Al-Risala · May 1993

آگے کی طرف

Al-Risala, May 1993, pp. 34–37

By Maulana Wahiduddin Khan

آگے کو یاد رکھنا اور پیچھے کو بھلا دینا ـــــ یہی موجودہ دنیا میں ترقی کا راز ہے۔ ہر فرد اور ہر گروپ کے ساتھ کچھ نہ کچھ حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ یہ حادثات اکثر حالات میں قابل واپسی نہیں ہوتے۔ جو لوگ ان حادثات کو یاد رکھیں وہ ٹھٹھکر رہ جاتے ہیں۔ اور جو لوگ ان حادثات کو بھلا کر از سرِ نو زندگی شروع کرنے کی تدبیر کریں وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتے بھلانے کا یہ اصول ایک یونی ورسل اصول ہے۔ اس میں کسی بھی فرد یا کسی بھی گروپ کا کوئی استثناء نہیں۔

انڈیا کے ہندو اور مسلمان دونوں آج اسی امتحان میں کھڑے ہوئے ہیں۔ دونوں ہی کو یہ کرنا ہے کہ وہ پیچھے کی بات کو بھلا دیں اور آگے کی بات کو لے کر اپنی عملی جد و جہد شروع کر دیں۔ دونوں کے لیے ترقی اور کامیابی کا یہی واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا ممکن راستہ ان کے لیے نہیں۔

مختصر طور پر یہ کہ انڈیا کے ہندوؤں کو بٹوارہ کو بھلا دینا ہے، اور انڈیا کے مسلمانوں کو بابری مسجد کو بھلا دینا ہے۔ دونوں ہی ماضی کی یادوں کا بوجھ اپنے سر پر لیے ہوئے ہیں، ہندو کے لیے ان یادوں کا علامتی عنوان ”بٹوارہ“ ہے۔ اور مسلمان کے لیے ان یادوں کا علامتی عنوان اگر دونوں یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے لیے ایک ترقی یافتہ مستقبل کی تعمیر کریں تو دونوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اپنے ذہن کو ماضی کی یادوں سے نکالیں اور مستقبل کی روشنی میں سوچنا اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو نہ صرف یہ کہ دونوں فرقے کی ترقی رکی رہے گی، بلکہ وسیع تر اعتبار سے خود ملک کا مستقبل بھی تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور میں غیر ملکی لوگوں کا ”ظلم“ تو ملک کو تباہ نہ کر سکا۔ مگر ۱۹۴۷ء کے بعد ملکی لوگوں کی نادانی ضرور اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دے گی۔

برادرانِ وطن کے ایک طبقہ کی سوچ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں ملک کے بٹوارہ کے ذمہ دار اس بنا پر وہ مسلمانوں کو مسلسل طور پر اپنا رقیب اور حریف بنائے ہوئے ہیں۔

کا اظہار مختلف ناخوشگوار یوں کی صورت میں ہوتا رہتا ہے۔ بٹوارہ کا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دیتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ اب برادران وطن کے لیے اس کے سوا کوئی متبادل صورت نہیں کہ وہ بٹوارہ کو گزری ہوئی تاریخ کے خانے میں ڈال دیں اور یہ بھول جائیں کہ کس نے بٹوارہ کرایا اور کس نے اس کی مانگ کی۔ اب مسئلہ بٹوارہ کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ بٹوارہ کا حساب چکانے میں خود ملک تباہ ہوا جار ہا ہے۔

۱۹۴۷ تک بٹوارہ مسلمانوں کا مسئلہ تھا۔ مگر اب یہ خود ہندوؤں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ بٹوارہ کی یاد ان کے اندر معتدل نفسیات پیدا نہیں ہونے دیتی۔ اور جب تک معتدل نفسیات نہ آئے وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھر پور حصہ ادا کرنے میں بھی نا کام رہیں گے۔ بٹوارہ بذات خود کوئی ایسا حادثہ نہیں جو باہمی ترقی کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹ بن جائے تاریخ کی متعدد مثالیں اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ ایک تازہ مثال جرمنی کی ہے۔ ۴۹ ۱۹ میں جرمنی کی تقسیم ہوئی ۔ مگر یہ تقسیم مغربی جرمنی کو ترقی کی طرف بڑھنے سے نہ روک سکی۔ دوسری عالمی جنگ کے نتیجہ میں جرمنی کی اقتصادیات بالکل تباہ ہوگئی۔ اس کو مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی میں بانٹ کر اسے کمزور کر دیا گیا تھا۔ الائیڈ ہائی کمیشن (Allied High Commission) کی کونسل نے ۱۹۴۹ میں مغربی جرمنی کے لیے یہ حکم نافذ کیا تھا کہ اس کے یہاں کوئی نیشنل پولیس نہ ہوگی، وہ صرف میونسپلٹی کی سطح کی پولیس رکھ سکے گا۔

مگر تقسیم اور کمزوری جرمنی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ وہ اپنی جد و جہد سے آگے یہاں تک کہ یورپ کا نمبر ایک ملک بن گیا، جرمنی اس شاندار انجام تک کیسے پہنچا، کچھ لوگ اس کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ اس نے دوسرے یورپی ملکوں کے مقابلے میں دیر سے اپنا ترقی کا سفر شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بعد کو سفر شروع کرنے والے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کرتے کیوں کہ وہ پہلے شروع کرنے والوں سے اعلیٰ ٹکنالوجی حاصل کر سکتے ہیں : Late starters can grow faster because they can borrow advanced technology from the early starters. (6/214)

یہ تو یہ ہے صحیح نہیں۔ کیوں کہ بعد کو شروع کرنے والوں میں تو اندھا پن بھی ہے مگر وہ اب ۴۶۴۱ء رسالہ ۴۶۴۱ء

ملک کوئی قابل ذکر ترقی نہ کرسکا۔ اصل یہ ہے کہ مغربی جرمنی کی تیز رفتار ترقی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس نے دوسری عالمی جنگ کے نقصان اور اس کے بعد ہونے والی ملکی تقسیم کو بھلایا۔ ہوئے ماضی کو بھلا کر اس نے اپنی تمام طاقت آنے والے مستقبل کی تعمیر میں لگادی۔ بدقسمتی سے ہندوؤں کی ایک تعداد، خاص طور پر شمالی ہند کے ہندوؤں کی اکثریت ۱۹۴۷ میں ہونے والے بٹوارہ کو بھلا نہ سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شمالی ہند کا علاقہ ، جو ملک کا قائدانہ علاقہ ہے، وہ زیادہ تر منفی سرگرمیوں میں پڑا رہا۔ وہ یکسوئی کے ساتھ مستقبل کی تعمیر میں اپنے آپ کو وقف نہ کرسکا۔

اب آخری وقت آگیا ہے کہ برادران وطن اس کوتاہی کو محسوس کریں۔ وہ بٹوارہ کی نفسیات سے اپنے آپ کو خالی کر کے نئے انڈیا کی مثبت تعمیر میں لگ جائیں۔ اس کے بعد وہ دن دور نہیں جب کہ ملک تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر شروع کر دے اور عالمی نقشہ میں اپنے لیے وہ با عزت جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے جس کا وہ بجاطور پر مستحق ہے۔ اب انڈیا کے مسلمانوں کے مسئلہ کو لیجئے! ملک کے مختلف فرقوں میں وہ پہلے ہی ترقی کے اعتبار سے پیچھے تھے ، اب ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھائے جانے کے بعد وہ از حد مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کے لیے اس ملک میں ترقی کے مواقع موجود نہیں۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ اس سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ کوئی بھی خارجی حادثہ کسی قوم کے عروج و زوال کا فیصلہ نہیں کرتا۔ کسی قوم کے عروج و زوال میں جو چیز فیصلہ کن بنتی ہے وہ اس قوم کی داخلی طاقت ہے، نہ کہ خارجی واقعات۔ قو میں ہمیشہ اپنے داخلی عزم سے آگے اگر عزم وہمت موجود ہو تو کوئی بھی خارجی حادثہ قوم کی ترقی میں رکاوٹ نہیں

جہاں تک مسجد کا تعلق ہے ، تو مسجدوں کے ساتھ اس طرح کے حادثات بار بار پیش آئے ۶۹۲ء میں حجاج بن یوسف کی فوجوں نے کعبہ کے اوپر منجنیق کے ذریعہ گولہ باری کی۔ کہ تاریخ میں اس کی بابت یہ الفاظ لکھے گئے کہ مکہ کا محاصرہ کر لیا گیا۔ حرم پر گولہ باری کی گئی۔ اور کعبہ میں آگ لگادی گئی۔ مقدس حجر اسود تین جگہ سے ٹوٹ گیا :

اس کے باوجود اسلام کی تاریخ نہیں رکی۔ اور کعبہ کی مقدس مسجد پر گولہ باری کرنے والوں ہی نے دوبارہ اس کی تعمیر کرائی۔ ۱۲۵۸ء میں تاتاریوں نے مسلم دنیا پر حملہ کیا اور سمرقند سے حلب تک سیکڑوں مسجدوں کو ڈھا دیا۔ مگر اس حادثہ کے بعد بھی اسلام کی تاریخ نہیں رکی اور دوبارہ انھیں تاتاریوں نے ان تمام مسجدوں کو پھر سے تعمیر کرایا۔ خود انڈیا میں، ۱۴۱۹ میں ہریانہ اور پنجاب اور راجستھان کے علاقہ میں ہزاروں کی تعداد میں مسجدیں ڈھائی گئیں۔ مگر اس کے باوجود یہاں اسلام کی تاریخ نہیں رکی۔ پھر اجودھیا کی بابری مسجد کے ڈھائے جانے سے کیوں ایسا ہوگا کہ اسلام کی تاریخ آگے بڑھنے سے رک جائے گی۔

اس وقت مسلمانوں کے لیے اہم بات یہ نہیں ہے کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھادی گئی۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اب بھی تین لاکھ سے زیادہ مسجدیں انڈیا میں موجود ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں ان کے چھوٹے اور بڑے مدرسے سارے ملک میں قائم ہیں۔ تعداد میں بڑے بڑے اسلامی ادارے اور اسلامی جماعتیں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ ۶ دسمبر کا حادثہ پیش آنے کے باوجود مسلمانوں کے لیے ترقی کے تمام مواقع بدستور یہاں موجود ہیں۔ ایسی حالت میں ان کے لیے مایوسی یا دل شکستگی کا کوئی سوال نہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ نئے عزائم کے ساتھ اپنی تعمیر کا عمل شروع کردیں، اور پھر بہت جلد وہ دیکھیں گے کہ ۶ دسمبر کو انھوں نے جتنا کھویا تھا اس سے بہت زیادہ انھوں نے ۶ دسمبر کے بعد یہاں اپنے لیے پالیا ہے۔ یہی ماضی کا پیغام ہے اور یہی مستقبل کی پکار بھی۔

Printed page