Al-Risala · April 1993

تخلیقی جواب

Al-Risala, April 1993, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

للذین استجابوا لربهم الحسنى جن لوگوں نے اپنے رب کی پکار کو لبیک کہا والذین لم يستجيبوا له لوان کے لیے بھلائی ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کی پکار لهم مافي الارض جميعا ومثله معه کو نہ مانا، اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین لا فتد وابه اولئك لهم ہے اور اس کے برابر بھی اور بھی تو وہ سب اس سوء الحساب ومأواهم جهنم رہائی کے لیے دے ڈالیں۔ ان لوگوں کا حساب وبئس المهاد (الرعد (۱۸) سخت ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا، اور وہ برا برا ٹھکانا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے یہاں انسان کے انجام کا سارا دارو مدار استجابت (Response) پر ہے۔ استجابت کا ثبوت دینے والوں کے لیے انعام ہے اور بری استجابت کا ثبوت دینے والوں کے لیے سزا۔ جب حق کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو یہ انسانوں کے لیے سخت ترین امتحان ہوتا ہے۔ اس کی روشنی میں لوگوں کے مزعومات باطل قرار پاتے ہیں۔ جن کو انھوں نے بڑا بنا رکھا تھا، چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں۔ مفادات کا پورا نظام منتشر ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایسی حالت میں بری استجابت یہ ہے کہ آدمی پہر کر حق کا مخالف بن جائے۔ اور اچھی استجابت یہ ہے کہ وہ ثابت شدہ حق کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے۔ پہلے انسان کے لیے دوزخ ہے اور دوسرے انسان کے لیے جنت۔

یہی معاملہ موجودہ دنیا کا بھی ہے۔ یہاں بھی سارا انحصار استجابت پر ہے۔ یہاں اس گروہ کو عزت اور ترقی حاصل ہوتی ہے جو تخلیقی استجابت (Creative response) کا ثبوت دے- اس کے برعکس جو گروہ غیر تخلیقی ثابت ہو اس کے لیے صرف یہی مقدر ہے کہ اس کو دنیا کے کوڑے خانے میں جگہ ملے۔ یہاں ایک صورت غیر تخلیقی جواب کی ہے۔ یعنی وہی کا وہی لوٹانا کسی نے پتھ مارا تو اس کو پتھر مارنا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی کا جواب تخلیقی جواب ہو۔ یعنی آدمی ردعمل سے بچ کر خـ اپنے اندرونی کارخانہ میں ایک جواب تخلیق کرے اور اس کو دوسرے کی طرف لوٹائے۔

Printed page