آیت فتنہ
Al-Risala, April 1993, pp. 16–19
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں دو جگہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ اہل باطل سے لڑو اور ان سے لڑ کر فتنہ کا خاتمہ کر دو (البقرہ ۱۹۳ ، الانفال ۳۹) فتنہ کے لفظی معنی آزمائش کے ہیں۔ قرآن میں ہے : فما امن لموسي الا ذرية من قومه علي خوف من فرعون وملئهم ان يفتنهم (یونس ۸۳) یعنی موسیٰ کی قوم میں سے تھوڑے سے نوجوانوں کے سوا کوئی اُن پر ایمان نہ لایا، فرعون اور اپنی قوم کے بڑوں کے ڈر سے کہ وہ انہیں ستائیں گے۔
عبداللہ بن عباس ، قتاده ، الربیع، السدی وغیرہ کا قول ہے کہ اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک ہے اور اس کے ساتھ اہل ایمان کو جو اذیتیں دی جاتی تھیں (قال ابن عباس وقتادة والربيع والسدى وغيرهم، الفتنة هناك الشرك وما تابعه من اذی المومنین) الجامع لاحکام القرآن ۲۵۳/۲ یہاں فتنہ سے مراد ، باعتبار حقیقت ، وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں مذہبی جبر یا مذہب کی بنا پر ایذارسانی (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں مذہبی جبر پھیلا ہوا تھا۔ ہر ملک میں صرف حکمراں طبقہ کے مذہب کے لیے آزادی تھی، اور دوسرے مذاہب کو کسی قسم کی آزادی حاصل نہ ہوتی تھی۔ یہی صورت حال عرب میں بھی مکمل طور پر قائم وہاں کے سرداروں کا مذہب شرک تھا۔ چنانچہ جب رسول اور اصحاب رسول نے توحید کی بات کی تو ان کو با اقتدار طبقہ کی طرف سے ہر قسم کی اذیتیں دی جانے لگیں۔ یہ صورت حال دعوت توحید کے لیے ایک مستقل رکاوٹ تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور اصحاب رسول کو حکم دیا کہ اہل شرک سے لڑو اور اس وقت تک اپنی لڑائی جاری رکھو جب کہ مذہبی جبر کی صورت حال ختم ہو کر مذہبی آزادی کا دور آ جائے۔ رسول اور اصحاب رسول نے جہاد کر کے اس حکم کی مکمل تعمیل فرمائی اور انسانیت کو ہمیشہ کے لیے مذہبی جبر سے نجات دلادی۔
اس حکم کی تعمیل میں جو جہاد کیا گیا اس کا ایک براہ راست پہلو تھا، اور دوسرا اس
براہ راست پہلو یہ تھا کہ عرب اور اطراف عرب میں اہلِ شرک کا زور توڑ کر کامل طور پر مذہبی جبر کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یہ کام رسول اور اصحابِ رسول کی زندگی ہی میں پوری طرح انجام پا گیا۔
اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ تاریخ میں وہ عمل (process) جاری کر دیا جائے جس کے اثر سے بالآخر ساری دنیا سے ہمیشہ کے لیے مذہبی جبر کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔ انقلاب کے نتیجہ میں یہ تاریخی عمل بھی پوری طاقت کے ساتھ جاری ہوا۔ وہ مکہ، مدینہ، دمشق، بغداد، اسپین سے ہٹتا ہوا، یورپ میں اور پھر امریکہ میں داخل ہو گیا۔
یہ عمل ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں شروع ہوا۔ اور بیسویں صدی عیسوی میں مغربی دنیا میں اس کی تکمیل ہوئی۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۸ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا کی تمام قوموں نے انسانی آزادی کے اس دستاویز پر دستخط کر دیے جس کو حقوقِ انسانی کا عالمی منشور کہا جاتا ہے۔
اس طرح ختم فتنہ کے لیے قتال کا جو حکم دیا گیا تھا وہ اپنی آخری صورت میں اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔ اب ہمیں یہ نہیں کرنا ہے کہ کسی صورت حال کو بطور خود ”فتنہ“ قرار دیں اور مذکورہ قرآنی آیت کا حوالہ دے کر اس کے خلاف جنگ شروع کر دیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سرکش قرار دیے جائیں گے نہ کہ قرآنی حکم کی تعمیل کرنے والے۔
صحیح البخاری (کتاب التفسیر) میں مذکورہ دونوں آیتوں کی تشریح میں پانچ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلی صدی ہجری میں جب عبداللہ بن زبیر اور عبدالملک بن مروان کے گورنر الحجاج کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو عبداللہ بن عمرؓ مکہ میں موجود تھے۔ نے اس جنگ میں شرکت نہ کی۔ ابن زبیر کے حامیوں میں سے دو شخص ان کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ نے فتنہ کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے، اور ہم یہ جنگ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں پھر آپ ہمارے ساتھ اس میں شریک کیوں نہیں ہوتے۔
عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے قرآنی حکم کی تعمیل تو ہم زمانۂ رسالت میں کر چکے (قد قعدنا) اس زمانہ میں اہلِ اسلام کمزور تھے۔ چنانچہ اہلِ شرک ان کے
دین کی بنیہ پر انہیں ستاتے تھے۔ اس وقت ان کا زور توڑنے کے لیے جنگ کی گئی۔ تک کہ اہل اسلام کی کثرت ہو گئی اور اہل شرک کا وہ فتنہ باقی نہ رہا۔ انھوں نے مزید فرمایا : قاتلنا حتى لم تكن فتنة وكان ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہا . الدين لله وانتم تريدون اور دین اللہ کے لیے ہو گیا۔ اور تم چاہتے أن تقاتلوا حتى تكون فتنة ہو کہ جنگ کرو، یہاں تک کہ پھر فتنہ آ جائے ويكون الدين لغير الله ۔ اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جو لوگ آئے تھے وہ بنو امیہ کے سیاسیی بگاڑ کے خلاف ان سے جنگ کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ کے حکمرانوں میں جو بگاڑ آیا ہے وہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ”فتنہ“ کہا گیا ہے۔ اس لیے ان پر فرض کہ وہ ان حکمرانوں سے جنگ کر کے اس کا خاتمہ کریں۔
مگر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آیت کی جو تشریح کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت کا تعلق فتنہ سیاست سے نہیں ہے بلکہ فتنہ جبر سے ہے۔ اس سے مراد حکمرا نوں کی سیاس اصلاح کی خاطر ان سے جنگ نہیں ہے، بلکہ مذہبی جبر کی صورت حال کو ختم کرنے کے لیے جنگ کر یہ جنگ اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب کہ مذہبی جبر ختم ہو کر مذہبی آزادی کا ماحول قائم ہو جائے۔ نیز صحابی رسول کی اس تشریح سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مذہبی جبر سے مراد نفاذ قانون کی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ توحید پر عقیدہ اور توحید کی تبلیغ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مسلم حکمران قانون اسلامی کا نفاذ نہ کر رہا ہو، اور کچھ لوگ قانون اسلامی کے نفاذ کے نام : حکمراں سے ٹکراؤ کریں۔ اور حکمر اں ایسے لوگوں پر سختی کرے تو یہ وہ مذہبی جبر نہ ہوگا جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بہت بامعنی ہے کہ ہم نے جنگ کر کے فتنہ کو ختم کر د مگر اب تم لوگ ایسی جنگ چھیڑ رہے ہو جس کے نتیجہ میں فتنہ کی حالت دوبارہ لوٹ آئے یعنی تم نے مسلم حکمرانوں کی سیاسی اصلاح کے نام پر ان سے لڑائی شروع کی ہے ، اور ا تاثر دے رہے ہو کہ یہی اسلام ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ حکمران اسلام کے نام پر اٹھنے وا۔
ہر شخص کو اپنا حریف سمجھ کر انہیں ستائیں گے۔ اس طرح مذہبی جبر اور مذہبی ایذارسانی کی حالت دوبارہ نئی صورت میں قائم ہو جائے گی۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ تبصرہ موجودہ زمانہ کے ان لوگوں پر براہ راست طور پر صادق آتا ہے جو اپنے آپ کو انقلابی اسلام کا نمائندہ بتاتے ہیں۔ ان لوگوں نے مختلف مسلم ملکوں میں یہ کیا کہ مسلم حکمرانوں کے بگاڑ کے خلاف سیاسی جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ نے یہ انقلابی مہم شروع کر دی کہ ان غیر صالح حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل ہو کر صالح قیادت کا نظام قائم کریں۔
ان انقلابی تحریکوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم ملکوں کے حکمران اسلام کو اپنے سیاسی حریف کی نظر سے دیکھنے لگے۔ انہوں نے اسلام کے نام پر اٹھنے والی تحریک کو کچلنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ آج یہ صورت حال ہے کہ آپ امریکہ اور انگلینڈ میں تو اسلام کے نام پر تحریک چلا سکتے ہیں۔ ملکوں میں اسلام کے نام پر تحریک چلانے کے مواقع نہیں۔ قرآن میں جس چیز کو فتنہ (مذہبی جبر) کہا گیا تھا، وہ آج سب سے زیادہ مسلم ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ تمام تر اسی قسم کے نام نہاد مسلم رہنماؤں کی غلط تحریکوں کے نتیجہ میں ہوا ہے جن پر تبصرہ کرتے ہوئے صحابی رسول نے کہا تھا کہ ہم نے لڑ کر فتنہ کو ختم کر دیا تھا اور تم اس لیے لڑ رہے ہو کہ فتنہ دوبارہ مسلم معاشرہ میں واپس آ جائے ۔
رجاء قطعہ و الاحتفاظ بہ Please cut & keep براہ کرم کاٹ کر دکھائیے جدید ترین عربی - انگریزی کمپیوٹر ٹائپ سیٹنگ ہ * معیاری عربی ترجمه تنضيد الحروف بأحدث برامج الكمبيوتر • ترجمة عربية راقية Latest Arabic computer typesetting/ world-class Arabic translation Media & Publishing P.O. Box 9701, 84 Abul Fazl Enclave (Behind Main Market)
Jamia Nagar, New Delhi 110 025 Tel.: 6835825 Fax: 6830909