھتا تھا۔ اس دریافت نے میرے لئے زندگی کو ممکن بنا دیا۔

۳۰ ستمبر کی شام کو لیبیا کا ایک زرعی فارم ( (المزرعۃ) ) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ شہر سے ۳۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ فارم کے پرسکون ماحول میں چند گھنٹے گزارے۔ لیبیا کی زمین نہایت زرخیز ہے۔ مگر یہاں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پانی کی وہ فراوانی نہیں ہے جو ہندوستان میں ہے۔ یہاں کی زمین میں ہر قسم کی عمدہ فصل اگانے کی صلاحیت ہے۔ وافر مقدار میں ملنے لگے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لیبیا میں کچھ زرعی بیماریاں پھیل گئی ہیں ۔ یہ خاص طرح کے کیڑے ہیں جو ہوا میں سفر کر کے ادھر سے اُدھر پہنچتے رہتے ہوں۔ وہ درخت کی لکڑی کے اندر گھس جاتے ہیں اور اس کو کھاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ درخت سوکھ جاتا ہے۔ میں نے یہاں کئی درخت دیکھے جو جزئی یا کلی طور پر سوکھ گئے تھے۔ ایک مغربی ماہر نے ان کیڑوں کو ختم کرنے کا منصوبہ دیا ہے۔ مگر اس پر عملدرآمد کے لئے ایک سو ملین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

تاہم بعض درختوں پر ان کیڑوں کا بالکل اثر نہیں ہوتا۔ مثلاً فارم کے اندر کھجور کے چھوٹے بڑے مگر وہ مکمل طور پر سر سبز وشاداب تھے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ اخلاقی اور دینی بیماریاں صرف ان لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہیں جو ان سے متاثر ہونے کا مزاج رکھتے ہیں۔ جن کے اندر تاثر کا مزاج نہ ہو وہ اخلاقی بیماریوں کے ہجوم میں بھی اس سے محفوظ رہیں گے۔ ایک مجلس میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جو لوگ اسلام کی تشریح سیاسی انقلاب کی اصطلاحوں میں کرتے ہیں، انھوں نے بہت بڑی جسارت کی ہے۔ انھوں نے بطور خود اللہ کے منصوبہ کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ کے منصوبہ کے مطابق ، یہ دنیا پوری کی پوری دار الامتحان ہے۔ گھر میں ہو یا بازار میں ، تنہا ہو یا دوسروں کے ساتھ ہو۔ وہ عام انسان کی حیثیت میں ہو یا وہ

ملک کا حکمراں بن جائے، ہر جگہ وہ حالت امتحان میں ہے۔ مگر مذکورہ سیاسی تفسیر کے مطابق ، حکومت مطلوب حالت قرار پاتی ہے اور غیر حکمرانی کی حالت غیر مطلوب حالت۔

اسکول کے ایک طالب علم کا امتحان ہو تو اس کو کئی پرچے دئے جاتے ہیں جن کا تعلق مختلف موضوعات سے ہوتا ہے۔ مثلاً زبان، تاریخ، سماجیات ، سائنس وغیرہ۔ ان میں سے ہر پرچہ بذات خود مطلوب ہوتا ہے۔ یہاں ایک اور دوسرے میں کوئی فرق نہیں۔ اسی طرح جس شخص کو جو احوال ملے ہوں، وہی احوال اس کے لئے مطلوب احوال ہیں اور انھیں احوال میں اس کو اپنا امتحان

میں نے کہا کہ یہ تعبیر آدمی کے اندر سے محرک عمل چھین لیتی ہے (هذا التفسير يسلب من الإنسان الدافع للعمل ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص قرآن میں انفاق کا حکم دیکھتا ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو۔ اب اگر ایک شخص یہ سمجھے کہ کم یا زیادہ جو بھی میرے پاس ہے، اس میں سے مجھے خرچ کرنا ہے تو حکم کو پڑھتے ہی اس کے اندر انفاق کی نفسیات پیدا ہو جائے گی۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھ لے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو مؤثر کار کا عطیہ دو، تو عام انسان کے اندر انفاق کی نفسیات نہیں ابھرے گی۔ کیوں کہ وہ اس معنی میں انفاق کے حکم پر عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

یہی حال سیاسی تفسیر کا ہے۔ یہ تفسیر آدمی کے اندر عمل کے بجائے انتظار اور توقف کی نفسیات پیدا کرتی ہے۔ اس کے مطابق ، اصل عمل کا آخری آغاز اس وقت ہو گا جب حکومت پر قبضہ ہو جائے۔ اس لئے وہ حکام سے ٹکراؤ کی نفسیات تو ابھارتی ہے مگر ذاتی عمل کی نفسیات نہیں ابھارتی۔ التفسير يُثبت فى الانسان نفسية محاسبة الحكام لا نفسية محاسبة الذات. ہندوستان اور پاکستان کے لوگ یہاں کافی تعداد میں ہیں۔ انھوں نے ۲ اکتوبر ۱۹۹۰ کوطالس کے ایک ہال میں سیرت النبی کا جلسہ کیا۔ اس موقع پر مجھے خطاب کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ میں نے جلسہ سے اس جلسہ میں مسلمان اور ہندو دونوں ہی شریک ہوئے۔ سفیر ہند مسٹر گلیا نی بھی موجود تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام وقتی نہیں تھا، اس کا تعلق (relevance) عصر حاضر کے لئے بھی پوری طرح موجود ہے. عصر اور مغرب کے

درمیان تقریر ہوائی۔ مغرب کی نماز کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ یہ دوسری نشست صرف مسلمانوں پر مشتمل تھی۔

زیادہ تر سوال ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت کے بارے میں کیا گیا۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک ہندوستان کا معاملہ وہی ہے جو ساری دنیا کا معاملہ ہے۔ خواہ ہندوستان ہو یا لیبیا یا پاکستان یا سعودی عرب یا یورپ اور امریکہ ، ہر جگہ کامیاب زندگی گزارنے کا راز صرف ایک ہے ۔ برداشت اور ٹالرنس ہے۔ کسی بھی ملک میں اگر آپ کامیاب ہیں تو اس لئے کامیاب ہیں کہ وہاں آپ برداشت کرکے رہتے ہیں۔ اور جہاں آپ بنتا ہر نا کام ہیں وہاں اسی لئے ناکام ہیں کہ وہاں آپ نے برداشت کو کھو دیا ہے۔

۳ اکتوبر ۱۹۹۰ کو طرابلس سے پی آئی اے کی فلائٹ نمبر ۳۰۷ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ طور پر اس کے اندر بہت کم مسافر تھے۔ میں نے کھڑے ہو کر جہاز کے چاروں طرف دیکھا تو سیٹوں پر اتنے کم آدمی تھے کہ ایسا معلوم ہوا کہ گویا جہاز خالی حالت میں اُڑ رہا ہے۔ میں نے جہاز کے عملے سے پوچھا تو معلوم ہو کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیٹیں بالقصد خالی رکھی گئی ہیں۔ کویت اور عراق میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی جو کویت پر حملے کے بعد بھاگ کر اردن آگئے تھے ، ان کو روزانہ عمان سے پاکستان لے جایا جا رہا ہے۔ ان پناہ گزینوں کی خاطر یہ سیٹیں خالی رکھی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ عمان میں جہاز کا اُترنا خصوصی معاملہ کے طور پر ہے کیوں کہ عام قاعدہ کے مطابق یہ جہاز عمان میں نہیں اترتا۔

میں نے سوچا کہ ان پاکستانیوں کی وہ کیا خصوصیت ہے جس نے ان کے اندر یہ قیمت پیدا کر دی کہ ان کے لئے خالی جہاز بھیجے جائیں۔ ذہن نے کہا کہ اس کی وجہ ان پاکستانیوں کی مظلومیت ہے۔ دولت اور اقتدار سے آدمی کے اندر قیمت پیدا ہوتی ہے۔ کبھی آدمی کا عاجز اور مظلوم ہونا اس کے اندر وہی قیمت پیدا کر دیتا ہے جو عام حالات میں قوت و طاقت کے ذریعہ کسی کے اندر پیدا

یہ سوچ کر دل بھر آیا۔ میں نے کہا کہ خدا یا ، میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ میرے پاس طاقت والی چیزوں میں سے کوئی چیز موجود نہیں۔ میرے پاس صرف عجز ہے۔ تو میرے عجز کو قبول فرما۔ عاجز کے لئے وہ فیصلہ فرما دے جو عام حالات میں صرف طاقتور کا حق سمجھا جاتا ہے۔

جہاز میں پاکستانی اخبارات (نوائے وقت، جنگ، جسارت، دی نیشن) پڑھ رہا تھا۔ دوران یہ آیت یاد آئی : یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلا يستطيعون (القلم ۴۲) میں نے کہا کہ اس آیت میں "سجدہ" کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اصل میں یہ محرومی کا ایک وسیع تجربہ ہے جو آدمی کے اوپر قیامت میں گزرے گا۔ مالک کائنات اپنے تمام جلال و کمال کے ساتھ انسان کے سامنے ظاہر ہو جائے گا۔ اس وقت آدمی خدا کو دیکھنا چاہے گا مگر وہ اس کو نہ دیکھ سکے گا۔ کیوں کہ دنیا میں وہ خدا کو دیکھنے کے لئے اندھا بنا رہا۔ وہ خدا کی حمد کرنا چاہے گا مگر وہ اس کی حمد نہ کر سکے گا، کیوں کہ دنیا میں خدا کی حمد کرنے سے اس کی زبان گونگی ہو گئی۔ وہ خدا کی باتوں کو سننا چاہے گا مگر وہ اس کو نہ سن سکے گا۔ کیوں کہ دنیا میں خدا کی باتوں کو سننے کے لئے اس نے اپنے کان بند کر لئے تھے۔ وہ چاہے گا کہ اپنے رب کی عظمت کے اعتراف میں اس کے آگے جھک جائے مگر وہ اس کے آگے نہ جھک سکے گا، کیوں کہ دنیا میں وہ اس کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہو سکا۔ روزنامہ جنگ (۳ اکتوبر ۱۹۹۰) کے صف اول پر وزیر اعظم پاکستان غلام مصطفی جتوئی کی ایک تقریر درج تھی۔ اس میں انھوں نے کہا کہ لوگوں کو کوئی چیز احتساب سے نہیں بچا سکتی۔ اور یہ کہ "۲۴ اکتوبر ان کے لئے یوم حساب ثابت ہوگا؛ اسی خبر کا عنوان روز نامه جسارت (۳ اکتوبر) میں یہ تھا : کوئی سازش بد عنوانوں کو احتساب سے نہیں بچا سکتی۔

میں نے سوچا کہ پاکستان کا ۲۴ اکتوبر (الیکشن) وہ یوم حساب ہے جو انسان صرف اپنی محدود طاقتوں کے ذریعہ برپا کر سکتا ہے۔ ایسے یوم حساب سے بچ نکلنا بہت آسان ہے جیسا کہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے احتساب کے باوجود پیپلز پارٹی دوبارہ زندہ رہی۔ مگر انسان پر ایک اور یوم حساب آنے والا ہے۔ اس سے کوئی شخص بھی بچ نہ سکے گا۔ حتیٰ کہ صدر اور گورنر اور وزیر اعظم بھی نہیں۔ چوں کہ پاکستان میں الیکشن قریب ہے، اس لئے ہر لیڈر بے تکان بول رہا ہے۔ اخبارات لیڈروں کے بیانوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہر ایک اپنے کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ آج ہر آدمی کے پاس الفاظ ہیں۔ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ کسی کے پاس الفاظ نہیں ہوں گے۔ اس وقت صرف وہ شخص بول سکے گا جو دنیا میں خدا کے خوف سے چپ ہو گیا تھا۔ اس دن صرف اس شخص کو چلنے کی سعادت حاصل ہوگی جس کے قدم خدا کی عظمت کے احساس

سے متحدہ دنیا میں رُک گئے۔

جسارت کے صفحہ اول کی ایک خبر کی سرخی تھی: نواز شریف نے ملکی سیاست کو لسانی اور گروہی سیاست کی نذر کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ کی قرارداد : نواز شریف صاحب اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر ہیں، اور جماعت اسلامی اس اتحاد میں پوری طرح شامل ہے۔ اس کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف اخبار میں اس قسم کے بیان چھپ رہے ہیں۔ اس خبر کو میں نے پڑھا تو میری زبان پر یہ الفاظ آگئے: وہ اتحاد بھی کیسا عجیب اتحاد ہو گا جو مُلک کو گروہی سیاست کے خانوں میں بانٹ دے۔ شام کو جہاز دمشق پہنچا۔ جہاز سے اتر کر کچھ وقت دمشق کے ہوائی اڈہ پر گزرا۔ مغرب کی نماز بھی جماعت کے ساتھ دمشق کے ہوائی اڈہ پر پڑھی۔

دمشق کا نام سب سے پہلے میں نے غالباً دس سال کی عمر میں سنا جب مکہ مولانا فیض الرحمان اصلاحی (وفات ۱۸ فروری ۱۹۷۲ء) کے ذریعہ میں نے شیخ سعدی شیرازی (۱۲۹۲۔ ۱۲۱۳ء) کی فارسی کتاب بوستاں پڑھی۔ یہ منظوم کتاب اخلاقی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کی ایک حکایت اس شعر سے شروع ہوتی ہے :

چناں قحط سالے شد اندر دمشق کہ یاراں فراموش کردند عشق اس نظم میں دمشق کے ایک قحط کا ذکر ہے جس میں عشق کرنے والے اپنا عشق بھول گئے تھے۔ شیخ سعدی نے قحط کی تصویر کشی کرتے ہوئے جو اشعار لکھے ہیں، ان میں سے ایک شعر یہ ہے : نہ بر کوہ سبزہ نہ در باغ شاخ ملخ بوستاں خوردومردم تلخ نہ پہاڑ پر ہریالی باقی رہی اور نہ درخت پر شاخ، ٹڈیاں باغ کو کھا گئیں اور لوگوں نے ٹڈیوں کو، دمشق ایک ایسا شہر ہے جو اسلامی قافلہ کے سفر کے تیسرے مرحلہ کی یاد دلاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، امیر معاویہ نے دمشق کو اسلامی سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔ یہاں سے اسلام کی تاریخ کا تیسرا دور شروع ہوا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز ۶۱۰ء میں ہوا۔ اس وقت کہ اسلامی دعوت کا مرکز تھا ۶۲۲ء میں ہجرت ہوئی اور مدینہ اسلام کا مرکز قرار پایا۔ بنو امیہ کے ہاتھ میں اقتدار آیا تو انہوں نے ۶۶۱ء میں دمشق کو اسلام کے مرکز کی حیثیت دے دی۔ ۷۵۰ء میں بنو عباس اسلامی اقتدار پر قابض

ہو گئے اور انہوں نے بعض سیاسی اسباب کے تحت بغداد کو اپنا دارالخلافہ بنانا پسند کیا جو ۱۲۵۸ء تک

اس کے بعد کئی نسبتاً چھوٹے اسلامی مراکز بنے۔ عبدالرحمن اموی ۷۵۶ء میں اسپین میں داخل ہوا اور یہاں اس شاندار عہد کا آغاز کیا جس کو "مسلم اسپین" کہا جاتا ہے۔ یہ دور ۱۴۹۲ء میں آخری طور پر اس درمیان میں مختلف چھوٹی بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں ۔ ان میں سے دو کو زیادہ اہمیت حاصل ایک ، عثمانی خلافت جس کا مرکز استنبول تھا۔ یہ ۱۳۰۰ء کے بعد شروع ہوئی اور چھ صدیوں تک شان وشوکت کے ساتھ قائم رہی۔ ۱۹۲۴ء میں کمال اتاترک کے إلغاء خلافت کے اعلان سے رسمی طور پر اس کا خاتمہ ہوگیا۔ دوسری، مغل سلطنت ہے جو بابر کے فتح دہلی ۱۵۲۶ء سے باقاعدہ طور پر قائم ہوئی اور ۱۸۵۷ء میں بہادر شاہ ظفر پر ختم ہوگئی۔

شام ایک عرب ملک ہے، جس طرح سعودی عرب اور کویت عرب ملک ہیں۔ مگر سعودی عرب اور کویت پٹرول کے خزانوں سے مالا مال ہیں، جب کہ شام کے پاس اس قسم کی کوئی قدرتی دولت نہیں۔ دوسری طرف حدیث کی پیشین گوئیوں کے مطابق ، حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول شام کے شہر دمشق میں ہوگا جو کہ بلا شبہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد سے قیامت تک پیش آنے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کی تقسیم کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ اس نے امریکہ کو بہترین جغرافیہ دیا اور بنگلہ دیش کو اس کے کسی کو معتدل موسم سے نوازا اور کسی کے حصے میں سخت موسم لکھ دیا۔ بعض ملکوں کے نیچے دولت کے خزانے رکھ دئے مگر نزول مسیح جیسے غیر معمولی واقعہ کے ظہور کے لئے ایک ایسے علاقہ کو منتخب کیا جو مادی دولت میں دوسرے خوش نصیب ملکوں سے پیچھے تھا۔ موجودہ دنیا میں ہمارے لئے صرف یہی ممکن ہے کہ ہم اس "تقسیم" پر راضی ہو جائیں ۔ اس ربانی تقسیم میں کیا کیا مصلحتیں چھپی ہوئی ہیں، ان کو جاننے کے لئے قیامت کا انتظار کرنا چاہئے۔

خلیج کے موجودہ بحران کے نتیجہ میں بالکل نئے قسم کے حالات سامنے آئے ہیں۔ مثلاً شام اسرائیل کا سخت دشمن تھا، کیوں کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں اسرائیل نے شام کا ایک علاقہ اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ چوں کہ امریکہ اسرائیل کا ساتھی ہے، اس لئے شام کو امریکہ سے بھی سخت دشمنی تھی۔ مگر کویت کی صورتحال

پیش آنے کے بعد اس نے امریکہ سے تعلق قائم کر لیا اور اپنی فوجیں سعودی عرب بھیج دیں جہاں وہ امریکہ کے ماتحت عمل کریں گی۔ مسٹر جی ایچ جانسن (G. H. Jansen) نے اس واپسی کو یوٹرن (U-turn) کا نام دیا ہے۔

دمشق کے ہوائی اڈہ پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ خلیج کے بحران پر گفت گو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کویت تو اس سے پہلے عراق کا ایک حصہ تھا۔ اور بصرہ کے ماتحت تھا۔ ایسی حالت میں اگر صدام حسین نے کویت پر قبضہ کر لیا ہے تو اس کے لئے یورپ اور امریکہ کی فوج بلانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو صاحب حق کو اس کا حق ملنے کے ہم معنی ہے۔

میں نے کہا کہ یہ بات صحیح میں کہ کویت اس سے پہلے عراق کا حصہ تھا۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کویت عثمانی سلطنت کا ایک حصہ تھا جس طرح خود عراق عثمانی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ البتہ کویت چوں کہ بہت چھوٹا ملک تھا اور اس وقت اس کی آبادی بہت کم تھی، اس لئے عثمانیوں نے اس کو بصرہ کے گورنر کے ماتحت کر رکھا تھا۔ تاہم اس سے قطع نظر، بجائے خود یہ ایک غلط اصول ہے کہ اس قسم کے معاملات کا فیصلہ ماضی کی بنیاد پر کیا جائے۔ اگر یہ کوئی صحیح اصول ہو تو پھر فلسطین پر یہودیوں کے قبضہ کو بھی جائز قرار دینا چاہئے، کیوں کہ ایک زمانہ نہیں فلسطین بھی یہودی سلطنت کا حصہ تھا۔ مزید یہ کہ یہودیوں کو فلسطین کا علاقہ خود خدا کی طرف سے بطور انعام دیا گیا تھا۔ بین الاقوامی دنیا میں اگر اس اصول کو چلایا جائے تو ساری دنیا کا جغرافیہ از سرِ نو بنانا کیا صدام حسین کے حامی اپنے نظریہ کے اس وسیع انطباق کے لئے تیار ہیں۔

عام حالات میں یہ جہاز دمشق سے سیدھا کراچی جاتا ہے۔ مگر آج وہ کویت سے آئے ہوئے لوگوں کو لینے کے لئے عمان ایئر پورٹ پر اترا۔ یہاں ڈیڑھ گھنٹہ ٹھہرا رہا۔ تمام سیٹیں بھر گئیں۔ آنے والے لوگ جب جہاز کے اندر داخل ہوئے تو میں ان کے چہروں کو غور سے دیکھتا رہا۔ ان کے چہرہ پر خوشی کے آثار تھے کیوں کہ انھیں یقین تھا کہ اب وہ بحرانی دور سے باہر آ چکے ہیں اور چند گھنٹے کے بعد وہ اپنے وطن میں پہنچ جائیں گے۔ آدمی پر مشکلیں پیش آتی ہیں۔ جب وہ مشکلوں کے اندر گھرا ہوا ہو تو وہ سخت مایوسی میں مبتلا ہو جاتا مگر جب حالات بدلتے ہیں تو اچانک وہ اطمینان کی کیفیت محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے۔ وہ ماضی کو بہت جلد بھول جاتا ہے۔ اگر یہ بھولنے کا مادہ آدمی کے اندر نہ ہو تو اس کے لئے زندگی گزارنا سخت مشکل ہو جائے۔

4 اکتوبر کو صبح ساڑھے چار بجے کراچی پہنچا۔ یہاں ٹرانزٹ مسنجر کے طور پر دو دن قیام رہا۔ جناب طارق رحمن صاحب گلشن اقبال کے یہاں تھا۔

پاکستان کے سفر کا پروگرام ابتداً 19 فروری کے لئے طے ہوا تھا۔ اس کے مطابق انڈین ایئر لائنز سے ریزرویشن بھی کرایا جا چکا تھا۔ گرم از ضروری کو کراچی سے ٹیلی فون پر اطلاع ملی کہ کراچی میں حالات ٹھیک نہیں فساد اور کرفیو کی وجہ سے اجتماع کا پروگرام چلانا ممکن نہ ہوگا۔ چنانچہ 19 فروری کو سفر کا پروگرام ملتوی کر دیا

اس قسم کا التواء اس سے پہلے کشمیر کے سلسلے میں بھی پیش آیا تھا۔ کشمیر (سرینگر) کا ایک پروگرام ۲۰ اگست 1989 کے لئے طے ہوا تھا۔ اس کا اعلان ہو چکا تھا اور اس کا ریزرویشن بھی کرایا جا چکا تھا۔ وقت میں ٹیلی فون پر اطلاع ملی کہ کشمیر میں حالات بگڑ گئے ہیں اور اجتماع کا انتظام ممکن نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان توڑ پھوڑ کی جو سیاست جگہ جگہ چلا رہے ہیں۔ اس سے انھوں نے پایا تو کچھ نہیں، البتہ یہ نقصان ہوا کہ ناقابل تلافی حد تک دعوتی اور تعمیری کام کے مواقع ختم ہو گئے۔ پاکستان کے مذکورہ پروگرام کی وجہ سے مجھے دوسرے کئی پروگرام چھوڑنے پڑنے تھے۔ 1990 کو لکھنو میں سیرت کا جلسہ تھا۔ اس کا ٹکٹ آ چکا تھا۔ مگر مجھے معذرت کرنی پڑی کہ میں 22 فروری کو وہاں کا سفر نہ کر سکوں گا۔ کراچی کا مذکورہ پروگرام فاران کلب نے بنایا تھا۔ 19 فروری سے ۲۶ فروری تک کا پورا پروگرام طے ہو چکا تھا۔ مگر آغاز سفر سے چند دن پہلے کراچی کے ٹیلی فون پر سفر کو منسوخ کرنا پڑا۔ اس طرح پاکستان کے سفر کا باقاعدہ پروگرام بار بار ملتوی ہوتا رہا۔ آخر میں میں نے طے کیا کہ موجودہ سفر کے تحت ٹرانزٹ کے طور پر ایک دو دن کے لئے کراچی میں قیام کروں۔ چنانچہ دہلی میں پاکستانی سفارت خانہ سے ویزا حاصل کر لیا گیا تاکہ واپسی کے موقع پر کراچی میں قیام کیا جاسکے۔

باہر کے سفروں میں پہلا مرحلہ ویزا کا ہوتا ہے۔ نئی دہلی کے پاکستانی سفارت خانہ سے ویزا بن کر آیا تو اس پر لکھا ہوا تھا پولیس رپورٹنگ سے مستثنیٰ (Exempted from police reporting) ویزا کی فیس بھی انھوں نے از راہ عنایت لوٹا دی تھی اور "فری" ویزا جاری کر دیا تھا۔ یہ واقعہ دیکھ کر دل نے کہا کہ کاش یہی معاملہ اللہ تعالی کی طرف سے قیامت کے دن بھی کیا جائے۔

آخرت میں مجھ سے کہا دیا جائے کہ عمل کی قیمت دینے سے تم کو مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ نیز تم کو اس سے بھی مستثنیٰ کر دیا گیا ہے کہ تم کو فرشتوں کی جانچ کے مرحلہ سے گزرنا پڑے ۔ اور اللہ کے لئے یقیناً ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ ۴ اکتوبر کو ظہر کی نماز گلشن اقبال (بلاک نمبر ۷) کی جامع مسجد میں پڑھی۔ پوری مسجد ایک بڑے ہال کی صورت میں ہے۔ اس کے اندر اور باہر بالکل فطرت کا ماحول ہے۔ نماز پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں ایک روحانی مرکز میں ایک روحانی عمل ادا کر رہا ہوں۔ جب میں مسجد کے اندر بیٹھا ہوا تھا ، مجھے خیال آیا کہ اگر مسلمان ان تمام جھگڑوں کو ختم کر دیں جن کو وہ اسلام کے نام پر غیر ضروری طور پر جاری کئے ہوئے ہیں، اور اسلام کی نمائندگی کے لئے صرف اس قسم کی مسجدیں دنیا میں باقی رہیں تو دنیا کی آدھی آبادی صرف ان مسجدوں کو دیکھ کر اسلام قبول دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں کے مقابلہ میں مسجد کا ماحول نہایت فطری اور سادہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی بے فائدہ سیاسی اور مادی اور قومی ہنگامہ آرائیوں نے اسلام کے اس فطری حسن پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اگر مسلمان صرف اتنی قربانی کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تو اسلام اپنے آپ دنیا کو اپنی طرف کھینچے گا اور لوگ جوق در جوق دین فطرت کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گے۔

ایک پاکستانی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اس سال ہائی اسکول پاس کیا ہے۔ سے میں نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں ہندو لڑکے تعلیم کے میدان میں مسلمان لڑکوں سے آگے انھوں نے کہا کہ ہاں، یہ بات صحیح ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے ایک استاد نے ایک مرتبہ یہی بات ہم لوگوں سے کہی۔ انھوں نے اس کا راز یہ بتایا کہ ہندو لڑکوں میں مل کر پڑھنے (combined study) کارواج ہے۔ مل کر پڑھنے سے ہر ایک کو دوسرے کی معلومات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے ، ایک طالب علم ذاتی طور پر پڑھے تو اس کو ایک درجہ فائدہ ملے گا۔ مگر جب کئی طالب مل کر مطالعہ کریں تو ہر ایک کو کئی گنا زیادہ فائدہ ملنے لگتا ہے۔

کراچی کے روزنامہ جنگ (۱۳ اکتوبر ) میں " جنگ الیکشن سیل" کی طرف سے ایک تجزیہ چھپا تھا۔ اس میں ۱۹۸۸ میں ہونے والے الیکشن کی ان ۴۳ نشستوں کا ذکر تھا جو اسلامی جمہوری اتحاد اور دوسری جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو مل گئیں۔ جماعتوں میں ووٹ بٹ جانے کے باعث پیپلز پارٹی جیت گئی۔

مضمون میں بتایا گیا تھا کہ یہ پوری سچائی نہیں۔ مضمون نگار نے نام بنام تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ یہی واقعہ خود پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ اس کے اپنے دائرہ میں بھی کئی جگہ امیدواروں کی کثرت کی بنا پر اس کے ووٹ بٹ گئے اور وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے مقابلہ میں ہار گئی۔ مضمون نگار نے لکھا تھا کہ اس نے باقاعدہ تفصیلات جمع کیں تو حیرت انگیز طور پر ان نشستوں کی تعداد بھی ۳۴ ہی تھی جو پیپلز پارٹی نے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر کھو دیں۔ یعنی اپنے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر اسلامی جمہوری اتحاد نے بھی ۳۴ اور اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر ۳۴ نشستیں کھو دیں۔ اختلافی معاملات میں لوگ اکثر ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنے موافق آدھی بات کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے مخالف آدھی بات کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ طریقہ نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ اس طرح کی باتیں کریں وہ ہمیشہ حقیقت کی دریافت میں ناکام رہتے ہیں۔

۵ اکتوبر کی صبح کو گلشن اقبال میں ایک نشست ہوئی۔ اس میں کراچی کے کچھ تعلیم یافتہ افراد شریک ابتدا میں نے دعوت اسلامی کے جدید امکانات پر گفتگو کی۔ نیز بتایا کہ ان دعوتی امکانات کو استعمال کرنے کے لئے صبر کی صفت درکار ہے۔ یعنی ناخوشگوار باتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنی ساری توجہ دعوت کے عمل پر لگانا۔ گفتگو کے آخر میں سوال و جواب ہوا۔ یہ نشست تقریباً ۳ گھنٹہ جاری رہی۔

مہاجر تحریک کے قائد الطاف حسین صاحب یہاں کی مشہور شخصیت ہیں۔ ان سے میری ملاقات میں نے سنا تھا کہ ان کے جلسہ میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں آتے ہیں۔ اس لئے میں ان کو سننا چاہتا تھا۔ چنانچہ وی سی آر پر ان کا ایک پروگرام دیکھا۔ وہ نومبر ۱۹۸۹ میں لاہور گئے تھے۔ یہ ویڈیو کیسٹ اسی سفر سے تعلق رکھتا تھا۔

الطاف حسین صاحب نہایت پر جوش انداز میں بولتے ہیں۔ وہ جب بولتے ہیں تو زبان کے ساتھ ان کا پورا جسم بھی مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔ " مہاجر پاکستان میں مہاجر بن کر رہنے کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ پاکستانی بن کر رہنے آیا تھا۔ مگر جب ہم نوکری کے لئے گئے تو ہم سے پوچھا گیا کہ تمہارا باپ کہاں پیدا ہوا تھا، تمہارا دادا کہاں پیدا ہوا تھا، اس امتیاز نے ہم کو مہاجر بنا دیا۔ " ہم اپنے وطن میں بے وطنی کا طعنہ سنتے ہیں، ہم اپنا حق مانگتے ہیں تو ہم کو کلاشنکوفوں سے بھون دیا جاتا ہے۔ " ہمارے خلاف بالقصد فسادات

کرائے جاتے ہیں تاکہ مہاجر اور غیر مہاجر کے درمیان جھگڑا ہو۔ یہ فسادات ایک منظم سازش کے تحت ہورہے ہیں: مہاجرین کی بستی علی گڑھ پر حملہ کیا گیا اور چھ گھنٹہ تک ہم گولیوں سے بھونے جاتے رہے۔ مگر کوئی ہمارے لئے بولنے والا نہیں۔ اس چیز نے مہاجر تحریک پیدا کی۔

الطاف حسین صاحب کی تقریر کے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ کیا چیز ہے جس نے انہیں لیڈر یہ دراصل مہاجرین کا احساس مظلومی ہے۔ وہ مظلوم مہاجرین کے احساسات کی نمائندگی یہی چیز ہے جس نے ان کو مہاجرین کا لیڈر بنا دیا ہے۔

ٹھیک یہی صورت حال ہندوستان میں بھی ہے۔ جو شخص مسلمانوں کے احساس مظلومی کی ترجمانی کرتا ہے وہ ان کے درمیان فوراً مقبول ہو جاتا ہے۔ مگر سپا لیڈر وہ ہے جو لوگوں کے احساس یافت کو جگا کر ان کا قائد بنے۔

سفر کے دوران میں نے ایک پائلٹ سے پوچھا کہ ہوائی جہاز کیسے اڑتا ہے۔ اس نے کہا کہ ہوائی جہاز کو ہم نہیں اڑاتے۔ یہ دراصل نیچر کا قانون ہے جو ہوائی جہاز کو اڑاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ ہوائی جہاز کی مخصوص وضع، اس کا پنکھا، انجن کے ذریعہ تیزی سے پیچھے کی طرف ہوا نکالنا، اور رن وے پر اس کو تیزی سے دوڑانا، اس قسم کی کچھ چیزیں جب آپ ایک مشین میں جمع کریں تو وہ اپنے آپ اوپر اٹھنے لگتی ہے۔ نیچر کا قانون ہے، اور اسی قانون کو استعمال کرکے ہم ہوائی جہاز کو اڑاتے ہیں۔ امکانات فطرت کو استعمال کرنے ہی کا دوسرا نام ٹکنالوجی ہے۔ پانی کو سو ڈگری تک حرارت پہنچائیں تو اس کے مالی کیول ٹوٹنے لگتے ہیں جس کا دوسرا نام ابلنا ہے۔ مقناطیسی فیلڈ اور موشن کو یکجا کریں تو الیکٹران دوڑنے لگتے ہیں جس سے بجلی تیار ہوتی ہے۔ اسی طرح مقناطیسی فیلڈ اور کرنٹ کو یکجا کریں تو موشن پیدا ہو جاتا ہے جس سے تمام مشینیں چلتی ہیں۔ اسی طرح کچھ خاص چیزوں کو یکجا کریں تو مشین اوپر اٹھنے لگتی ہے جس سے ہو ابازی کی صنعت وجود میں آئی ہے۔

اس دنیا میں امکانات فطرت کو استعمال کرنے ہی کا نام کامیابی ہے۔ اسی سے تمام ٹکنالوجی ظہور میں آئی ہے۔ اسی طرح انسانی دنیا میں بھی کوئی حقیقی کامیابی اس وقت ملتی ہے جب کہ زندگی کے امکانات کو سمجھا جائے اور اس کو حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

ایک صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا ماحول تقریباً ختم ہو گیا ہے۔

تعلیم سے زیادہ سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان میں یہ برائی سب سے پہلے جماعت اسلامی نے سید ابو الاعلیٰ مودودی کے زمانہ میں شروع کی۔ انہوں نے طلبہ کو منظم کرکے انھیں اپنی سیاست کے لئے استعمال جب دوسری جماعتوں نے دیکھا کہ جماعت اسلامی طلبہ کو سیاسی طاقت کے طور پر استعمال کررہی ہے تو وہ بھی یہی کرنے لگے۔ کسی قوم کے نوجوانوں کو تعلیم سے ہٹا کر سیاست میں لگانا بلاشبہ اس قوم کے ساتھ دشمنی ہے، اور دشمنی کی یہ قسم ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ ایک صاحب جو یہاں کی اصطلاح میں "مہاجر" ہیں، انھوں نے کہا کہ ہم نے زبردست تحریک چلا کر ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان بنتے ہی برصغیر کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر پاکستان کو بنے ہوئے آدھی صدی بیت گئی اور مسائل کا حل ہونا تو درکنار، ان میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔ میں نے کہا کہ یہ سادہ سی بات نہیں بلکہ بہت گمھیر بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ برصغیر ہند کے ہندو مسلمانوں کے لئے مدعو کے درجہ میں تھے۔ مسلمانوں کو انھیں دین حق کا پیغام دینا تھا۔ مگر مسلمانوں نے ایسا اس کے برعکس انھوں نے ہندوؤں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھ کر ان سے ٹکراؤ شروع کر دیا۔ انھوں نے علیحدگی اور تقسیم کا نعرہ لگایا۔ آخر کار مقاطعہ اور مہاجرت کی وہ صورت سامنے آئی جس کا نام

اس طرح کا عمل اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے سراسر خلاف ہے۔ اللہ کی مرضی یہ ہے کہ مدعو قوموں کو دعوت دی جائے اور ایک طرفہ صبر کے ذریعہ اس کو اتمام حجت کے مرحلہ تک پہنچایا جائے ۔ اتمام حجت سے پہلے اگر مقاطعہ اور مہاجرت کا طریقہ اختیار کیا جائے تو وہ اللہ کے نزدیک سراسر غلط ہوگا۔ پاکستانی مسلمانوں کو میرا مشورہ ہے کہ ہندوستان کے معاملہ میں وہ اپنے عداوتی ذہن کو بدلیں۔ ہندوستان کی طرف سے اگر کوئی زیادتی کی بات ہوتی ہے تو اس کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک طرفہ طور پر اس کے خیر خواہ بنیں۔ پاکستان کے مسلمان اگر ایسا کریں تو یہاں سے وہ اپنی ایک نئی تاریخ کا آغاز

۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء کی صبح کو میں دوبارہ دہلی واپس پہنچا۔

Printed page