آخری بات
Al-Risala, May 1993, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ تین نکاتی فارمولے میں ہر فریق کی رعایت ہے۔ اگر سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ ہر ایک کے لیے قابل قبول حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو مان لینے کے بعد ایک طرف موجودہ حالات میں اعتدال آئے گا۔ اور دوسری طرف اس سے جو پر امن فضا پیدا ہوگی وہ بے روک ٹوک ملک کی ترقی کی ضمانت بن جائے گی۔
۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو اور اس کے بعد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جو حالات پیش آئے ہیں وہ بیحد قابل غور ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ اب حتمی فیصلہ کر لیا جائے کہ اجودھیا کے تجربہ کو اب کہیں اور نہیں دہرانا ہے۔ موجودہ حالات میں کسی مسجد کو توڑ کر وہاں مندر تعمیر کرنا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ ۶ دسمبر نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسا صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ دستور، قانون، اخلاقی روایات، سب کو بیک وقت ڈھا دیا جائے۔ ایک عمارت ڈھانچہ کی خاطر پور نے ملک کے
ڈھانچہ کو توڑ پھوڑ ڈالا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسجد مندر تحریک کے انتہا پسند لیڈروں کے لیے جو انتخاب (Choice) ہے وہ مسجد اور مندر کے درمیان نہیں ہے، بلکہ مسجد اور بربادی کے درمیان انڈیا میں سابق امریکی سفیر جے کے گال بريتھ نے انڈیا کو ایک فکشنگ انار کی بتایا تھا۔ اگر موجودہ قسم کی مندر مسجد تحریک جاری رہی تو یقینی طور پر آئندہ آنے والا مبراِس ملک کو ننگی انار کی (naked anarchy) کہنے پر مجبور ہوگا۔
بھارت کی آج کی نسل کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ اپنی اگلی نسل کو کون سا بھارت دینے جارہی ایک ترقی یافتہ بھارت یا ایک ایسا تباہ شدہ بھارت جوکسی کے لیے سرے سے رہنے کے قابل ہی نہ ہو، نہ ہندو کے لیے اور نہ مسلمان کے لیے اور نہ کسی اور کے لیے۔ یہ دنیا تبدیلی اور انقلاب کی دنیا ہے اس دنیا میں بار بار نیا فیصلہ لینا پڑتا ہے نئے حالات میں جو لوگ نیا فیصلہ نہ لے سکیں وہ کامیابی کے ساتھ زندگی کا سفر طے نہیں کر سکتے