Al-Risala · April 1993

سب سے بڑی بدبختی

Al-Risala, April 1993, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

الاستاذ خوزی الرفاعی ( حلب ، سوریا ) ایک سفر کے تحت اندلس گئے۔ وہاں انہوں نے غرناطہ میں الحمراء نامی محل دیکھا جو مسلم دور حکومت میں نہایت اہتمام کے ساتھ بنایا گیا تھا۔ میں انہوں نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے : هناك قصة منقوشة على الجدار - (تروى ان سائحا مكسيكيا يدعى (آرى ايكاسا) جاء وزوجته لزيارة الحمراء وبينما كان يطوف مستغرقا في دهشته ممايرى من مفاتن، رأى سائلا ااعمى يتقدم من زوجته يطلب صدقة فقال لزوجته :

اجزلى له العطاء يا امرأة فانه ليس في الحياة اقسى من ان يكون المرء اعمى في غرناطة (الدراسات الاسلامية، اسلام آباد، ۱۴۱۴ھ، صفحہ ۴۴۲)

وہاں ایک دیوار پر ایک قصہ لکھا ہوا ہے۔ جاتا ہے کہ میکسیکو کا ایک سیاح جس کا نام آری ایکاسا تھا، وہ اپنی بیوی کے ساتھ الحمر اکو دیکھنے کے لیے یہاں آیا۔ اور جب کہ وہ اس کی کشش سے غیر معمولی متاثر ہو کر اس کو دیکھنے میں محو تھا، اس نے ایک اندھے فقیر کو دیکھا جو اس کی بیوی کے قریب ہو کر اس سے صدقہ مانگ رہا تھا۔ نے اپنی بیوی سے کہا کہ اے خاتون، اس کو خوب زیادہ دے دو۔ کیوں کہ دنیا میں اس سے بڑی بدبختی اور کوئی نہیں کہ آدمی غرناطہ میں اندھا ہو۔ سختی کی ایک افتاد کہ ایک شخص الحمر ا کے اس امنہ مذکورہ سیاح کو یہ بات سب سے زیادہ بد بختی کی بات نظر آئی کہ ایک شخص الحمراء کے سامنے کھڑا ہو مگر وہ آنکھوں سے محروم ہونے کی بنا پر اس خوب صورت محل کو نہ دیکھ سکے۔ مگر ایک اور بدبختی ہے جو اس قسم کی تمام بدبختیوں سے زیادہ سخت ہے۔ اور یہ بدبختی وہ ہے جو آخرت میں پیش آئے گی۔ اس بدبختی کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح کیا گیا ہے : ومَن كان فى هذه | عمى فهو فى الآخرة اعمى واضل سبيلا (الاسراء، ۷۲)

اور جو شخص اِس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور وہ بہت دور پڑا ہو گا راستہ سے ۔ آخرت وہ عالم ہے جہاں اللہ رب العالمین اپنے تمام جمال و کمال کے ساتھ ظہور فرمائے گا۔ آدمی رب کائنات کو اسی طرح دیکھے گا جس طرح وہ موجودہ دنیا میں بدر کے چاند کو دیکھتا ہے۔

حالت میں وہ شخص کتنا زیادہ بد بخت ہوگا جو اس ہستی کو دیکھنے سے محروم رہے جو ہر قسم کے جمال و کمال کا منبع اور سر چشمہ ہے ۔ امام احمد، امام مسلم اور دوسرے محدثین نے روایت کیا ہے : قال ، اذا دخل اهل الجنة الجنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنت قال : اذا دخل اهل الجنة الجنة واهل النار النار نادی مناد :

يا اهل الجنة إن لكم عند الله موعداً يريد ان ينجزكموه۔

فيقولون - وماهو - الم يثقل موازيننا، الم يبيض وجوهنا، ويدخلنا الجنة ويجرنا من النار - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہو چکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اے اہل جنت، تمہارے لیے اللہ کا ایک وعدہ ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کو تمہارے لیے پورا کرے۔ اہل جنت کہیں گے کہ وہ کیا کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کر دیے فيكشف لهم الحجاب فينظرون اليه ۔ اعطا هم الله شيئاً احب اليهم کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا گیا۔ اور اللہ نے ہم کو جنت میں داخل کر دیا اور ہم کو آگ سے بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے پردہ کھول دیا جائے گا، پھر وہ اپنے رب من السفر اليه ولا أراد أن يفهم (تفسیر ابن کثیر (۴۱۴/۲)

سے پردہ ہٹا دیا جاتا ہے۔ پردہ اُٹھ جانے کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم، کوئی نعمت جو اللہ نے انھیں دی ہے وہ ان کے لیے اللہ کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والی۔ آخرت میں دیدار الٰہی کی نعمت بلاشبہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ کو دیکھنا ایک ایسا اعلیٰ وارفع تجربہ ہے جس کے مثل کوئی دوسرا تجربہ نہیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو آخرت میں اس نعمت کبریٰ سے سرفراز کیے جائیں۔ اور کتنے بدبخت ہیں وہ لوگ جو آخرت میں اس حال میں پہنچیں کہ وہاں انھیں یہ خبر ملے کہ دیدار الٰہی کی نعمت سے بہرہ مند ہونا ان کے لیے مقدر نہیں۔

Printed page