سوال و جواب
Al-Risala, April 1993, pp. 37–50
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے کہا کہ آپ تمام اکابر ملت پر تنقید کرتے ہیں۔ کیا آپ کے نزدیک ان اکابر کی یہی نہیں جو واقعہ صحیح اور درست ہو۔
میں نے کہا کہ یہ میرے اوپر الزام ہے۔ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ میں تمام اکابر ملت پر تنقید کرتا صحیح بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے کچھ رہنماؤں نے جدید مسائل کے حل کے لئے جو تدبیر کی، میں اس تدبیر کار پر تنقید کرتا ہوں۔ اور تدبیر کار پر تنقید کرنا سرے سے کوئی قابل نں بات نہیں۔ تدبیر کار کے معاملہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے صحابہ اس کے بعد امت کی پوری تاریخ میں، ہمیشہ اس قسم کے اختلافات کئے جاتے
رہے پھر اگر میں امت کے اس متواتر عمل کی تقلید کرتا ہوں تو اس میں آخر اعتراض کی کیا
ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء اتنی بڑی گستاخی کرنے کی جرات آپ کو کیسے ہوئی ۔
میں نے کہا کہ یہ ایک لغو الزام ہے جو میرے اوپر عائد کیا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں میرا مسلک عین وہی ہے جو سے علماء امت کا مسلک رہا ہے۔ اگر آپ اس معاملہ کو سنجیدگی کے ساتھ چاہتے ہیں تو مشہور بزرگ اور عالم ابن کثیر الدمشقی کی تفسیر (۳۰۲/۱) کو پڑھ لیجئے ۔ امت کی نمائندگی کرتے ہوئے لکھا ہے عین وہی میرا مسلک ہے۔ آپ اس کو پڑھیں اور جو کچھ میں جو کچھ لکھا ہے اسی کو میری طرف سے بھی نوٹ کرلیں۔ کیوں کہ اس کے سوا میرا اور کوئی علم و عمل اگر آپ فی الواقع اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو میرے اس جواب کے بعد آپ کی زبان ہمیشہ کے لئے بند ہوجانی چاہئے ۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کا الرساله شوق سے پڑھتا ہوں۔ مگر مجھے آپ کے انداز سے اختلاف ہے۔ آپ کو چاہئے کہ غیر تنقید انداز میں لکھیں اور تنقیدی انداز
میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ اس معاملہ کو ایک سادہ معاملہ سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ وہ کوئی اصل یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ دو میں سے ایک کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے لیکن سادہ لوح قسم کے لوگ تیسرا انتخاب لینا چاہتے ہیں۔ مگر تیسرا انتخاب موجودہ دنیا میں کبھی نہیں
میں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارے لئے جو انتخاب (چوائس) ہے وہ تنقید اور میں نہیں ہے۔ بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ اگر آپ تنقید کو ختم کر دیں تو باعتبار نتیجہ جو کے حصہ میں آئے گی وہ بے تنقیدی کی صورت حال نہیں ہو گی بلکہ جمود ذہنی کی صورت حال میں اور آپ میں یہ فرق نہیں کہ میں تنقید کو پسند کرتا ہوں اور آپ بے تنقید کو۔ بلکہ اصل فرق یہ ہے کہ میں نے ذہنی بیداری کا چوائس لیا ہے اور آپ ذہنی موت کا چوائس لینا چاہتے ہیں۔
پ خود غور کر لیجئے کہ دوناوں میں سے کون زیادہ بہتر ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمانوں کو صبر و اعراض کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ تو پس پائی کی بات مسلمان تو ایک مجاہد قوم ہیں۔ مسلمانوں کو شیر کی طرح رہنا چاہئے : مذہب مردوں نہ کہ مذہب
میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ پس پائی کہتے ہیں یہ عین وہی طریقہ ہے جس کو تبلیغی جماعت سال سے اختیار کئے ہوئے ہے۔ الرسالہ مشن کے مقابلہ میں تبلیغی جماعت کا دائرہ جتنا بڑا ہے ن زیادہ بڑے پیمانے پر انھوں نے اس مسلک کو اختیار کر رکھا ہے۔ مولانا الیاس صاحب (۱۸۸۵ء) کے زمانہ سے لے کر آج تک مسلسل تبلیغ کے لوگ اسی طریقہ پر چل رہے ۔ مگر اس پوری مدت میں کسی ایک بھی قابل ذکر آدمی نے یہ نہیں کہا کہ تبلیغ والے مسلمانوں کو پس پائی اس کے برعکس الرسالہ مشن کے بارہ میں بہت سے لوگ شدت کے ساتھ یہی اض کر رہے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ تبلیغ کے لوگ مسلم مدعو کے مقابلہ میں ”پس پائی“ کا طریقہ سکھاتے ہیں ہم غیر مسلم مدعو کے سلسلہ میں ”پس پائی“ کا طریقہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ انوں کو اپنی قوم سمجھتے ہیں اس لئے ان کے مقابلہ میں پس پائی آپ کو بری نہیں لگتی۔ ں کو آپ غیر قوم سمجھے ہوئے ہیں اس لئے ان کے مقابلہ میں پس پائی کا موقع ہو تو اس کو آپ وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ یہ حقیقتاً قوم خویش اور قوم غیر کی نفسیات کا مسئلہ ہے نہ کہ پس پائی بہادری کا مسئلہ۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اپنی کتاب خاتونِ اسلام میں اپنی والدہ زیب النساء کو ت اسماء رضی اللہ عنہا کے برابر قرار دیا ہے۔ کیا یہ صحابیہ کی توہین نہیں ہے۔ آپ کی والدہ ایک یہ کے برابر کس طرح ہو سکتی ہیں۔
میں نے کہا کہ یہ ایک سراسر نادانی کا اعتراض ہے۔ آپ خاتونِ اسلام کو پڑھئے۔ صفحات میں جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ یہ نہیں ہے کہ میری والدہ اپنے درجہ کے اعتبار سے یہ کے برابر ہیں۔ وہاں موازنہ صحابیہ اور غیر صحابیہ کے درمیان نہیں ہے بلکہ عورت کے بارہ میں
اسلامی تصور اور غیر اسلامی تصور کے درمیان ہے۔ اور میں نے اسلامی نقطہ نظر کو صحیح تر ثابت کرنے کے لئے تین معلوم خواتین کی مثال دی ہے۔
عورت کے بارہ میں اسلام کا نقطہ نظریہ ہے کہ عورت کا مقام عمل (rkplace بنیادی طور پر اس کا گھر ہے۔ مگر اہل مغرب کا کہنا ہے کہ عورت گھر کے اندر رہ کر کوئی بڑا کام نہیں اس لئے سماجی عمل میں شریک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو باہر لایا جائے۔ کتاب میں مغربی نقطہ نظر کی تردید کی ہے۔ نظری دلائل کے علاوہ اس سلسلہ میں میں نے خواتین کو بطور مثال پیش کیا ہے۔ ایک، اسلامی دور کی خاتون حضرت اسماء۔ ایک خاتون نور جہاں۔ تیسرے، ذاتی تجربہ کے دائرہ کی ایک خاتون زیب النساء۔ ان تین حقیقی مؤث کا حوالہ دے کر میں نے بتایا ہے کہ ایک عورت گھر کے اندر رہ کر بھی بڑے بڑے اجتماعی کام کر سکتی اس پوری بحث میں جو نکتہ اثبات ہے وہ یہ نہیں ہے کہ میری ماں صحابیہ کے برابر ہیں۔ اثبات یہ ہے کہ مغرب کا نقطہ نظر بے بنیاد اور اسلام کا نقطہ نظر عین درست ہے۔ ایسی حالت میں مذکورہ اعتراض سراسر بے معنی ہے۔
پھر میں نے کہا کہ جب بھی کسی چیز کی مثال دینا ہو تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے بہت پہلو ہوتے ہیں۔ مگر علم الادب کا یہ مستقل اصول ہے کہ کسی کلام میں جب کوئی مثال لائی جائے تو وہاں کا صرف مطلوبہ پہلو منطبق ہوگا۔ بقیہ تمام پہلو اپنے آپ حذف ہو جائیں گے۔ اس کی وضاحت کے لئے ایک مثال لیجئے۔ قرآن میں ضعف کو بتانے کے لئے مکھی دی لایج ۳، مثال دی گئی ہے۔ مکھی میں ضعف کے علاوہ اور بھی بہت سی خصوصیتیں ہیں۔ مثلاً مکھی ہمیشہ گندگی اوپر بیٹھتی ہے۔ مگر قرآن کی مذکورہ آیت میں مکھی کا صرف ضعف کا پہلو منطبق کیا جائے گا، اس کا گندہ کا پہلو اپنے آپ حذف ہو جائے گا۔ اسی طرح خاتونِ اسلام میں جن عورتوں کی مثال دی گئی۔ ان کا صرف وہ پہلو وہاں مراد ہوگا جو زیر بحث نکتہ سے متعلق ہے۔ ان کے بقیہ پہلو وہاں حذر قرار پائیں گے۔
ایک کشمیری مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ ہم کہاں تک صبر کریں۔ ہندوستان نے ہم کو اپنے دستور کی دفعہ ۳۷۰دی تھی۔ اس کو بھی اس نے ع
سے چھین لیا۔
میں نے کہا کہ آپ صحابہ والا ذہن پیدا کیجئے تو آپ محسوس کریں گے کہ ہندوستان نے آپ سے تین سوستر کو چھین کر آپ کو تین کروڑستر دے دیا ہے۔ ایران کے بادشاہ یزدگرد نے صحابی کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھ دیا۔ صحابی اس پر غصہ نہیں ہوئے۔ بلکہ یہ کہا کہ شاہ ایران نے تو اپنا ملک ہی ہمارے حوالے کر دیا۔ انھوں نے ایک تحقیری معاملہ سے اپنے لئے حوصلہ کی خوراک حاصل کر لی۔ ۷۳ نے آپ کو محدود رقبہ میں سمٹ دیا تھا۔ اب موجودہ حالت آپ کو وسیع تر رقبہ میں کھینچ لائی ہے۔ اس نے آپ کو چھوٹی ریاست کے دائرہ سے نکال کر ایک بڑے ملک کے دائرہ میں پہنچا دیا ہے۔ اس نے آپ کے مواقع کار کو داخلی حدوں سے نکال کر خارجی وسعتوں تک پھیلا دیا پھر اس میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ آپ صحابی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس بظاہر منفی واقعہ سے مثبت سبق لیجئے اور اس کو اپنی وسیع تر کامیابی کے لئے استعمال کیجئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ الرسالہ میں ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ بتائیے کہ صبر کی حد کیا
میں نے کہا کہ صبر کی حد یہ ہے کہ صبر کرنا نا ممکن ہو جائے ۔ صبر کے تمام تقاضوں کے ساتھ اس کا تجربہ کیجئے اور جب تجربہ نا کام ہو جائے تو اس کے بعد حسب حالات صبر کے بجائے دوسرے طریقہ کو آزمایا ہندوستان کے مسلمانوں نے ابھی تک صبر کا تجربہ ہی نہیں کیا ، اس لئے یہاں ابھی تک صبر کی حد بھی نہیں آئی۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے امام حسین پر تنقید کی ہے۔ اس کے لیے آپ کے پاس کیا جواز میں نے کہا کہ میں نے امام حسین پر تنقید نہیں کی ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ امام حسین کا اقدام ایک اجتہادی خطا تھا، اور یہی تمام علماء امت کا موقف ہے۔ آپ "راہ عمل" میں اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اگر وہ کمیونی کیشن کا زمانہ ہوتا تو کربلا کے معاملہ کی نوبت ہی نہیں آتی ۔ حسین اس خبر کی بنیاد پر مکہ سے روانہ ہوئے تھے کہ کوفہ کے لوگوں نے آپ کی خلافت کی بیعت کر لی مگر جب کوفہ کے پاس پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خبر صحیح نہ تھی اور بیعت کرنے والے تمام لوگ اپنی بیعت سے پھر چکے ہیں تو آپ نے دوبارہ مکہ واپسی کا فیصلہ کیا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ زمانہ اگر
”ٹیلی فون“ کا زمانہ ہوتا تو یہ اطلاع آپ کو کبھی مل جاتی اور آپ اپنا سفر ملتوی کر دیتے۔ اموی گورنر جس نے امام حسین کو مکہ واپسی کی اجازت نہیں دی، اگر یہ ٹیلی فون کا دور ہوتا اور وہ دمشق سے فوری رابطہ قائم کر کے یزید کی ہدایت معلوم کرتا تو یقینی طور پر یزید اس سے کہتا کہ ان کو مکہ واپس جانے دو، ان سے تعرض نہ کرو۔
۱۶ جنوری کو محبوب نگر کے کریسنٹ پبلک اسکول میں اجتماع ہوا۔ اس میں درس قرآن کا میں نے کچھ آیتوں کی روشنی میں دعوت کی اہمیت واضح کی۔ پھر بتایا کہ موجودہ حالات میں ہم دعوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ علم کی صرف دو قسمیں ہیں۔ ایک الہامی علم (revealed knowledge) اور دوسرے ثابت شدہ علم (established knowledge) الہامی علم کی بنیاد پیغمبرانہ وحی ہے۔ اور ثابت شدہ علم کی بنیاد انسانی ریسرچ ہے۔ آدمی کو انھیں دو میں سے کسی ایک کی بنیاد پر بولنا چاہئے۔ حبیب بھائی نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دو کے علاوہ کسی اور بنیاد پر جو مسئلہ اٹھایا جائے وہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فتنہ ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں آپ نے بالکل درست
ایک صاحب نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آجکل کے لوگ اکابر کے اوپر تنقید کو سن کر فوراً بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں خدا پر تنقید کی جائے تو وہ غصہ نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ خدا کے دین پر نہیں ہیں بلکہ اکابر کے دین پر ہیں۔ تقدس مشتبہ ہو تو وہ ڈرتے ہیں کہ وہ اپنی دینی زمین سے محروم ہورہے ہیں۔ چونکہ وہ خدا کے دین پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں۔ اس لئے خدا پر تنقید کے بعد بھی انھیں یہ اطمینان رہتا ہے کہ وہ بے زمین نہیں ہوئے ہیں۔
جناب عزیز احمد خاں صاحب حیدر آباد کی معروف شخصیت ہیں۔ وہ ڈاکٹر بھی ہیں اور ایڈوکیٹ انھوں نے عورتوں کی ان بیماریوں پر ریسرچ کی ہے جن کو عام طور پر جادو اور آسیب کہا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان بیماریوں میں بظاہر کچھ پر اسراریت اور عجوبہ پن ہوتا ہے، اس لئے لوگ ان کو جادو اور آسیب کا نام دیدیتے ہیں۔ مگر یہ قطعاً درست نہیں۔ اس قسم کی بیماریاں وہی باتوں یا رحمی خرابیوں
کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں اور وہ پوری طرح قابل علاج ہیں۔ میں نے خود کئی پیچیدہ کیس میں ہومیوپیتھیک طریقہ علاج کو آزمایا ہے اور الحمد للہ کامیابی حاصل کی ہے۔ لوگوں کو ان بیماریوں کا دماغی اور جسمانی علاج کرانا چاہئے ۔ مذکورہ موضوع پر جناب عزیز احمد خاں صاحب کا ایک مضمون ماہنامہ مہینوں صدی، اگست ۱۹۹۲ میں چھپا ہے۔
راقم الحروف کا خیال بھی ذاتی طور پر یہی ہے۔ اس قسم کی تمام باتیں خود اپنے دماغی اختلال کا نتیجہ ہوتی ہیں نہ کہ کسی خارجی عمل کا نتیجہ ۔ جن یا شیطان کا وجود بلا شبہ بر حق ہے۔ مگر شیطان کو انسان کے اوپر کوئی قدرت حاصل نہیں۔ شیطان صرف بہکانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس لئے جب بھی کوئی معاملہ بہکانے سے زیادہ ہو تو اس کو شیطان یا جن کے بجائے کسی اور چیز کا نتیجہ سمجھنا چاہئے ۔ حیدر آباد کے ایک بزرگ نے اپنی تازہ کتاب دی ۔ اس کا نام ” افکار جدید اور مذہب ہے ۔ اس کے مقدمہ میں بتایا گیا ہے کہ سر سید سے متاثر ان کے ایک ساتھی مولوی چراغ علی (۱۹۵۔ ۱۸۴۶) نے ایک کتاب لکھنا شروع کیا تھا جس کا نام العلوم الجدیدۃ والاسلام تھا۔ یہ کتاب تہذیب الاخلاق میں چھپنا شروع ہوئی ۔ ابھی صرف تمہیدی حصہ لکھا تھا کہ مولوی چراغ علی کی وفات ہو گئی۔ نے ان کی وفات پر تہذیب الاخلاق میں لکھا:
افسوس کہ وہ مضمون لاحل سوال کا جواب جو انھوں نے تہذیب الاخلاق میں لکھنا چاہا تھا ناتمام رہ گیا۔ اور اب امید نہیں کہ کوئی شخص اس لاحل سوال کو حل کرے گا۔ سرسید کو یہ لکھنا چاہئے تھا کہ مولوی چراغ علی نے اس معاملہ کی پہلی اینٹ رکھ دی ہے۔ دوسرے اہل ملت آگے بڑھیں اور اس کام کی تکمیل کریں۔ مذکورہ الفاظ اچھا مرثیہ ہو سکتے ہیں مگر وہ اچھی
مولانا محمد رضوان القاسمی حیدر آبادی ایک معروف دینی شخصیت ہیں۔ ملاقات کے دوران ان سے مفید گفتگو ہوئی۔ انھوں نے اپنے سہ ماہی جریدہ صفا کا ایک خصوصی شمارہ ”فقہ اسلامی: اصول ، خدمات اور تقاضے “ کا ایک نسخہ دیا۔ ۵۶ صفحات کی یہ فقہی دستاویز دار العلوم سبیل السلام کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔
اس کے مختلف حصے دیکھے۔ ایک مقالہ ” مصالح مرسلہ کے موضوع پر تھا۔ مقالہ نگار نے
اس میں لکھا تھا، مصالح مرسلہ کے بارہ میں اہل سنت کے چاروں دبستان فقہ کا نقطہ نظر کیا ہے اس کی ابتدا از مانی، ترتیب کے اعتبار سے فقہ حنفی سے ہونی چاہئے تھی۔ لیکن یہ گنہگار اس کا آغاز فقہ مالکی سے کر رہا ہے۔ کیوں کہ مالکیہ ہی نے استصلاح یا مصالح مرسلہ کی اصطلاح وضع کی ہے۔ انھوں نے ہی اس کے اصول و قواعد منضبط کئے ہیں۔ اس موضوع پر غور و بحث کا دروازہ کھولا ہے۔ اور غالباً دوسرے مکاتب فقہ کی نسبت اس سے زیادہ کام بھی لیا۔ اس لئے اس امر کا اعتراف کیا جانا چاہئے کہ مصالح مرسلہ جیسی اصل کے انضباط کے لئے مالکیہ تمام فقہاء کی تحسین و امتنان کے حقدار ہیں جس کے ذریعہ نئے مسائل کے حل میں مدد لی جاتی رہی ہے۔ صفیہ ۲، ۲۵-۲۲۴ مضمون نگار کا یہ اعتراف قابل قدر ہے۔ تاہم اس کو پڑھتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ اس کا کیا درجہ ہے لوگ ماضی کے ایک عالم کی امتیازی خدمت کا اعتراف تو بہ آسانی کر لیتے ہیں۔ مگر وہ ہم عصر عالم کی امتیازی خدمت کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اول الذکر اعتراف میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی اور ثانی الذکر اعتراف میں معمولی چیز بھی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کا عالم ایک مسلّمہ شخصیت کی حیثیت اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ جب کہ معاصر عالم کے حق میں ابھی اس قسم کا تاریخی وزن موجود نہیں ہوتا۔ ماضی کے عالم کو ماننے کے لئے تاریخ کا دباؤ ہی کافی ہے، جب کہ معاصر عالم کو ماننے کے لئے ذاتی معرفت کا سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ معرفت بلاشبہ اس دنیا کی سب سے زیادہ کم یاب متاع ہے۔
حبیب بھائی نے بتایا کہ ایک بار وہ حیدر آباد کے زو میں گئے۔ وہاں انھوں نے ایک شیر کو دیکھا کہ وہ اپنے پنجرہ کے اندر اگی ہوئی گھاس کھا رہا تھا۔ انھوں نے زو کے آدمی سے پوچھا کہ شیر تو ایک گوشت خور جانور ہے۔ وہ گھاس کیوں کھارہا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے پیٹ کا علاج کر رہا ہے۔ کبھی کبھی شیر کا ہاضمہ بگڑ جاتا ہے یا اس کو قبض ہو جاتا ہے ، اس وقت وہ گھاس لے کر اس کا علاج کرتا ہے۔ مصطفی صدیقی صاحب نے بتایا کہ میں نے بھی بلی کو کبھی کبھی گھاس کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ ڈاکٹر عبد الرشید صاحب نے کہا کہ طبی اصول سے یہ بالکل قابل فہم ہے۔ کیوں کہ نباتات میں دوا فائدہ (medicinal value) موجود ہے۔ اکثر دوائیں نباتات ہی کے ذریعہ بنائی جاتی ہیں۔ قدرت نے ان جانوروں کو گوشت خور بنایا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ان کی فطرت میں یہ شعور رکھ دیا ہے
کہ وہ ہاضمہ کی خرابی کے وقت نباتات لے کر اپنا علاج کر لیں۔
شیر اور بلی وغیرہ میں یہ عادت براہ راست خدائی تعلیم کی بنا پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گوشت خوری اگر فطری ہے تو سبزی خوری بھی عین فطری ہے۔ ہائی پروفائل کا انداز اگر مطلوب ہے تو لو پر وفائل کا انداز بھی عین اسی طرح مطلوب ہے۔ مزید یہ کہ جس وقت لو پروفائل مطلوب ہو اسوقت ہائی پروفائل اختیار کرنا فطرت کی منشا کے خلاف ہے اور یقینی طور پر الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہے۔ حیدر آباد سے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۸۴۰ کے ذریعہ ۲۰ جنوری ۱۹۹۲ کی شام کو روانگی جہاز میں انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین سوگات (جنوری ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون ہندوستان میں مچھلی کے شکار (Indian fishing) اس میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا دنیا کا ساتواں سب سے بڑا مچھلی کا ملک (fishing nation) سمجھا جاتا ہے۔ انڈیا میں ۹۷ کی تعداد میں گہرے سمندر میں مچھلی کا شکار کرنے والے جہاز ہیں۔ ۲۳ ہزار میکانائزڈ بوٹ اور ایک لاکھ ۲۵ ہزار دیسی ساخت کی کشتیاں ہیں۔ یہ سب مل کر بھی سمندر سے ایک ملین سے کم (million 0.21) ٹن مچھلی نکالتے ہیں۔ ابھی اس میدان میں بہت زیادہ حاصل کرنا باقی ہے۔ ہندستانی سمندروں کے نیچے سمندری خوراک (sea-food) کی قیمتی دولت بہت بڑی مقدار میں اس کو استعمال کر کے انڈیا کو مچھلی کا بہت بڑا بر آمدی ملک بنایا جا سکتا ہے۔ ہم کو چاہئے کہ ہم ملک کے وسیع غیر استعمال شدہ ذخائر کو استعمال کریں:
We must tap the country's vast unexploited resources (p.92). اس کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ یہ صرف ہندستانی سمندر کی بات نہیں، ہم میں سے ہر ایک کی بات ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے وسیع امکانات کے اعتبار سے غیر استعمال شدہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کو ابھی اپنے امکانات کو مزید استعمال کرنا ہے۔
جہاز کے اندر مطالعہ کے لئے کئی اخبارات تھے۔ نیوز ٹائم (۲۰ جنوری ۱۹۹۲) میں کرکٹ کے مشہور کھلاڑی مسٹر اظہر الدین کا ایک مضمون تھا۔ انھوں نے بلبورن (آسٹریلیا) کے حالیہ کرکٹ میچ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہاں ہندستانی ٹیم نے بہت بری کارکردگی (worst performance) مگر سچا کھلاڑی وہ ہے جو حال سے زیادہ مستقبل پر نظر رکھے ۔ چنانچہ انھوں نے کمزوری کا اعتراف
کرتے ہوئے آئندہ کے لئے امید کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ ہر برے لمحہ کے ساتھ اچھا لمحہ بھی ضرور آتا ہے:
I believe that for every bad moment, there is a good one on the way. یہی زندگی کا صحیح ترین اصول ہے۔ جو لوگ اس اصول کو اپنائیں وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ وہ ہر شام کے بعد اپنی لئے ایک نئی صبح کو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین سوآگت (جنوری ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون سنگاپور کے بارے میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ سنگاپور کا رقبہ صرف ۲۳۸ مربع میل ہے۔ اور اس کی آبادی تقریباً تین ملین ہے۔ مگر ترقی کے اعتبار سے وہ بہت سے بڑے بڑے ملکوں سے بھی آگے ہے۔ ۱۹۹۰ کے درمیان ۲۰ سال کے عرصہ میں سنگاپور نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔
مجھے وہ رپورٹ یاد آئی جو میں نے پاکستان کے اخبار نوائے وقت (۲۵ دسمبر ۱۹۹۱) میں اس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم مسٹر نواز شریف نے ایک سفر کے دوران سنگاپور کا معلوماتی دورہ کیا۔ دوران پرواز انھوں نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بطور خاص سنگاپور آنے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ تیسری دنیا کے اس ملک کی ترقی کی حکمت عملی کو جان انھوں نے کہا کہ سنگاپور کی فی کس سالانہ آمدنی ۱۳ ہزار ڈالر ہے۔ جب کہ پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی ۳۵۰ ڈالر ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے سنگاپور کے حوالہ سے پاکستان کی پس ماندگی پر رونا آتا ہے سنگاپور میں نہ قدرتی وسائل ہیں اور نہ زرعی پیداوار۔ لیکن اس ملک نے محض ٹرانزٹ پورٹ کی حیثیت سے اتنی ترقی کی کہ اب وہ دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ اور ہم دن بدن پیچھے جار ہے ہیں جب کہ پاکستان بہترین قدرتی وسائل اور ہنرمند افراد کی قوت سے مالامال ہے۔ سنگاپور کو ایک چھوٹی سی دنیا ملی۔ اس پر قانع ہوکر اس نے ممکن دائرہ میں اپنی ترقی کی جدوجہد شروع کر دی۔ یہی اس دنیا میں ترقی اور کامیابی کا واحد راز ہے۔ جو لوگ ملے ہوئے پر اپنے کوششوں کو مرتکوز کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ نہ ملے ہوئے کو حاصل کرنے کی طرف دوڑتے ہیں وہ ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔
۲۰ جنوری ۱۹۹۲ کی شام کو میں دہلی واپس آگیا۔ واپسی کے بعد حیدر آباد اور محبوب نگر سے متعدد خطوط موصول ہوئے۔ محبوب نگر سے جناب محمد عبدالقادر صاحب کا ایک خط ملا۔ وہ سادہ اور مختصر اور پر حسب ذیل تھا:
"محبوب نگر کا پروگرام بہت سارے احباب کی جانب سے بے حد پسند کیا گیا۔ کی جارہی ہے کہ اس طرح کے پروگرام سال میں کم از کم ایک دفعہ ضرور ہونے چاہیے۔ الرسالہ کی ایجنسی کی مہم جاری ہے۔ کسی عالم دین کو میں نے یہ پہلا خط لکھا ہے۔ اگر کچھ غلطی ہوئی ہو تو درگزر فرمائیں"
الرسالہ اردو اور انگریزی ایک، ایک سال کی فائل مجلد کر وائی گئی ہے۔ فی الحال الرساله اردو ۱۹۸۰ سے ۱۹۸۸ تک تیار ہے اور تک تیار ہے۔
آئی وٹنس (Eyewitness) ہندوستان ٹائمس کے تحت ویڈیو کیسٹ میگزین بناتے ہیں ۔ ۱۰ فروری ۱۹۹۳ کو اس کی ٹیم اسلامی مرکز میں آئی ۔ اس نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ویڈیو ٹیپ پر لیا ۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بابری مسجد اور اجودھیا کے مسائل سے تھا ۔ بمبئی کے مسٹر مدھو مہتا (ہندوستانی آندولن) کی دعوت پر ۳۱ جنوری ۱۹۹۳ کو بمبئی کا سفر ہوا ۔ ۵ فروری کو واپسی ہوئی۔ وہاں مختلف اجتماعات ہوئے جن میں بمبئی کے ممتاز ہندو اشخاص جمع ہوئے۔ یہ لوگ مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ۴ فروری کو خلافت ہاؤس میں عمومی اجتماع ہوا۔ اس میں بمبئی کے تعلیم یافتہ مسلمان کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۴ فروری ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ یہ رمضان کے روزہ کے بارہ میں تھی۔ اس میں روزہ کے اخلاقی فوائد بتائے گئے۔
آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۱ فروری ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ یہ اخلاقیات کے موضوع پر تھی۔ اس میں اچھے اخلاق اور برے اخلاق کو سادہ طور پر بیان کیا گیا۔
ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے بھوپال سے اطلاع دی ہے کہ جناب سلمان صاحب نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک میٹنگ سیفیہ کالج میں کی۔ اس میں مشورہ سے طے کیا گیا کہ کالجوں کے نوجوانوں پر مشتمل پیس میکروس نام کی ایک تنظیم بنائی جائے ۔ یہ ایک مفید اقدام ہے۔ اس قسم کا تجربہ ہر جگہ کیا جانا چاہئے ۔ ۶ فروری ۱۹۹۳ کو آغا خاں ہال (نئی دہلی) میں نیشنل سد بھاونا کانفرنس ہوئی۔ اس کا موضوع سوشل ہارمنی تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلامی نقطہ نظر پیش کیا۔ نیوز ٹریک نئی دہلی، کی ٹیم ۱۳ فروری ۱۹۹۳ کی شام کو اسلامی مرکز میں آئی اور صدر اسلامی مرکز کا ایک مفصل انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو نیوز ٹریک کے مارچ ۱۹۹۳ء کے ویڈیو میں شامل کیا جائے گا۔ سوالات کا تعلق ملکی اور اجودھیا کے مسائل سے تھا۔
مسٹر موہتا اور شریف بمبئی کی دعوت پر ۱۵ فروری ۱۹۹۲ کو بمبئی کا سفر ہوا۔ ۲۰ فروری کو اس دوران ہندوؤں اور مسلمانوں کے کئی اجتماعات میں خطاب کا موقع ملا۔ بمبئی سے مدراس کا سفر ہوا۔ وہاں کانچی کے شنکر اچاریہ سے ملاقات کی۔ اس میں اجودھیا کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کی خواہش خود شنکر اچاریہ نے کی تھی۔ ڈاکٹر این ایم شیخ (کلیان) لکھتے ہیں کہ اس پر فتن دور میں الرسالة کا وجود ہندوستانی مسلمانوں کے لئے نعمت اور امید کی کرن ہے۔ فی الحال میرے نام الرسالة کی ۱۰ کاپیاں بطور ایجنسی ہر ماہ روانہ کریں " یہی درست طریقہ ہے۔ جو لوگ بھی الرسالہ کے پیغام سے اتفاق کرتے ہیں ان سب کو یہ کرنا ہے کہ وہ الرسالہ کی ایجنسی لیں اور اپنے حلقہ میں اس کو پھیلا کر شعوری بیداری کا کام کریں۔
یو این آئی اردو نیوز سروس نے روزانہ تمام اخباروں کو الرسالہ کے اقوال بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مثلاً "آج کا قول" کے عنوان کے تحت انھوں نے ایک قول یہ روانہ کیا: جو مسئلہ اپنی غلطی مان کر ختم ہو سکتا ہے، اس کے لئے دوسروں کی غلطی منوانے کی کوشش کرنا وقت کا ایسا ضیاع ہے جس کا ارتکاب کوئی نادان ہی کر سکتا ہے۔ برندابن (متھرا) کے گیتا آشرم کی طرف سے ۱۳ - ۱۶ جنوری ۱۹۹۳ کو ایک سمواد پر یاس منعقد کیا گیا۔ اس میں ملک کے مختلف حصوں سے تقریباً ۵۰ ہندو دانشور شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ چنانچہ انھوں نے شرکت کی اور وہاں اسلام کی روشنی میں نئے ہندوستان کی تعمیر پر چند تقریریں کیں۔ ہندی هفت روزه پانچ جنیہ کے نمائندے نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ کا تعلق زیادہ تر موجودہ حالات سے تھا۔ یہ انٹرویو پانچ جنیہ کے شمارہ جنوری ۱۹۹۳ میں شائع ہوا ہے۔
ڈیلی ٹیلی گراف کے نمائندہ مسز سونار اولہ نے ۲۸ جنوری ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا اس کا موضوع یونیفارم سول کوڈ تھا۔ بتایا گیا کہ یونیفارم سول کوڈ نہ ممکن ہے اور نہ مفید۔
مدھیہ پر دیش میں مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے جبلپور کا سفر کیا۔ وہاں آل انڈیا کانفرنس آن نیشنل انٹیگریشن میں تقریر کی۔ اور مختلف ہندوؤں اور مسلمانوں سے ملاقاتیں کیں۔ واپسی میں بھوپال میں قیام رہا اور وہاں بھی تقریر اور ملاقاتوں کے پروگرام میں شرکت ہوئی۔ جبلپور اور بھوپال کے یہ پروگرام جنوری ۱۶۹۳ کے آخری ہفتہ میں ہوئے۔
۲۷ جنوری ۱۹۹۳ کو فنکی آڈیٹوریم نئی دہلی میں ایک سیمنار ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور اسلام کیا ہے اور اسلام کیا نہیں ہے، کے موضوع پر خطاب کیا۔
پروفیسر عبد الکریم صاحب (سائنس اینڈ کامرس کالج، ہبلی) نے اپنے خط مورخہ ۷ دسمبر ۱۹۹۲ کے ذریعہ مطلع کیا ہے کہ ان کے یہاں غیر مسلم اہل علم پر ’افٹ آف ریولیوشن (پیغمبر انقلاب) کو بہت پسند کر رہے ہیں۔ ایک ہندو جرنلسٹ نے طے کیا ہے کہ وہ اس کتاب کا ترجمہ کنڑا زبان میں کریں ۔ وہ لکھتے ہیں :
Your book Muhammad: The Prophet of Revolution has evoked a great deal of interest among non-Muslim scholars. A working journalist, Shri Ghalagi, working for the Kannada paper 'Vishwavani & Prapancha' has expressed his desire to translate the work in Kannada. صدر اسلامی مرکز نے کچھ لوگوں کے ساتھ شرنگیری کا سفر کیا۔ وہاں ۱۹ فروری ۱۹۹۲ کو شنکر اچاریہ سے ملاقات کی ۔ شانتی مشن میں انھوں نے اپنا پورا تعاون دینے کا وعدہ کیا۔ اس سفر کی تفصیلی رپورٹ انشاء اللہ سفرنامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کی جائے گی۔ ایک صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں : میں نے آپ کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ بھی پڑھتا ہوں۔ ان کو پڑھنے کے بعد میں نے صحیح طور پر اسلام کو سمجھا۔ اور فکری طور پر اس کی طرف مائل ہوا۔ اس سے پہلے میں نماز نہیں پڑھتا تھا۔ مگر اللہ کو آپ کی تحریروں کے ذریعہ ہدایت دینا منظور تھا۔ اب میں پانچوں وقت کی نماز پڑھنے لگا ہوں (سید محمد، برکت الرحمن ، کھڑک پور، بنگال)