جنت کا انعام
Al-Risala, April 1993, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ و فضلھا کے تحت حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے : اتی جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم جبر یل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ فقال : یا رسول اللہ ، هذه خديجة نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، یہ خدیجہ آرہی ہیں قداتت معها اناء فيه ا دام أو طعام ان کے ساتھ ایک برتن ہے۔ اس میں کھانے أو شراب ۔ فإذا هي أتتك فاقرا اور پینے کا سامان ہے۔ جب وہ آپ کے پاس عليها السلام من ربھا ومنھی آجائیں تو ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام و بشّرها ببيت في الجنة من کہہ دیں اور میری طرف سے بھی۔ اور ان کو خوش قصب لا صخب فيه ولا نصب - خبری دے دیں کہ جنت میں ان کے لیے ایک گھر ہو گا جس میں نہ کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی
یہ واقعہ کہاں پیش آیا۔ اس سلسلہ میں ابن حجر العسقلانی نے الطبرانی کی ایک روایت کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ اس وقت ہوا جب کہ آپ مکہ کے قریب غار حرا میں تھے (ف د ر اية سعيد بن كثير عند الطبرانی ، ان ذلك كان وھو بحراء) فتح الباری ۱۷۲/۷ یہ غالباً کسی دور کے اس زمانہ کی بات ہے جب کہ اہل مکہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے چنانچہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اکثر نماز اور عبادت کے لیے مکہ کے باہر پہاڑوں کی طرف جانا پڑتا تھا۔ غالباً اسی زمانہ میں آپ عبادت کے لیے غار نامی غار میں بھی گئے جو مکہ سے تقریباً ڈھائی میل کے فاصلہ پر ہے۔ اس وقت حضرت خدیجہ نے آپ کے لیے کھانا تیار کر کے اس کو غارِ حرا میں پہنچایا۔
مذکورہ واقعہ بعثت نبوی کے ابتدائی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت مکہ میں آپ ایک بے یار و مددگار شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔
اس وقت کے حالات میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اس طرح مسلم شخصیت نہ تھی جیسا کہ وہ آج نظر آتی ہے۔ اس وقت سارا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ اس وقت آپ کی شخصیت ایک متنازعہ شخصیت تھی۔ لوگ آپ کو شبہ کی نظر سے دیکھتے۔ وہ آپ کے دعوے نبوت پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔
اس نزاعی صورت حال کا یہ نتیجہ تھا کہ لوگ آپ کا مذاق اڑاتے اور آپ کے اوپر آپ لوگوں کے طنز کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ لوگوں کی طرف سے مسلسل آپ کو ایذا پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔
اس طرح آپ کی زندگی گویا شور و غل اور تکلیف و مصیبت کے درمیان تھی یہ دونوں تلخ تجربے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آرہے تھے اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ
یہ وہ پس منظر تھا جس میں حضرت جبرئیل کی طرف سے مذکورہ بشارت نازل کی گئی۔ اور ان کی توجہ کو حال کے بجائے مستقبل کی طرف موڑ دیا گیا۔
کئی دور کے ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بیکسی اور عدم قبولیت کا جو ماحول تھا ، اس سے حضرت خدیجہ نے کوئی اثر نہیں لیا۔ ان ناموافق حالات سے اوپر اٹھ کر انھوں نے آپ کے پیغمبر ہونے کی حیثیت کو پہچانا۔ اور دل و جان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ وہ صرف آپ کی زندگی کی ساتھی نہیں بنیں بلکہ وہ آپ کے مشن میں بھی آپ کی ساتھی بن گئیں ۔
حضرت خدیجہ کی یہی وہ خصوصیت ہے جس کی بنا پر ان کے لیے جنت کا وہ محل لکھ دیا گیا جو ہر قسم کے شور سے بھی خالی ہو اور ہر قسم کی تکلیف سے بھی۔ یہ بشارت براہ راست طور پر حضرت خدیجہ کے لیے ہے ، اور بالواسطہ پر ہر اس شخص کے لیے جو اس نوعیت کے ایمان کا ثبوت دے جس کا ثبوت حضرت خدیجہ نے اپنے زمانہ میں دیا۔