Al-Risala · May 1993

فرنٹ لائن کا جائزہ

Al-Risala, May 1993, pp. 20–24

By Maulana Wahiduddin Khan

ہفت روزہ فرنٹ لائن کے رپورٹر وینکٹیش را ماکرشنن نے بنارس جا کر اس معاملہ کی تحقیق فرنٹ لائن کے شمارہ (۲۹ جنوری ۱۹۹۲) میں اس کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ کا کہنا ہے کہ اجودھیا کی طرح متھرا اور بنارس میں بھی جھگڑے کی بنیاد حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ وہ صرف افسانہ پر مبنی ہے :

As at Ayodhya, the “disputes” at Mathura and Varanasi have their basis in myths (p.12).

انھوں نے لکھا ہے کہ ہند تو کے علم بردار یہ کہتے ہیں کہ گیان واپی مسجد جو کہ کاشی وشو ناتھ مندر کے پاس ہے، اس کو ایک مندر کو توڑ کر بنایا گیا تھا۔ مگر اس دعوے کے حق میں ان کے پاس کوئی واضح ثبوت (clear proof) موجود نہیں۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں مہنت لوگوں کے بیانات بھی یکساں نہیں۔ مختلف مہنت مختلف بات کہتے ہیں۔ مثلاً پنڈت رام شنکر تر پاٹھی کہتے ہیں کہ اصل مندر رضیہ بیگم کی مسجد کی جگہ تھا۔ جو کہ گیان واپی مسجد سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ پنڈت کیلاش پتی تیواری گیان واپی مسجد ہی کو قدیم مندر کا اصل مقام بتاتے ہیں، مگر ان کے پاس اس کا کوئی تاریخی ریکارڈ نہیں۔ کچھ اور مہنت یہ کہتے ہیں کہ اصل وشو ناتھ مندر ر و شیشور گنج میں تھا۔ یہ مقام بھی گیان واپی مسجد سے دو کلومیٹر دور ہے۔ اور بھی کئی رائیں ہیں۔ مگر تاریخی دستاویزات (historical records) کسی کے پاس بھی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گیان واپی مسجد کی جگہ ایک وشو ناتھ مندر تھا۔ اور نگ زیب نے اس کو ڈھا کر ۱۶۶۹ میں یہاں ایک مسجد تعمیر کی۔ بتاتی ہے کہ بنارس کے سنتوں اور پنڈتوں سے اس مغل بادشاہ کے اچھے تعلقات تھے۔ میں اس نے مندر کو کیوں ڈھایا (صفحہ ۱۴)۔

مزید یہ کہ موجودہ وشو ناتھ مندر کو اندور کی مہارانی اہليا بائی ہولکر نے ۱۷۷۷ء میں بنوایا تھا۔ اس وقت ایک تجویز یہ تھی کہ گیان واپی مسجد کو ڈھا دیا جائے ۔ مہارانی نے بنارس کے پنڈتوں سے لوک پتی ترپاٹھی کے بیان کے مطابق، پنڈتوں نے اس کی مخالفت کی کیوں کہ ان کے نزدیک کسی دوسرے فرقہ کی عبادت گاہ کو ڈھا کر وہاں مندر نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ یہ تجویز ختم ہوگئی: The temple was rebuilt by the Maharani of Indore, Ahalya Bai Holkar, in 1777. Then there was a suggestion to demolish the Gyanvapi Mosque, and the Maharani consulted the pundits of Varanasi. According to Lokpati Tripathi, Congress (I) leader, the pundits were against this, for, according to them, a mandir could not be built by demolishing another community's place of worship. this put an end to the move. (14). ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جو لوگ بابری مسجد کو ڈھا ر ہے تھے، وہ اپنے خیال کے مطابق، پتھر کے ایک قدیم ڈھانچہ کو ڈھا ر ہے تھے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے انھوں نے ملک کے پورے اقتصادی ڈھانچہ

اس سلسلہ میں مختلف رپورٹیں اخباروں میں آتی رہی ہیں۔ مثلاً ۶ دسمبر کے بعد دیش میں جو گڑ بڑ ہوئی، اس کی وجہ سے صرف دسمبر ۱۹۹۲ اور جنوری ۱۹۹۳ میں گورنمنٹ کے کسٹم اور اکسائز ڈیوٹی کی وصولیابی میں ۲۵۰۰ کروڑ رو پے کی کمی واقع ہوئی۔ فسادات کے نتیجہ میں اکثر بڑے شہروں میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر جو نقصان ہوا، اس کی مقدار اربوں روپیہ تک جاتی ہے۔ انوسٹ منٹ میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ۔ حتیٰ کہ متعدد بیرونی تجارتی ادارے اپنا کاروبار بند کر کے ہندوستان سے واپس چلے گئے۔

ٹائمس آف انڈیا (۸ فروری ۱۹۹۳) نے اس سلسلہ میں ایک جامع سروے شائع کیا ہے جس کو اگلے صفحات میں نقل کیا جارہا ہے۔ اس کے مطابق ، ملک بھر کا تجارتی طبقہ مندر ۔ مسجد سیاست سے گھبرا اٹھا ہے۔ کیوں کہ اس کا اقتصادی نقصان ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہے۔ صرف بمبئی کے فسادات میں جو نقصان ہوا، اس کا اندازہ تقریباً دو ہزار کروڑ روپے ۔ احمد آباد اور سورت میں یہ نقصان تین ہزار کروڑ روپیہ تک پہنچ گیا۔ یہ مقدار بھی براہ راست نقصان کی ہے۔ اس اندازہ میں شامل نہیں ۔

جے پور میں فرقہ وارانہ فساد کی صورت میں دو ہزار کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔ میونسپل کارپوریشن میں ہر روز پانچ لاکھ روپیہ جنگی کی رقم آتی تھی۔ مگر دسمبر میں ۵۰۶ ہزار روپیہ روزانہ تک گرگئی۔ لکھنؤ کے تاجروں کو اس دوران پانچ سو کروڑ روپیہ کا نقصان پہنچا۔ اتر پردیش کے تاجروں کا خیال ہے کہ ریاست کی اقتصادیات دس سال پیچھے چلی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں کاشی بیوپار منڈل کا فیصلہ قابل ذکر ہے جو بتاتا ہے کہ اجودھیا کے تجربہ کو بنارس میں دہرانا اپنے اندر ایک سنگین خطرہ لیے ہوئے ہے۔ یہ ہند و مسلم مسئلہ میں مزید اضافہ کرکے اس کو ہندو ہند مسئلہ بنا دینے کے ہم معنی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خود ہندوؤں کا تاجر طبقہ مبینہ طور پر اس کے خلاف ہوگیا ہے۔

اس سلسلہ میں مسٹر ویویک بھارتی (Vivek Bharati) کا مضمون (شائع شدہ ٹائمس آف انڈیا ۶ جنوری ۱۹۹۳) اس تحریک کے علم برداروں کے لیے ایک چیتا ونی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ۲۲ لرسال ملی ۱۹۹۳

دوسری عنوان انھوں نے ان الفاظ میں قائم کیا ہے :

Lessons Of Varanasi Pitting Economy Against Hindutva اس مضمون کا ایک حصہ صفحہ کے نیچے درج کیا جا رہا ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوؤں نے اب جان لیا ہے کہ اجودھیا کے نام پر اٹھائی جانے والی تحریک ایک تخریبی تحریک تھی۔ اس کا ایک مظاہرہ بنارس میں سامنے آیا ہے ۔ بنارس میں تقریبا پانچ لاکھ تاجروں کی طاقت ور کمیونٹی ہے ۔ تنظیم کا نام کاشی بیو پارمنڈل ہے۔ اس تنظیم کے ہندو تاجروں نے اس سے پہلے بی جے پی کو کافی تعاون دیا تھا۔

لیکن ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد جب انہیں معلوم ہوا کہ بابری مسجد کے فاتح بنارس کی گیان واپی مسجد کا رخ کرنے والے ہیں تو کاشی بیو پار منڈل فوراً اس کے خلاف حرکت میں آگیا ۔ اس نے بنارس کے پانچ لاکھ تاجروں کے نام پر ور ز اپیل جاری کی جس میں کہا گیا تھا کہ بنارس کے تمام تاجر مندر اور مسجد کی As the communal violence unleashed by the Ayodhya tragedy hit the headlines, the numerous instances from all over the country of people from both the communities joining hands to resist the destructive onslaught of communalism were relegated to the background. One such spontaneous mass action preaching peace and sanity in the historic city of Varanasi is particularly noteworthy. Sensing that the "conquerors" of Babri Masjid have a similar design for the Gyanvapi mosque at Varanasi, the city's traders' association, the Kashi Vyapar Mandal, issued a strong appeal to the five-lakh strong trader community comprising both Hindus and Muslims to stay away from the politics of Mandirs and Masjids and followed it up by organizing peace marches. Ironically, the Hindu members of the Vyapar Mandal have supported the BJP. in the past and even mobilised donations for the kar sevaks who ran amok at Ayodhya. The issue is not whether these erstwhile supporters of the BJP have suddenly turned secular but that they have found it necessary to maintain peaceful co-existence. If Varanasi goes the Ayodhya way, the traders would be the worst hit as lawlessness and killings would drive away thousands of tourists who flock to this temple city and also kill a flourishing business in carpets and sarees which caters to both the home and export markets. Since both Muslims and Hindus are equally dependent on this commerce, it is plain that economic interests have prevailed over political or communal prejudices. This should send a clear signal that a powerful economic agenda has to be a major plank in the fight against communalism. Over the last two decades India has lost the race of development and its status in the world. A large number of countries which were poorer than us have passed us by and it is not India but China which is emerging as the new economic giant. It is time to spread the message of Varanasi that communalism can only disrupt and destroy and prevent us from seizing the last chance we have of recharging our economic system and retrieving our national pride. It is time to spread the message of Kautilya that "of the three ends of human life, material gain is, verily, the most important." On material gain depends the realization of dharma and pleasure. (The Times of India, January 6, 1993) ۲۳ الر سال منی ۱۹۹۳

سیاست سے الگ رہیں ۔ اسی کے ساتھ کاشی بیو پار منڈل نے شہر میں شانتی مارچ بھی کیے۔ اس کی وجہ تجارتی نقصان کا اندیشہ ہے ۔ بنارس کے تاجروں نے محسوس کیا کہ ان کی تجارت قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اجودھیا جیسی تحریک بنارس میں داخل نہ ہو۔ اگر یہ تحریک بنارس پہنچتی ہے تو اس کے بعد جو لاقانونیت اور دنگا ہو گا اس میں سب سے زیادہ نقصان تاجر طبقہ کا ایسی حالت میں کاروبار ٹھپ ہوگا اور ان سیاحوں کی آمد رک جائے گی جو ہزاروں کی تعداد میں مسلسل بنارس آتے ہیں اور جن کی وجہ سے بنارس میں قالینوں اور ساہیوں کا نفع بخش بزنس چل رہا ہے۔ یہی اقتصادی مسئلہ متھرا میں بھی پیش آیا ہے (ملاحظہ ہو فرنٹ لائن، ۲۹ جنوری ۱۹۹۳) بنارس کے اس تجربہ کو آج پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دیش کے لوگوں کو بتایا جائے کہ اس قسم کی تحریکیں چلانا گویا نان اشو کو اشو بنانا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ پچھلے چالیس برسوں میں انڈیا ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہو گیا ہے۔ اور دنیا میں اس نے اپنا مقام کھو دیا ہے۔ بہت سے ملک جو ہم سے زیادہ غریب تھے، وہ ہم سے آگے بڑھ گئے ۔ مثلاً چین، کوریا اور سنگاپور - ضرورت ہے کہ دیش کی تعمیر کے لیے مذہب کے بجائے اقتصادیات کو اشو بنایا جائے ۔

Printed page