مسئلہ کی سنگینی
Al-Risala, May 1993, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مسئلہ کی سنگینی ، نتائج کے اعتبار سے اتنی زیادہ ہے کہ نہ صرف انڈیا میں بلکہ ساری دنیا میں اس پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہاں میں بطور نمونہ ایک انگریزی میگزین ایشیا ویک کا حوالہ یہ ہانگ کانگ سے نکلتا ہے اور ٹائم گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔
ایشیا ویک نے اپنے شمارہ ۲۰ جنوری ۱۹۹۳ کے ایڈیٹوریل کا عنوان یہ بنایا ہے ـــ ایک خطرناک گھاٹی (A dangerous pass) اس میں اپنے مخصوص انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایشیا کو اجودھیا کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے : Asia may have to pay heavy price for Ayodhya ایشیا ویک نے موجودہ تحریک کو ہندو فسطائیت (Hindu fascism) قرار دیا ہے۔ نے لکھا ہے کہ یہ تحریک اگر اپنی منطقی حد (logical extreme) تک پہنچ گئی تو انڈیا کو اس کی ہولناک قیمت (terrible price) چکانی پڑے گی جس کا تحمل انڈیا نہ کر سکے گا جہاں ۵۰۰ ملین
آدمی افلاس کا شکار ہیں۔ اور ۷۰ فی صد آدمی اب بھی بے پڑھے لکھے ہیں۔ ایسی حالت میں انتہائی طور پر ضروری ہے کہ مندر۔ مسجد کی اس نزاع کو بلاتاخیر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے ۔ اسی میں ہندو کا بھی فائدہ ہے ، اسی میں مسلمان کا بھی فائدہ ۔ کے ذریعہ دیش کو ترقی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔