Al-Risala · May 1993

مسجد اور مسلمان

Al-Risala, May 1993, pp. 4–9

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت میں اجود ھیا کی بابری مسجد کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھادی گئی۔ پوری زمین صاف کر کے وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا جس پر روزانہ پوجا اور درشن کیا جا رہا ہے۔

۶ دسمبر کے اس واقعہ کے بعد اب صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ اس لیے اب ہمیں نئے حالات کے مطابق اپنے کام کا نقشہ بنانا ہے۔ ہمارا ایسا کرنا اسلامی شریعت کے عین مطابق ہوگا۔ کیوں کہ شریعت کا مستقل اصول ہے کہ حالات کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ مسلمانوں نے بابری مسجد کے سوال پر بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں۔ خاص طور پر آخری چھ سال کے دوران وہ جان و مال کی زبردست قربانی دے کر اس مہم کو چلاتے رہے ہیں، مگر اس کے باوجود بابری مسجد کو بچانا ان کے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ ایسی حالت میں سابقہ انداز کی احتجاجی تحریک جاری رکھنا سراسر نادانی ہوگی۔ ایسی تحریک کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ کیوں کہ اسلام نتیجہ خیز عمل کی تلقین کرتا ہے۔ جس عمل کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہ ہو وہ عمل اسلام کے مطابق نہیں۔ ۶ دسمبر سے پہلے، ہمارے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ بابری مسجد کو کس طرح بچائیں۔ ۶ دسمبر کے بعد اب یہ مسئلہ ہے کہ مسلمانوں کو کس طرح بچایا جائے اور اجودھیا کی قسم کے واقعہ کو کسی اور مقام پر دہرانے کو کس طرح روکا جائے۔ شریعت کی روشنی میں پوری طرح سوچ بچار کرنے کے بعد اس کے حل کے لیے میں نے تین نکاتی فارمولا پیش کیا ہے جو کہ اس طرح ہے : مسلمان بابری مسجد کے بارہ میں اپنے ایجی ٹیشن کو ختم کر دیں۔

ہندو اپنی مندر۔ مسجد تحریک کو اجودھیا ہی میں ہمیشہ کے لیے اسٹاپ کر دیں۔ گورنمنٹ عبادت گاہوں کے تحفظ کے ایکٹ (۱۹۹۱) کو دستور ہند کا جز بنا دے۔ جیسا کہ واضح ہے، اجودھیا کے مسئلہ میں تین فریق ہیں۔ مسلمان، ہندو اور حکومت۔ فارمولے میں ان تینوں کو لیا گیا ہے۔ تینوں سے ایسی مانگ کی گئی ہے جو پوری طرح ان کے لیے قابل عمل ہے۔ اگر تینوں فریق، اس فارمولے کو مان لیں تو اس کے بعد انشاء اللہ انڈیا کی تاریخ

میں ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات اچھے ہو جائیں گے۔ امن قائم ہوگا۔ خوف اور تشدد کی فضا ختم ہو جائے گی جو دیش کی ترقی کے راستے میں مستقل رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

دوسری بات جو میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ مسجد اور مسلمان کا فرق ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ ہیں اور ان میں نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ مسجد کا حکم شریعت میں کیا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ مسجد سے متعلق مسلمانوں کے رویہ کے بارہ میں شرعی حکم کیا ہے۔ ایک مسئلہ کا تعلق مسجد کی اپنی حیثیت سے ہے۔ دوسرے مسئلہ کا تعلق مسجد کے بارہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری سے۔

یہ دونوں باتیں مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ شریعت کے اعتبار سے جو مسجد کی پوزیشن ہے وہی اس معاملہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری بھی ہے۔ یا مسلمانوں کی جو ذمہ داری ہے وہی خود مسجد کی اپنی پوزیشن بھی ہے۔

فرق کے اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں جو آیت اتری وہ یہ نہیں تھی کہ طھر الكعبة (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) بلکہ یہ کہا گیا کہ وثيابك فطهر (اپنے کپڑے کو پاک کر۔ یعنی اخلاق کو درست کرو) کی دور میں اسی قسم کی آیتیں اترتی رہیں۔ ان آیتوں کا تعلق اس مسئلہ سے نہیں تھا کہ کعبہ کے اندر بت رکھنے کا شرعی حکم کیا ہے۔ ان کا تعلق صرف اس مسئلہ سے تھا کہ جیسے حالات میں مسلمانوں کی اپنی ذمہ داری کیا ہے۔ اس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے اب بابری مسجد کے معاملہ میں غور کیجئے ۔ جہاں تک نفس مسجد کا تعلق ہے، اس کے بارہ میں متفقہ طور پر شریعت کا حکم یہ ہے کہ جس جگہ جائز طور پر ایک مسجد بنا دی جائے وہ جگہ ہمیشہ کے لیے مسجد کی جگہ ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کو اس میں تبدیلی کا کوئی حق نہیں رہتا۔ دوسرا پہلو یہ کہ کسی مسجد کے ساتھ اگر اس قسم کے واقعات پیش آئیں جیسے واقعات اجودھیا میں پیش آئے ہیں تو ایسی صورت میں مسلمانوں کی اپنی ذمہ داری کیا ہے۔ ایسے معاملہ میں ایک صورت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کی طرح مسلمان یہ کہہ کر اس سے الگ

ہو جائیں کہ مسجد خدا کی چیز ہے ، وہی جس طرح چاہے گا اس کی حفاظت کرے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مسلمان خاموش نہ رہیں بلکہ وہ مسجد کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے اگر مسلمان ایسا کریں تو ان کے اس عمل کی بھی ایک حد ہوگی ۔ ایک حد تک جانے کے بعد انھیں دوبارہ اس معاملہ میں چپ ہو جانا پڑے گا ۔ یہ حد قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے کہ: لا يكلف اللہ نفساً الا وسعها (البقره ۲۸۶) اللہ کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت کے مطابق ۔ یعنی کسی مومن فرد یا کسی مومن گروہ کے بس میں جتنا کچھ ہو، صرف اتنے ہی کے لیے وہ مکلف اپنے بس سے باہر کی ذمہ داری کسی مسلم فرد یا کسی مسلم گروہ کے اوپر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد کا حکم بتانے کے لیے تو یہ کہنا صحیح ہے کہ مسجد جس جگہ جائز طور پر بنا دی جائے وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہو جاتی ہے ۔ مگر مسجد کے تئیں مسلمانوں کی ذمہ داری کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ۔ جب سوال یہ ہو کہ کسی مسجد کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے تو وہاں مذکورہ مسئلہ بیان کرنا اصل سوال کا صحیح جواب نہ ہوگا۔ دوسری صورت میں مسلمانوں کی اپنی حالت ان کے لیے شرعی حکم کا فیصلہ کرے گی نہ کہ نظری اعتبار سے مسجد کی شرعی حیثیت ۔

اس شرعی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے بابری مسجد اور مسلمان کے مسئلہ پر غور کیجیے! تو معلوم ہوگا کہ اب اس معاملہ میں مسلمانوں کی کوئی شرعی ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر ان کے اوپر بابری مسجد کے تحفظ کی ذمہ داری تھی تو اس ذمہ داری کو وہ قربانی کی حد تک جا کر ادا کر چکے انھوں نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ بابری مسجد کو بچانا چاہا مگر وہ اس کو نہ بچا سکے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ۶ دسمبر کو اس معاملہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری کی آخری حد آچکی ہے ۔ اب وہ شریعت کی رو سے بالکل حق بجانب ہیں کہ اس معاملہ سے اپنے آپ کو الگ کر کے اس کو مستقبل کے حالات کے حوالے کر دیں۔

۶ دسمبر کے حادثہ کے بعد اس معاملہ میں نوعی اور بنیادی تبدیلی ہوئی ہے ۔ وہ یہ کہ اب مسئلہ بابری مسجد کے تحفظ کا نہیں ہے ۔ اب اصل مسئلہ خود مسلمانان ہند کے تحفظ کا ہے۔ اگر مسلمان اپنی اس احتجاجی تحریک کو مزید جاری رکھیں جو اس اشو پر وہ ۶ دسمبر سے پہلے چلا رہے

تھے تو یقینی طور پر اس کا نتیجہ یہ نہیں نکلے گا کہ مذکورہ مقام پر دوبارہ بابری مسجد بن کر کھڑی ہو جائے۔ اس کے برعکس عملاً جو نتیجہ نکلے گا وہ یہ کہ مسلمان پورے ملک میں فسادات کی زد میں آجائیں گے۔ وہ بے شمار ایسی مشکلوں میں گھر جائیں گے کہ اس ملک میں عزت کے ساتھ رہنا ہی ان کے لیے دشوار ہو جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ ۶ دسمبر کے بعد دو اور دو چار کی طرح یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس معاملہ میں اب مسلمانوں کے لیے جو انتخاب ہے وہ بابری مسجد بنانے یا بابری مسجد نہ بنانے کے درمیان نہیں ہے، بلکہ بابری مسجد اور ملت کی تباہی کے درمیان ہے۔ یعنی مسلمان اگر دوبارہ اسی مقام پر بابری مسجد تعمیر کرنے کی مہم چلائیں تو اس کے نتیجہ میں یہ نہیں ہونے والا ہے کہ بابری مسجد اپنے اصل مقام پر بن کر کھڑی ہو جائے۔ اس کے برعکس جو ہوگا وہ یہ کہ انڈیا کے مسلمان ناقابل بیان تباہی میں پھنس کر رہ جائیں۔

یہاں میں آپ کو ایک اور شرعی حکم یاد دلاتا ہوں جو بہت زیادہ اس مسئلہ سے متعلق ہے۔ اس حکم کو قرآن کی زبان میں اضطرار کہا جاتا ہے۔ مثلاً خنزیر کا گوشت کھانا اسلام میں مطلق حرام ہے۔ لیکن ایک شخص اگر مضطر ہو جائے۔ یعنی وہ ایسی صورت حال میں مبتلا ہو جائے کہ اس کے پاس کھانے کے لیے صرف خنزیر کا گوشت ہو۔ اس کے لیے دو میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا موقع یا تو وہ خنزیر کا گوشت کھا کر اپنی جان بچائے یا پھر بھوک سے مر جائے۔ ایسی حالت میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس آدمی کو خنزیر کا گوشت کھا لینا چاہیے۔ کیوں کہ جان بوجھ کر اپنے کو ہلاک کرنا اسلام میں جائز نہیں۔

اس شرعی اصول کی روشنی میں دیکھئے تو آج یہی نازک مسئلہ انڈیا کے پورے مسلم گروہ کے لیے پیدا ہو گیا ہے۔ پھر جو شریعت ایک جان کو بچانے کے لیے حرام غذا کو حلال کر دیتی ہے، وہ شریعت کیا بارہ کروڑ انسانوں کے ایک مسلم گروہ کو ہلاکت سے بچانے کے لیے انھیں کوئی رعایت نہ دے گی۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ بابری مسجد کو بچانا مسلمانوں کی قومی ذمہ داری تھی، تب بھی موجودہ حالت میں یہ ذمہ داری ان سے ساقط ہو جاتی ہے۔ اب خود شریعت کے حکم اضطرار کے تحت

ان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ بابری مسجد کے مسئلے سے الگ ہو جائیں تاکہ اپنے آپ کو مزید ذلت اور ہلاکت سے بچا سکیں۔

صحیح بخاری میں روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ : مخيّر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار أيسرھما( (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب فرماتے) اس حدیث کو سامنے رکھ کر سوچئے تو اس وقت مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک چیز کے انتخاب کا موقع ہے۔ ایک یہ کہ بابری مسجد کے اشو سے خود کو الگ کر کے اس کو ملک کے ضمیر کے حوالے کر دیں۔ دوسرے یہ کہ بابری مسجد کے لیے وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں۔ صورتوں کا تقابل کیجئے تو یقینی طور پر پہلی صورت آسان اور دوسری صورت انتہائی مشکل ہے۔ ایسی حالت میں عین سنت رسول کا تقاضا ہے کہ مسلمان آسان صورت کو اپنا لیں اور مشکل صورت کو چھوڑ دیں۔

اس روش کو اختیار کر کے مسلمان کوئی نئی بات نہیں کریں گے ۔ وہ وہی کریں گے جس پر وہ تقریباً پچاس سال سے اس ملک میں عمل کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے ، ۱۹۴۷ میں پنجاب ، ہریانہ اور راجستھان میں ہزاروں کی تعداد میں مسجدیں ڈھائی گئیں مختلف طریقوں سے ان کی بے حرمتی کی گئی۔ مگر مسلمانوں نے کبھی بھی ان مسجدوں کے نام پر کوئی ایجی ٹیشن نہیں کیوں کہ اس معاملہ میں انھوں نے اپنے کو مضطر پایا تھا۔ اب اگر وہ بابری مسجد کو بھی اسی فہرست میں شامل کر لیں تو یہ عین وہی ہوگا جس پر اس سے پہلے سے وہ عملاً قائم رہے ہیں۔ میں نے جو تین نکاتی فارمولا پیش کیا ہے وہ باعتبار حقیقت کوئی نئی چیز نہیں۔ یہ جو دھیا کی مسجد کے معاملہ میں اسی اصول کو باعزت طور پر لاگو کرنا ہے جو عملاً ملک کی ہزاروں مسجدوں کے بارے میں تمام علما کی مرضی سے اختیار کیا جا چکا ہے۔

اس تین نکاتی فارمولے میں ایک طرف مسلمان مزید جان و مال کی ہلاکت سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ فریق ثانی اس کے ذریعہ اس بات کا پابند ہو جاتا ہے کہ وہ آجودھیا جیسے عمل کو ملک کی کسی اور مسجد کے ساتھ کبھی نہ دہرائے۔ تیسرے یہ کہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کو اپنی

عبادت گاہوں کے لیے ایک محکم دستوری ضمانت مل جاتی ہے۔

جیسا کہ میں نے کہا ، اس فارمولے کا مقصد مسجد کے بارہ میں شرعی حکم کو بتانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ مسلمانوں کی اپنی ذات کے اعتبار سے اس معاملہ میں ان کے لیے شریعت کا حکم کیا ہے۔

اس فارمولے کو مان کر اگر اس کی تعمیل کر دی جائے تو اس کا غیر معمولی فائدہ مسلمانوں کو اور پورے ملک کو ملے گا۔ اس کے بعد ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔ نفرت اور تشدد کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ اس طرح مسلمانوں کو اور دوسرے تمام طبقوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کی تعمیر میں پر امن طور پر لگ سکیں۔ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر ترقی اور کامیابی کی طرف اپنا سفر شروع کر دیں۔

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب پر اپنا رحم فرمائے۔ اس ملک کے تمام لوگوں کو سچی سمجھ دے تاکہ وہ اس ملک کو ایک ترقی یافتہ ملک بنا سکیں۔ نوٹ : ایک تقریر جو ۱۵ فروری ۱۹۹۲ کو دہلی میں کی گئی۔

Printed page