Al-Risala · January 1993

ہندوستان اور مسلمان

Al-Risala, January 1993, pp. 17–24

By Maulana Wahiduddin Khan

اولاً ہندوستان میں وہ مسلمان آئے جو عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے اعلیٰ اوصاف کی بنا پر ہندوستان میں ان کا استقبال کیا گیا۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ یہ عرب جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ شاندار کلچر (brilliant culture) لے کر یہاں آئے (ڈسکوری آف انڈیا، ایڈیشن 1991، صفحہ ۲۷۷)

بعد کے دور میں ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی۔ یہ حکمراں اگرچہ قدیم عربوں جیسی اعلیٰ صفات کے حامل نہ تھے۔ تاہم ان سے بھی ہندوستان کو امن اور انصاف کا تحفہ ملا۔ اسلامی انقلاب کا سیلاب اتنا طاقت ور تھا کہ سیکڑوں سال بعد بھی اس کے اثرات مسلم نسلوں کے ذہن پر باقی تھے۔

مثلاً مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانہ حکومت میں اس کی ملکہ نور جہاں نے ایک راہ گیر کو طپنچہ رکھ کر ہلاک کر دیا۔ مقدمہ جہانگیر کے دربار میں پیش ہوا تو شبلی نعمانی کے الفاظ میں : مفتی شرع نے بے خوف و خطر صاف کہا شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن جہانگیر اور اس کی ملکہ کو یہ ہمت نہ ہو سکی کہ وہ مفتی کے اس فتوے کا انکار کر دیں۔ طرف عین اسی زمانہ میں انگلینڈ میں جیمز فرسٹ کی حکومت تھی جو جہانگیر کا ہم عصر تھا جس کو ک نے ایک مالی مقدمہ میں ایک تاجر کے حق میں فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ جیمز فرسٹ کو اپنے خلاف معلوم ہوا۔ ماہ پر وہ جسٹس کوک سے خفا ہو گیا اور جسٹس کی حیثیت سے ان کا عہدہ ختم کر دیا۔ اس کے بعد وہ دور آیا جب کہ ہندوستان میں انگریزوں کو غلبہ حاصل ہوا۔ یہاں اپنی حکومت قائم کر لی۔ اب ملک میں آزادی کی تحریک اٹھی۔ اس تحریک میں مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس تحریک کے لیے جان و مال کی قربانی کی ضرورت تھی۔ اس میں اپنے آپ کو فنا کرنا تھا۔ اس میں مسلمانوں نے عملی حصہ لیا۔ مزید یہ کہ مسلمانوں کے یہاں جہاد کا تصور تھا۔ وہ بھائیوں کے یہاں اس قسم کا کوئی سر فروشی کا تصور موجود نہ تھا۔ مسلمانوں نے آزادی کی تحریک میں جہاد کا تصور شامل کر کے اس کو نہایت جاندار بنا دیا۔

وطنی آزادی کی تحریک کے لیے جہاد آزادی، مجاہد آزادی، شہید آزادی جیسے ولولہ انگیز

الفاظ مسلمانوں ہی نے دیے۔ اور بلا شبہ یہ تحریک آزادی میں مسلمانوں کا ایک تخلیقی عطیہ ہے جس کےبعد بغیر تحریک آزادی مکمل نہ ہوتی۔

۱۹۴۷ء کے بعد وہ دور آیا جب کہ ملک آزاد ہو گیا۔ مگر اس نئے دور میں ہندوستانی مسلمانوں کو بروقت صحیح رہنمائی نہ مل سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حالات کا شکار ہو کر رہ گئے۔ سے پہلے وہ اس ملک میں دینے والے گروہ (giver group) کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر ۱۹۴۷ء کے اس ملک میں وہ لینے والے گروہ (taker group) کی حیثیت اختیار کر گئے۔ یہی جدید ہندوستان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ دہے۔

۱۹۴۷ء سے پہلے ہر دور میں مسلمانوں کو عزت و احترام کا درجہ حاصل تھا۔ مگر ۱۹۴۷ء کے بعد آنے والے دور میں انہیں عزت و احترام کا درجہ حاصل نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ کوئی سازش یا تعصب نہیں ہے۔ اس کی وجہ خود مسلمانوں کی یہ داخلی کمزوری ہے کہ انھوں نے جدید دور میں پہنچ کر تخلیقیت (creativity) کھودی۔ وہ اہلِ ملک کے لیے دوبارہ نفع بخش ثابت نہ ہو سکے۔ جب کہ قرآن کے مطابق ، اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ اس دنیا میں اسی کو ثبات اور استحکام حاصل ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخشی کا ثبوت دے (الرعد ، ۱۷) نئے ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے اس نفع بخشی کا موقع مزید اضافہ کے ساتھ موجو ضرورت صرف یہ ہے کہ ان مواقع کو سمجھا جائے ، اور ضروری تقاضوں کی رعایت کرتے۔ ہوئے انہیں استعمال کیا جائے۔ یہاں اس معاملے کی وضاحت کے لیے میں دو مثالیں دوں گا۔ آزادی سے پہلے اس ملک کے مفکرین یہ سوچتے رہتے تھے کہ جب آزادی آئے گی تو اس کا نقشہ کیا ہوگا۔ اور آزاد ہندوستان کی تعمیر کس طرح کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں غالباً یہ قابل ذکر نام سوامی دیویکانند کا ہے۔ انھوں نے ۱۸۹۸ء میں ایک خط کے جواب میں لکھا۔ کہ ہماری مادر وطن کے لیے دو عظیم نظاموں ، ہندو ازم اور اسلام کا ملاپ واحد امید ہے میں اپنے دماغ کی آنکھ سے دیکھتا ہوں کہ مستقبل کا معیاری ہندوستان انتشار اور خرابی سے با عظمت اور ناقابل تسخیر بن کر اٹھ رہا ہے ، اور یہ ویدانت برین اور اسلام باڈی کے ذریعہ ہو رہا ہے :

دوسری مثال مہاتما گاندھی کی ہے۔ ۱۹۳۶ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مختلف صوبوں میں نگریس کی وزارتیں بنیں۔ اس کے بعد مہاتما گاندھی نے اپنے اخبار ہریجن (۲۷ جولائی ۱۹۳۶) میں کانگریسی وزیروں کو سادہ زندگی اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ کہا کہ اس سلسلہ میں عملی نمونہ کے لیے میں رام اور کرشن کا نام نہیں لے سکتا۔ کیوں کہ وہ تاریخی شخصیتیں (historic personalities) نہ تھیں۔ میں مجبور ہوں کہ دورِ اول کے اسلامی اقدار کا حوالہ دوں۔ کیوں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے مگر انھوں نے درویشوں جیسی زندگی گزاری ، انھوں نے کہا کہ ہم کو ابو بکر اور عمر کے نمونہ کی پیروی کرنا چاہیے : We have to follow the example of Abu Bakr and Umar. سوامی ویویکانند اور مہاتما گاندھی کے مذکورہ اقتباسات بتاتے ہیں کہ آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے ایک عظیم کردار ادا کرنے کا موقع تھا۔ حتی کہ خود ملک اس بات کا منتظر تھا کہ مسلمان آگے بڑھیں اور یہ کردار ادا کر کے ملک میں اپنے لیے با عزت جگہ حاصل کریں۔ بھی ان امیدوں کو پورا نہ کر سکے۔ اور ساتھ ہی ملک کے مستقبل کی تعمیر بھی واقعہ نہ سکی۔ آزادی کے بعد ملک کی نئی تعمیر کے لیے دو چیزوں کی ضرورت تھی۔ ایک اقدار (values) کا اور دوسرے ان اقدار کے حق میں عملی نمونہ۔ مثلاً ایک قدر یہ ہے کہ حکمران افراد کو بھی عام لوگوں کی طرح معمولی زندگی گزارنا چاہیے تاکہ انھیں عام انسان کی ضرورتوں کا احساس رہے۔ یہ ہے کہ ایک بڑے آدمی کو بھی اسی طرح قانون کا ماتحت ہونا چاہیے جس طرح ایک چھوٹا آدمی۔ ایک قدریہ ہے کہ ہر انسان کو سماج میں برابر کا درجہ ملنا چاہیے ، خواہ وہ ایک نسل سے تعلق رکھتا ہو یا دوسری نسل سے۔ ایک قدر یہ ہے کہ عہدہ اور منصب لیاقت کی بنیاد پر ملنا چاہیے نہ کہ ذاتی تعلق کی بنیاد پر ۔ وغیرہ ، وغیرہ ۔

سوامی ویویکانند اور مہاتما گاندھی اور دوسرے ہندوستانی مفکرین کا خیال تھا کہ ان

اقدار کا تصور تو ہمارے پاس موجود ہے۔ مگر ان اقدار کے حق میں عملی اور تاریخی نمونہ ہمارے یہاں موجود نہیں۔ یہ عملی نمونہ تمام مذاہب میں صرف اسلام میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے ملک کی نئی تشکیل کے لیے اسلام سے مدد لینا ضروری ہے۔

یہ نہایت صحیح اور مثبت سوچ تھی۔ مگر اس سوچ کو واقعہ بنانے کے لیے مسلمانوں کو اس ملک میں ایک کردار ادا کرنا تھا۔ مسلمان بدقسمتی سے یہ کردار ادا نہ کر سکے۔ اس لیے یہ سوچ بھی واقعہ بننے سے رہ گئی۔ آزادی کے بعد ہمارا ایک بھٹک کر دوسرے راستہ پر چل پڑا۔ نام نہاد مسلم دانشور اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس میں قصور مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ہندوؤں کا ہے۔ تقسیم کے بعد اس ملک میں مسلمانوں کو مسلسل تعصب اور زیادتی کا سامنا پیش اس بنا پر مسلمان تحفظ اور دفاع کی نفسیات میں مبتلا ہو گئے۔ اور جو لوگ تحفظ اور دفاع نفسیات میں مبتلا ہو جائیں وہ کوئی تخلیقی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ مگر یہ جواب درست نہیں۔ مسلمانوں کو جس بات کی شکایت ہے، وہ تو دراصل وہ قیمت تھی جو مسلمانوں کو اس ملک میں ادا کرنا تھا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو امامِ ہدایت بناتا ہے جو صبر کا ثبوت دیں (وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَيِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا)۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر ہی قیادت و امامت کی لازمی قیمت ہے۔ کسی ملک یا قوم میں قیادت و امامت کی ذمہ داری ادا کرنے کی ناگزیر شرط یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے۔ اس صبر و برداشت کے بغیر کسی کو امامت عالم کا مقام نہیں ملتا۔ یہ اللہ کا ایک محکم قانون ہے، اس میں کسی کا بھی کوئی استثنا نہیں۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کو جو کام کرنا تھا وہ یہ تھا کہ برادرانِ وطن کی طرف سے اگر کوئی اشتعال انگیز بات کی جائے تو اس کو نظر انداز کریں۔ برسوں میں اگر تعصب برتا جائے تو برداشت کر لیں۔ حتیٰ کہ عملی زیادتی کے واقعات پیش آئیں تب بھی اس پر صبر کر لیں۔ وہ یک طرفہ اعراض کی پالیسی اختیار کریں۔

یہ مسلمانوں کے لیے وقفۂ عمل حاصل کرنے کی تدبیر تھی ، اس طرح وہ اپنے ذہن کو منفی رخ پر جانے سے روکتے۔ وہ ایسی فرصت پا لیتے جب کہ وہ مثبت طور پر لوگوں کے سامنے

سلام کی ان تعلیمات کو اور اس تاریخ کو لا سکیں جس میں ملک کی رہنمائی ہے۔ اور جس کو اختیار کے ملک میں صالح معاشرہ کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ حتیٰ کہ خود ملک ایک صدی سے جس کا انتظار مسلمان صبر نہ کر سکے اس لیے وہ اس قسم کا قیادت کا رول ادا کرنے میں ناکام رہے۔ کرنے کا کام اسلام فطرتِ انسانی کا مذہب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو مختلف قوموں میں پھیلنے کے لیے کسی پھیلانے والے کی ضرورت نہیں۔ وہ خود اپنے زور پر پھیلتا ہے، جس طرح پانی خود اپنے زور پر پیاسے تک پہنچتا ہے، ٹھیک اسی طرح اسلام خود اپنے زور پر لوگوں کے دلوں میں د اخل ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں۔ لمبی تاریخ نے اس کو ایک ثابت شدہ صداقت بنا دیا اسلام آج ایک معلوم اور مسلم مذہب ہے نہ کہ کوئی غیر معروف یا نزاعی مذہب۔ خصوصیت ہے جس نے اسلام کو یہ طاقت دے دی ہے کہ کوئی اس کو پھیلانے والا نہ ہو تب بھی وہ پھیلتا ہے، کوئی اس کا اعلان کرنے والا نہ ہو تب بھی وہ لوگوں کے کانوں میں گونجتا ہے۔ اسلام کی اس خصوصیت کا تقاضا تھا کہ اسلام اس ملک کے لوگوں کے قلب و دماغ میں اتر چکا ہوتا۔ ماضی میں بتدریج ایسا ہو بھی رہا تھا۔ مگر حالیہ تاریخ میں دو واقعات نے اس فطری عمل پر روک لگا دیا۔ ایک ہے، دو قومی نظریہ، اور دوسرا ہے مسلمانوں کی

تقسیم سے پہلے کچھ مسلم لیڈروں نے دو قومی نظریہ ایجاد کیا۔ اس نظریہ کے غیر اسلامی ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کو علماء نے پیش نہیں کیا۔ تاہم بعض اسباب کے نتیجہ میں وہ عوام میں پھیل گیا۔ حتیٰ کہ اس نے ایک پرشور تحریک کی صورت اختیار کر لی۔ یہ دو قومی نظریہ اسلام کی عمومی اشاعت کے لیے قاتل تھا۔ کیوں کہ جب یہ ماحول بنا دیا جائے کہ اہل اسلام مستقل طور پر الگ قوم ہیں اور غیر اہل اسلام مستقل طور پر الگ قوم، تو غیر مسلم قوموں میں اسلام کو اپنانے کا احساس ہی سرے سے ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اسلام لوگوں کے نزدیک عقیدہ غیر بن جاتا ہے نہ کہ عقیدہ خویش۔

۱۹۴۷ میں دو قومی سیاست کو ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر مسلمانوں کے کچھ نادان لیڈروں کی سطحی سیاست کے نتیجہ میں وہ باقی رہی۔ مزید یہ کہ ، ۱۹۴۷ کے بعد کے حالات نے مسلمانوں کے اندر شدت سے منفی ذہن پیدا کیا۔ وہ اہل وطن کے مقابلہ میں احتجاجی سیاست کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ اس کے نتیجہ میں دوبارہ ماحول میں تلخی کے اسباب پیدا ہو گئے۔ سنجیدہ غور و فکر کا موضوع نہ بن سکا۔

اب مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ دو قومی نظریہ سے اپنے ذہن کو آزاد کر لیں اور ہر اس سرگرمی سے مکمل طور پر اجتناب کریں جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے در میان تناؤ پیدا کرنے والی ہو، وہ یک طرفہ اہتمام کے ذریعہ دونوں فرقوں کے درمیان معتدل فضا پیدا کریں۔

اس جائزہ کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہندو مسلم ملاپ کی صورتیں پیدا کریں۔ وہ ہر اس سرگرمی سے آخری حد تک پرہیز کریں جو ہند و مسلم تعلقات کو بگاڑنے والی ہو۔ وہ فریق ثانی کی طرف سے پیش آنے والی ہر زیادتی کو یک طرفہ طور پر برداشت کریں۔

یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ دونوں فرقوں کے درمیان وہ معتدل فضا پیدا ہو جس میں لوگ اسلام کا مطالعہ کریں۔ جس میں اسلام کے پیغام کو لوگوں کے سامنے لایا جائے ۔ اس پر سنجیدہ ذہن کے ساتھ غور کر سکیں۔

اگر مسلمان ایسا کریں کہ وہ فرقہ وارانہ اختلاف کے معاملہ میں یک طرفہ اعراض کی پالیسی اختیار کر لیں اور ہر اس قول یا فعل سے مکمل پرہیز کریں جو فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے والا ہو تو اس کے بعد اپنے آپ یہ ہو گا کہ جس طرح ملک کی صنعتی تعمیر کے لیے مغربی سائنس یہاں مطالعہ کا موضوع بنی ہوئی ہے اسی طرح اسلام بھی یہاں سماجی تعمیر کے لیے مطالعہ اور غور و فکر کا موضوع بن جائے گا، اور پھر اپنے آپ ملک میں ایک نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے گی۔ مذکورہ عمل اس ملک میں اسلام کی اشاعت کے لیے شرط اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ کچھ اور مددگار اعمال کی بھی ضرورت ہے۔ مثلاً مسلمان ملک کی زبان کو سیکھیں اور

بان میں اظہار خیال کی قدرت پیدا کریں۔ مسلمانوں نے چالیس سال تک اس ملک میں تحفظ اردو تحریک چلائی ہے۔ اس کے بجائے انھیں مسلمانوں میں یہ تحریک چلانی چاہیے تھی مسلمان ہر زبان کو سیکھیں۔ ہر علاقہ کے لوگ اُس علاقہ کی زبان میں مہارت حاصل کریں۔ خفظ کی تحریک موجودہ حالات میں مٹاؤ کی علامت ہے، اور تمام ملکی زبانوں کو سیکھنے کی تحریک

اس کے بعد جو ضروری کام کرنا تھا یہ تھا مکہ ملک کی ہر زبان میں قرآن کا ترجمہ معمولی ات پر فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ حدیث اور سیرت کی بنیادی کتابوں کے ترجمے ہر ن میں تیار کر کے شائع کیے جائیں۔ یہ کام اتنے بڑے پیمانہ پر کیا جائے کہ ہر شخص جو اسلام تعلیمات اور اس کی تاریخ کو جاننا چاہے اس کو خود اپنی مادری زبان میں کافی لٹریچر سانی حاصل ہو جائے۔

اسلامی تاریخ کے ان پہلوؤں پر کتابیں تیار کر کے پھیلائی جائیں جو موجودہ حالات خاص طور پر مناسبت رکھتی ہیں مثلاً مساوات، انصاف، احترام انسانیت وغیرہ۔ خلیفہ اول ابو بکر صدیق نے پوری عمر نہایت سادہ زندگی گزاری۔ حتیٰ کہ مدینہ کے ایک آدمی کی زندگی میں اور آپ کی زندگی میں کوئی فرق نہ تھا۔ مصر کے گورنر عمروبن العاص کے کے نے ایک عام آدمی کو کوڑا مارا۔ خلیفہ عمر فاروق کو اس کی شکایت پہنچی تو انھوں نے نر کے صاحبزادے کو بلایا اور مذکورہ مصری کے ہاتھ میں کوڑا دیا کہ ان کو مار کر اپنی زیادتی خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب اور ایک یہودی تاجر کے درمیان دمشق میں ایک پیش آیا تو خلیفہ کو ایک عام شہری کی حیثیت سے عدالت میں حاضر ہونا پڑا۔ حضرت عمر بن العزیز کی حکومت سندھ سے لے کر فرانس کی سر حد تک پھیلی ہوئی تھی مگر ان کے لیے کسی ی سیکورٹی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ کہ فتح ہوا تو کعبہ کے اوپر کھڑے ہو کر اذان دینے کا کام کو سپرد ہوا جو ایک حبشی غلام تھے ۔ وہ وغیرہ ، وغیرہ۔

اسلام کی تاریخ میں تمام اعلیٰ معاشرتی قدروں کی معیاری مثالیں موجود ہیں۔ ف، سادگی، تواضع، مساوات، اور امانت دارانہ معاملہ، وغیرہ۔ یہ چیزیں جن پر بہتر سماجی

نظام قائم ہوتاریخ ہے، ان تمام قدروں کی عملی مثاسیں حقیقی واقعات کی صورت میں اسلام کی تا میں محفوظ ہیں۔ ضرورت تھی کہ ان کو خالص تاریخی اسلوب اور حقیقت نگاری کے اندازمیں مرتب کرکے اہل ملک کے سامنے لایا جائے اور اس سے لوگوں کو باخبر کام جائے۔ مگر یہ کیا اگر کسی نے کوئی کتاب لکھی بھی ہے تو وہ قومی فخر کے انداز میں ہے نہ کہ بے لاگ واقعہ نگاری کے انداز میں۔

موجودہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ نئے دور میں منفی ذہن لے کر داخل ہوئے۔ وہ مثبت ذہن کے تحت نئے دور میں داخل نہ ہو سکے۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے مر کا آغاز بھی ہے اور یہی اس کا اختتام بھی۔ اسی نئے دور میں ان کی تاریخ بگڑی ہے اور یہیں سے از سر نو ان کی تاریخ بننا شروع ہوگی۔

ہندوستان کے مسلم قائدین، ۱۹۴۷ سے پہلے ۱۴ پوائنٹ پر مشتمل مطالبے پیش کرتے رہے اور ۱۹۴۷ کے بعد وہ ۲۰ پوائنٹ پر مشتمل مطالبے پیش کر رہے ہیں۔ بالفاظ دیگر، وہ ال ملک میں مسلسل مانگنے والے بنے ہوئے ہیں۔ اور تاریخ کا یہ فیصلہ ہے کہ کوئی شخص یا قوم بیک وقت دینے والا اور مانگنے والا نہیں بن سکتا۔ مسلمان چونکہ مانگنے والے بنے ہوئے ہیں، اس لیے وہ اس ملک میں دینے والے بھی نہ بن سکے۔

نوٹ : ۱۰ نومبر ۱۹۹۲ء کو ناگپور میں ایک کنونشن ہوا۔ اس کا موضوع ”قومی اتحاد، ایک اور سیکولرزم “ تھا۔ یہ مقالہ اس تقریر پر مبنی ہے جو اس موقع پر وسنت راؤ دیش پانڈے ہال میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مشترک مجمع میں کی گئی۔

Printed page