Al-Risala · May 1993

سب سے بڑا خطرہ

Al-Risala, May 1993, pp. 41–45

By Maulana Wahiduddin Khan

۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد پوری قوم میں نہایت شدت کے ساتھ خود احتسابی کی فضا پیدا ہوئی عام طور پر یہ سوچا جا رہا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آزادی کے تقریبا نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ہمارا ملک ترقی کی طرف اپنا سفر شروع نہ کر سکا۔ ہمارے عوام و خواص آج بھی اشوز اور نان اشوز کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ ایک نظر انداز کرنے والے معاملہ پر بھی اسی جوش کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جس طرح ایک ایسے معاملہ پر کھڑا ہونا چاہیے جو نظر انداز کرنے کے قابل نہ ہو۔ اس نیشنل ڈیبیٹ میں جو لوگ حصہ لے رہے ہیں ان میں بظاہر دو گروپ ابھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک وہ جس کا کہنا ہے کہ ساری قومی مصیبتوں کی جڑ بناوٹی سیکولرزم (Pseudo secularism) ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے گروہ کا یہ کہنا ہے کہ تمام مصیبتیں بناوٹی ہندوازم (Pseudo Hinduism) کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ یہ دونوں ہی سطحی توجیہیں ہیں۔ ہماری موجودہ مصیبتوں کی اصل جڑ وہ چیز ہے جس کو میں بناوٹی انٹلیکچولزم (Pseudo intellectualism) کا نام دینا پسند کروں گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر سماج میں ہمیشہ خواص کا ایک طبقہ ہوتا ہے۔ اس طبقہ کے لوگوں کو آپ رائے بنانے والے (opinion makers) کہہ سکتے ہیں۔ یہ طبقہ پچھلے سماجوں میں بھی موجود رہتا مگر اب پریس اور میڈیا کے ذرائع وجود میں آنے کے بعد اس طبقہ کا رول بہت بڑھ گیا پچھلے سماج میں کوئی رائے بنانے والا اپنی باتوں سے جتنے لوگوں کو متاثر کر سکتا تھا، آج اس سے ہزار گنا زیادہ بڑے پیمانہ پر متاثر کرنا ایک شخص کے لیے ممکن ہو گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں، مختلف اسباب سے، ہمارے انٹلیکچول کلاس نے بہت غلط کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے پوری قوم، خاص طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں کی سوچ کو بگاڑ کر رکھ

ہر سماج میں ہمیشہ مختلف قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان واقعات کو صحیح رخ سے دیکھا جائے تو آدمی کے اندر صحیح ذہن بنے گا۔ اور اگر ان کو غلط رخ سے دیکھا جائے تو غلط

ذہن بننے لگے گ۱۔ انٹلیکچول کلاس کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کی فکری تربیت اس طرح کرے کہ وہ پیش آنے والے واقعات کو صحیح رخ سے دیکھ سکیں۔ مگر ہمارے ملک کا انٹلیکچول کلاس اس معاملے میں اپنی ذمہ داری کو درست طور پر نبھانے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔

اپنے ناقص علم کی بنا پر یا اپنے حقیر مفادات کی بنا پر، اس نے یہ کیا کہ نان ایشو کو ایشو بنایا۔ واقعہ جس کا تعلق کسی اور پہلو سے تھا اس کو کسی اور پہلو سے جوڑ دیا۔ ایک معاملہ جو نظر انداز کرنے کے قابل تھا اس کو بڑھا چڑھا کے پیش کر کے اس پر لوگوں کو بھڑکا دیا۔ دس باتوں میں نو باتیں اگر اچھی تھیں تو ان نو باتوں کو بیان نہیں کیا اور ایک بری بات کا چرچا زور شور کے ساتھ ہر طرف ایک چیز جو افواہ کے نوعیت کی تھی، اور ضرورت تھی کہ اس کی تحقیق کی جائے، مگر بلا تحقیق اس کو شہرت دینا شروع کر دیا۔

اس قسم کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں کی سوچ بگڑ گئی۔ اب عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ نہ مسائل کا صحیح تعین کر پاتے اور نہ یہ سمجھ پاتے کہ ان مسائل کے حل کے لیے انھیں کیا کرنا پہلے وہ زیادہ تر اپنی فطرت اور کامن سنس کی رہ نمائی میں ایک قریبی فیصلہ کر لیتے تھے، مگر اب میڈیا کے دور میں وہ انٹلیکچول کلاس کی باتوں کو سن کر یا پڑھ کر رائے بناتے ہیں، اس بنا پر سارا معاملہ غلط ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے یہاں میں کچھ مثالیں دوں گا : ہندو دانشوروں کے ایک طبقہ نے پچھلے کچھ برسوں سے ہندوؤں میں نہایت شدت کے ساتھ یہ ذہن پیدا کیا ہے کہ کانگریس پارٹی اپنے طویل دور حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ خوش کرنے (Appeasement) کی پالیسی چلاتی رہی ہے۔ اس پالیسی کی ایک روشن مثال (glaring example) ان کے نزدیک ، شاہ بانو تحریک کے بعد بننے والے اس ایکٹ کی ہے جس کا پورا نام اس طرح ہے :

Muslim Women (Protection of Rights on Divorce) Act 1986 اس ایکٹ کو راجیو گاندھی کی حکومت نے منظور کیا تھا۔ مگر اس کو مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی سے جوڑنا سراسر بے اصل ہے، کیونکہ خوش کرنا ایک ایسا کام ہے جو یک طرفہ طور پر کیا جب کہ یہاں واضح طور پر دو طرفہ معاملہ کیا گیا۔ راجیو گاندھی کی حکومت نے ۱۹۸۶ء ۲۴ الحلال مئی ۱۹۹۳

کو یہ ایکٹ لوک سبھا میں منظور کرایا تھا، مگر جب کانگریسی حکومت نے اس ”مسلم نوازی“ کا فیصلہ کیا تو اسی کے ساتھ اس نے زیادہ بڑے پیمانے پر ”ہندو نوازی“ کا عمل کیا۔ چنانچہ اس نے یکم فروری ۱۹۸۶ کو بابری مسجد کے دروازے پر عدالتی فیصلہ کے تحت لگے ہوئے تالے کو کھلوا دیا۔ کا تقابل کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کے ساتھ اگر اپیز منٹ ہوا تو ہندوؤں کے ساتھ پر اپیز منٹ کا معاملہ کیا گیا۔

ہندو دانشوروں نے تالا کھولنے کے معاملہ کو حذف کر کے ایکٹ بنانے کے معاملہ کو خوب بڑھا چڑھا کر پھیملا۔ یہاں تک کہ ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے کے ذہن کو انھوں نے مسموم کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں اور اس طرح کی دوسری باتوں کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ ہندوؤں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوگئی۔ ہندو لوگ دیش کی ثبت تعمیر کے بجائے مسلمانوں کے خلاف منفی سرگرمیوں میں اپنی طاقت صرف کرنے لگے۔

اب اسی نوعیت کی برعکس مثال لیجئے جب کہ انس لیکچول کلاس نے اپنا صحیح رول ادا کیا اور اس کے نتیجہ میں قوم کو زبردست ترقی کا تحفہ لایا۔ یہ دوسری مثال جاپان کی جدید تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔ ہیروشیما کو جاپان کے ایک بڑے شہر کی حیثیت حاصل ہے۔ ہیروشیما میں جنگی اہمیت کی صنعتیں قائم کی گئیں۔ ۱۸۶۸ء کے بعد تقریباً ۵۰ سال تک اس کو جاپان میں سب سے بڑے ملٹری سنٹر کی حیثیت حاصل تھی۔ دوسری عالمی جنگ میں ۶ اگست ۱۹۴۵ کو امریکہ نے ہیروشیما کے اوپر ایٹم بم گرایا اور اس کو پوری طرح تباہ کر دیا۔

اس کے بعد جاپان میں امریکہ کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوئی۔ خاص طور پر فوج کے لوگ امریکہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھنے لگے اور نتائج کی پروا کیے بغیر اس سے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس وقت جاپانیوں میں سے کچھ سچے قسم کے انس لیکچول اٹھے۔ پوری جاپانی قوم کی سوچ کو بدل دیا۔

انھوں نے جاپانیوں کو بتایا کہ اگست ۱۹۴۵ میں امریکہ نے اگر ہمارے ہیروشیما کو تباہ کیا تو اس سے پہلے دسمبر ۱۹۴۱ میں ہم امریکہ کے پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے، اس طرح معاملہ برابر اس بات نے جاپانیوں کے ذہن کو ٹھنڈا کر دیا۔ وہ منفی رخ پر دوڑنے کے بجائے

میدان میں سرگرم ہوگئے۔ اس کا نتیجہ ایک عظیم ترقی کی صورت میں آج ساری دنیا کے سامنے ہے۔ ہندو دانشور اگر سچی دانشوری کرتے تو وہ ہندوؤں سے کہتے کہ حکومت نے مسلمانوں کو پرسنل لاء ایکٹ دیا ہے تو تم کو بھی اس نے ایک بہت بڑی چیز دی ہے۔ وہ یہ کہ بابری مسجد کا بند تالا کھول کر اس کے اندر تم کو درشن اور پوجا کی اجازت دے دی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انڈیا میں بھی وہی واقعہ ہوتا جو جاپان میں پیش آیا۔ مگر ہندو دانشور جاپانی دانشوروں جیسی رہنمائی دینے میں اس کا نتیجہ عظیم تباہی کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے۔

ہر سماج میں ہمیشہ مختلف قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان واقعات کی ایک اصل توجیہہ ہوتی ہے، اور ایک اصل حقیقت سے ہٹی ہوئی توجیہہ۔ عام آدمی اس فرق کو سمجھ نہیں پاتا۔ (انٹلیکچول کلاس) کا کام ہے کہ وہ واقعہ کا گہرا مطالعہ کرے اور اس کی صحیح توجیہہ لوگوں کے سامنے پیش یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے :

اور جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ وہ اس کو رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں، وہ اس کی حقیقت کو جان لیتے ۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے (النسا، ۸۲)

بدقسمتی سے انڈیا میں دونوں فرقوں کے انٹلیکچول کلاس نے اس معاملہ میں اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا۔ دونوں ہی نے ذہن کو بگاڑنے کا کام بہت بڑے پیمانے پر انجام دیا۔ ہندوؤں کے انٹلیکچول کلاس کے لوگوں نے واقعات کو غلط انداز میں پیش کر کے ہندوؤں کی سوچ کو ہر آلودہ کر دیا۔ دوسری طرف مسلم انٹلیکچول کلاس نے مسلمانوں کی سوچ کو الٹے رخ پر موڑ دیا۔ یہاں تک کہ دو پڑوسی فرقے جو سیکڑوں سال سے ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ ایک دوسرے کے دشمن بن کر کھڑے ہوگئے۔

قرآن میں ایک مرد کو چار عورتوں تک سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ قطعی طور پر ایک ایمر جنسی کا قانون ہے۔ مگر ہندو دانشوروں نے اس کو انتہائی خلاف واقعہ طور پر عام حکم

کی حیثیت دے دی۔ انھوں نے ہندو کو بتایا کہ دیکھو، پاکستان بنوا لینے کے بعد بھی مسلمان تمہارے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ ہر مسلمان اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق، چار شادی کرتا ہے اور بے تحاشا بچے پیدا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونے والا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد انڈیا میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے زیادہ ہو جائے ۔ اور وہ یہاں تمہارے اوپر حکومت کرنے لگیں۔

یہی خطرہ کی نفسیات مسلم دانشوروں نے بھی مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر پیدا کی۔ کا بٹوارہ ہندو۔ مسلم منافرت کی بنا پر ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد لوگ معمولی معمولی باتوں پر بھڑکنے لگے اور فساد کی صورتیں پیدا ہوتی رہیں۔ ان فرقہ وارانہ فسادات کا اصل سبب صبر و اعراض نہ کرنا تھا۔ مگر مسلم دانشوروں نے اس کو غلط طور پر اس مفروضہ سے جوڑ دیا کہ ہندو انڈیا کو مسلمانوں کے لیے دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں اور ہندو لیڈر بار بار اسپین کا سفر کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے وہ تکنیک سیکھ کر آئیں جس کو یہاں دہرا سکیں۔

یہ دونوں ہی باتیں بالکل بے بنیاد تھیں۔ ان میں سے کسی کی بھی کوئی اصل نہ تھی مسلمانوں میں چار شادی یا اضافہ آبادی کی بات سراسر افسانہ تھی۔ اسی طرح ہندوؤں کے بارہ میں یہ بات قطعی طور پر ایک افواہ تھی کہ وہ انڈیا کو دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں۔ مگر دونوں طرف کے دانشوروں نے ان کو عوام میں اس طرح پھیلایا کہ یہ خیالات دونوں فرقوں کے اوپر کا بوس بن کر چھا گئے۔ یہی بابری مسجد کے سلسلہ میں پیش آیا۔ ایک طرف ہندو دانش وروں نے دوسری ہار (second defeat) کا نظریہ ایجاد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۴۷ کا بٹوارہ تمہارے لیے پہلی ہار تھی۔ اب بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا بننا تمہارے لیے دوسری ہار ہوگی۔ چنانچہ ہندو بھڑک اٹھا۔ نے سوچا کہ پہلی ہار ہم نے انگریزوں کی موجودگی کی وجہ سے برداشت کرلی۔ اب ہم آزاد ہیں، اب ہم کسی قیمت پر دوسری ہار کو قبول نہیں کریں گے۔

دوسری طرف مسلم دانشوروں نے ”علامت“ کا جھوٹا نظریہ ایجاد کیا۔ انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کا معاملہ صرف ایک مسجد کا معاملہ نہیں ہے، وہ پوری ملت کے وجود و بقا کی علامت ہے۔ اگر یہاں ہم پیچھے ہٹے تو اس کے بعد اس ملک سے ہمارا سارا خیمہ اکھڑ جائے گا۔ مگر یہ ایک لغو بات چنانچہ بابری مسجد کا ڈھانچہ ٹوٹ گیا اور ملت کا وجود بدستور پوری طرح باقی ہے۔

Printed page