Al-Risala · May 1993

اجودھیا کا سبق

Al-Risala, May 1993, pp. 31–33

By Maulana Wahiduddin Khan

اجودھیا میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جو کچھ پیش آیا، اس کا سامنا کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ اس کو ٹریجڈی کے طور پر نہ لیا جائے بلکہ سبق کے طور پر لیا جائے۔ اگر ہم اجودھیا کو اس ذہن کے تحت لیں تبھی یہ ممکن ہے کہ ہم دوبارہ اجودھیا کو کسی نئی ٹریجڈی میں تبدیل ہونے سے بچا سکیں۔ بابری مسجد کا مسئلہ اتنا گمبھیر کیوں بنا۔ اس کی واحد سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کا نام بابری مسجد تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، بابر کے نام کے ساتھ اس ملک کی ایک خاص تاریخ وابستہ ہے۔ چنانچہ اجودھیا کے اسٹرکچر کو جب بابری مسجد کے نام سے پکارا گیا تو ہندو اور مسلمان دونوں کو وہ ایک مخصوص تاریخ یاد دلانے کا مستقل ذریعہ بن گیا۔ مسلمان نے بابری مسجد کو اپنی فتح کی علامت کے طور پر دیکھا۔ اور ہندو نے بابری مسجد کو دیکھا تو وہ اس کو اپنی ہار کی علامت کے روپ میں نظر آئی۔ اس طرح دونوں دو الگ نفسیات کے تحت بابری مسجد کے اوپر جم گئے۔ ہندو کو نظر آیا کہ نئے انڈیا میں اگر اپنی سیاسی شکست کی علامت کو مٹانا ہے تو بابری مسجد کو ڈھادینا پڑے گا۔ اس کے برعکس مسلمان نے محسوس کیا کہ اسے ہر حال میں بابری مسجد کو بچانا ہے تاکہ اس کے فاتحانہ ماضی کا نشان بدستور باقی رہے۔ اسی دو طرفہ ٹکراؤ کا وہ آخری نتیجہ تھا جو ۶ دسمبر کو پیش آیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی عبادت گاہ کو سادہ طور پر صرف عبادت گاہ یا مسجد کہنا چاہیے۔ اس کو ”بابری مسجد“ جیسا نام دینے سے مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہیے ۔

بابری مسجد ۱۵۲۸ء میں تعمیر ہوئی۔ مگر وہ باقاعدہ مسئلہ ۱۹۸۶ میں بنی جب کہ انتظامیہ نے اس کے بند تالے کو کھول دیا۔ یہ تالا اتفاقاً نہیں کھلا۔ اس کا براہ راست سبب وہ ایجی ٹیٹل تحریک تھی جو عام طور پر شاہ بانو تحریک کے نام سے مشہور ہے۔ اس تحریک کے پرشور مطالبہ کے نتیجہ میں جب حکومت نے یہ طے کیا کہ وہ مسلم پرسنل لا کے متعلق ایک نیا ایکٹ بنائے - اسی وقت اس نے ہندو لیڈروں کے مطالبہ کی بنا پر، یہ بھی طے کیا کہ بابری مسجد کا تالا کھول دے تاکہ مسلم اور ہندو دونوں کو مطمئن کیا جا سکے ۔

اس میں یہ سبق ہے کہ کسی پلورل سوسائٹی میں اس کا ایک گروپ اگر اپنے لیے ایک امتیازی

حق کی مانگ کرتا ہے تو اس کو جاننا چاہیے کہ دوسرا گروپ بھی اسی کے مساوی کوئی چیز اپنے لیے لینا چاہے گا۔ اس طرح علانیہ ہوگا کہ اس کے لیے ایک نئی محرومی کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا جو اس کی یافت کی مکمل نفی کر دے گا۔

جیسا کہ معلوم ہے ، بابری مسجد کا تالا کھلنے کے بعد بھی ابتدائی مسئلہ تمام تر صرف ایک مقامی وہ زیادہ سے زیادہ ایک ٹاؤن کا مسئلہ تھا۔ مگر اس کے نام پر جب دونوں طرف سے پورے ملک میں ایجی ٹیشن چلایا گیا تو وہ مقامی حد سے نکل کر ایک آل انڈیا مسئلہ بن گیا۔ حتیٰ کہ وہ یہاں تک بڑھا کہ وہ ایک عالمی مسئلہ بن گیا۔ اس نے دونوں فرقوں کے لیے وقار کے مسئلے کی حیثیت اختیار کرلی۔ اس طرح غیر مناسب طور پر بڑھانے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ موجودہ الم ناک وسعت تک پہنچ گیا۔ مسئلہ بننے کے بعد بھی، وہ ایک گم نام مسئلہ رہتا جیسا کہ اس سے پہلے کئی سو سال تک وہ گم نام مسئلہ بنا ہوا تھا۔

اس میں یہ سبق ہے کہ سماجی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو حل کرنے کی کوشش ہمیشہ اس طرح کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ابتدائی دائرہ میں محدود رہے۔ وہ کسی بھی حال میں اس سے آگے بڑھنے نہ پائے۔

آخری بات یہ کہ اس معاملہ میں اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں میں کہوں گا کہ جو لوگ یہ مانگ کر رہے ہیں کہ بابری مسجد دوبارہ وہیں بناؤ وہ ایک ختم شدہ معاملہ کو دوبارہ نئی شدت کے ساتھ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تاریخ کو الٹی سمت میں چلانا ہے۔ کو الٹی سمت میں چلانا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔

اسی نزاکت کے پیش نظر میں نے اس معاملہ میں اپنا سہ نکاتی فارمولا پیش کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ (۱) مسلمان اب بابری مسجد کے لیے اپنا ایجی ٹیشن مکمل طور پر ختم کر دیں (۲) ہندو اپنی مسجد تحریک کو ہمیشہ کے لیے اجودھیا میں اسٹاپ کر دیں ، اس کے بعد وہ کسی بھی دوسری مسجد کا باب ہر گز نہ کھولیں (۳) حکومت یہ کرے کہ عبادت گاہوں کا تحفظ کے قانون ۱۹۹۱ کو دستور میں شامل کر کے اس کو بنیادی حقوق کا جزو بنا دے۔

یہ فارمولا دونوں فرقوں کے لیے باعثِ سمجھوتہ کی ایک بنیاد ہے۔

زندگی میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک نا خوش گوار حقیقت کو ماننا پڑتا ہے۔ کیونکہ علمی اعتبار سے اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوتا۔ فارمولے کا پہلا نکتہ اسی اصول پر مبنی ہے۔ کیوں کہ بابری مسجد کے معاملہ میں اب مسلمانوں کے لیے جو چوائس ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ بابری مسجد کو دوبارہ اسی جگہ حقیقی چوائس یہ ہے کہ بابری مسجد کو اسی جگہ بنانے کی کوشش میں ہزاروں نیا مسئلہ اپنے لیے کھڑا کر لیں۔

فارمولے کا دوسرا نکتہ اس مقصد کے لیے ہے کہ اس قسم کی بھیانک غلطی کو اب کسی اور مسجد کے معاملہ میں نہ دہرایا جائے۔ یہ نکتہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ۶ دسمبر کے بعد ہر پیش آنے والے واقعات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ہندو صاحبان کے لیے جو چیز ممکن ہے وہ مسجد کی جگہ مندر بنانا نہیں بلکہ مسجد کی جگہ مندر بنانے کے جوش میں پورے ملک کو تباہ و برباد کر دینا ہے۔ تیسرا نکتہ قانونی ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے مسجد اور عبادت گاہ کے معاملہ کو اس طرح مستحکم کر دیا جائے کہ اب کوئی فریق دوبارہ اس قسم کی غلطی نہ کر سکے۔ اور اس کی عملی صورت یہ ہے کہ اس بات کی مستحکم قانونی ضمانت فراہم کر دی جائے کہ ۱۹۴۷ء میں جو مسجد یا عبادت گاہ جس حال میں تھی، اسی حال میں اس کو برقرار رکھا جائے گا۔

چونکہ اس معاملہ میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو ہندو سائڈ کی طرف سے ایک جارحانہ اقدام کیا گیا ہے اور بابری مسجد کے تاریخی ڈھانچہ کو کسی جواز کے بغیر توڑ دیا گیا ہے، اس لیے اب سب سے پہلے ہندو سائڈ کو یہ کرنا ہے کہ ان کی طرف سے ایک تحریری ڈیکلریشن جاری ہو۔ اس میں فارمولے کے تینوں اجزاء کو صدق دل سے تسلیم کرنے کا متفقہ اعلان کیا گیا ہو۔

اس ڈیکلریشن پر چاروں شنکر اچاریہ دستخط کریں۔ تمام ان سیاسی اور غیر سیاسی پارٹیوں کے ذمہ دار اس پر دستخط کریں جو اجودھیا کے اشو میں شامل رہی ہیں۔ ملک کے مشہور اور معتمد افراد کا تصدیقی دستخط بھی اس میں شامل ہو۔ اسی کے ساتھ حکومت کی طرف سے اس کا ذمہ دار اس پر اپنا دستخط ثبت کرے۔ اس قسم کا ایک ڈیکلریشن جاری ہونے کے بعد وہ بحران ختم ہو جائے گا جس سے ۶ دسمبر کے بعد پوری قوم دو چار ہو گئی ہے۔

Printed page