Al-Risala · May 1993

تین نکاتی فارمولا

Al-Risala, May 1993, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

اجودھیا یا مندر مسجد کے قضیہ میں تین فریق ہیں ۔ ہندو مسلمان اور گورنمنٹ۔ تینوں فریق اگر مندرجہ ذیل اصول پر اپنی ذمہ داری ادا کریں تو انشاء اللہ مسئلہ ختم ہو سکتا ہے ۔ ہندوؤں نے مندر اور مسجد کے نام پر جو اندولن چلایا، اس کو اب وہ اجودھیا ہی میں اسٹاپ کر دیں۔ کسی حال میں بھی وہ اس کو ایودھیا سے آگے نہ لے جائیں۔ اس کی عملی صورت یہ ہے کہ ہندوؤں کی طرف سے ایک تحریری اعلان نامہ (declaration) جاری ہو جس میں چہاروں شنکرا چاریہ، اور مندر۔ مسجد تحریک میں شامل تمام ہندو جماعتوں (بھارتیہ جنتا پارٹی، وشو ہندو پریشد، آر ایس ایس، بجرنگ دل) کے ذمہ دار افراد اپنا دستخط کریں۔ اس میں واضح لفظوں میں یہ اقرار کیا گیا ہو کہ ہندو صاحبان ایودھیا کی بابری مسجد کے بعد اب کسی اور مسجد کے لیے اس قسم کا سوال کبھی نہیں اٹھائیں گے۔ بھارت کی بقیہ تمام مسجدیں، خواہ کسی شخص کے نزدیک ان کی جو بھی تاریخی

نوعیت ہو، وہ ہمیشہ کے لیے مقدس مسجد کی حیثیت سے باقی رہیں گی۔ ہندو صاحبان کی طرف سے آئندہ ان میں کسی بھی تبدیلی کی مانگ نہیں کی جائے گی۔

مسلمان اب اجودھیا کے اشو پر بالکل چپ ہو جائیں۔ بابری مسجد کی حفاظت اگر ان کی ذمہ داری تھی تو اس ذمہ داری کو وہ قربانی کی حد تک جاکر ادا کر چکے ہیں۔ اب اس معاملہ میں وہ معذور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے مسلمان شعوری طور پر فیصلہ کر لیں کہ اب وہ عملاً اس مسئلہ سے مکمل طور پر الگ ہو جائیں گے۔ اب تک انھوں ے خود اس مسئلہ کو اٹھارکھا تھا۔ اب وہ اس کو چھوڑ کر اس مسئلہ کو ملک کے ضمیر کے حوالے کر دیں گے۔

حکومت ہند نے ۱۹۹۱ میں عبادت گاہوں کا قانون (1991 Places of Worship Act) منظور کیا ہے۔ جو عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس میں یہ قانونی ضمانت دی گئی ہے کہ تمام عبادت گاہوں کو (باستثنا بابری مسجد) ۱۵ اگست ، ۱۹۴۷ء کی حالت پر باقی رکھا جائے گا۔ یہ صحیح سمت میں ایک قدم ہے۔ اب حکومت اتنا اور کرے کہ وہ عبادت گاہوں کے تحفظ کے اس ایکٹ کو دستور ہند کا جز بنا دے۔ دستور کا حصہ بننے کے بعد بقیہ عبادت گاہوں کے تحفظ کی زیادہ پائیدار ضمانت حاصل ہو جائے گی۔

Printed page